حقوق والدین

تفصیل

والدین کا حق کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا واجب ہے۔ اگرچہ وہ دونوں کافر ہوں۔ ان کے ساتھ نیکی کرنا ان کے مسلمان ہونے کے ساتھ خاص نہیں۔ بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک ضروری ہے گو وہ کافر ہوں۔ اسلام نے بڑی سختی کے ساتھ ان کی نافرمانی سےڈرایا ہے اور والدین کی نافرمانی کو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ بلکہ والدین کی خدمت کو اللہ کی راہ میں جہاد سے بھی افضل قرار دیا ہے جو اسلام کی سب سے بلند چوٹی ہے۔

إن الحمد لله نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله_صلى الله عليه وآله وسلم تسليماً كثيراً_.أعوذ بالله من الشيطن الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔

( وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا ) [النساء: 36]

”اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں (غلام کنیز)، یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔”

مذہب اسلام نے حقوق کی جو پاسداری کی ہے کہیں بھی اس کی نظیر نہیں مل سکتی ہے۔ جہاں دوسروں کے حقوق کا خیال نہ کیا جائے وہاں ظلم وعدوان پھیل جانا یقینی ہے۔ اور جہاں جس قدر حقوق کی ادائیگی ہوتی ہے وہاں اسی قدر صالحیت پائی جاتی ہے اور ایک پرسکون فضا قائم رہتی ہے۔ بنیادی طور پر مذہب اسلام نے حقوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔

۱۔ حقوق اللہ ۲۔ حقوق العباد

حقوق اللہ کا تعلق بند وں اور ان کے معبود سے ہے۔ جبکہ حقوق العباد کا تعلق بندوں کے آپسی حقوق سے ہے۔

حضرات! اگر حقوق العباد کو مراتب کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے تو ایک لمبی فہرست ہوسکتی ہے۔ مثلا؛ ماں کا حق، باپ کا حق، بیٹے کا حق، طالب کا حق،سماج کا حق وغیرہ۔ مگر ان تمام حقوق میں والدین کے حقوق کو سب سے مقدم رکھاگیا ہے۔ اور حقوق اللہ کے بعد حقوق والدین کی اہمیت جتلائی گئی ہے۔

چنانچہ ارشاد ربانی ہے:

( وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ) [النساء: 36]

“اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو"۔

صرف مذہب اسلام کا امتیاز ہے کہ اس نے عین فطرت کے مطابق نہ صرف والدین کے حقوق کو بلکہ تمام دیگر افراد کے حقوق کو بھی متعین کیا ہے۔ مگر چونکہ ایک انسان پر والدین کے جو احسانات ہیں اتنے احسانات کسی اورکےکبھی ہو ہی نہیں سکتے۔ پیدائش سے قبل کے مراحل اور تکلیفیں، پیدائش کے وقت کا درداور پریشانی، پیدائش کے بعد اسکی مکمل حفاظت اور دیکھ ریکھ، اس کو مسکراتے دیکھ کر ہر غم کو بھول جانااور معمولی دکھ پر ہر خوشی کو بھول جانا وغیرہ۔ یہ مثال دنیا میں والدین کے علاوہ اور کہاں مل سکتی ہے؟بچے کی پوری پرورش، صحت وجسم کا پورا خیال، تعلیم وتربیت کا پورا انتظام اور غلط ماحول سے بچانے کی پوری فکر اور اس کے مستقبل کی تعمیر کے لیے مکمل کدوکاوش اور بساط سے بڑھ کر اس کا بوجھ اٹھانا، یہ والدین کے علاوہ اور کو ن کرسکتا ہے؟

