صلہ رحمی کی ترغیب

تفصیل

صلہ رحمی ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے اللہ روزی میں کشادگی عطا کرتا ہے اور موت کو مؤخر کردیتا ہے اور انسان کے مال میں اس کی وجہ سے برکت دی جاتی ہے۔ صلہ رحمی کمالِ ایمان اور حسنِ اسلام کی علامت ہے اور قطع رحمی لعنت، عقاب، تباہی اور عذاب کا موجب ہے۔ اس سے برکت مٹ جاتی ہے اور دلوں میں بغض وعداوت پیدا ہوتی ہے ۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔

ذو الارحام (رشتے داروں) کا بیان اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کا وجوب:

مسلمانو! آج ہماری گفتگوایک ایسے اہم معاملہ سے متعلق ہوگی جس سے اللہ روزی بڑھاتا ہے اور اس کے سبب انسان کے عمر میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اس کے مال میں برکت ہوتی ہے وہ معاملہ ہے صلہ رحمی کا۔ ذوالارحام انسان کے خود اپنے قریبی لوگ ہوتے ہیں۔ جیسے ماں، باپ، بیٹا اور بیٹی، اسی طرح اپنےباپ یا ماں یا بیٹے یا بیٹی کی طرف سے جو ہو اس کے اور اپنے درمیان جو رشتہ ہوتاوہ سب ذوالارحام ہیں ۔ صلہ رحمی کے وجوب پر اور قطع رحمی کی حرمت اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک پر بہت سی آیات واحادیث دلالت کرتی ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو جوڑنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

( وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ ) [الرعد: 21]

“اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وه اسے جوڑتے ہیں اور وه اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں۔”

اور قطع تعلق کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:

( وَالَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ ) [الرعد: 25]

“اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کےجوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے۔”

اللہ سبحانہ تعالیٰ نے روئے زمین میں فساد برپا کرنے اور قطع رحمی کرنے والوں کی تہدید کرتے ہوئے فرمایا:

( فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ٢٢ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ ) [محمد:22 - 23]

“اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کرو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی اللہ نے چھین لی ہے۔”

اور اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کو خیر کی وصیت کی ہے۔ چنانچہ فرمایا:

( وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ) [النساء: 1]

“اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بےشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔”

لہذا اے مسلمانو!تم اپنے رب کا خطاب سمجھو؟ ہم میں سے کتنے لوگ جہیں جو قطع رحمی کرنے والے ہیں، ضلالت وگمراہی میں بھٹک رہے ہیں، اپنے رب کی نافرمانیوں میں لگے ہوئے ہیں، اس کے دین وشریعت سے دور ہیں اور اس کے اوامر واحکام سے غافل ہیں؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نےمخلوق کو پیدا کیا اور جب اس سے فارغ ہوا تو رحم (رشتہ داری ) نے عرض کیا کہ یہ قطع رحمی سے تیری پناہ مانگنے والے کی جاہے، اللہ نے فرمایا کہ ہاں!لیکن کیا تو اس سے خوش نہیں کہ میں اس سے جڑوں گا، جو تجھ سے جڑے اور میں اس سے کٹوں گا، جو تجھ سے کٹے۔ اس نے کہا کہ ہاں کیوں نہیں اے میر ےرب! اللہ نے فرمایا: تیرے لیے یہی رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو یہ آیت کریمہ پڑھ لو:

(فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ) (بخاری)

“تو یقیناً قریب ہے کہ جب تم کو اقتدار ملے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رحموں (رشتوں) کو کاٹو۔”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“إن الرحم شجنۃ، ممسکۃ بالعرش، تکلم بلسان ذلق، اللھم صل من وصلنی واقطع من قطعنی، فیقول اللہ تبارک وتعالی: أنا الرحیم الرحمن، و إنی شققت للرحم من إسمی، فمن وصلھا وصلتہ، ومن نکثھا نکثتھ” (بخاری)

“رشتہ ناطہ نے ایک شاخ شجر کی طرح عرش کو تھامے صاف زبان سے دعا کی: اے اللہ ! تو اس سے جڑ جو مجھے جوڑے اور اس سے الگ رہ جو مجھ سے کٹے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں رحیم ورحمٰن ہوں، میں نے اپنے نام سے “رحم” کو مشتق کیا ہے تو جو اس کو جوڑےگا میں اس سے جڑوں گا اور جو اس کو توڑےگامیں اسے توڑدوں گا۔ “

