قرآن کی فضیلت اور آداب تلاوت

تفصیل

قرآن کریم اللہ کا کلام اور اس کی کتاب عزیز ہے۔ ا س جیسا کوئی اور کلام نہیں اور نہ اس جیسی کوئی اور کتاب ہے۔ یہ حکیم حمید کی طرف سے ہی نازل کیا گيا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی تلاوت کے کچھ آداب مقرر کیے ہیں جن کی رعایت ضروری ہے تاکہ اس سے اس کے شان کی عظمت اور اس کے مقام کی بلندی ظاہر ہو۔ لہذا اس کے قاری کے لیے مشروع قرار دیا ہے کہ وہ پاک ہو، خشوع وخضوع کر نے والا ہو اور جو پڑھےاس میں غور وفکر کرنے والا ہو۔ اس کے علاوہ اور بھی آداب ہیں جنہیں ملحوظ رکھنا قرآن کی تلاوت کے وقت ضروری ہے ۔

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الآمین، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین، أما بعد:

برادران اسلام! رب العالمین کی لا تعداد انمول نعمتوں میں ایک عظیم ترین نعمت قرآن مجید کا نزول ہے۔ جس میں پوری انسانیت کی فلاح وبہودی کا سامان ہے۔ جو سراپا رحمت اور مینار رشد وہدایت ہے جو رب العالمین کی رسی ہے جسے مضبوطی سے پکڑنے والا دنیا وآخرت میں کامیابی وکامرانی سے ہم کنار ہوگا۔ جو سیدھی اور سچی راہ دکھاتا ہے۔ مکمل فطری دستور حیات مہیا کرتا ہے۔ اس کی ہدایات پر عمل کر نے والا سعادت دارین سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کی مبارک آيات کی تلاوت کر نے والا عظیم اجر وثواب کے ساتھ ساتھ اطمینان وسکون، فرحت وانبساط اور زیادتی ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ جو کثرت تلاوت سے پرانا نہیں ہوتا نہ ہی پڑھنے والا اکتاہٹ کا شکار ہوتا ہے۔ بلکہ مزید اشتیاق وچاہت کے جذبات سے شادکام ہوتا ہے کیونکہ یہ رب العالمین کا کلام ہے۔ اس کی آیات فرامین الٰہیہ ہیں۔ اس کی دی گئی رہنمائياں ارشادات ربانیہ ہیں، یہ قرآن مجید ہے جو مکمل شفاء ہے، دلوں کو استقامت بخشتا ہے، شکوک وشبہات کے روگیوں کو نسخہ کیمیا عطاء کرتا ہے، خواہشات نفسانی اور طاعت شیطانی کے اسیر مریضوں کے لیے ربانی علاج تجویز کرتا ہے۔ یہ فرقان حمید ہے جو حق وباطل کے درمیان واضح تفریق کرتا ہے۔ شرک وکفر اور نفاق کے اوصاف وعلامات سے آگاہ کرتا اور مذموم صفات واخلاق اور عقائد فاسدہ کے حاملین کے مکر وخداع اور دجل وفریب سے متنبہ کرتا ہے۔

نیزدشمنان اسلام کی ناپاک سازشی چالوں اور مذموم منصوبوں کو بےنقاب کرتا اور ہمیشہ چوکس رہنے اور تحفظات سے لیس رہنے کی بھر پور تاکید کرتا ہے۔

قارئین کرام! قرآن کریم رب العالمین جو حکیم حمید ہے کے مجموعۂ فرامین کا نام ہے۔ جس کا حرف حرف حکمت وموعظت سے بھرپور ہے۔ جس کی تعلیمات کی بناء عدل وانصاف پر ہے۔ جو مظلومین اور مفلوک الحال افراد پر سایۂ رحمت دراز کرتا ہے۔ عورتوں کے حقوق کی پاسداری کے ساتھ انہیں وہ اونچا مقام عطا کرتا ہے جس سے دیگر ادیان ومذاہب کی تعلیمات خاموش ہیں۔ وہ کمزوروں، بےکسوں، یتیموں، بیواؤں کا سہارا بنتا اور ان کی خدمت اورمدد کو ان کا حق قرار دیتا ہے اور ان کی طرف دست تعاون دراز کر نے والے کو جنت کی خوشخبری سناتا ہے۔

