نیک صحبت اور انسانی زندگی پر اس کا اثر

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

اسلام دین فطرت ہے، چنانچہ وہ ناقابل تغیر فطرت کے بھی لائق ہے اور قابل تغیر کے بھی، اس لیے کہ وہ اس کا علاج ودوا ہے، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی متفق علیہ حدیث میں ہے:

“کل مولود یولد علی الفطرۃ، وإنما أبواہ یھودانہ، وینصرانہ ویمجسانہ”

ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین اسے یہودی وعیسائی اور مجوسی بنادیتے ہیں، اسی طرح آدم علیہ السلام کے لیے حواء کوپیدا کیا گیا، تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کریں، مگر اللہ نے ان کو اکیلا نہیں چھوڑا، فرمایا:

( هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ) [الأعراف: 189]

“وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تم کو جان واحد سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس اپنے جوڑے سے انس حاصل کرے۔”

اس فطرت کو اس فطرت سے جوڑنے اور جمعہ وجماعت، عیدین اور صلاۃ کسوف جیسی اسلامی تشریعات میں نمایاں مختلف مرکزی امور پر اس فطرت کو مرکوز کرنا اسلام کا خاص کام ہے۔ جماعت میں حاضر نہیں ہونے والوں کے گھر کو جلانے کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادہ سے یہ بات واضح ہے۔ اور صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا ارادہ ہے کہ میں مؤذن کو اذان کا حکم دوں، پھر ایک آدمی سے لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں، اس کے بعد اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے چلوں جن کے ساتھ لکڑیوں کی گٹھری ہو، پھر نماز باجماعت سے پیچھے رہنے والوں کے پاس جاؤں اور ان کے گھروں میں آگ لگادوں۔

اسی طرح مسافر کو جماعت کے ساتھ سفر کرنے کی تاکید فرمائی اور سفر میں جماعت سے الگ رہنے والے کو شیطان کا نام دیا، جیسا کہ عمر وبن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی مرفوع حدیث میں ہے: ایک سوار شیطان ہے اور دو دو شیطان ہیں، مگر تین سواروں کی جماعت ہے، اس حدیث کو امام مالک وترمذی اور ابو داؤد ونسائی نے روایت کی اورعلامہ البانی نے اسے صحیح قراردیا ہے۔

اس زندگی کی ضروریات میں سے ایک آدمی کا اپنے لیے دوست کا اختیار وانتخاب بھی ہے تاکہ بھولنے پر وہ اسے یاد دلائے، یا غافل ہو نے پر اسے متنبہ کرے، اور نہ جاننے پر اس کو سکھلائے۔ چنانچہ دوست اپنے ہم نشین وساتھی کا عنوان ونشان ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا،

عن المرء لا تسأل وابصر خلیلہ

وکل قرین بالمقارن یقتدی

إن کان ذا شر، فجانبہ سرعۃ

وإن کان خیرًا فقارنہ تھتدی

“ آدمی کے بارے میں مت پوچھو کہ وہ کیسا ہے، اس کے دوست کو دیکھ لو تو اس آدمی کے بارے میں بھی پتہ چل جائےگا۔ ہر دوست اپنے ساتھی کی ہی اقتدا کرتا ہے اگر وہ دوست برا ہو تو جلد ہی اس سے دور ہوجاؤ اور اگر اچھا ہو تو اس کے ساتھ ملے رہو را ستہ پالوگے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اپنے دین ورسول اور مومنوں کو دوست بنایا اور یہی ایمان کا سب سے مضبوط بندھن ہے۔ اسی طرح ہمارے اوپر اللہ اور اس کے رسول کے خلاف ہر چیز سے براءت کو واجب قرار دیا ہے، مومنوں سے موالات کے وجوب سے متعلق فرمایا:

( إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُمۡ رَٰكِعُونَ ٥٥ ) [المائدة: 55]

(مسلمانو) ! تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکاة ادا کرتے ہیں اور وه رکوع (خشوع وخضوع) کرنے والے ہیں۔”

( وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آَمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ ) [المائدة: 56]

“اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی کرے، وه یقین مانے کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت ہی غالب رہےگی۔”

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

( لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآَخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آَبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ ) [المجادلة: 22]

“اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔”

علامہ شنقیطی فرماتے ہیں کہ:یہ آيت کریمہ لفظ خبر کے ساتھ وارد ہوئی ہے، مگر مراد انشاء ہے۔ اور وہ ہے اللہ کے دشمنوں سے دوستی نہ کرنے کا تاکیدی حکم ہے۔ انشاء لفظ خبر کے ساتھ بہت پختہ ومؤکد ہوتا ہے، بالمقابل انشاء کے ذریعہ خبر کو لانے کے۔ اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کی بڑی سخت ممانعت ہے۔ اور دوسری آیت میں ارشاد ہے:

( قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآَءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ ) [الممتحنة: 4]

(مسلمانو)! تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک کہ تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لاؤ۔”

ایک اور جگہ ارشاد ہے:

( مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ) [الفتح: 29]

“محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں۔”

ایک اور جگہ ارشاد ہے:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ ) [المائدة: 54]

“اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو لائےگا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وه بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وه نرم دل ہوں گے مسلمانوں پر اور سخت اور تیز ہوں گے کفار پر۔”

ایک اور جگہ ارشاد ہے:

( وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً ) [التوبة: 123]

“اور ان کو تمہارے اند ر سختی پانا چاہئے۔”

ایک اور جگہ ارشاد ہے:

( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَأْوَاهُمْ ) [التوبة: 73]

“اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد جاری رکھو، اور ان پر سخت ہو جاؤ۔”

اب تو ان آیتوں کے معنی و مفہوم کی روشنی میں نیک صحبت کو اپنانا اور بری صحبت سے بچنا واجب ہے۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!