اور جب ہرقل نے ابو سفیان سے ان کے اسلام لانے سے قبل جبکہ وہ تجارت کی غرض سے شام میں تھے نبی کی صفات کے بارے میں پوچھا اوریہ کہ وہ لوگوں کو کن باتوں کا حکم دیتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: وہ فرماتے ہیں، اللہ کی عبادت کرو اور آباء واجداد کی بات چھوڑو۔ وہ ہمیں نماز، سچائی، پاکدامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں ۔(بخاری )

چنانچہ صلہ رحمی کی دعوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے دی تھی ۔

صلہ رحمی کے کئی درجات ہیں:

سب سے کمتر درجہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائیوں سے تکلیف دہ چیز کو دور کرے۔

صلہ رحمی کی فضیلت:

اللہ کے بندو!صلہ رحمی عمر میں اضافہ اور مال کی کثرت کا سبب ہے یہ صادق ومصدوق کا وعدہ ہے، جو اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے، جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

“من سرہ أن یبسط لہ فی رزقہ وینسا لہ فی إثرہ فلیصل رحمہ” (بخاری ومسلم)

“ جسے یہ اچھا لگے کہ اس کی روزی میں برکت اور عمر میں اضافہ ہوتو وہ صلہ رحمی کرے ۔ “

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ حقیقی وصل وتعلق وہ ہے جو کسی سے تب ہو۔ جب وہ تم سے قطع رحمی کرے ۔ لیکن وہ جو جوڑنے والے سے جڑے تو مکافی (برابر کا برتاؤ کرنے والا) ہوتا ہے مگر جو اپنے ان رشتہ داروں سے جڑے جو اس سے قطع تعلق کیے ہیں تو اس کا اجر وثواب بہت بڑاہے ۔

اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

“لیس الواصل بالمکافی ولکن الواصل الذی إذا قطعت رحمہ وصلھا” (بخاری)

“وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں جو کسی رشتہ دار کے ساتھ احسان کے بدلے میں احسان کرتا ہے، بلکہ اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے۔”

بلکہ اس دین عظیم میں معاملہ یہاں تک پہنچا ہے کہ اس نے کافر کے ساتھ بھی صلہ رحمی کی ترغیب دی ہے۔ جیسا کہ حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ: میری ماں قریش کے ساتھ ہوئے معاہدہ اور مدت میں آئيں جبکہ لوگوں نے ان کے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کیاتھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں صلہ رحمی کی رغبت وخواہش کے ساتھ آئی ہیں تو کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔

برادران اسلام!کیا آپ کو معلوم ہے کہ صلہ رحمی کے کیا ثمرات ونتائج ہیں؟ دنیا وآخرت دونوں جہان میں اس کے لیے بشارتیں ہیں۔ صلہ رحمی کمال ایمان اور حسن اسلام ہے، صلہ رحمی رزق میں وسعت اور عمر میں برکت کا سبب ہے، صلہ رحمی سے بندے کو اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے ۔

صلہ رحمی کے سلسلے میں سلف کی نصیحتیں اور فرمودات: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ:

“تعلموا أنسابکم ثم صلوا أرحامکم”

اپنے نسب کو جانو، پھر اپنے رشتہ داروں سے جڑو۔”

اللہ کی قسم ایک آدمی اور اس کے بھائی کے بیچ کچھ اختلاف ضرور ہوگا۔ اگر دونوں فریق رشتہ و قرابت کو جان کر سمجھ لیں تو وہ اختلاف ہرگز نہ کریں۔ (تفسیر طبری ) اور حضرت عطاء بن ابورباح نے فرمایا کہ رشتہ داروں پر خرچ کرنا فاقہ والوں پہ خرچ کرنے سے بہتر ہے؟ اس پر کسی نے پوچھا کہ اے ابو محمد !خواہ میرا رشتہ دارمالداری میں میرے ہی جیسا ہوتو بھی؟فرمایا کہ ہاں، چاہے وہ تم سے بھی زیادہ مالدار کیوں نہ ہو (مکارم الأخلاق لابن أبی الدنیا 12)

