کسب حلال کی ترغیب اور کسب حرام کی مذمت

تفصیل

بلا شبہ حلال کی طلب اور اس کی جستجو واجب، ضروری اور لازمی امر ہے۔ قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک ہل نہیں سکتے جب تک اس کے مال کے بارے میں نہ پوچھ لیاجاۓ کہ اس نے اسے کہاں سے کمایا ہے اور کن چیزوں میں خرچ کیا ہے؟ اس لیے ہر مسلمان مرد اور عورت پر لازم ہے کہ وہ پاکیزہ کمائی اور صاف ستھرے عمل کی جستجو میں رہے تاکہ وہ حلال کھاۓ اور حلال چیزوں میں خرچ کرے اور حرام اور جس کے حرام ہونے کا شبہ ہو ان سے بچارہے ۔ کیونکہ جہنم اس جسم کے زیادہ لائق ہے جو حرام سے پلا ہو ۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفرہ، ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسیئات أعمالنا، ومن يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، و أشھد أن محمدا عبده ورسوله، أما بعد:

فأعوذ بالله من الشيطن الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم.

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ 87 وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي أَنْتُمْ بِهِ مُؤْمِنُونَ ) [المائدة: 88]

“اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو پاکیزه چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرو اور حد سے آگے مت نکلو، بےشک اللہ تعالیٰ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔”

وقال في موضع آخر:

( فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ) [النحل: 114]

”جو کچھ حلال اور پاکیزه روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔”

حضرات! اللہ کی جو نعمتیں ہیں ان سب کا شمار ممکن نہیں۔ وہ بےحد وحساب ہیں۔ یہ زندگی نعمت ہے، یہ صحت یابی نعمت ہے، یہ آنکھیں نعمت ہیں، یہ کان نعمت ہیں، یہ دل نعمت ہے، پیر نعمت ہے، ہاتھ نعمت ہے، جسم نعمت ہے، دماغ نعمت ہے، اولاد نعمت ہے، بیوی نعمت ہے، زمین نعمت ہے، آسمان نعمت ہے، بارش نعمت ہے، ہوا نعمت ہے، پھل نعمت ہے، فصل نعمت ہے، چاندنعمت ہے، سورج نعمت ہے، اور خود آپ کی زندگی نعمت ہے۔ مگر ان ساری نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت، نعمتِ اسلام ہے۔

حضرات! ہم میں سے کون ہے جو نہیں چاہتا ہے کہ وہ گھر میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ شادماں رہے اور کون چاہتا ہے کہ وہ دوسروں پر بوجھ بن جائے۔ نہیں، ہر گز نہیں! ہر انسان اپنا بو جھ خود سے ڈھونے کا متمنی ہوتا ہے۔ بلکہ دوسروں کی کفالت کا آرزومند بھی۔ اور اس کے لیے انسان کو دنیا میں کچھ کرنے کی فطری ضرورت پڑتی ہے، اور اسی کا نام کسبِ معاش ہے۔ بلکہ یہ کسبِ معاش بذات خود انسان کی اپنی زندگی گزارنے کے لیے بھی ایک امرناگزیر ہے۔ جو انسان کسب معاش سے راہِ فرار اختیار کرتاہے، وہ نہ صرف اپنے گھر والوں کے لیے مصیبت ہے؛ بلکہ اپنے سماج کے لیے بھی وبال جان اور بوجھ ہے۔

اس فطری ضرورت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے کسب حلال کا اصول دنیائے انسانیت کے سامنے پیش کیا۔ تاکہ انسان صحیح زندگی گزار سکے، اس کی دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی بن جائے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے طیبات یعنی پاکیزہ چیزوں کو ہمارے لیے حلال قراردیا اور خبائث کو حرام ٹھہرایا ہے۔ چونکہ جو طیبات میں سے ہیں وہ فی نفسہ بھی اچھی چیزیں ہیں اور جسم اور عقل کے لیے بھی مفید اورغیر ضرر رساں ہیں۔ اور جو حرام طریقہ سے کمایا جاتاہے وہ ہر طرح سے مضر ہوتاہے جسم کے لیےبھی، دماغ کےلیے بھی، اور ایمان کے لیے بھی۔ یوں تواللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے رزق کی ذمہ داری اپنے اوپر لے رکھی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ) [هود: 6]

”زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہےاور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے۔”

مگر انسان سمجھتا کہاں ہے؟حالانکہ اللہ ہی رزّاق ہے۔ یعنی بہت زیادہ دینے والا، خودمختار اور بہت طاقتور ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

( إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ ) [الذاريات: 58]

“اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے۔”

ایکدوسری جگہ ارشاد ہے:

( وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ) [الذاريات: 22]

“اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعده کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے۔”

ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے:

( وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ ) [الحجر: 20]

“اور اسی میں ہم نے تمہاری روزیاں بنا دی ہیں اور ان لوگوں کی جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو۔”

نیزارشاد باری تعالیٰ ہے:

( نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَةُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ ) [الزخرف: 32]

“ ہم نے ہی ان کی زندگانی دنیا کی روزی ان میں تقسیم کی ہے اور ایک کو دوسرے سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کے ماتحت کر لےجسے یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں اور اس سے آپ کے رب کی رحمت بہت ہی بہتر ہے۔”

نیز ارشار باری تعالیٰ ہے:

( اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ) [الرعد: 26]

“اللہ تعالیٰ جس کی روزی چاہتا ہے بڑھاتا ہے اور گھٹاتا ہے ۔”

ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثال کے ذریعہ اس کو مزید واضح کردیا ہےکہ:

“عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو أنكم كنتم توكلون علی الله حق توكله، لرزقتم كما يرزق الطير، تغدو خماصا وتروح بطانا” (قال أبو عیسی هذا حديث حسن صحيح) (سنن الترمذى:2344، صحّحہ الألبانی)

“ اگر تم اللہ پر کما حقہ اعتماد کرلو، تو جس طرح وہ پرندوں کو روزی دیتا ہے، اسی طرح تم کو بھی دےگا کہ وہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں او رشام کو پیٹ بھرے واپس ہوتے ہیں۔”

اگر مذکورہ تمام آیات اور اس حدیث کا آپ بغور مطالعہ کریں تو یہ بالکل صاف ہوجائےگاکہ رزق کی ذمہ داری اللہ پر ہے۔ وہ کسی کو بھوکے مرنے نہیں دےگا۔ جب وہ ایک پرندہ کو روزی دیتاہے، تو انسان کو بدرجۂ اولیٰ دےگا۔

ترمذی شریف کی اس حدیث نے اس بات کی بالکل وضاحت کردی ہے کہ رزق اللہ کی جانب سے ملنا تو یقینی ہے۔ مگر اس پر بھروسہ بھی کرنا ہوگا اور چڑیوں کی طرح محنت بھی کرنی ہوگی۔ پھر معاش کے لیے گھر سے نکلنا بھی ہوگا۔ جیسے بھوکی چڑیا صبح کو فکر معاش میں اللہ پر بھروسہ کرکے اپنے گھونسلے سے نکلتی ہے اور شام کو جب وہ واپس لوٹتی ہے تو اس کا پیٹ بھرا ہوتا ہے۔

اس حدیث کے ذریعہ در اصل انسان کو ایک اہم سبق سکھایا گیا اور ایک اہم اصول عطاکیا گیا ہے۔ وہ سبق یہ ہے کہ رزق کا مالک صرف اللہ ہے، اور اس پر بھروسہ کرنا ضروری ہے۔ اور اصول یہ ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے انسان کو گھر سے نکلنا ہوگا، اور محنت ومشقت کرنی ہوگی، اور بقدر محنت اس کاحصہ اس کو مل جائےگا، اور جتنا مل جائے یہی اس کی تقدیر ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

( وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى ) [النجم: 39]

“اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی۔”

اس لیے قرآن کریم میں مختلف انداز میں کسب معاش کا حکم دیا گیا ہے۔ بلکہ فرض تک قرار دیا گیا ہے اور خصوصاً دن کا حصہ اس کے لیے مقررکیا گیا ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

( وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا ) [النبأ: 11]