اسی لیےدنیا میں والدین کے احسان کا کوئی ثانی نہیں۔ اور اس فطری حقیقت کا اعتراف جس قدر مذہب اسلام نے کیا ہے اس کی بھی کوئی نظیر نہیں ہے۔ بڑے ہو کر عموماً اولاد والدین سے بچھڑ جاتی ہے اور ان کو بھول جاتی ہے۔ بڑھاپے میں ان کا خیال نہیں کرتی۔ ان کو جھڑک دیتی ہے۔ لیکن اسلام نے اس پر قدغن لگاتے ہوئےان حرکتوں کو معیوب قرار دیا ہے۔ والدین کے احسانات کو گنا گنا کر اولاد کے دل میں ان کی عظمت اور اہمیت کو جاگزیں کیا ہے ۔ اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی ہے؛تاکہ اس سلسلہ میں قیل وقال اور تاویلات کے ذریعہ والدین کی خدمت سے کوئی راہ فرار اختیار نہ کرسکے۔

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ) [النساء: 36]

”اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو۔”

اس آیت کریمہ میں اگر آپ غور کریں تو دو باتیں نمایاں طور پر سامنے آتی ہیں ۔

توحید اور اپنی عبادت کے ساتھ ساتھ اللہ نے والدین کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کاحکم دیا ہے جس سے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔

( ۞وَٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُشۡرِكُواْ )دونوں امر کے صیغے ہیں ( وَٱعۡبُدُواْ )میں عبادت کا حکم ہے اور ( وَلَا تُشۡرِكُواْ ) میں شرک نہ کرنے کا حکم ہے۔اوراس کے معاً بعد”وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا”کا ذکر ہے۔ یعنی والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ اس کو ماقبل کے دونوں امر کے صیغے کے سیاق میں بیان کرنا، ایک طرف اس سے کمال بلاغت کی دلیل ملتی ہے، تو دوسری طرف معنی میں قوت پیدا ہوتی ہے۔ اور ماقبل کے احکام کی عظمت کیوجہ سے اس کی بھی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔

حضرات! اس سلسلہ میں قرآن کریم کی آیات مبارکہ کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ آئیے! اس پر سرسری نظر ڈالتے چلیں۔

سورۂ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نےفرمایا:

( وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ) [العنكبوت: 8]

”ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے۔ ہاں اگر وه یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیئے۔ تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔ پھرمیں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا۔”

اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اگر والدین کافر ومشرک بھی ہوں، تب بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کی خدمت کرنا ضروری ہے۔ البتہ وہ اگر کفر وشرک پر مجبور کریں ، تو اس سلسلہ میں ان کی بات نہیں مانی جائےگی۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے والدین کے احسان کے مختلف مراحل کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

( وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ ) [لقمان: 14]

”ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے”۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

( وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ) [الأحقاف: 15]

”اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔ یہاں تک کہ جب وه پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کوبھی صالح بنا، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔”

اس آیت کریمہ میں اس مشقت وتکلیف کا ذکر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے حکم میں مزید تاکید کے لیے ہے۔ جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم احسان میں ماں، باپ سےمقدم ہے۔ کیونکہ نو ماہ تک مسلسل حمل کی تکلیف اور پھر زچگی (وضع حمل )کی تکلیف، صرف تنہا ماں ہی اٹھاتی ہے۔ باپ کی اس میں شرکت نہیں ہے۔ اسی لیے حدیث میں بھی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو اولیت دی گئی ہے اور باپ کا درجہ اس کے بعد بتلایا گیا ہے۔ (أحسن البیان)

اس آیت کریمہ میں ایک جملہ ہے “وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا” فصال کے معنی دودھ چھڑانا ہے۔ اس سے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے استدلال کیا ہے کہ کم از کم مدت حمل چھ مہینے ہے۔

یعنی چھ مہینے کے بعد اگر کسی عورت کا بچہ پیدا ہوجائےتو وہ بچہ حلال ہی کا ہوگا، حرام کا نہیں ہوگا۔اس لیے کہ قرآن نے مدت رضاعت دوسال (۲۴مہینے) بتلائی ہے، جس کا ذکر سورۂ لقمان آیت نمبر ۱۴ اور سورۂ بقرہ آیت نمبر ۲۳۳ میں موجود ہے۔ اس حساب سے مدت حمل صرف چھ مہینے ہی باقی رہ جاتی ہے۔ (اوریہ اقل مدت ہے)