قرآن کریم ارفع وادنیٰ، کالے اور گورے کے درمیان تفریق کے تصور کو نیست و نابود کرتا ہے اور اسے معاشرہ کا کینسر بتلاتا ہے۔ وہ اونچے اخلاق، عمدہ اوصاف اور پاکیزہ صفات کا داعی ہے۔ نارواسختی ودرشتگی، فحاشی وبیہودہ گوئی، کبرونخوت، فخروغرور، خاندانی وقبیلہ جاتی تعلی، غیبت وچغل خوری، زناکاری وبدکاری، چوری وڈاکہ زنی، تعصب وہٹ دھرمی، آپس کے اختلافات جیسے مذموم صفات پرنکیر کرتا اورحتی الامکان ان سے منع کرتا ہے۔ کیونکہ اس سے معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہوگا اور قوم روبہ تنزل ہوگی۔

الغرض قرآن مجید میں معاشرہ کے تمام طبقات کے لیے واضح رہنمائياں ہیں۔ جو بالکل سیدھی اور صاف ستھری ہیں۔ اس سے قرب درحقیقت ٹھوس سچائی سے قرب ونزدیکی اختیار کرنا، اصلاح کے جذبات کو پروان چڑھانا، اخوت کے اوصاف کو جلا بخشنا، سدھار اور درستگی کی صفات اپنانا، الفت ومحبت کے پیغام کو عام کرنا، اتفاق واتحاد کا پلٹ فارم تیار کرنا اور رسہ کشی کے ماحول کو ختم کر کے اپنائيت کا درس دینا ہے۔

تو آیئے، مذکورہ حقائق سے متعلق قرآن مجید کے واضح ارشادات کا مطالعہ فرمائيں۔ اس دعا کے ساتھ کہ رب العالمین ہمیں قرآن والا بنائے۔ اس کی تعلیمات کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق ارزانی کی سعادت سے ہمکنار کرے۔آمین۔

قرآن کے معنی ومفہوم:

لفظ قرآن علم ہے یا مشتق؟ دونوں باتیں کہی گئی ہیں۔ البتہ مشتق ماننے کی شکل میں بعض اہل علم کا خیال ہے کہ وہ “قرنت الشیء بالشیء” یعنی ایک کو دوسرے سےملانا سے مشتق ہے۔ چونکہ قرآن مجید کی آیات مبارکہ ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ اس لیے ان کے مجموعہ کو قرآن مجید کہاگیا ہے۔

بعض اہل علم کی رائے ہے کہ وہ مادہ (قرأ) سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے پڑھنا۔ چونکہ قرآن مجید کی آیات بار بار پڑھی جاتی ہیں اس لیے ان کے مجموعہ کو قرآن کہا گیا۔ دیکھئے، (الکلیات لأبی البقاء: 1330)

اصطلاحی معنی:

یہ وہ مجموعہ کلام ربانی ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا، مصاحف میں لکھا گيااور بلا کسی شک وشبہ کے بتواتر نقل ہوا۔ دیکھئے، (التعریفات للجرجانی: 223، وتاج العروس: 363)

تلاوت کی فضیلت اور اس کی تاثیر:

کلام ربانی کی تلاوت کا شغف رب العالمین سے محبت کی ایک عظیم علامت ہے۔ اسی لیے محبوب اپنے محب پر اپنے بےپایاں افضال ونعمتوں کی برکھا برساتا ہے۔ اس کے کلام کو حرزجان بنانے والے لائق صد رشک ہیں کہ مولائے کریم انہیں اپنے خاص مقرب بندوں میں شامل کرتے ہوئے ان کے دلوں کو سکون واطمینان کا گہوارہ بنا دیتا ہے۔ اور ایمان ویقین کو اس قدر پروان چڑھاتا ہے کہ انہیں اسی دھرتی پر اپنے اوپر آسمان سے سکینت کے نزول کا احساس وشعور ہونے لگتا ہےاورقلق وبےچینی، کرب واَلم اور رنج وغم کے کافور ہونے کا پورا پورا یقین حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح وہ گویا محسوس کرتے ہیں کہ اس دنیا ہی میں گل وگلزار کے بیچ اپنی زندگی کے سعید لمحات گزار رہے ہیں اور وہ دنیا میں بیٹھے ہوئے جنت کا مزہ چکھ رہےہیں۔