”اور دن کو ہم نے وقت روزگار بنایا۔”

مطلب یہ ہے کہ دن کو روشن بنایا تاکہ لوگ کسبِ معاش کے لیے جدوجہد کرسکیں۔ قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں اللہ تعالی نے رز ق کےتلاش کرنے والے اور اللہ کی راہ میں نکلنے والے کو ایک ساتھ ذکر کیا ہے جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔

( عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآَنِ عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى وَآَخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَآَخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآَتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) [المزمل: 20]

“وه جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل (یعنی روزی بھی) تلاش کریں گے اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد بھی کریں گے، سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیاده پاؤ گے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔”

اس آیت کریمہ میں”وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ” سے مراد فکر معاش اور تجارت وکاروبار کےلیے سفر کرنا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ہے۔ اور یہ عمل اللہ کے نزدیک پسندیدہ اعمال میں سے ہے۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو مخاطب کرتے ہو فرمایا:

“یا عمرو! نعم العمل الصالح مع الرجل الصالح” (صحیح ابن حبان۔ قال شعیب الأرنؤوط إسنادہ قوی علی شرط مسلم)

“اے عمرو! اچھا عمل، اچھے آدمی کے ساتھ کتنا اچھا ہے۔”

بخاری شریف کی ایک روایت ہے:

“عن المقدام رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما أکل أحد طعاما قط خیرا من أن یأکل من عمل یدہ وإن نبی اللہ داؤد علیہ السلام کان یأکل من عمل یدہ” (بخاری: 2072)

“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے لیے بھی اس کے ہاتھ کی کمائی کے کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔”

حضرات! کسب حلال، شرافت کی علامت اور عزت ووقار کی دلیل ہے۔ انسان جب کسب حلال میں سر گرم رہتاہے تو اس کو نہ مسکنت چھوتی ہے، اور نہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتاہے، بےشک دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ایک معیوب چیزہے۔

حضرت لقمان حکیم کی طرف یہ منسوب کیا جاتا ہے کہ اے میرے بیٹے کسب حلال کے ذریعہ فقر سے استغنا حاصل کرو۔ اس لیے کہ جس کو فقر لاحق ہوجاتا ہے، اس کے اندر تین خصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں؛ (۱) دین میں کمزوری اور نرمی (۲)عقل میں ضعف اور (۳) زوال مروت۔ اس کے برعکس کسب حلال میں منہمک رہنے سے (۱) انسان کی معیشت اچھی رہتی ہے (۲) دین کی سلامتی بھی نصیب ہوتی ہے(۳) عزت وناموس کی حفاظت بھی ہوتی ہے(۴) چہر ے سے نور ٹپکتاہے، اور لوگوں کی نگاہوں میں باوقار رہتاہے۔

مگر کسب حلال اس وقت ہے جب کسب معاش کا طریقہ بھی حلال ہو اور شئ مطلوب بھی حلال ہو۔ ورنہ پھر کسب معاش وبال جان بن جاتا ہے۔ حرام طریقے سے کمائی ہوئی چیز اور حرام چیز دونوں ہی اللہ کے نزدیک غیرمقبول اورمستحق عذاب ہے۔ اور سماج میں بھی باعث ننگ وعار اور شرمندگی وندامت کا سبب ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے اس کی مکمل وضاحت کردی ہے:

( يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ) [المؤمنون: 51]

"اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں۔"اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ) [البقرة: 172]

“اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو۔”

سامعین کرام! کیا آپ کو معلوم ہے کہ زہد فی الدنیا کیا ہے؟ سب سے بڑا زہد فی الدنیا یہ ہے کہ انسان حرام چیزوں کو ترک کردے۔ یہ کوئی زہد اور تقویٰ کی بات نہیں ہے کہ ایک طرف حرام چیزوں سے رزق حاصل کرےیا دوسروں پر ظلم کرےاور دوسری طرف زہد کا لبادہ اوڑھے رکھے۔

آج یہ عجیب وغریب بات ہے کہ پوری انسانیت دنیا پرستی میں مگن ہے اور اکتساب مال کے لیے نہ حرام چیزوں کی پرواہ کی جاتی ہے اور نہ ہی حرام طریقہ سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ بلکہ اکتساب مال میں تمام جائز وناجائز حربوں کو آزمانا کمال فن سمجھاجاتاہے۔ اس سے کوئی مطلب نہیں کہ یہ مال کہاں سے آتاہے اور اس کا مصرف کیا ہے؟ اس کے اثرات سے یہ نوبت آجاتی ہے کہ:(قد یصبح الإنسان مومنا ویمسی کافرا، وقد یمسی مومنا ویصبح کافرا)

“آدمی کبھی ایمان کی حالت میں صبح کرتا ہے، تو کفر کی حالت میں شام کرتاہے۔ اور کبھی ایمان کی حالت میں شام کرتا ہے تو کفر کی حالت میں صبح کرتا ہے۔”

یہی لوگ دینار اور درہم کے بندے ہیں، جن کے لیےسخت وعید آئی ہے۔

اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو مخاطب کرکے فرمایا تھا:

(کن فی الدنیا کأنک غریب أو عابرسبیل) (بخاری:6416، وابن ماجہ)

“ تم دنیا میں اجنبی اور مسافر بن کر رہو”۔

چونکہ انسان جب تک سفر اور غربت وطن میں رہتا ہے تو وہ حد درجہ محتاط اور دامن بچاکررہتاہے۔

اور پردیس میں زیادہ گھر بسانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی ہے۔ ضرورت بھر کی چیزیں مہیا ہو جائیں تو کافی ہیں۔ اسی طرح دنیا ایک پردیس ہی تو ہے، اور انسان اس میں بحیثیت مسافر ہیں۔ جس دن سفر ختم، دنیا ختم۔ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، اور اسی کی تیاری اصل محنت ہے۔ وہاں کے لیے پونجی جمع کرنا، سب سے بڑی کمائی ہے۔ اور انسان جب آخرت کے لیے کماتاہے، تویقینا پھونک پھونک کر قدم اٹھاتاہے۔ حرام تو کیا مشتبہ چیزوں سے بھی کوسوں دور رہتا ہے۔

بہت مشہور حدیث ہے:

“یقینا اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو نبیوں اور رسولوں کو حکم دیا ہے، وہی عام مسلمانوں کو بھی حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا: اے رسولو! تم پاکیزہ چیزوں کوکھاؤ، اور اچھے کام کرو۔ اور اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کاذکر کیا، جو لمبا سفر کرتا ہے، پراگندہ حال، گرد آلود اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف کیے ہوئے رہتاہے اور گڑگڑا کردعا مانگتا ہے کہ اے میرے رب! تو ایسا کر، یہ دے دے، وہ دے دے، حالانکہ اس کا کھا نا حرام ہے، پینا حرام ہے، اور اس کا پہننا حرام ہے، اور حرام مال ہی سے اس کی پرورش ہوئی ہے۔ تو اس کی دعا کس طرح قبول کی جائےگی۔”

اس حدیث سے پتہ چلاکہ رزق حلال کتنی اہم چیز ہے اس کے بغیر دعا تک قبول نہیں ہوتی ہے ۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه،ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسیئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، وأشھد أن محمدا عبده ورسوله، أما بعد:

حضرات!ایک طرف اللہ نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا، وہیں کسب معاش کے لیے زمین میں پھیل جانے کا بھی حکم دیا۔ چونکہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا اہل ایمان کا شیوہ نہیں ہے۔ بلکہ حلال رزق کے لیے محنت کرنا، اہل ایمان کی شان ہے۔ یہ دونوں چیزیں مندرجہ ذیل نصوص سے واضح ہوتی ہیں۔ پہلی دلیل قرآن سے ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

( فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) [الجمعة: 10]

”پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو۔”

اس میں پہلا حکم عبادت ہے پھر عبادت کے بعد رزق حلال کی تلاش کا حکم ہے۔

دوسری دلیل حدیث شریف سے ہے:

“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص لکڑی کاگٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے اور اسے بیچ کرگزارا کرے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے سوال کرے، وہ اسے دے یا انکار کردے۔” (بخاری: 1470، مسلم: 1042)