اس آیت کریمہ میں سعادت مند اولاد کی یہ صفت بھی بتائی گئی کہ وہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرتی ہے اور ان کے حق میں دعائے خیر بھی۔ اس کے برعکس بد بخت اولاد والدین کے ساتھ نہ حسن سلوک کرتی ہے، نہ اسے ان کے لیے دعائے خیر کی اور رب کا شکر ادا کرنے کی توفیق ملتی ہے۔

ارشاد باری ہے:

( أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ ) [لقمان: 14]

” تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔”

حضرات! اب ہم نگار خانۂ قرآن سے نکل کر ذخیرۂ احادیث شریفہ میں نظر ڈالتے ہیں، تو احادیث کا حسین گلدستہ بھی حقوق والدین کے دلائل سے سجا ہوا نظر آتا ہے۔ آئیے!کچھ احادیث مبارکہ اس سلسلہ میں ملاحظہ فر مائيں؛ ارشاد نبوی ہے:

“عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه و سلم (أكبر الكبائر الإشراك بالله وعقوق الوالدين وشهادة الزور، وشهادة الزور - ثلاثا - أوقول الزور)۔ فما زال يكررها حتى قلنا ليته سكت” (البخاری:6521)

“نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتادوں؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیں، فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نا فرمانی کرنا۔”

“عن ابن مسعود سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي العمل أحب إلى الله؟ قال: الصلاة على وقتها قلت: ثم أي؟ قال: بر الوالدين. قلت: ثم أي؟ قال: الجهاد في سبيل الله” (متفق عليه)

“حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ تعالی کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نےعرض کیا پھر کون سا عمل ہے؟ فرمایا: ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نےکہا: پھر کون سا؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔”

“عن أبي هريرة: عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: رغم أنف، ثم رغم أنف، ثم رغم أنف، قيل: من يا رسول الله! قال: من أدرك أبويه عند الكبر أحدهما أو كليهما فلم يدخل الجنة” (مسلم)

“حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، اس شخص کی جس نے بڑھاپے کی حالت میں اپنے والدین کو پایا۔ ان میں سے ایک کو یادونوں کو اور پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں نہ گیا۔”

“عَن عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِىِّ اللہِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ أَبْتَغِى الأَجْرَ مِنَ اللہِ قَالَ:”فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَىٌّ”. قَالَ: نَعَمْ بَلْ كِلاَهُمَا. قَالَ:”فَتَبْتَغِى الأَجْرَ مِنَ اللہِ”. قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:”فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا”۔ (مسلم:6671)

“حضرت عبد اللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میں ہجرت اور جہاد پر آپ سے بیعت کرنا چاہتا ہوں اور اللہ سے اجر کا طالب ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تیرے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں، بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ آپ نے اس سے پوچھا:کیا تو واقعی اللہ سے اجر کا طالب ہے۔ اس نے کہا: ہاں! آپ نے فرمایا: پھر تو اپنے والدین کے پاس لوٹ جا اور ان کی اچھی طرح خدمت کر “ (بخاری ومسلم، اور الفاظ مسلم کے ہیں )

اور ان دونوں کی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے آپ سے جہاد میں جانے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو انہی کی خدمت کی کوشش کر۔”

“عن عبد اللہ بن عمرو عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال الکبائر: الإشراک باللہ، وعقوق الوالدین، وقتل النفس والیمین الغموس” (البخاری: 6675)

“حضرت عبد اللہ بن عمر وبن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں؛ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، قتل نفس (ناحق کسی کو ماردینا یا خود کشی کرنا ) اور جھوٹی قسم کھانا۔”

“عن عبدالله بن عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: من الكبائر شتم الرجل والديه۔ قالوا: يا رسول الله وهل يشتم الرجل والديه؟ قال: نعم! يسب أبا الرجل فيسب أباه ويسب أمه فيسب أمه” (مسلم:146)