اور حضرت سعید بن مسیبؒ نے کچھ دینار چھوڑتے ہوئے فرمایا کہ: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے وہ صرف اس لیے جمع کررکھے تھے کہ ان سے اپنا دین وحسب بچا سکوں ۔ اس آدمی میں کوئی خیر نہیں جو مال اپنا قرض ادا کرنے، صلہ رحمی کرنے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کےلیے جمع نہ کرے۔ (الآداب الشرعیۃ لابن الصلاح:3/269)

اور عمروبن دینار نے کہا کہ: جان لو! فریضہ کی ادائیگی کے بعد رشتہ دار کی طرف اٹھنے والے قدم سے بڑھ کر کسی اور قدم کا ثواب نہیں۔”

اور سفیان بن موسی نے عبداللہ بن محیریز سے پوچھا کہ:قرابت کا کیا حق ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: قرابت دار آئے تو اس کا استقبال ہو اور واپس جائے تو اس کے پیچھے (وداع کرنے کےلیے) رہا جائے۔ (الآداب الشرعیۃ لابن صلاح: 3/ 269)

برادران اسلام!جس طرح صلہ رحمی میں بڑا ثواب ہے۔ اسی طرح قطع رحمی میں بھی بڑا گناہ ہے۔ قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا:

“لا یدخل الجنۃ قاطع رحم” (بخاری)

“ قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”

جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ سلم کے پاس آکر ذکر کیا ؛ اے اللہ کے رسول!میر ےکچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے جڑتا ہوں اور وہ مجھ سے کٹتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہوں۔ مگر وہ میرے ساتھ بد سلو کی کرتے ہیں اور وہ میرے ساتھ نادانی کرتے ہیں جبکہ میں ان کے ساتھ بردباری سے پیش آتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ: بات اگر ایسی ہے جو تم کہہ رہے ہو تو گویا تم ان کےمنہ میں راکھ ہی ڈالتے ہو۔ اور جب تک تم اسی برتاؤ پر قائم رہوگے تو ان کے خلاف اللہ کی طرف سے تمہارے لیے معاون ہوگا۔ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:گویا تم ان کوکرم راکھ کھلاتے ہو، قاطع رحم کو جو سزا اور تکلیف ملےگی گویا اس کی تشبیہ ہے گرم راکھ پھانکنے والے کو ہونے والی تکلیف ودرد سے ۔ اسی طرح قطع رحمی لعنت اور عقاب وسزا کا سبب ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

( فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ٢٢ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ ) [محمد:22 - 23]

“اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی اللہ نے چھین لی ہے۔”

اورفرمایا:

( وَالَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ ) [الرعد: 25]

“اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کےجوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لیے لعنتیں ہیں اور ان کے لیے برا گھر ہے۔”

واضح ہو کہ سب سے بڑی قطع رحمی والدین سے متعلق قطع رحمی ہے، پھر اس کے بعد رشتہ داروں الاقرب فالاقرب۔ اور اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“ألا أنبئکم بأکبر الکبائر ثلاث، مرات قلنا: بلی یا رسول اللہ! قال: الاشراک باللہ وعقوق الوالدین”

“تین بار آپ نے فرمایا:کیا میں تم لوگوں کو اکبر الکبائر (کبیرہ گناہوں) کے بارے میں نہیں بتاؤں؟ ہم صحابہ نے عرض کیا، ہاں کیوں نہیں؟ اے اللہ کے رسول!فرمایا: “اللہ کی ذات میں دوسرے کو شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔”

یہ کتنا بڑاجرم ہے کہ اس کا گناہ اس قدر سخت ہے کہ اشراک باللہ کے بعد ہی وہ مذ کورہے ۔

اسی طرح آخرت سے قبل دنیا میں بھی اس کی جلد سزا ملتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : قطع رحمی اور ظلم سے بڑھ کر کوئی بھی گناہ ایسا نہیں کہ اللہ اس کے مرتکب کو دنیا ہی میں جلد سزا دے ۔ باوجودیکہ آخرت میں بھی وہ اس کے لیے تیار رہے ۔

رشتہ داروں کے فرق مراتب :

برادران اسلام!رشتہ داروں کے کئی درجے ہیں:

پہلا درجہ : استقامت اور دین وتقویٰ والوں کے ساتھ صلہ رحمی کا ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی الاقرب فالاقرب کے طریقے کے مطابق کی جائے، خواہ وہ عام رشتہ دار ہوں یا خاص۔

دوسرا درجہ: فاسق اور فاجر لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کا ہے۔

ان کی دوقسمیں ہیں :

علانیہ طور پہ اپنی بدعت اور فسق وفجور کا ارتکاب کرنے اور اس کی دعوت دینے والوں سے پورے طور پہ قطع تعلق کیا جائے گا۔ اور یہ اللہ عزوجل سے قربت کے لیے ہوگا۔ نیز اس سلسلے میں کوئی ڈھیل نہیں ہوگی۔ ہاں اگر ان کے ساتھ مدارات کسی برائی کو دور کرنے یا کوئی اور دینی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ہو تو ٹھیک ہے اور حسب ضرورت ایسا کرنا مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کردیا ہے ۔

اللہ تعالی ٰ نے فرمایا :

( إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ) [آل عمران: 28]

“الایہ کہ تم ان سے کوئی بچاؤ چاہو۔”

اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے ر وایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ اسے اجازت دے دو: (بئس أخو العشیرۃ) “یہ قبیلے کا براآدمی ہے۔” لیکن جب وہ اندر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی سے گفتگو کی۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اس کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہہ چکے ہیں پھر بھی آپ نے اس سے نرم گفتگو کی۔ تو آپ نے فرمایا کہ: سب سے برا شخص وہ ہے جس سے لوگوں نے اس کی فحش کلامی سے بچنے کے لیے علیحدگی اختیار کر لی ہو یا اسے چھوڑ دیا ہو۔ (بخاری:6054)

اور جو اپنی بدعت اور فسق وفجور کو چھپانے والا ہوگا اس کے ساتھ مستور الحال مسلمان کی طرح برتاؤ ہوگا، الا یہ کہ کسی کی حقیقت معلوم ہوجائے۔ یہاں تک کہ اگر ان کے ساتھ حسن معاملہ وسلوک کرنے میں کسی برائی کاخاتمہ یا کوئی فائدہ حاصل کرنا مقصود ہے تو اس کے ساتھ معاملہ ہوگا۔

تیسرا درجہ: کفار اور منافقین کا ہے:

ان کی بھی دو قسمیں ہیں ۔

محارب جو مسلمانوں سے برسرپیکار رہتا ہے، ایسے شخص سے قطع تعلقی کی جائےگی۔ الا یہ کہ مدارات اور اس کے شر سے بچنا مقصود ہو۔

غیر محارب، اس کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن معاملہ کا برتاؤ کیا جائےگا۔

غیر محارب کافر وفاجر رشتہ داروں کے صلہ رحمی کے طریقے یہ ہیں:

ان کے لیے وعظ ونصیحت میں محنت کرنا، ان کو اسلام کی دعوت دینا اور مختلف طریقوں سے ان کو اسلام کی طرف بلانا۔

ان کے حق میں غا ئبانہ ہدایت کی دعاء کرنا، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دعا فرمایا کرتے تھے ۔

“اللھم إھد قومی فإنھم لایعلمون”

“اے اللہ!میری قوم کو ہدایت دے کیوں کہ وہ نادان ہے ۔”

“اللھم إھد دوسا”

“اے اللہ! قبیلۂ دوس کو ہدایت دے۔”

ان کے ساتھ بھلائی صلہ رحمی کرنا، اور ان سے ربط وتعلق پیدا کرنا۔ بشر طیکہ وہ محارب اور دشمنی کرنے والے نہ ہوں۔

مسلمانو!اللہ سے ڈرو۔ اور ملاقات، ھدیئے اور تحفے تحائف کے ذریعہ اپنے رشتہ داروں سے جڑو، نرمی خوش روئی، عزت واکرام اور احترام کےساتھ ان سے ملو اور ہر اس طریقہ سے رشتہ داروں کے ساتھ جڑوجو لوگوں میں متعارف ہے۔ دنیا اور آخرت میں کامیاب رہو گے۔ اور قطع تعلق سے بچو، کیوں کہ یہ دنیا و آخرت میں مصیبت اور نقصان کا سبب ہے ۔