پاپندی سنت

تفصیل

ہم میں کون ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں کرتا؟ یقینا کوئی نہیں۔ لیکن کیا ہر کوئی اس دعوے میں سچا ہے؟ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی آسان ہوتا تو ہر کوئی اس کا دعوی کر بیٹھتا۔ لیکن اس دعوے کی سچائی کے لیے کیا علامت ہے؟ بےشک وہ صرف اور صرف اتباع ہے۔۔۔ سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور اس کا التزام۔ چنانچہ التزامِ سنت کے مطابق ہی اپنے دعویٰ کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفرہ، ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسیئات أعمالنا، ومن يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، و أشھد أن محمدا عبده ورسوله، أما بعد:

محترم بزرگو، بھائیو اور عزیزو!ہم میں سے کون ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ رکھتا ہو اور ان چیزوں سے محبت نہ رکھتا ہو جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محبت رکھتے تھے۔ اسی طرح ہم میں سے کون ہے جو آخرت میں آپ کی قربت ومعیت اور آپ کی شفاعت کا خواہاں نہ ہو۔ ہم میں سے ہر شخص کی یہ خواہش ہے کہ آخرت میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت ومعیت حاصل ہو اور ہمیں آپ کی شفاعت میسر ہو، اور محشر میں آپ کے ہاتھ سے ہمیں جامِ کوثر نصیب ہو ؛ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم سب کی یہ خواہش اور چاہت کیسے پوری ہوسکتی ہے اور اس کی کیا سبیل ہے؟

میرےمحترم بھائیو اوربزرگو!اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے، اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ نہیں، اور وہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ۔ ایسی محبت جو دنیا کی ہر چیز سے یہاں تک کہ ماں باپ اور اولاد کی محبت سے بھی بڑھ کرہو۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(لایؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من والدہ وولدہ والناس أجمعین)

“تم میں سے کوئی کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اپنے والدین اپنے بیٹوں اور سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”

یاد رکھیے، آپ سے محبت کی پہلی علامت آپ کی مکمل اطاعت وپیروی اور آپ کی سنتوں پر پوری طرح سے کاربند ہونا ہے۔ قرآن کریم کی بےشمار آیتوں میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وپیروی کا حکم دیا گیا ہے۔

ارشاد باری ہے ( وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ) [آل عمران: 132]

“ کہہ دیجئے! کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منہ پھیر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا ۔”

دوسری جگہ ارشاد ہے ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآَخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ) [النساء: 59]

”اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور اپنے میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔”

ایک اورجگہ ارشاد ہے ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ) [محمد: 33]

” اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔”

اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نیک اعمال کی بربادی کاباعث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وپیروی درحقیقت اللہ کی اطاعت وپیروی ہے۔

ارشاد باری ہے ( مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ) [النساء: 80]

” اس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جو منہ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ۔”

اللہ سے محبت کا دعوی بغیر رسول کی اطاعت کے درست نہیں۔

ارشاد باری ہے ( قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) [آل عمران: 31]

” کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور وہ تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے ۔”

ان آیات سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے بغیر اللہ سے محبت کا دعوی صحیح نہیں ، اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ بھی اپنے بندوں سے اسی وقت محبت کرےگا جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وپیروی کریں گے۔ اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول کی اتباع گناہوں کی بخشش ومغفرت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ درحقیقت صحیح معنوں میں مومن وہی ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم اور ہر فیصلے کے سامنے اپنا سر خم کردے۔

ارشاد باری ہے ( إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ٥١ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ) [النور:51 - 52]

” ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لیے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وه کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ جو بھی اللہ تعالیٰ کی، اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، خوف الٰہی رکھیں اور اس کے عذابوں سے ڈرتے رہیں، وہی نجات پانے والے ہیں۔”

قرآن کریم کی آیات کے علاوہ احادیث مبارکہ میں بھی رسول کی اتباع وپیروی کی بڑی تاکید آئی ہے۔