“اور عبد اللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے والدین کوگالی دے۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دیتاہے؟آپ نے فرمایا: ہاں! ایک شخص کسی کے باپ کوگالی دیتا ہے تو وہ (بدلہ میں ) اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی آدمی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے بدلہ میں اس کی ماں کو بھی گالی دیتا ہے۔ یوں گویا آدمی اپنی ماں اور اپنے باپ کو تو بذات خود گالی نہیں دیتا ہے، مگر دوسرے کے ماں باپ کوگالی دےکر اپنی اور اپنے ماں باپ کو گالی سنانے کا سبب بن جاتا ہے۔” (مسلم:146)

حضرات! یہ تو احادیث مبارکہ اور اس سے ماقبل آیات قرآنی کے ذخائر سے چند نمونے پیش کیے گئے۔ نصوص کی اس کثرت، آیات واحادیث کے انبار اور مختلف اسلوب دلائل درحقیقت اس موضوع کی اہمیت پر دلیل ہیں۔ اور حقوق العباد میں اتنے زیادہ دلائل غالباً دوسرے موضوعات پر بہت کم ملیں گے۔

بہر کیف یہ موضوع نہ صرف اسلامی نقطۂ نظر سے بہت ہی زیادہ اہمیت کا حامل ہے؛ بلکہ انسانی فطرت کا بھی تقاضا ہے کہ والدین کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے اور ان کے ساتھ سب سے اچھا سلوک کیا جائے۔ مذکورہ دلائل میں آپ دوبارہ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک کو فرض قرار دیا، تو کہیں اس کی ترغیب دلائی، کہیں عقوق والدین یعنی والدین کی نافر مانی کو حرام قرارادیا تو کہیں اسے گناہ کبیرہ کہا اور ان کو جھڑکنے سے روکا۔ بلکہ ایسا سبب بھی بننے سے روک دیاگیا جس کی وجہ سے ان کو گالی سنناپڑے۔ کہیں پر ان کا شکریہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا، تو کہیں ان کی خدمت کو جہاد کا درجہ قرار دےدیا گیا۔ کہیں نافرمان اولادکو سخت سست کہا، تو کہیں والدین کی نافرمانی کو اللہ کے غضب کا سبب بتایا گیا۔ آخر کہاں تک گناؤں کہ اس موضوع کی اہمیت اور والدین کی عظمت کیا کیا ہے۔

حضرات! والدین کے ساتھ حسن سلوک ایک نہایت ہی بنیادی حق اور اہم ترین فریضہ ہے۔ اسی طرح ان کی خدمت وفرماں برداری بھی ایک بہترین اطاعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ربُّ العالمین نے والدین کے حقوق کو اپنے حقوق کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

اولاد پر والدین کے حقوق یہ ہیں کہ اولاد ان کی عزت وتکریم کرے۔ انکے ساتھ حسن سلوک کرے۔ ان کے آرام وسکون کی خاطر اپنی جان ومال کو قربان کردے۔ ان کی رضا وخوشنودی حاصل کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھے ۔ بڑھاپے میں ان کا پورا پورا خیال رکھے۔ نرمی سے ان کے ساتھ پیش آئے۔ سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے ان کی طرف سے جو تکلیف پہنچے اس کو برداشت کرے۔ اپنی کم عمری کی حرکتوں کو یاد کرکے ان سے اگر کچھ بچکانہ حرکت صادر ہوجائیں تو اس کو مسکرا کر فراموش کردے۔ اور ہمیشہ یہ جذبہ دل کے سمندر میں موجزن رہے کہ دنیا کاکوئی انسان اپنے مشفق باپ اور مہربان ماں سے بڑھ کر اطاعت وفرمانبرداری اور حسن سلوک کا مستحق نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ وہی ماں ہے جس نے حمل کی تکلیفیں اٹھائیں، پیدائش کا درد برداشت کیا، دو سال تک اپنی چھاتی سے دودھ پلایا، خود بھوکی پیاسی رہی؛ مگر اپنے بچے کو رونے تک نہ دیا۔

بچہ نے گود میں پیشاب کردیا، تو ماں نے مسکرادیا۔ اگر کبھی بیمار ہوا، ماں کی جان نکل گئی۔ آخر اس کا ثانی کون ہوسکتاہے۔ بھلا دنیامیں ماں کا ثانی بھی کوئی ہوسکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں!! اسی لیے تو پیارے حبیب جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کا درجہ باپ کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ قرار دیا ہے۔

“عن أبي زرعة عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال: يا رسول الله! من أحق الناس بحسن صحابتي؟ قال:”أمك”. قال: ثم من؟ قال:”ثم أمك”. قال: ثم من؟ قال:”ثم أمك”. قال: ثم من؟ قال:”ثم أبوك”) رواہ البخاري:5971)

“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری خدمت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا: تیر ی ماں! اس شخص نے پھر کہا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: تیری ماں! اس نے کہا: پھر کون؟ آپ نے پھر فرمایا: تیری ماں! اس نے کہا: پھر کون؟ تو آپ نےفرمایا: پھر تیرا باپ۔”

اس حدیث میں واقعی ماں کا جو حق بیان کیاگیا وہ بہت ہی اہم ہے اور اس کے بعد باپ کا ذکر کے یہ بھی واضح کردیا گیا کہ دوسرے نمبر پر اگر پوری دنیا کے تمام لوگوں میں سے کوئی تیری اطاعت وفرماں برداری اور خدمت وحسن سلوک کا مستحق ہے، تو وہ تیرا باپ ہے۔ لہذا ماں اور پھر باپ دونوں ایک طرف اور اس کےبعد دوسرے تمام لوگ ایک طرف؛ مگر ماں باپ کارتبہ سب پر بھاری ہے ۔ اور اسی لیے ان دونوں کے حقوق سب سے زیادہ ہیں۔ ماں کے بعد وہ باپ ہی کی شخصیت ہے، جو اولاد کی حفاظت اور پرورش وپرداخت میں اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کو تعلیم وتربیت دینے میں اور اس کو ہر طرح سے نکھارنے میں باپ کا بڑاہاتھ ہوتاہے۔ اس کی پائی پائی کی کمائی کا بیشتر حصہ اولاد کے لیےصرف ہوتا ہے۔ اسی طرح اولاد کے غم سےغم،اور ان کی خوشی سے خوشی کو حقیقی معنی میں محسوس کرنا، ماں کے بعد باپ ہی کا حصہ ہے۔ باپ بھی اپنی زندگی کاانمول حصہ اولاد کی نذر کردیتاہے۔

بہر کیف، ماں اور پھر باپ دونوں اس دنیا میں نہایت قیمتی جوہر ہیں۔ اور جنت میں داخل ہونے کے اسباب بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذبالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا،من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔

أما بعد فإن أصدق الحدیث کتاب اللہ، وأحسن الھدی ھدی محمد، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ۔

حضرات! جن ماں باپ کے اتنے سارے احسانات ہیں، جنہوں نے ہماری زندگی، ہماری شفایابی، ہماری اچھی تربیت، ہماری دراز‏ئی عمر، ہماری پرورش، ہماری تعلیم، ہماری کامیابی ، ہمارے اچھے مستقبل اور ہمارے حسین خوابوں کی تعبیر کے لیے نہ جانے کتنی دعائيں کی ہوں گی، آئیے آج ہم بھی ا ن کے لیے دعا کریں اور یہ بھی منشائے شریعت ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ) [الإسراء: 24]

“اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔”

( رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ) [إبراهيم: 41]

“اے ہمارے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی بخش اور دیگر مومنوں کو بھی بخش جس دن حساب ہونے لگے۔”

( رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا) [نوح: 28]

”اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا۔”

وآخردعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