انہیں ٹھوس حقائق کو بےنقاب کرتے ہو باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

( إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آَيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ) [الأنفال: 2]

“ بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔”

دوسری جگہ فرمایا:

( قُلْ آَمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا ١٠٧ وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا ١٠٨ وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ) [الإسراء:107 - 109]

“ کہہ دیجئے! تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے پاس تو جب بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وه ٹھوڑیوں کے بل سجده میں گر پڑتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، ہمارے رب کا وعده بلاشک وشبہ پورا ہو کر رہنے والا ہی ہے، وه اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجده میں گر پڑ تے ہیں اور یہ قرآن ان کی عاجزی اور خشوع اور خضوع بڑھا دیتا ہے۔

یعنی قرآن مجید سن کر ان پر اس قدر خشیت الہٰی اور رقت نفس طاری ہوتی ہے کہ جس سے ان کی آنکھیں اشکبار، دل موم اور پیشانیاں رب کے حضور سجدہ ریز ہوجاتی ہیں۔

اثر پذیری کا تذکرہ ایک جگہ ربُّ العالمین ان الفاظ میں کرتا ہے:

( وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آَمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ) [المائدة: 83]

“ اور جب وه رسول کی طرف نازل کرده (کلام) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وه کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں۔”

اس مبارک کلام کی تاثیر کا تذکرہ ایک اور مقام پر بایں الفاظ فرمایا:

( اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ) [الزمر: 23]

“ اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے ذریعہ جسے چاہے راه راست پر لگا دیتا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راه بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں۔”

تلاوت قرآن کی اثر انگیزی کا آنکھوں دیکھا حال حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یوں نقل فرماتے ہیں: مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نےکہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں جبکہ قرآن کا نزول آپ ہی پر ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا:ہاں، چنانچہ میں نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی۔ اور اس آیت کریمہ:

( فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا ) [النساء: 41]

“پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواہ ہم لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔”

اس پر آپ کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ آپ فرمارہے تھے: بس کرو۔ میں نے مڑ کر دیکھا، تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ دیکھئے، (صحیح بخاری: 5050)

یہی حال آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا کہ وہ نہایت ہی سوز سے تلاوت قرآن پا ک کرتے خود اس سے متاثر ہوتے اور دیگر سامعین کو بھی مسحور کردیتے۔ چنانچہ مکی دور میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایک نہایت ہی بےمثال واقعہ امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے:جس میں تلاوت قرآن سے متعلق ان کے یہ الفاظ ہمیں محو حیرت واستعجاب میں ڈالنے کے لیے کافی ہیں۔ فرماتے ہیں:

“ثم بدأ لأبی بکر فابتنی مسجدا بفناء دارہ، وکان یصلی فیہ، ویقرأ القرآن فینقذف علیہ نساء المشرکین وأبناؤھم، وھم یعجبون منہ وینظرون إلیہ، وکان أبو بکر رجلا بکاء، لا یملک عینیہ إذا قرأ القرآن”

“ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے مکان کا ایک حصہ نماز کے لیے خاص کردیا۔ جس میں نماز ادا کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے۔ جسے سن کر مشرکین مکہ کی عورتیں اور بچے ان پر ٹوٹ پڑتے۔ ان کی رقت آمیز تلاوت سے محظوظ ہوتے اور اسے غایت درجہ پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے۔ بات دراصل یہ تھی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نہایت ہی نرم دل انسان تھے۔ تلاوت قرآن کے وقت اپنی آنکھوں پر قابو نہیں رکھ پاتےاور وہ بےاختیار بہہ پڑتیں۔ دیکھئے، (صحیح بخاری: 3905)

