تفصیل

اخوت فی اللہ، اللہ کی ایک عظیم نعمت اور اس کا ایک بڑا فیضان ہے جس سے وہ مومن صادق کو مالا مال کرتا ہے۔ اخوت ایک ایسا پاکیزہ شراب ہے جسے وہ خالص مومن کوپلاتا ہے۔ اسلام اس بات کا خواہاں ہے کہ مسلمان اپنے بھائی سے گہرا اور مضبوط تعلق رکھے۔ اس کے لیے اس نے کچھ ایسے امور مشروع قرار دیے ہیں جو اس تعلق کو مضبوط کرتے ہیں۔ مثلا، سلام کوعام کرنا ، بیمار کی عیادت کرنا، اس کے علاوہ اور بھی مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی کے بہت سے حقوق ہیں ۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!

“عن أبی ھریرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: حق المسلم علی المسلم خمس؛ رد السلام، وعیادۃ المریض، واتباع الجنائز، وإجابۃ الدعوۃ، وتشمیت العاطش” (متفق علیہ)

“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے پانچ حق ہیں:

سلام کا جواب دینا ،

مریض اور بیمار کی عیادت کرنا،

جنازہ کے ساتھ چلنا،

دعوت قبول کرنا ،

چھینکنے والے کے “الحمد للہ” کہنے پر اسے”یرحمک اللہ” کہنا ۔

دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کے بعد دنیا کے تمام مسلمان اسلامی رشتۂ اخوت سے منسلک ہوجاتے ہیں۔ “کل مسلم إخوۃ” کے تحت مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہوجاتے ہیں اور کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں رہ جاتا ہے۔ امیر وغریب، عالم وجاہل، شہزور وکمزور اور خاص وعام برابر ہوجاتے ہیں۔ ایک اللہ ، ایک رسول، اور ایک قرآن اور ایک حرم کو ماننے والے ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ نہ کوئی بندہ رہتاہے اورنہ کوئی بندہ نواز۔ اسلامی رشتۂ اُخوت ایک ایسا عالم گیر رشتہ ہے جس کی کوئی نظیر اور مثال نہیں۔ یہ رشتہ سب سے اعلیٰ وارفع، بلند وبالا، عمیق ووثیق اور مضبوط رشتہ ہے۔ اس اسلامی اُخوت سے منسلک ہوجانے کے بعد کہیں کا مسلمان کسی بھی جگہ کے دوسرے مسلمان بھائی کے لیے اجنبی اور انجانا وبےگانہ نہیں رہ جاتا۔ ساری دوریاں اور سماجی ومعاشرتی دشواریاں ختم ہوجاتی ہیں۔

اسلامی رشتۂ اُخوت کی اہمیت اور قدر ومنزلت کے پیش نظر ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے چند حقوق عائد ہوتے ہیں، اسلامی تعلیم اور ہدایت کی روشنی میں جن کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ وہ حقوق بظاہر بہت معمولی ہوتے ہیں لیکن شریعت کی نظر میں وہ غیر معمولی اور نہایت ہی اہم ہوتے ہیں۔ ان حقوق کی طرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےمذکورہ حدیث میں اشارہ کیا ہے اور ان کو ادا کرنے کی تعلیم دی ہے کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کےسلام کا جواب دے۔ ایک دوسرے سے سلام کرنا ویسے ہی اسلام کی مؤکد تعلیم ہے: (أفشو السلام) “سلام پھیلاؤ” (ویسلمہ إذا لقیہ) “جب ملا قات ہو تو وہ اپنے مسلمان بھائی سے سلا م کرے” وغیرہ جیسے الفاظ سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ ایک دوسرے سے سلام کرنے کی کتنی تاکید کی گئی ہے۔ پہل کرتے ہوئے اگر کوئی مسلمان کسی پر سلام کرے تویہ بہت بڑی بات ہے اور اس کا ایک مقام ہے۔ مگر اس کے سلام کا جواب دیا جائے اس کا اسلامی حق ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ حق دوسرے مسلمان پر عائد ہوتا ہے کہ وہ سلام کرنے والے مسلمان بھائی کا کھلے دل سے جواب دے خواہ کوئی ہو۔ کیوں کہ اس طرح سے آپسی میل ومحبت اور پیار والفت میں اضافہ ہوتا ہے۔