عقلمند آدمی برے ساتھیوں کی صحبت سے اسی طرح بھاگتا ہے جیسے شیر سے بھاگا جاتا ہو۔ کیوں کہ ان کے اندر کوئی خیر وبہتری نہیں ہوتی اور ایسے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے والا انہی کی طرح بگڑ جاتا ہے۔ ارشاد ہے:

( وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا ٢٧ يَا وَيْلَتَى لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا ٢٨ لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنْسَانِ خَذُولًا ) [الفرقان:27 - 29]

“اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی راه اختیار کی ہوتی، ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراه کردیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے۔”

علمائے تفسیر کے نزدیک مشہور بات یہ ہے کہ جس ظالم کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی وہ عقبہ بن ابی معیط ہے۔ اور جس شخص نے اسے ذکر سے دور رکھا وہ امیہ بن خلف یا اس کا بھائی ابی بن خلف ہے۔ اور بعض نے بیان کیا ہے کہ ایک صحابی کی قراءت کے مطابق “لیتنی لم اتخذ ابی خلیلا” یہ قراءت نہیں بلکہ تفسیر کے قبیل سے ہے۔ بہر حال عموم الفاظ کا اعتبار ہوگا نہ کہ خصوص اسباب کا۔ چنانچہ کفر میں جو ظالم اپنے دوست کی اطاعت کرےگا حتی کہ اسی حالت میں مرجائے تو ابن ابو معیط جیسا حال وانجام اس کا بھی ہوگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک صحبت کی ترغیب اور بری صحبت سے گریز واجتناب کو ایک مثال کے اند ر جمع کر دیا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک اور برے دوست کی مثال مشک بردار اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔ چنانچہ مشک بردار یاتو تمہیں خوشبو دےگا یا تم اس سے خرید لوگے یا پھر اس کی خوشبو تمہیں پہنچےگی۔ مگر بھٹی پھونکنے یا سلگانے والا یا تمہارے کپڑے جلادےگا یا پھر تم اس کی بدبوہی پاؤگے۔ (بخاری ومسلم)

مہلب نے کہا کہ اس حدیث میں نیک ہم نشینی کی برکت کا ذکر اور اس کے خیر کاتذکرہ اور زیادہ سے زیادہ عمل صالح کرنے کی تاکید ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء کی ہم نشینی اور حلقہ ذکر میں شرکت کا حکم فرمایا ہے۔ نیز نیک ہم نشینی کی عطار کی صحبت سے تشبیہ دی ہے کہ اگر وہ تمہیں عطر نہیں بھی دےگا تب بھی تم اس کی خوشبو سے محروم نہیں رہوگے۔

اپنے لڑکے کے لیے حضرت لقمان کی نصیحت دیکھئے: اے بیٹے! علماء کی صحبت میں بیٹھو اور اپنے گھٹنے ان کے سامنے ٹیک کر بیٹھو۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نور حکمت سے دلوں کو زندہ کرتا ہے جیسے بنجر زمین کو بارش سے زندہ کردیتا ہے اور ایک دفعہ انہوں نے کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ ان کو رحمت ملے تو تم کو بھی ان کے ساتھ ملے۔ یہ ہے اہل علم وفضل کی ہم نشینی کاثمرہ۔

اور عینی نے بعض علماء کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا ہےکہ اس میں جس شخص کی صحبت سے تمہارے دین ودنیا کو فائدہ پہنچے اس کی ہم نشینی کی رہنمائی ہے۔ کیوںکہ انسان جب آخرت کی یاد دلانے والے کی صحبت میں بیٹھےگا تو ضروری ہے کہ حسب توفیق الہٰی اس سے کچھ اس کو ملے گا ہی۔ اس سے مقصود دراصل دین ودنیا میں نقصان پہنچانے والے کی ہم نشینی سے ممانعت اور دونوں جہان میں جس کی ہم نشینی مفید ہو اس کی صحبت میں بیٹھنے کی ترغیب ہے۔ کسی نے خوب کہا:

برے دوست سے بچو ا ور اس سے تعلق ختم کرو۔

اگر اس سے چارہ نہ ہوتو پھر دور ہٹ کر رہو۔

نیک دوست کے ساتھ رہو اور اس سے لڑنا چھوڑدو۔

جب تک تم اس سے نہیں جھگڑوگے اس کی سچی محبت تم کو ملتی رہےگی۔

جو بھلائی کا کام نااہل کے ساتھ کرےگاوہ اس کو رائیگاں ہی جانے دےگا، کوئی فائدہ نہیں۔ جنت اگرچہ بڑی وسیع وعریض ہے مگر وہ ان گنت ناگواریوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