(عن عرباض بن ساریۃ وعظنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موعظۃ وجلت منھا القلوب وذرفت منھا العیون، فقلنا: یا رسول اللہ! کأنھا موعظۃ مودع فأوصنا قال:أوصیکم بتقویٰ اللہ والسمع والطاعۃ وإن تأمر علیکم عبد، وإنہ من یعش منکم فسیری اختلافا کثیرا، فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین، عضوا علیھا بالنواجذ وإیاکم ومحدثات الأمور، فإن کل بدعۃ ضلالۃ)

“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مرتبہ نہایت مؤثر وعظ ارشاد فرمایا جس سے دل دہل گئے، اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!یہ تو گویا الوداع کہنے والے کا وعظ ہے؟ پس آپ ہمیں وصیت فرمائیے! آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور سمع وطاعت یعنی ولی امر کی بات سننے اور اس پر عمل کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ ا گرچہ تم پر کوئی غلام ہی نہ کیوں امیر مقرر ہو جائے۔ یاد رکھو، تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہےگا وہ بہت اختلاف دیکھےگا۔ پس تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑ نا، ان کو دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا اور دین میں بدعات (نئے کام)ایجاد کرنے سے بچنا، اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔”

اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیا، آپ نے اس خطبے میں فرمایا:

(إن الشیطان قد یئس أن یعبد بأرضکم ولکن رضی أن یطاع فیما سوی ذلک مما تحاقرون من أعمالکم، فاحذروا إنی قد ترکت فیکم ما إن اعتصمتم بہ فلن تضلوا أبدا؛ کتاب اللہ وسنۃ نبیہ) (حاکم)

“شیطان اس بات سے مایوس ہوچکاہے کہ تمہاری اس سرزمین میں اس کی عبادت کی جائے، البتہ وہ اس بات سے خوش ہے کہ اس کی اطاعت ان چیزوں میں کی جائے جو اس کے علاوہ ہیں یعنی تمہارے ان کاموں میں جنہیں تم حقیر سمجھ کر انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ پس تم(محتاط رہو)میں نے تمہا رے اندر ایسی چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رہوتو کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگے؛ وہ اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہے۔ایک روایت میں آپ نےفرمایا:

(کل أمتی یدخلون الجنۃ إلا من أبی، قالوا: یا رسول اللہ! ومن یأبی؟ قال من أطاعنی دخل الجنۃ، ومن عصانی فقد أبی) (بخاری)

“ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو بھی میری امت میں سے ہے وہ جنت میں جائےگا، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے انکار کیا۔ پوچھا گيا یا رسول اللہ جنت میں جانے سے کون انکار کرےگا؟ آپ نے فرمایاجس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی درحقیقت اللہ کی نافرمانی ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:

(جاءت ملائکۃ إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وھو نائم، فقال بعضھم: إنہ نائم وقال بعضھم: إن العین نائمۃ والقلب یقظان، فقالوا: إن لصاحبکم ھذا مثلا فاضربوا لہ مثلا فقالوا: مثلہ کمثل رجل بنی دارا و جعل فیھا مأدبۃ وبعث داعیا فمن أجاب الداعی دخل الدار وأکل من المأدبۃ، ومن لم یجب الداعی لم یدخل الدار ولم یأکل من المأدبۃ، فقالوا: أولوھا یفقھھا فقال بعضھم: إنہ نائم وقال بعضھم: إن العین نائمۃ والقلب یقظان، فقالوا: الدار الجنۃ والداعی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فمن أطاع محمدا صلی اللہ علیہ وسلم فقد أطاع اللہ ومن عصی محمدا صلی اللہ علیہ وسلم فقد عصی اللہ ومحمد صلی اللہ علیہ وسلم- فرق بین الناس)

“نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ فرشتے اس حال میں آ کہ آپ سوئے ہوئے تھے۔ ایک نے یہ کہا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں۔ دوسرے نے کہا کہ ان کی آنکھیں سورہی ہیں؛لیکن ان کا دل بیدار ہے۔ ان فرشتوں نے کہا کہ تمہارے ان صاحب کی ایک مثال ہے۔تو تم اسے بیان کروتو انہوں نے کہا: ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اس میں کھانے کی دعوت کی اور بلانے والے کو بھیجا تو جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کی وہ گھر میں داخل ہوا، اور دستر خوان سے کھایا اور جس نے بلانے والے کی دعوت قبول نہیں کی وہ گھر میں داخل نہیں ہوا اور دسترخوان سے نہیں کھایا۔ پھر انہوں نے کہا اس کی وضاحت کرو تا کہ یہ سمجھ پائیں، پھر انہوں نے کہا گھر تو جنت ہے اور بلانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پس جس نے ان کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے ان کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اچھے اور برے لوگوں کے درمیان فارق ہیں۔

اللہ ورسول کے ان فرامین کا اثر دیکھنا ہو تو ہم صحابہ کرام کی زندگیوں پر ایک سرسری نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ وہ اللہ ورسول کے حکموں کے سامنے کس طرح سر تسلیم خم کر دیا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ادنی سنت پر عمل پیرا ہونے کاوہ کس درجہ اہتمام کرتے تھے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایات میں آتا ہےکہ مکہ اور مدینہ کے راستے میں ایک درخت پڑتا تھا وہ جب کبھی اس درخت سے گزرتے تو وہاں رک کر آرام کرتے تھے اور کہتے تھےکہ مجھے آرام کی ضرورت نہیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے اس لیے میں ایسا کررہا ہوں۔ اسی طرح مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں عبداللہ بن عمر کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو وہ راستے سے ہٹ کر چلے تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اس جگہ آپ نے ایسا کیا تھا۔ عابس بن ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتےہیں میں نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ حجر اسود کو بوسہ لے رہے تھے اور کہہ رہے تھے ۔

(إنی أعلم أنک حجر لا تنفع ولا تضر ولو لا أنی رأیت رسول اللہ صلی علیہ وسلم یقبلک ما قبلتک)

“میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نفع پہنچا سکتا ہے، نہ نقصان۔ اور اگر میں نے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو تجھے بوسہ لیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا۔”

یہ تھا صحابہ کرام کا حال۔ آئیے،ہم آپ کو بتا ئیں کہ اللہ ورسول کی اطاعت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کے کیا فوائد ہیں۔

میرے بھائیو!اس کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ آدمی اس اختلاف سےمحفوظ رہتا ہے جو امت کی کمزوری اور ضعف کی علامت ہے۔

ارشاد باری ہے ( وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ) [الأنفال: 46] “اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائےگی۔”

عرباض بن ساریہ کی روایت جو ابھی میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہے، اس میں آپ نے فرمایا کہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہےگا وہ زبردست اختلاف دیکھےگا، تو جو بھی اس اختلاف کو پائے اس کے لیے اس اختلاف سے بچنے کی راہ صرف یہ ہوگی کہ وہ میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑے۔ کیونکہ یہ لوگ بھی در اصل میری ہی سنت پر عمل پیرا رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ باہمی اختلاف سے بچنے کی راہ صرف سنت کی اتباع وپیروی کی راہ ہے۔

جامع ترمذی میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت آئی ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاہے:

“میری امت میں بھی وہی صورت حال پیش آئےگی جو بنی اسرائیل میں پیش آئی تھی۔ میری امت کی ان سے مشابہت ایسی ہی ہو گی جیسے جوتے کے جوڑے میں ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل کے لوگ بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے، اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائےگی۔ اور سب کے سب جہنمی ہوں گے، سوائے ایک کے۔ صحابہ کرام نے پوچھا: یہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوں گے۔”

اس حدیث میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ ان مذموم فرقو ں سے جنہیں جہنم کی دھمکی دی گئی ہے، بچاؤ اور حفاظت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی روش پر چلنے میں ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی اور سنت کے التزام کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ یقینی طور پر ہدایت کی راہ پر ہوگا اور گمراہی سےمحفوظ رہےگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