انسان ہی پر بس نہیں بلکہ اگر یہ مبارک آیات جمادات پر نازل ہوتیں تو وہ بھی اس کے عظیم اثرات کو قبول کئے بغیر نہ رہتے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

( لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآَنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ) [الحشر: 21]

“ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وه پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وه غور وفکر کریں۔”

تلاوت قرآن سے سکینت اور فرشتوں کا نزول:

تلاوت قرآن وہ مبارک پسندیدہ عمل ہے جس کے سننے کے لیے نہ صرف سلیم الطبع انس وجن مضطرب اور بےچین رہتے ہیں بلکہ آسمان سے فرشتے بھی اتر آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ ایک صحابی کا واقعہ نقل کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

“قرأ رجل “الکھف” وفی الدار الدابۃ، فجعلت تنفر، فسلم فإذا ضبابۃ أو سحابۃ غشیتہ، فذکرہ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: إقرأ فلان! فإنھا السکینۃ نزلت للقرآن، أو تنزلت للقرآن” (صحیح بخاری: 3614، وصحیح مسلم: 241)

“ایک صحابی (تہجد کی نماز میں ) سورۃ الکہف کی تلاوت کر رہے تھے کہ اچانک گھر ہی میں بندھا ہوا ایک جانور (گھوڑا) بدکنے لگا، سلام پھیرنے کے بعد نظر دوڑایا تو اوپر بادل جیسا ایک ٹکڑا نظر آیا۔ جس نے انہیں ڈھانپ رکھا تھا۔ (صبح ہونے کے بعد) اس واقعہ کا تذکرہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ جس پر آپ نے فرمایا:اے فلاں!تم اپنی تلاوت جاری رکھو۔ یہ سکینت تھی جو قرآن کی تلاوت کی وجہ سے آسمان سے اتری تھی۔”

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ سکینہ سےمراد فرشتے ہیں جو آسمان سے قرآن سننے کے لیے اترتے ہیں۔ دیکھئے: (بخاری:1/133، و شرح نووی لمسلم: 6/82)

اس واقعہ سے ملتا جلتا حضرت اسید بن حضیر کا واقعہ بھی ہے کہ وہ رات میں سورۃ البقرۃ کی تلاوت فرما رہے تھے کہ ان کا گھوڑا جو ان کے فرزند یحیٰ کے قریب ہی بندھا ہواتھا بدکنے لگا۔ خاموش ہونے پر وہ بھی پر سکون ہوگیا۔ یہ عمل بار بار ہوا۔ اس لیے حضرت اسید رضی اللہ عنہ نے تلاوت موقوف فرمادی اور باہر نکل کر آسمان کی طرف نظراُٹھاýئی تو بادل کی ایک ٹکڑی نظر آئی جس میں قندیلیں روشن تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا گيا تو آپ نے فرمایا:وہ فرشتے تھے جو تمہاری تلاوت سننے کے لیے تمہارے قریب آئے تھے۔ اور اگر تم تلاوت جاری رکھتے تو وہ فرشتے بھی اسی طرح صبح تک ٹھہرے رہتے اور لوگ انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے: (صحیح بخاری معلقا: 5018، وصحیح مسلم مرفوعا: 242)

تلاوت قرآن کا اجر وثواب:

ربُّ العالمین نے اپنے اس عظیم ترین کلام کی تلاوت پر اجر جزیل سے نوازا ہے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کلام اللہ کا ایک حرف پڑھےگا۔ ربُّ العالمین اس کے ہر ہر حرف پر ایک نیکی عنایت کرےگا۔ جو دس گنا بڑھ کر دس نیکیاں بن جائیں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں کہتا ہوں کہ (الم) ایک حرف ہے۔ بلکہ الف ایک حرف ہے۔ لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (ترمذی: 2835)

