تفصیل

انبیاء ورسل کے قصوں میں سب سے نمایاں اور واضح پہلو دعوت الی اللہ کا پہلو ہے۔ اس دعوت کا ایک واضح منہج ہے جس میں کوئی التباس نہیں۔ اس میں ایک چیز تو یہ ہے کہ جس کی وہ دعوت دیتا ہو اس سے اچھی طرح واقف ہو۔ دوسری چیز یہ ہے کہ جس کی وہ دعوت دیتا ہو خود اس پر عامل ہو۔ تیسری بات یہ ہے کہ دعوت کی شروعات سب سے اہم چیز سے ہو۔ اسی طرح درجہ بدرجہ چوتھی چیز یہ ہے کہ داعی حسن اخلاق کے زیور سے آراستہ ہو۔ اور پانچویں چیز یہ ہے کہ دعوت میں حکمت کو ملحوظ رکھے ۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

سامعین کرام !آج ہماری گفتگو ایک ایسے منہج سے متعلق ہوگی، جو سب سے صحیح منہج اور سب سے واضح اور مضبوط دلیلوں والا منہج ہے۔ جو اس پر چلا، وہ کامیاب و بامراد ہوا، اور منزل مقصود کو پہنچا۔ اور جس نے اس سے روگردانی کی وہ گم گشتہ راہ ہوا اور سیدھی راہ سے بھٹکا ۔ وہ ایک واضح منہج اور ایک واضح طریق ہے۔ وہ ہے دعوت الیٰ اللہ کے سلسلے میں انبیاء کا منہج۔ یہ وہ پاک منہج ہے، جسے دعوت الیٰ اللہ کے سلسلے میں اپنانا ہر مسلمان مردوزن کے لیے ضروری ہے۔ کیوں کہ یہ وہ بہترین منہج ہے، جسے انسانی برادری نے سمجھا۔

اللہ آپ کا نگہبان ہو، جیسا کہ آپ جانتے ہیں دعوت انبیاء کی حقیقت، اللہ تعالیٰ کی توحید اور قول وفعل میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے سے عبارت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ) [النحل: 36] “ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام باطل معبودوں سے بچو۔”

اللہ عزوجل نے قرآن مجید کے اندر دعوت انبیاء کے اصول تفصیل سے بیان کیے ہیں، افراد جماعتیں، حاکم ومحکوم کمزور وطاقتور اور مالدار ومحتاج وغیرہم سبھی طرح کے لوگوں کے پاس اسلام پیش کرنے کی کیفیت بیان کی ہے۔ چنانچہ انبیاء کے واقعات وقصص ان کی قوموں کے ساتھ بیان کیے اور واضح فرمایا کہ اپنے پیغمبروں اور ان کے پیروکاروں کی اللہ نے کس طرح مدد کی۔ مگر ان کے مخالفین اور ایذارسانی کرنے والوں کو کیسے رسوا وبرباد کیا۔ خواہ کوئی حاکم رہا ہو جیسے فرعون اور نمرود، یا کوئی فرد جیسے قارون، یا کوئی گروہ، قبیلہ یا کوئی امت یا پھر کوئی قوم جیسے قوم عاد وثمودوغیرہم۔

قرآن کریم، جیسے ایک کتاب توحید وایمان ہے، اسی طرح کتاب شریعت بھی ہے، جیسے وہ ایک کتاب علم وحکمت ہے، اسی طرح کتاب دعاء وعبودیت ہے، کتاب اصلاح ودعوت ہے اور اسی طرح کتاب ذکر وفکر بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

( لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ) [الأعراف: 59]

“ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے کہا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں، مجھ کو تمہارے لیے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔”

اور فرمایا:

( وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ أَفَلَا تَتَّقُونَ ) [الأعراف: 65]

“ اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، سو کیا تم نہیں ڈرتے۔”

نیز ارشاد ہوا:

( وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ ) [هود: 61]

“ اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، انہوں نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔

اور فرمایا :

( وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ ) [الأعراف: 85] “ اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔”

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل کو یمن بھیجتے وقت فرمایا:تم ایک ایسی قوم کے پاس جارہے ہو، جو اہل کتاب ہے، جب تم ان کے پاس پہنچو تو ان کو سب سے پہلے اس بات کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو ان کو بتلاؤ کہ اللہ نے ان پر شب وروز میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ تمہاری یہ بھی بات مان لیں تو ان کو بتلاؤ کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ فرض قراردی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائےگی اور فقیروں کو دے دی جائےگی۔ اگر وہ تمہاری یہ بھی مان لیں تو پھر اس کے بعد ان کے عمدہ عمدہ مال لینے سے بچو، اور مظلوم کی بددعا سے بچو کیوں کہ اس کے اور اللہ کے بیچ میں کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ (بخاری)

اور نرمی سے متعلق اللہ نے فرمایا :

( فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى ) [طه: 44]

“اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وه سمجھ لے یا ڈر جائے۔”

اسی طرح حکمت بھی ہے جو اللہ نے انبیاء کو عطا کی تھی ۔ دیکھئے، حضرت یوسف علیہ السلام کو، انہوں نے دو ساتھی قیدیوں سے کیا کہا تھا:

( يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ٣٩ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآَبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ) [يوسف: 39 - 40]

“اے میرے قید خانے کے ساتھیو! کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں؟ یا ایک اللہ زبردست طاقتور؟اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وه سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی، فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔”

اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود علیہ السلام کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

( وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ قَالَ يَا قَوْمِ هَؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ ) [هود: 78]

“اور اس کی قوم دوڑتی ہوئی اس کے پاس آپہنچی، وه تو پہلے ہی سے بدکاریوں میں مبتلا تھی، لوط علیہ السلام نے کہا اے قوم کے لوگو! یہ ہیں میری بیٹیاں جو تمہارے لئے بہت ہی پاکیزه ہیں، اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں۔”

اور ترغیب وترہیب کے طور پہ حضرت ھود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:

( فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًا إِنَّ رَبِّي عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ ) [هود: 57]

“پس اگر تم روگردانی کرو تو کرو میں تو تمہیں وه پیغام پہنچا چکا جو دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا تھا۔ میرا رب تمہارے قائم مقام اور لوگوں کو کر دے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے، یقیناً میرا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے۔”

اور حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:

( فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ١٠ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا ١١ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا ١٢ مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا ) [نوح: 10 - 13]

“ اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر موسلا دھار بارش کرے گا۔ تمہیں مال واولاد سے نوازے گا، تمہارے لیے باغ اور نہریں بنائے گا۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی بر تری کا خیال نہیں کرتے ۔

حضرت نوح علیہ السلام نے کہا ۔

( قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا ) [نوح: 5]

( ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ) [نوح: 8]

( ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا ) [نوح: 9]

(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پرورگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے۔ پھر میں نے انہیں بآواز بلند بلایا۔اور بےشک میں نےان سے اعلانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی۔”

اسی طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ بھیجا تو آپ موقع بہ موقع لوگوں کے پاس جانے لگے اور ان کو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی دعوت دینے لگے ۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

حضرات سامعین ! انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا دعوتی منہج، ان فطری دلائل کے سبب ممتاز وجدا ہے جن کو فطرت تسلیم کرتی ہے۔ اور جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں وہ صرف عناد ومخالفت اور تکبر وغرور میں۔

سنئے، حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی اپنی قوم کے ساتھ گفتگو۔ آپ لوگوں سے عقلی دلائل کی روشنی میں بحث ومجادلہ کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آَزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آَلِهَةً إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ٧٤ وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ) [الأنعام: 74 - 75]

“ اور وه وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے؟ بےشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں۔ اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔”

اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام کی فرعون کے ساتھ ہوئی گفتگو بھی ملاحظہ فرمایئے!

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( فَأْتِيَاهُ فَقُولَا إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَاكَ بِآَيَةٍ مِنْ رَبِّكَ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ٤٧ إِنَّا قَدْ أُوحِيَ إِلَيْنَا أَنَّ الْعَذَابَ عَلَى مَنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى ٤٨ قَالَ فَمَنْ رَبُّكُمَا يَا مُوسَى ٤٩ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى ٥٠ قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُونِ الْأُولَى ٥١ قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي فِي كِتَابٍ لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنْسَى ٥٢ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّى ٥٣ كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعَامَكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِأُولِي النُّهَى ٥٤ مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى ٥٥ وَلَقَدْ أَرَيْنَاهُ آَيَاتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَى ) [طه: 47 - 56]

“تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر۔ ہم تو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اسی کے لئے ہے جو ہدایت کا پابند ہو جائے۔ ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو جھٹلائے اور روگردانی کرے اس کے لئے عذاب ہے۔ فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ جواب دیا کہ ہمارا رب وه ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راه سجھا دی۔ اس نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہونا ہے۔ جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے، نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا ہے اور اس میں تمہارے چلنے کے لیے راستے بنائے ہیں اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے، پھر اس برسات کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔ تم خود کھاؤ اور اپنے چوپایوں کو بھی چراؤ۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب کو نکال کھڑا کریں گے۔ ہم نے اسےاپنی سب نشانیاں دکھا دیں لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا۔”

ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔

برادران اسلام!دعوت الیٰ اللہ کے سلسلے میں منہج انبیاء کی مخالفت سے بچیں اور خوارج وروافض جیسے گمراہوں کے منہج نہ اپنائيں۔ اسی طرح حضرات دعاۃ وطلبۂ علم!آپ کے لیے دعوت الی اللہ کے سلسلے میں جدید وسائل وذرائع سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے کیوں کہ بعض وسائل میں کچھ ایسی سہولیات ہیں، جو داعی الی اللہ کے لیے مفید ہیں، جیسے انٹرنیٹ، موبائل اور کمپیوٹر وغیرہ۔ دشمنان اسلام کو دیکھئے، انہوں نے اپنی فضولیات اور شرکیات کو پھیلا نے کے لیے کس طرح ان کا استعمال کیا ہے۔

اللہ کے بندو!اللہ سے ڈرو اور جان لوکہ سب سے بہترین ہدایت، محمدی ہدایت ہے۔ سب سے خراب معاملہ، دین میں نئی بات ہے۔ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بد عت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