مریض اور بیمار مسلمان بھائی کی عیادت کرنا اس کی بیمار پرسی کرنا اور اس کی حالت جاننا بھی ایک اسلامی حق ہے جس کی تاکید کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (عودوا المریض) “مریض کی عیادت کرو۔” عیادت مریض کی اہمیت وفضیلت واضح کرتے ہوئے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں فرماتے ہیں کہ، جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغ میں پھل پھول چن رہا ہوتا ہے۔ (مسلم)

اخروی اجر وثواب کے علاوہ مریض کے دل میں عیادت کرنے والے کی اہمیت اور قدر ومنزلت بڑھ جاتی ہے۔ اس کو عزت واحترام کی نظر سے دیکھتا ہےاور اس حق کی ادائیگی پر نہ صرف یہ کہ وہ خوش ہوتا ہے بلکہ نفسیاتی طور پر وہ اپنے مرض میں کمی محسوس کرتا ہے۔

حدیث شریف کے اندر تیسرا حق (اتباع الجنائز) “جنازے کے پیچھے چلنا “ یہاں تک کہ میت کی تدفین کردی جائے کو قراردیا ہے ۔ اس حق کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری حدیث کے اندر اس کی تاکید کی ہے ۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ (ویشھد إذا مات) “جب کوئی مسلمان وفات پاجائے تو دوسرا اس کے جنازے میں شریک ہو۔”

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!

مسلمان بھائیو!ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر بہت سارے حقوق ہوتے ہیں جنہیں ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن مسلمانوں سے ان حقوق کی ادائیگی میں کوتاہیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے استغفار زندگی میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد کرتا رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (استغفروا لأخیکم) “دفنا نے کے بعد اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے دعائيں کرو۔”

اسی طرح مسلمان اگر کسی مسلمان کو کھانے کی دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرنا اس کا حق ہے۔ جس طرح بغیر دعوت کے کہیں پہنچ جانا ایک اخلاقی جرم ہے اسی طرح دعوت دیئے جانے کے باوجود دعوت رد کر دینا بلا نے پر نہ پہنچنا ، نہ صرف ایک شرعی واخلاقی جرم ہے بلکہ ایک مسلمان کا حق مارنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا:

“إذا دعی أحدکم إلی طعام فلیستجب”

“ جب تم میں سے کسی کو کھانے کےلیے بلایا جائے تو چاہئے کہ وہ اس دعوت کو قبول کرے۔”

اس حق کی ادائیگی سے آپس کی دوری ختم ہوجاتی ہے اور اسلامی رشتۂ اُخوت میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ حدیث شریف کے اندر پانچواں حق یہ بتایا گیا ہے کہ جب کوئی مسلمان چھینکے تو اس کے الحمد للہ کے جواب میں دوسرا مسلمان یرحمک اللہ کہے۔ بظاہر یہ بہت معمولی سی بات نظر آتی ہے؛ لیکن شریعت اسے بھی ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق قرار دیتی ہے۔ چھینکنا ایک اتفاقی واقعہ ہوتا ہے۔ تنہا بھی کوئی چھینک سکتا ہے۔ کسی کے ساتھ ہوتے بھی اور کسی محفل وجماعت میں بیٹھے ہوئے بھی۔ اتفاق سےکوئی اگر مجلس میں چھینکتا ہے تو سب کے لیےضروری نہیں کہ وہ جواب میں یرحمک اللہ کہے۔ اگرچہ علماء کی ایک جماعت نے مذکورہ حدیث میں تشمیت کو فرض عین قرار دیا ہے۔ جب کہ علماء کی ایک جماعت نے فرض کفایہ قرار دیا ہے کہ سب کی طرف سے ایک کا جواب دینا کافی ہوگا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے راجح قراردیا ہے۔ (فتح الباری: ج10، باب تشمیت العاطس إذا حمد اللہ: ص603)

بہر حال اسے بھی اسلام نے مسلمان کا دوسرے مسلمان پر ایک حق قرار دیا ہے کہ چھینکتے وقت الحمد للہ کے جواب میں یرحمک اللہ کہاجائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی رشتہ ٔ اُخوت سب سے ارفع واعلی ٰ اور عمیق ووثیق رشتہ ہے۔ مگر اس رشتہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان حقوق کی ادائیگی ہو جو ایک مسلمان پر دوسرے کے لیے عائد ہوتے ہیں، تاکہ اس کے اندر مزید استواری وپائیداری آئے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بھائیوں کے ان حقوق کی ادائیگی کی توفیق دے، اور ہم اپنی اجتماعی وانفرادی زندگیوں میں اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کا پاس ولحاظ رکھیں، تاکہ ہمارے درمیان الفت ومحبت پروان چڑھے، وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