(ترکت فیکم شیئین لن تضلوا ما تمسکتم بھما؛ کتاب اللہ وسنتی، ولن یتفرقا حتی یردا علی الحوض)

“میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں جب تک تم ان دونوں چیزوں کو پکڑے رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے؛ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت۔ یہ دونوں ہرگز تم سے جدا نہ ہوں، جب تک کہ وہ تمہیں حوض کوثر پر نہ لے آئیں۔

اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر کاربند ہیں،اس بات کی بشارت ہے کہ قیامت کے میدان میں یہ دونوں چیزیں ان کی رہنمائی کرنے والی ہوں گی جو حوض کوثر تک ان کی رہنمائی کریں گی۔ اسی لیے امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

(السنۃ مثل سفینۃ نوح من رکبھا نجا و من اختلف فیھا ھلک)

“سنت کی مثال سفینہ نوح کی ہے جو اس پر سوار ہوا نجات پاگیا اور جو سوا ر نہیں ہوا ہلاک ہوگیا۔”

یہ حقیقت ہے کہ نوح علیہ السلام کی کشتی پر وہی لوگ سوار تھے، جنہوں نے ان کی تصدیق کی اور ان کی اتباع بھی کی اور جو سوار نہیں ہوئے تھے وہ لوگ تھے، جنہوں نے ان کی تکذیب کی تھی۔ سنت کی اتباع کرنے والے دراصل ان لوگوں کے درجے میں ہیں جو نوح کی کشتی پر سوار تھے اور اس کی مخالفت کرنے والے ان لوگوں کے درجے میں ہیں جنہوں نے نوح کی بات نہیں مانی تھی اورکشتی پر سوار نہیں ہوئے تھے۔ سنت کی پیروی کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں شامل ہونا ہے، اور اس سے اعراض کرنا آپ کی جماعت سے نکل جانے کے مترادف ہے۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین لوگوں کی ایک جماعت امہات المومنین کے پاس آئی۔ یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا حال ان سے دریافت کر رہے تھے۔ جب انہیں اس کے بارے میں بتایا گیا تو انہیں کچھ کم محسوس ہوا۔ چنانچہ وہ کہنے لگے: کہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور کہاں ہم؟ آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ بخش دیے گئے ہیں۔ اس لیے آپ کو اس کی زیادہ ضرورت نہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک نےکہا کہ میں ہمیشہ رات نماز میں گزاروں گا۔ دوسرے نے کہا: میں برابر روزہ رکھوں گا، کبھی بغیر روزہ کے نہیں رہوں گا اور تیسرے نے کہا: میں ہمیشہ عورتوں سے علیحدہ رہوں گا، کبھی شادی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان باتوں کی خبر ہوئی تو آپ ان کے پاس آئے اور آپ نے فرمایا تم لوگوں نے ایسا ایسا کہاہے ۔

(واللہ إنی لأخشاکم للہ، واتقاکم، لکنی أصوم وأفطر وأصلی وأرقد وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتی فلیس منی)

“اللہ کی قسم! میں اللہ سے تم میں سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، اس کے باوجود میں روزہ بھی رکھتا ہوں، اور بغیر روزے کے بھی رہتا ہوں۔ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ اور عورتو ں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ چنانچہ جو میرے طریقے سے اعراض کرےگا وہ مجھ سے نہیں۔ یاد رکھئے، سنت سے اعراض کے دو درجے ہیں؛ ایک درجہ معصیت کا ہے اور دوسرا درجہ کفر کا ہے۔ اگر آپ سستی اور غفلت سے اسے چھوڑ دیں تو گنہگار ہوں گے۔ جس درجہ کی وہ سنت ہوگی اسی اعتبار سے آپ گنہگار ہوں گے۔ اگر وہ واجب ہوگی تو واجب کے ترک کا گناہ ہوگا۔ اور اگر مستحب ہوگی تو مستحب کے ترک کا گناہ ہوگا۔ اور اگر سنت سے آپ کا اعراض اس کے انکار اور اس کی تحقیر وتوہین پر مبنی ہوگا تو بلاشبہ یہ دین سے اعراض اور دین کی توہین کے مترادف ہوگی، جو ایک طرح کا کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے ۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغرہ، ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسیئات أعمالنا، ومن يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، و أشھد أن محمدا عبده ورسوله، أما بعد:

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہےوہ کہتے ہیں۔

“خط لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطا، فقال ھذا سبیل اللہ، ثم خط خطوطا عن شمالہ وعن یمینہ، ثم قال: وھذہ سبل علی کل سبیل منھا شیطان یدعوا إلیہ ثم تلا:

( وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) [الأنعام: 153]

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے ایک خط کھینچا اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے۔ پھر اس کے دائیں بائیں مزید خط کھینچے اور فرمایا یہ جو راستے ہیں ان میں سے ہر راستے پر شیطان بیٹھا ہے اور وہ اپنی طرف بلا تا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی “یہ میرا ر استہ ہے جو سیدھا ہے؟سو تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر مت چلو، کہ یہ راہیں تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں۔ اسی کی اس نے تم کو وصیت کی ہے شاید کہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔”

اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہی اللہ کا راستہ ہے۔ باقی سارے راستے شیطان کے راستے ہیں۔ اور شیطان کے راستے سے دوری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم کی اتباع اور آپ کی سنت کے التزام ہی سےممکن ہے۔ سنت کی پیروی کا ایک بڑافائدہ شیطان کے راستوں سے گلو خلاصی اور رہائی ہے۔

سنت کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ دین ہمیں سنت ہی سے حاصل ہو ا ہے۔ دین کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کی جائے اور اللہ کی عبادت بھی اسی طریقے سے کی جائے جو مشروع ہے۔ یعنی اس طریقے سے جوشریعت نے ہمیں بتا یا ہے اور شریعت کی معرفت قرآن کریم اور سنت نبویہ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ اسی وجہ سے عبادات کو توقیفی کہا گیاہے یعنی اللہ ورسول کے بتا نے سے ہمیں اس کا علم ہوا ہے۔ سنت دین کے جملہ امور کو شامل و محیط ہے۔ سنت سے قرآن کی وضاحت ہوتی ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ) [النحل: 44] “دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ، یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وه غور وفکر کریں۔”

چنانچہ آپ نے عبادت کے تمام طریقوں کو پوری وضاحت سے بیان کیا۔ آپ نے وضو کر کے لوگوں کو دکھایا اور فرمایا:

(ھذا وضوئی ووضوء الأنبیاء من قبلی، فمن زاد أو نقص فقد أساء وظلم)

“یہ میرا اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے تو جس نے اس میں زیادتی یا کمی کی تو اس نے برا کیا اور حد سے تجاوز کیا۔”

اسی طرح آپ نے نماز پڑھ کر لوگوں کو بتایا اور فرمایا:

(صلوا کما رأیتمونی أصلی)

“اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔”

اسی طرح آپ نے فرمایا:

(خذوا عنی مناسکم)

“تم حج کے احکام ومناسک مجھ سے سیکھ لو۔”

شریعت کے یہ تمام امور دین ہیں۔ حدیث جبریل میں ایمان، اسلام اور ان دونوں کے ارکان اور احسان کا ذکر کرنے کے بعد آپ نے فرمایا:

(ھذا جبریل أتاکم یعلمکم أمور دینکم)

“ یہ جبریل تھے جو اس لیے آے تھے تاکہ تمہیں تمہارے دین کے احکام سکھائیں۔”