تلاوت قرآن کا اہتمام کر نے والے کا مقام:

جن لوگوں کو قرآن مجید سے دلی لگاؤ ہے وہ اس کی تلاوت کے بغیر سکون پاہی نہیں سکتے۔ اسی لیے باری تعالیٰ ایسے لوگوں کے اجر کو بھی بڑھا دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن میں ماہر ہے وہ معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو شخص قرآن اٹک اٹک کر بامشقت پڑھتا ہے اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ (صحیح بخاری: 4937، صحیح مسلم: 798)

ایسے لوگوں کا مقام دنیا وآخرت دونوں جگہ اعلیٰ وارفع ہوگا۔ جیسا کہ حضرت نافع بن عبد الحارث کے اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے جو ان کے اور امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب کے درمیان پیش آیا۔ واقعہ یہ تھا کہ حضرت نافع نے جو کہ مکہ کے والی تھے مکہ سے باہر جاتے ہوئے اپنا نائب انہوں نے ایک غلام کو بنایا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا:

“إنہ قارئ لکتاب اللہ عز و جل، و إنہ عالم بالفرائض، قال عمر: أما أن نبیکم صلی اللہ علیہ وسلم قد قال: إن اللہ یرفع بھذا الکتاب أقواما ویضع بہ آخرین” (صحیح مسلم: 816۔ 269)

“وہ قرآن اور فرائض کا عالم ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:بےشک اللہ تعالیٰ اس قرآن کی وجہ سے کچھ لوگوں کو بلندی عطاء کرےگا اور کچھ کو پستی۔”

آخرت میں ان کی عظمت ورفعت کا تذکرہ:

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یوں کہا گیا ہے کہ صاحب قرآن سے قیامت کے روز کہاجائےگا: قرآن مجید کی تلاوت اس طرح کرو جیسے دنیا میں ترتیل سے کرتے تھے اور بلند منازل طے کرتے جاؤ۔ جنت میں تمہارے لیے وہ جگہ متعین ہوگی جس جگہ آخری آیت کی تلاوت پر تمہاری سانس رکےگی۔” (ترمذی: 2914، أبوداود: 1464 وغیرہ بسند حسن)

تلاوت قرآن گھر کو شیطان سے پاک کرنے کا واحد علاج:

در حقیقت ہمارے سامنے دوآواز ہیں، ہمیں اختیار ہے کہ ان میں سے جس آواز کو ہم چاہیں اپنے گھر کی زینت بنائيں۔ مگر دونوں کے ظاہری اثرات اس گھر پر ڈائرکٹ بغیر کسی واسطے کے پڑیں گے۔ جس میں ایک آواز گانا باجا وغیرہ ہے جو قرآن کی ضد ہے۔ اور دوسری آواز تلاوت قرآن کی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

“لا تجعلوا بیوتکم مقابر، إن الشیطان ینفر من البیت الذی یقرأ فیہ سورۃ البقرۃ” (صحیح مسلم: 780،212)

“ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بےشک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی جاتی ہے۔”

بلکہ اگر کوئی شخص اس عظیم سورت کی آخری دو آیتوں کو رات میں پڑھ لے تو یہ اس کے لیے کفایت کر جائیں گی۔ جیسا کہ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:

“من قرأ بالآیتین من آخر سورۃ البقرۃ فی لیلۃ کفتاہ” (صحیح بخاری: 50009)

“جو شخص سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتوں کو رات میں پڑھ لے تو وہ اس کو کفایت کریں گی۔”

کفایت کرنے کا مطلب ایک تو یہ بیان کیا کیا ہے کہ یہ دونوں آیتیں قیام اللیل سے کفایت کریں گی۔ جبکہ ایک معنی یہ بھی لیا گیا ہے کہ شیطان کے شر سے۔ بلکہ ہر طرح کے شرور سے کفایت کریں گے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ یہ تمام معانی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ دیکھئے: (فتح الباری: 9/56)

یہاں تک کہ اگر کوئی اس مبارک سورت کی صرف ایک آیت کریمہ:

آیت الکرسی سوتے وقت پڑھ لے تو ربُّ العالمین کی طرف سے اس کی حفاظت کے لیے ایک نگراں متعین ہوجائےگا جو اس شخص کی صبح تک حفاظت فرمائے گا اور شیطان اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکےگا۔ دیکھئے: (صحیح بخاری: 2311 معلقا: والنسائي فی الکبری: 10795، موصولا بسند صحیح)

تلاوت قرآن موجب شفاعت ہے:

حضرت ابو اما مہ الباہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے:

(إقرؤا القرآن فإنہ یأتی یوم القیامۃ شفیعا لأصحابہ) )صحیح مسلم: 804۔252(

“ قرآن مجید پڑھو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے لیے سفارش کرےگا۔”

الغرض تلاوت قرآن کے متعدد بےشمار فضائل ہیں۔ بلکہ ایسے لوگ جو قرآن پڑھتے پڑھاتے ہوں وہ لوگوں میں سب سے افضل اور بہتر ہیں۔ جیسا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس کی صراحت آئی ہے۔ دیکھئے، (صحیح بخاری:5027)

اس لیے کثر ت سے قرآن کی تلاوت کرنا اور اس پر مداومت اختیار کرنا سعادت بخش زندگی کا موجب ہے۔ جس پر قائم رہنا صاحب عزیمت شخص کے لیے چنداں مشکل نہیں۔ اللہ ربُّ العالمین ہم سب کو اس کا اہل بنائے آمین۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!

سامعین کرام!جیسا کہ آپ نے پچھلے خطبہ میں سنا کہ قرآن مجید کا پڑھنا، پڑھانا، سیکھنا، سکھانا، نہایت ہی محبوب ترین عمل ہے۔ اور یہ کام انجام دینے والے سب سے افضل اور بہتر لوگ ہیں۔ تو آیئے، ہم یہ بھی جاننے کی کوشش کریں کہ ان مبارک آیات کی تلاوت کے آداب کیا ہیں۔

آداب تلاوت:

قرآن مجید کی تلاوت کے بہت سے آداب ہیں جن کا اپنانا درحقیقت کلام عظیم میں پنہاں خزانوں سے موتیاں چننا ہے۔ ان آداب میں سے چند یہ ہیں۔

اخلاص وللّٰہیت :

یہ شرط اساسی تمام اعمال صالحہ کے لیے ہے ۔ فرمان باری ہے:

( وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ) [البينة: 5]

“ انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں۔”

تلاوت کے آغاز سے پہلے “أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم” پڑھنا:

رب العالمین کا فرمان ہے:

( فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآَنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ) [النحل: 98]

“ قرآن پڑھنے کے وقت راندے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناه طلب کرو۔”

ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنا:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( وَرَتِّلِ الْقُرْآَنَ تَرْتِيلًا ) [المزمل: 4]

“ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف) پڑھا کر۔”

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کا وصف نقل کرتے ہوئے فرمایا:

“کان یقطع قرائتہ آیۃ آیۃ؛ (بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، الْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ، مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ) (ترمذی: 2927، سنن دار قطنی 1/312 واللفظ لہ)

“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آيت کو الگ الگ کر کے قراءت کرتے۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کہہ کر ٹھہر جاتے۔ پھر کہتے الْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ پھر ٹھہر جاتے۔ پھر کہتے: الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ پھر ٹھہر جاتے۔ پھر کہتے: مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ”

مگر یہ روایت کافی شہرت کے باوصف ضعیف ہے جیسا کہ امام ترمذی نے مذکورہ بالا مقام پر اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ کچھ دیگر اہل علم اس کی تصحیح کے قائل ہیں۔ مگر راجح قول وہی ہے جو اما م ترمذی نے ذکر کیا ہے۔ (واللہ أعلم)

ایک صحیح حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت کا وصف بیان کرتے ہو فرماتے ہیں:نبی صلی اللہ علیہ وسلم آیات کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مثال دے کر بتایا کہ آپ اس طرح پڑھتے تھے: (بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، یمد بسم اللہ، ویمد بالرحمن، ویمد بالرحیم)

“ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، پڑھتے ہوئے، بِسْمِ اللہِ، الرَّحْمَن اور الرَّحِيم کو کھینچتے۔” (صحیح بخاری: 5046)

اسی ترتیل کی تعلیم صحابۂ کرام اپنے شاگردوں کو بھی دیتے۔ چنانچہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ سے کہا: میں پورا مفصّل (یعنی سورۃ قٓ سے سورۃ الناس تک) ایک ہی رکعت میں پڑھتا ہوں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہوئے فرمایا:ایسے ہی جیسے تیز تیز شعر سنایاجاتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا: بےشک کچھ لوگ قرآن اس طرح پڑھیں گے کہ ان کے حلق کے نیچے نہیں اترےگا۔ قراءت وہ نفع بخش ہے جو حلق سے تجاوز کر کے دل کے دروازے پر دستک دے اور اس میں گھر کر جائے۔ دیکھئے: (صحیح مسلم: 822۔ 275)

آواز میں سوز اور حسن پیدا کرنا:

خوش الحانی سے تلاوت نہایت ہی مرغوب عمل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کا اہتمام کرتے۔ جیسا کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:

“سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأ فی العشاء، والتین والزیتون، فما سمعت أحدا أحسن صوتا منہ” (صحیح بخاری: 729، صحیح مسلم: 464)

“ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء کی نماز میں سورۃ التین پڑھتے ہو سنا۔ میں نے آپ جیسی خوبصورت آواز سے پڑھنے والا کسی کو نہیں سنا۔”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے نبی کا خوش الحانی سے قرآن مجید پڑھنا سنتا ہے۔ (صحیح بخاری: 5023، 5024 صحیح مسلم: 792، 233)

دوران تلاوت آنکھوں کا اشکبار ہونا:

کلام اللہ کے سننے سے دل میں ہل چل مچ جانا اور آنکھوں سے آنسو کے قطرات کا ٹپکنا فطری امر ہے۔ ربُّ العالمین نے اپنے نیک بندوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

( إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آَيَاتُ الرَّحْمَنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ) [مريم: 58]

“ان کے سامنے جب اللہ رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تھی یہ سجده کرتے اور روتے گڑگڑاتے گر پڑتے تھے۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ دوران نماز جب قرآن پڑھتے تو رونے کی وجہ سے آپ کے پیٹ سے اس طرح آواز آتی جیسے کھولتی ہوئی ہانڈی سے پکنے کی آواز آتی ہے۔ (مسند: 4/25)

تلاو ت کرتے ہوئے تدبر کرنا:

قرآن مجید کی آیات مبارکہ میں غوروخوض، تدبروفکر ہی دراصل ہمارے لیے راہ ہدایت استوار کرتا ہے۔ عبرت وموعظت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

( كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آَيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ) [ص: 29]

“یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لیے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔”

اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت اس پہلو پر توجہ دیتے۔ یہاں تک کہ ایک بار آپ قیام اللیل میں کھڑے ہوئےاور ایک ہی آیت پرھتے پڑھتے صبح کردی۔ وہ آيت کریمہ یہ تھی:

( إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) [المائدة: 118]

“ اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو، تو زبردست ہے حکمت والا ہے۔”: (نسائی: 2/177 اور مسند أحمد: 5/156، 170)

اس لیے ہمیں قرآن مجید سیکھنے، سکھانے اور اس کے معانی ومطالب سمجھنے پر پوری توجہ صرف کرنی چاہئے۔ تاکہ اس کو دستور حیات بناتے ہوئے اپنی علمی زندگی میں اتار سکیں۔ اور دنیا وآخرت کی سعادت سے بہرہ ور ہو سکیں۔ ورنہ خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے خلاف رب کے حضور شکایت کرتے ہوئے فرمائيں گے:

( وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآَنَ مَهْجُورًا ) [الفرقان: 30]

“ اور رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔”