تفصیل

اسلا م نے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے۔ اسلام میں پڑوسیوں کی حرمت محفوظ ہے۔ اور ان کے بہت سے حقوق ہیں جنہیں انسان اور حکومتوں کے بنائے ہوۓ قواتیں نہیں جان سکے ہیں۔ یہ انسان کے وضع کردہ وہی قوانین جن میں پڑوسی کے حقوق کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اور ان کی حرمت کے ساتھ کھلواڑ کرنا انہیں اچھا لگتا ہے۔ پڑوسیوں کے حق کی اہمیت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ کو برابر اس کی وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے یہ گمان کر لیا کہ وہ عنقریب انہیں وراثت میں حصہ دار بنا دیں گے۔

الحمد للہ الذی خلق الإنسان، وعلمہ البیان، وأنزل لھم القرآن، وذکر فیہ حقوق الجیران، وأشھد أن لا إلہ إلا اللہ، وحدہ لا شریک لہ، وأشھد أن محمداعبدہ ورسولہ، الذی بشرنا بالجنان، وأنذرنا من النيران، فھو البشير النذير،نبي الرحمة، ونبي الإنس والجان، عليه الصلاة والسلام ومن تبعھم إلی يوم الدين بإحسان، أمابعد!

( وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا ) [النساء: 36]

ہر طرح کی تعریف وتوصیف اور بڑائی وکبریائی لائق وسزاوار ہے، اس پروردگا ر عالم کے لیےجس نے انسانوں کو پیدا کیا، اور ان کے حقوق بھی متعین کیے ، تاکہ انسانوں میں ہمیشہ ایک توازن قائم رہے۔ غیرمتوازن چیز لوگوں کے درمیان نہ داخل ہونے پائے، لوگ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں، ان کو پہچانیں، ان کے مقام ومراتب کو جانیں اور ان کے حقوق کو بجا لائیں ۔ یہ اللہ کا بہت بڑاکرم ہے کہ اس نے انسانوں کو جینے کا سلیقہ سکھایا اورآپس میں مل جل کررہنے کا اعلیٰ ضابطۂ حیات دیا۔ تاکہ ہر انسان کو اس کی اپنی زندگی جینے کا پورا پورا حق مل سکے۔ دنیا میں موجود معاشرہ کا فطری نشیب وفراز اور زندگی کا عروج وزوال نفس انسانیت پر بارنہ ہوجائے ۔ اگر سماج کا ایک آدمی شیش محل میں رہتا ہو، دنیا کی مہنگی ترین گاڑی بھی اس کے پاس ہو، مال ودولت کا انبار ہو؛ مگر اس کا پڑوسی ان چیزوں سے محروم ہو، تو اس پڑوسی کی زندگی احساس کمتری کا شکار ہو کررہ جائےگی اور اوّل الذکر آدمی غرور وفخر کے فریب میں داخل ہوجائےگا۔ مگر جب اس کو اپنے پڑوسی کی فکر لاحق رہے، اپنے بنگلہ میں رہتے ہوئے اس کی جھونپڑی کی یاد آجائے، دسترخوان میں چنی گئی نعمتوں کو دیکھ کر پڑوسی کی فاقہ کشی کا منظر نگاہوں میں پھر جائے۔ وغیرہ وغیرہ تو یہ احساسِ انسانیت، نہ اس کوکبر وغرور کے پندار میں داخل ہونے دےگا، نہ اس کو خود فراموشی اور رب فراموشی میں مبتلا ہونے دےگا؛ بلکہ وہ اللہ سے خوف کھاتے ہوئے اور اپنی زندگی کے عروج وزوال کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے پڑوسی کا حق ادا کرنے کی حتی الامکان کوشش ضرورکرےگا۔ آج یہی “پڑوسی اور اس کے حقوق” میرا موضوع سخن ہے۔ اللہ کرے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کو واضح کرنے کی توفیق مل جائے، آمین۔

حضرات! تلاوت کردہ آیت کریمہ میں پڑوسی کے حقوق کا خصوصی طور پر ذکر آیا ہے۔ مناسب سمجھتا ہوں کہ پہلے پوری آیت کریمہ کا سلیس ترجمہ پیش کردیاجائے۔

( وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا ) [النساء: 36]

“اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں (غلام کنیز)، یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔”

الجار الجنب: “قرابت دار پڑوسی کے مقابلہ میں استعمال ہواہے۔ جس کے معنی ہیں؛ ایسا پڑوسی جس سے قرابت داری نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ پڑوسی کے ساتھ بحیثیت پڑوسی کے حسن سلوک کیا جائے،چاہے وہ رشتہ دار ہویا غیر رشتہ دار۔” (تفسیر اَحسن البیان) ۔ چونکہ اگر پڑوسی قرابت دار یا رشتہ دار ہو تو وہ بجائے خود بسبب قرابت آپ کے حسن سلوک کا حقدار ہے۔

نیز قرآن وحدیث میں قرابت داروں اور رشتہ داروں کے مستقل حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ اور پڑوسی جس سے آپ کی کوئی بھی رشتہ داری یاقربت نہ ہو، تب بھی بحیثیت پڑوسی وہ آپ کے احسان کا مستحق ہے۔ الجار الجنب سے یہی معنی مترشح ہوتا ہے۔

اور شرعی اعتبار سے جو پڑوسی کے زمرہ میں داخل ہے، وہ یقیناً آپ کاپڑوسی ہے اور اس کے حقوق کا خیال رکھناآپ کے لیےضروری ہے خواہ وہ مسلم ہو یا کافر، نیکوکار ہو یا فاسق وفاجر، آپ کا دوست ہو یا دشمن ہو، آپ کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو یا بد سلوکی سے پیش آتا ہو، آپ کا قریبی ہو یا اجنبی ۔ یقیناً ان کے بھی درجات ہیں۔ ان کے مراتب میں بھی باعتبار اخلاق وعادات اور دین وایمان کے کمی وزیادتی ہے اور اسی اعتبار سے ان کے حقوق بھی الگ الگ ہیں؛ مگر باعتبار پڑوسی وہ آپ کے ہر حال میں پڑوسی ہیں اور حسب مراتب ان کا حق ادا کرنا آپ پر لازم ہے۔

(عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا) (البخاري:2259)

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرے دو پڑوسی ہیں، تو میں دونوں میں سے کس کے پاس ہدیہ بھیجوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ان دونوں میں سے جس کا گھر تمہارے گھر سے زیادہ قریب ہو۔”

چنانچہ وہ پڑوسی جس کا گھر آپ کے گھر سے متصل ہو یقیناً، اس کا حق اس پڑوسی سے زیادہ ہے جس کا گھر آپ کے گھر سے کچھ دوری پر واقع ہو۔ اسی طرح جو پڑوسی آپ کا پڑوسی بھی ہے اور آپ کا رشتہ دار اور قرابت دار بھی ہے، اس کا مرتبہ یقیناًآپ کے اس پڑوسی سے زیادہ ہے، جو صرف آپ کا پڑوسی ہے؛ مگرآپ سے اس کی کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ اسی طرح آپ کا صاحب ایمان پڑوسی تکلیف پہنچانے والے فاسق وفاجر پڑوسی سے بدرجۂ اعلیٰ بہتر ہے اور اس کے حقوق بھی اس موذی فاسق وفاجر پڑوسی سے زیادہ ہیں۔ اور جس طرح پڑوسی اور پڑوس کا اعتبار آپ کے گھر کے اردگرد سے ہوتا ہے، اسی طرح اس کا اعتبار ہر اس جگہ پر بھی ہوگا ، جہاں جہاں آپ کا وجود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کے کام کرنے کی جگہ، آفس، کارخانہ، بازار، مسجد، سفر، درسگاہ وغیرہ۔

اتنا ہی نہیں؛ بلکہ اسلام میں پڑوسی کےحقوق کا دائرہ اس سے بھی وسیع ترہے۔ مثلا ایک گاؤں دوسرے قریبی گاؤں کا پڑوسی ہے۔ اسی طرح ایک ریاست دوسری ریاست کی پڑوسی ہے؛ بلکہ پڑوسی کا یہ فلسفہ اسلام میں عالمی پیمانہ پر بھی ہے۔ مثلاً ایک ملک دوسرے ملک کا پڑوسی ہے۔ گویا مذہب اسلام نے افراد سے لے کر پوری دنیاکو فلسفۂ پڑوسی کے مضبوط دھاگے میں پرودیا ہے۔ تاکہ پڑوسی کاحق بجالاتے ہوئے نہ صرف ایک فرد، بلکہ پوری انسانی دنیا کی زندگی ایک خوشگوار ماحول میں ڈھل جائے۔ اسلام کا یہ مزاج اور اصول بھی سب سے جداگانہ ہے۔

حضرات! آئیے، اب ذرا فرمانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے اس اصول اور حکم کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کن کن پیرائے میں کی ہے۔ اس سلسلہ میں بھی - الحمد للہ-احادیث مبارکہ کی ایک طویل فہرست ہے۔ ان میں سے بعض احادیث آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔

“عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ” (بخاری: 5670، مسلم:2624)

“حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حضرت جبریل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی ہمیشہ وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں گمان کرنے لگا کہ یہ اسے وراثت میں بھی شریک ٹہرا دیں گے۔”

“عن أبي شريح: أن النبي صلى الله عليه و سلم قال: (والله لايؤمن، والله لايؤمن والله لايؤمن)۔ قيل ومن يا رسول الله؟ قال: (الذي لا يأمن جاره بوائقه)(البخاری:5670، متفق علیہ)

حضرت ابوشريح رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں۔عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشار فرمایا:”وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔”

میرے دینی بھائیو ! اس حدیث کے اندر اللہ کی قسم کھائی گئی ہے جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کی کس قدر اہمیت ہوسکتی ہے۔ جس کی تاکید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کا لفظ موجود ہو، اس میں اور کس چیز کی گنجائش رہ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی اپنے پڑوسی کے حقوق کی پا مالی کرتا ہے تو آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کس قدر عظیم جرم کا مرتکب ہورہا ہے ۔ یقیناً پڑوسی کو تکلیف پہنچانا ایک حرام کام ہے۔ اس سے بےوفائی کی دلیل، اس کی بداخلاقی اور نقص ایمان کی علامت ہے۔ پڑوسیوں کی حق تلفی اہل ایمان کا شیوہ نہیں بلکہ راہ نبوی سے انحراف ہے۔

اس حدیث مبارکہ کے اندر جو لفظ ہے۔ (الذی لایأمن جارہ بوائقہ)” یعنی وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ تو یہاں پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ یہ شرارت کبھی حق تلفی کی شکل میں ہو سکتی ہے تو کبھی یہ شرارت اخلاق وکردار کے ذریعہ بھی ہوسکتی ہے تو کبھی زبان کے غلط استعمال کے ذریعہ بھی ہو سکتی ہے، تو کبھی افعال وعادات کے ذریعہ بھی ہو سکتی ہے۔

جب کہ ایک بہت ہی زیادہ مشہور حدیث ہے کہ (المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ) “پکا سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔”

چونکہ عموماً کسی کو تکلیف دو چیزوں سے پہنچائی جاتی ہے ۔ ان میں ایک زبان اور دوسری چیز ہاتھ ہے۔ لہذا ان دونوں کا صحیح استعمال کرنا چاہئے اور اس کے صحیح استعمال کا سب سے زیادہ حقدار آپ کاپڑوسی ہے۔ اس لیے کہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید آئی ہوئی ہے۔

“عَنْ أَبِى شُرَيْحٍ الْخُزَاعِىِّ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ”(مسلم:165)

“ ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بےشک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوشخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ مہمان کی تکریم کرے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ کلمۂ خیر کہے یا پھر خاموش رہے۔”

اس حدیث مبارکہ کےاندر ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر جیسے اہم ارکان کے ساتھ مہمانوں کی تکریم اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر اس کے بعد یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ یاتوآدمی کلمۂ خیر یعنی اچھی بات کہے یا پھر خاموش ہی رہے، اس لیے کہ اچھی بات نہ کہنے والے کے لیے خاموشی اختیار کرنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ گویا ایک طرف ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر کے سیاق میں پڑوسی اور مہمان کا ذکرکرکے اس کی اہمیت وعظمت کی طرف اشارہ کیا گياہے۔ ورنہ ظاہر ہے، ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر کے ساتھ ایمانیات کا ایک سلسلہ ہے۔ مثلا؛ ایمان بالرسل، ایمان بالکتب، ایمان بالملائکہ، ایمان بالقدر، وغیرہ۔ لیکن ان چیزوں کا ذکر نہ کر کے فوراً مہمان اور پڑوسی کا ذکر کیا گیاہے۔ گویا یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ مومنین کے لیے پڑوسی اور مہمان کا حق ادا کرنا ایمانی صفات کا ایک اہم حصہ ہے۔ اور بالخصوص حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کی جو ایک مستقل فہرست ہے اس میں حقوق والدین کے بعد حقوق الجار یا پڑوسی کے حقوق پر بھی بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اور اس کو اہمیت نہ دینے والا مسلمان بھی منشا شریعت کا غیر حامی اور اسلام کی صفات علیا کو اہمیت نہ دینے والوں کے زمرہ میں ہوگا ۔ چونکہ جس اللہ اور جس نبی پر ایمان لا کر انسان مومن اور مسلمان بنتا ہے، اسی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی بھی تاکید فر مائی ہے۔

حضرات! پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی جانب سے پیش آمدہ کسی ناخوشگوار بات پر صبر کرلینا توفیق الہٰی کی نشانی اور ظفرمندی کا ذریعہ ہے۔ جس سےمحبتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ایک طرف اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو دوسری طرف اللہ کے بندوں سے محبت۔ ایک طرف آپ اللہ کے محبوب بن جائیں گے تو دوسری طرف اللہ کے بندوں میں بھی آپ کی نیک نامی پھیل جائےگی۔ اور اردو کی بہت ہی مشہور ضرب المثل ہے “ زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو” یقیناً اگر آپ شریعت کی جانب سے وضع کردہ اہل حقوق کے حقوق کی ادا ئیگی کریں گے، تو اِن شاءاللہ آپ یہاں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی محبوب اورکامیاب رہیں گے۔

لیکن اس کے بر خلاف جو پڑوسیوں کو ستانے سے باز نہیں آتاہے، سینہ میں بغض اور دل میں کینہ رکھتا ہے، اس کے پڑوسی نہ اس کے ہاتھ سے محفوظ ہوں نہ اسکی زبان سے، اس کا معیارِ اخلاق حد درجہ پست اور گرا ہوا ہو، تو نہ سماج میں اس کا کچھ وقار باقی رہتاہے، نہ آخرت میں رب کی خوشنودی اس کو میسر ہوسکےگی؛ بلکہ یہ جہنم میں جانے کا ایک سبب بن جائےگا۔

ذرا آپ اس حدیث پاک پر غور فرمائیں:

“عن أبي هريرة أن رجلا قال: يا رسول الله! إن فلانة ذكر من كثرة صلاتها غير أنها تؤذي بلسانها قال: (ھی فی النار) قال: يا رسول الله! إن فلانة ذكر من قلة صلاتها وصيامها وإنها تصدقت بأثوار أقط غير أنها لا تؤذي جيرانها قال: (هي في الجنة” (ابن حبان: 5734) قال شعيب الأرنؤوط: إسناده صحيح على شرط الصحيح)

“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ایک شخص نے کہا:اے اللہ کےرسول! فلاں عورت کا ذکر ہوتا ہے کہ وہ دن میں بہت زیادہ روزہ رکھتی ہے اور رات میں تہجدپڑھتی ہے، مگر اپنے پڑسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: وہ عورت جہنمی ہے۔ اس شخص نے پھر کہا: اے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم! فلاں عورت کا ذکر اسکی قلت صوم وصلاۃکے ساتھ ہوتاہے، اور پنیر کے ٹکڑے خیرات کرتی ہے، مگر وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہیں پہنچا تی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔”(ابن حبان، شعیب ارنووط نے اس حدیث کی سند کو صحیح کہاہے)

ذرا سوچئے! پڑوسی کی ایذارسا نی جہنم میں جانے کا سبب بن جاتی ہے، اور اس کے ساتھ حسن سلوک جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جیسا مذکورہ حدیث میں بیان کیاگیا۔ جبکہ دونوں عورتیں صوم وصلوۃ کی پابند ہیں، بلکہ پہلی عورت نوافل کا خوب اہتمام کرتی ہے مگر پڑوسی کو بھی ستاتی ہے، جبکہ دوسری عورت نوافل کا زیادہ اہتمام نہیں کرپاتی ہے، یا لوگ اس سے واقف نہیں ہو پاتے ہیں، اگر کرتی بھی ہے تو پوشیدہ طورپر مگر پڑوسن کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتی ہے۔ مگر پڑوسن کے حقوق کی وجہ سے دونوں کا الگ الگ انجام ہو تا ہے۔

یہاں پر صوم وصلوۃکی قلت سے مراد فرائض میں کمی یا کوتا ہی نہیں ہے؛ بلکہ اس کی ادائیگی توسب سے اہم ہے اور عین فریضہ ہے۔ البتہ اس سے مراد نوافل کا اہتمام ہے۔ یہ بھی ضروری ہے، مگر نوافل کے اہتمام سے زیادہ ضروری پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی ہے۔

پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا ایک نادر نمونہ:

آج دنیائے انسانیت میں بےشمار دیواریں حائل ہیں۔ کہیں مسلک کی دیوار ہے، تو کہیں مذہب کی، کہیں دین ودھرم کی دیوار ہے، تو کہیں ذات پات کی۔ کہیں رنگ ونسل کی دیوار حائل ہے، تو کہیں زبان وقوم کی۔ کہیں برادری کے نام پر دیوار حائل ہے، تو کہیں ملک کے نام پر۔ کہیں عصبیت کی دیوار قائم ہے تو، کہیں نفرت کی۔ گویا دیواروں کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہے۔ ہر کوئی اتحاد، حسن سلوک اور باہمی ربط وضبط کا نعرہ تو ضرور لگالیتا ہے؛ مگر ان دیواروں کو توڑنا تو دور کی بات ،ان سے باہر نکلنے کی بھی ہمارے اندر سکت نہیں ہے۔

مگر قربان جائیے مذہب اسلام کی عالمگیریت پر!اس کےگلوبل سسٹم پر، کہ اس نے ان تمام دیواروں کو انسانیت کے نام پر مسمار کردیا اور زندگی گزارنے کا ایک نیا فلسفہ اور عالمگیر جذبہ عطا کیا۔ اس نے یہ تصور اور فکر دیا کہ تمام مذاہب میں اسلام کی برتری مسلم ہے۔ اس کے عقائد صاف وشفاف ہیں۔ اس کے ساتھ مصالحت کی قطعاًکوئی گنجائش نہیں۔ اتمام حجت کےلیے ہم مثبت انداز میں سب حجت تمام کردیں گے؛ مگر (لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ)دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ حق کو حق اور باطل کو باطل ظاہر کر دینا ہمارا کام ہے۔ مگر ہدایت دینا اللہ کا کام ہے۔ توفیق تو صرف اسی کے ہاتھ میں ہے، جو حق کو حق جان کر قبول کرلے وہ صاحب ایمان ہے اور اس کی آخرت کی کامیابی مسلم ہے۔ اور جوحق کوحق جان کر بھی قبول نہیں کرتا ہے، یا جانتا ہی نہیں ہے یاجاننا ہی نہیں چاہتا ہے، تو ظاہر ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہونے والا ہے، وہ جہنم کے راستہ پر ہے۔ مگر اس دنیامیں اس کو رہنے کا حق ہے، حتی کہ اسلامی مملکتوں میں بھی اس کے حقوق متعین ہیں ۔” ذمی” کی شرعی اصطلاح اس کی ایک کھلی اور سب سے بڑی مثال ہے۔ بظاہر ہم ان سے ایمانی رسم ورواج تو نہیں رکھ سکتے؛ مگر مذہب اسلام نے انسانی رسم وراج کو فروغ دیاہے، اور پڑوسی کے حقوق بیان کرکے تمام دیواروں کو مسمار اور عصبیت کے قلعوں کو تہس نہس کردیاہے۔ اب اگر آپ کا پڑوسی کافر، مشرک، یہودی، عیسائی، ہندو، سکھ یا کوئی بھی ہو، وہ آپ کے حسن سلوک کا حقدار ہے۔

ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل ملاحظہ فرمایئے اور دیکھئے کہ ان میں انسانیت کاجذ بہ کس قدر موجزن ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر بکری ذبح کی گئی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے فرمایا:

“عن مجاهد أن عبد الله بن عمرو: ذبحت له شاة في أهله فلما جاء قال أهديتم لجارنا اليهودي؟ أهديتم لجارنا اليهودي؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول: ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه”(سنن الترمذی: 1943 صحیح الألبانی)

تم لوگوں نے میرے یہودی ہمسایہ کو اس بکری کے گوشت میں سے کچھ ہدیہ بھیجا ہے یا نہیں؟ گھر والوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس میں سے کچھ گوشت ہدیہ کے طور پر بھیج دو۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے جبریل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی اتنی تاکید فرمایا کرتے تھے کہ میں نے سمجھا کہ اس کو وراثت کاحصہ دار بنا دیں گے۔

پڑوسی حتی کہ یہودی پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی یہ مثال ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی میں موجود ہے، جو صحابۂ کرام کلام الہٰی کے اوّلین مخاطب اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی اوّلین مخاطب تھے۔ ان کے سامنے قرآن نازل ہوتا تھا۔ ان کے سامنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کا پورانمونہ تھا۔ انہوں نے زندگی گزار نے کا سلیقہ اسی درسگاہ ِ نبوت سے حاصل کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ پڑوسی کے حقوق کی کتنی اہمیت ہے۔

برے پڑوسی کا علاج:

بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ آدمی اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ تو کرنا چاہتا ہے مگر پڑوسی ہمیشہ اس کے درپے آزار رہا کرتا ہے۔ کبھی سکون کی سانس لینے نہیں دیتا ہے۔ آدمی اس سے ہراساں اور پریشان رہتا ہے۔ مگر اسکے باوجود اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا اہلِ ایمان کاشیوہ ہے۔ اس کی بد سلوکی سے اپنا احسان کرنا ترک کر دینا عقلمند ی کی بات نہیں ہے؛ بلکہ اپنا مشن جاری رکھنا ہی جواں مردی ہے۔ ممکن ہے آپ کے مسلسل حسن سلوک اور اچھے برتاؤ سے وہ راہ راست پر آجا تو یہ آپ کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے پھر وہ سدا آپ کا احسان مند رہےگا۔ مگر اس کے برعکس اگر آپ کا پڑوسی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا ہے۔ اور آپ اس سے عاجز آچکے ہیں، تب بھی آپ کو اس کا حق ادا کرنا ہے، اور جہاں تک اس کی مسلسل ایذا رسانی کا معاملہ ہے تو اس کے لیے کوئی مناسب حل اور اس بیماری کا علاج تلاش کرنا چاہئے۔

ایک ایسا ہی واقعہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش آ یاتھا ۔ سنن ابو داؤد کے اندر یہ حدیث موجوہے:

“عن أبي هريرة قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم يشكو جاره فقال: “اذهب فاصبر” فأتاه مرتين أو ثلاثا فقال: “اذهب فاطرح متاعك في الطريق” فطرح متاعه في الطريق فجعل الناس يسألونه فيخبرهم خبره فجعل الناس يلعنونه فعل الله به وفعل وفعل فجاءه إليه جاره فقال له: ارجع لا ترى مني شيئا تكرهه” (أبوداود: 1003)قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: جاؤ صبر کرو۔ پھردوسری یا تیسری بار جب وہ شکایت لے کر حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا : جاؤ اپنا مال ومتا ع راستہ میں ڈال دو۔ چنا نچہ ایسا ہی کیاگیا۔ جو لوگ راستہ سے گزرتے وہ اس سے پوچھتے کہ تمہیں کیا ہوا ہے؟ جوابا کہاجاتا کہ اس کاپڑوسی اسےاذیت دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ جولوگ بھی یہ سنتے وہ اس پڑوسی پر اللہ کی لعنت بھیجتے، یہاں تک کہ وہ پڑوسی خود اس کے پاس آیا اور یہ درخواست کرنے لگا کہ اپنا سامان اپنے گھر واپس لے چلو۔ اب تم میری جانب سے کبھی کوئی ایسی چیز نہ دیکھوگے جو تمہیں نا پسند ہو۔” (أبو دؤود: 5153 علامہ البانی نے حدیث کو صحیح قرار دیا)

حضرات! پڑوسی کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اس کو تکلیف نہ پہنچائی جائے اس پر احسان کیا جائے۔ حسن سلوک روارکھا جائے۔ اس کے دکھ درد کو بانٹا جائے۔ اس کی مصیبت میں کام آنے کی کوشش کی جائے۔ اس کی خوشی میں شریک ہوکر اس کی خوشی کو دوبالا کیا جائے۔ بیمار ہوتو عیادت کی جائے۔ دعوت دے تو دعوت قبول کی جائے۔ اپنے گھر میں خوشی ہو تو اس کو بھی شریک کیا جائے۔ جب بھی ملاقات ہوتو خندہ پیشانی کا مظاہرہ کیا جائے۔ اور جہاں تک ہوسکے دامے، درمے، سخنے، قدمے، حسب استطاعت اس کی مدد کی جائے۔ اس کا ساتھ دیا جائے۔ پڑوسی کے لیے آپ کی یہ ساری خوبیاں اس کی نظر میں آپ کے محبوب بننے کے لیے کافی ہیں۔

أقول قولی ھذاواستغفر اللہ لی ولکم ولسائرالمسلمین من کل ذنب فاستغفروہ إنہ ھو الغفور الرحیم۔

إن الحمد لله نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله_صلى الله عليه وآله وسلم تسليماً كثيراً_قال تعالىٰ:

( أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ 1 فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ 2 وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ 3 فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ 4 الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ 5 الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ 6 وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ) [الماعون: 1 - 7]

حضرات! اس آیت کریمہ کا ترجمہ ہے ۔

“کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے؟یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ جو ریاکاری کرتے ہیں۔اور برتنے کی چیز روکتے ہیں۔”

اس آیت کریمہ میں کئی چیزوں کاذکر کیاگیاہے، مثلا قیامت کے دن کو جھٹلا نے کا ذکر، یتیم کو ستانے کاذکر، مساکین کو کھانا نہ کھلا نے کا ذکر، نماز میں غفلت برتنے اورریاکاری کا ذکر اور معمولی چیزوں کو روکنے کاذکر ہے۔ گویا یہ ساری چیزیں شریعت کی نگاہ میں نہایت ہی معیوب ہیں۔ ان سب سے بچنا بےحد ضروری ہے۔ بعض مفسرین کی رائے ہے کہ کسی کو اگر ان میں سے کوئی ایک بیماری کی لت لگ جائے تو دوسری بیماری بھی خود بخود اس میں پیدا ہو جائے گی۔

بہر کیف اس میں جن عظیم چیزوں کاذکر کیاگیا ہے ان میں سے ایک ماعون بھی ہے۔ علامہ جو نا گڑھی لکھتے ہیں کہ ماعون عربی زبان میں شیئ قلیل کو کہتے ہیں اور وہ معن کی جمع ہے۔ بعض مفسرین اس سے مراد زکاۃ لیتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی اصل مال کے مقابلہ میں با لکل تھوڑی سی ہی ہوتی ہے (یعنی ڈھائی فیصد) ۔ اور بعض اس سے گھروں میں برتی جانے والی چھوٹی چھوٹی چیزیں مراد لیتے ہیں جو ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی سے عاریتا مانگ لیتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ گھر یلو استعمال کی چیزیں عاریتاً دے دینا اور اس میں کبیدگی محسوس نہ کرنا اچھی صفت ہے۔ اس کے برعکس بخل اور کنجوسی منکریں قیامت ہی کا شیوہ ہے۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نصیحت فرمائی:

“عن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يا أبا ذر إذا طبخت مرقة فأكثر ماءها وتعاهد جيرانك” (بخاری: 142)

“ جب تم کوئی شوربہ دار چیز پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ملادو، اور اس سےاپنے پڑوسی کی خبر گیری کرو۔”

یعنی اس کے گھر بھی بھیج دیا کرو۔ اس سے آپس کے تعلقات استوار رہتے ہیں اور محبت میں زیادتی ہوتی ہے ۔ ہدیہ اورتحفہ بھیجنا تو یوں بھی مسنون طریقہ ہے۔ البتہ گھر کے کھانے اور سالن میں سے بھی کچھ بھیج دینا محبت کو فروغ دینا ہے۔ اس سے رنجش ختم ہوجاتی ہے۔

عموماً کھانا بنانے اور سالن پکانے میں عورتوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ بلکہ وہی پکاتی ہیں اور وہی پورے گھر کے افراد کو کھلاتی پلاتی بھی ہیں؛ لہذا ان کو اپنے گھر میں جتنی ضرورت پڑسکتی ہے اس کا خوب اندازہ بھی ہوتا ہے۔ مگر اس کے باجود اس حدیث میں حکم مردوں کو دیا گيا ہے۔ اس میں ایک حکمت تو یہ ہے کہ عورتوں میں رنجش مردوں کے مقابلہ میں زیادہ ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ عورت کادل اس حکم پر زیادہ مائل نہ ہو، چونکہ عورت پڑوسن کی معمولی معمولی بات سے کبیدہ خاطر ہو جاتی ہے، اس لیے حکم مردوں کو دیا گيا۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ گھر کا مالک مرد ہوتا ہے اس لیے عموم کا لحاظ کرتے ہوئے اسی کو مخاطب کیاگيا ہے۔ ورنہ اس حکم میں مرد وعورت دونوں شامل ہیں۔

تیسری حکمت یہ ہے کہ جب مردعورت کوکوئی حکم دیتا ہے تو اس کو بجالاناعورت کے لیے ضروری ہوجاتا ہے۔ مگر دوسری حدیث میں مقام ومحل کے اعتبار سے عورت کو مخاطب کیا گياہے۔

ارشار نبوی ہے:

“عن أبي هريرة رضي الله عنه: عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: يا نساء المسلمات لاتحقرن جارة لجارتها ولو فرسن شاة”(البخاري: 2427)

“کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ دینے کے لیے بکری کا کھر ہی کیو ں نہ ہو۔”

اس حدیث میں عورتوں کو اس لیے مخاطب کیاگيا کیونکہ پڑوس میں عورتوں کا آپس میں زیادہ آنا جانا اور ملنا جلنا رہتا ہے۔ اس کے بالمقابل مرد عموماً اپنے کاوربار میں گھر سے باہررہتے ہیں۔ یامن جملہ یہ کہ کہیں مردوں کو مخاطب کیا گیا تو کہیں عورتوں کوتاکہ توازن برقراررہ سکے۔ اگرایک کی جانب سے پڑوسی کے حق ادا کرنے میں کوتاہی ہو، تو دوسرا اس کو یاد دہانی کرائے اور یوں پڑوسی کے حقوق کی ادائےگی کا سلسلہ بدستور قائم رہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