تو کیا ہم بغیر نماز کا طریقہ سیکھے، دین سیکھ سکتے ہیں اور طہارت جو نماز کی کلید ہے، کو جانے بغیر دین جان سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی عورتوں بچیوں کو حیض ونفاس کے احکام کو سکھائے بغیر انہیں دین سکھا سکتے ہیں؟ کیا ہم اللہ کی عبادت کے طریقوں کو جانے بغیر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح ہے؟ ہمارے یہ روزے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے مثل ہیں؟ اور ہمارا یہ حج بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی طرح ہی ہے۔

محترم بھا ئیو!یہ ساری چیزیں ہمیں سنت ہی سے معلوم ہوتی ہیں۔ سنت کی جانکاری کے بغیر دین کی جان کاری ممکن نہیں ہے۔ سنت سے ہماری بیماریوں کی تشخیص ہوتی ہے اور اسی سے ہمیں ان کے علاج کا بھی پتہ چلتا ہے۔

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(یوشک الأمم أن تداعی علیکم کما تداعی الأکلۃ علی قصعتھا، فقال قائل: ومن قلۃ نحن یومئذ؟ قال: بل أنتم یومئذ کثیر، ولکنکم غثاء کغثاء السیل، ولینزعن اللہ من صدور عدوکم المھابۃ منکم، ولیقذفن اللہ فی قلوبکم الوھن، فقال قائل: یا رسول اللہ! ما الوھن؟ قال: حب الدنیا وکراھیۃ الموت)

“قریب ہے کہ تم پر امتیں ٹوٹ پڑیں جیسے کہ کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ایک کہنے والے نے کہا کیا: ہم اس دن تھوڑی تعداد میں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ تم کثیر تعداد میں ہو گے؛ لیکن تمہاری حیثیت ایسی ہی ہوگی جیسے سیلاب کے جھاگ کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہارا رعب ودبدبہ نکال دےگا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دےگا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول وہن کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا:دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔”

اس حدیث میں آپ نے ہماری بیماری کی جو تشخیص فرمائی ہے، کیا ہماری حالت اس وقت ویسی ہی نہیں ہے؟ اور آپ نے ہمارے لیے جو دواتجویز فرمائی ہے، کیا ہم اس کے بغیر اس ذلت ورسوائی سے نجات پاسکتے ہیں؟

محترم بھائیو!یاد رکھو ہماری بیماریوں کا علاج سنت کی اتباع وپیروی ہی میں مضمر ہے۔ اس کے بغیر ہم اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا وقار حاصل نہیں کرسکتے۔ سنت کی پیروی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آدمی ہر طرح کے فتنوں اور عذاب الہٰی سے محفوظ رہتا ہے۔

( فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ) [النور: 63]

“سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ آ پہنچے۔”

ایک شخص امام مالک کے پاس آیا اور ان سے کہنے لگا:میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے کہا: کر لو، اس نے کہا: میں نے مدینہ ہی سے احرام باندھا ہے۔ امام ما لک نے کہا: تمہارا مسجد نبوی سے احرام باندھنا سنت کی خلاف ورزی ہوگی، میں ڈر رہا ہوں کہ اگر تم ایسا کرو، تو تمہیں کوئی فتنہ نہ لاحق ہو جائے۔ پھر آپ نے قرآن مجید کی اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔

( فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ) [النور: 63]

اس لیے میرے بھائیو! سنت کی اس شاہراہ پر گامزن رہو، جس پر چلنے کی اللہ اور اس کے رسول نے تاکید فرمائی ہے۔ اسی پر کاربند رہنے سے تم صحیح طریقے سے اللہ کی عبادت کر سکوگے اور دین پر عمل پیرا ہو سکوگے۔ اس کے بغیر نہ تم صحیح ڈھنگ سے اللہ کی عبادت کر سکوگے اور نہ ہی تم صحیح دین کو پا سکوگے۔ اسی میں تمہاری، تمہارے اہل وعیال کی، تمہارے خاندان اور سماج کی اور پوری امت کی صلاح وفلاح مضمر ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ سب کو سنت پر کاربند رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور بدعات وخرافات سے محفوظ رکھے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