زکاۃ اور صدقۃ الفطر کاحکم

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده، لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله۔

أما بعد! فإن أصدق الحدیث کتاب اللہ، وأحسن الھدی ھدی محمد، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ فی النار۔

وقال اللہ سبحانہ وتعالی:

( وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآَتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ) [النور: 56]

سامعین کرام ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کے سامنے ابھی سوۃ النور کی ایک آیت پیش کی گئی جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ :

“تم لوگ نماز قائم کرو اور زکاۃادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ تاکہ تم پر رحم کیاجائے ۔ “

آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر تین چیزیں فرض کی ہیں:(۱) نماز (۲) زکاۃ (۳) اطاعت رسول یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری، ان تین فرائض میں سے ایک فرض “زکاۃ” ہے جس کے بارے میں (إن شاء اللہ) آج کے خطبہ میں ضروری باتیں پیش کی جائیں گی۔

محترم بھائیو! رب کائنات کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے اخلاق وارزاق میں فرق رکھا ہے اور اس میں بھی اس کی حکمت ہے۔ کیونکہ وہ حکمت والا ہے اور اچھی طرح جانتا ہے کہ کس کو زیادہ رزق یا زیادہ مال دینے میں کیا مصلحت ہے اور کس کو کم دینے میں کیا مصلحت ہے۔ یہ مصلحتیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔

ارشاد ربانی ہے :

( قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ) [سبأ: 36]

“کہہ دیجئے! کہ میرا رب جس کے لیے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہےاور تنگ بھی کر دیتا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔”

اللہ تعالیٰ بعض بندوں کو مال کے ذریعہ آزماتا ہے۔ چنانچہ اس کے لیے مال کی فراوانی کردیتا ہے اور اسے مختلف قسم کے اموال عطا کرتا ہے۔جب کہ بعض کو قلت مال کے ذریعہ آزماتا ہے اور اللہ اس کی حکمت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ کسی کو زیادہ مال دینا اس کے ساتھ محبت کی علامت نہیں ہے اور نہ کم مال دینا ان کے ساتھ بغض کی علامت ہے۔ بلکہ اللہ کا حب وبغض تقویٰ وعدم تقویٰ سے مرتبط ہے۔ جبکہ وہ کسی کے رزق کی توسیع وتنگی اپنی حکمت کے مطابق کرتا ہے۔

وہ مالداروں کو فقراء کے ذریعہ آزماتا ہے اور فقراء کو مالداروں کے ذریعہ۔ مالدار کو مال کے ذریعہ اس طرح آزما یا جاتا ہے کہ آیایہ مال اس مالدار کے لیے اللہ کی نعمت کے شکر ادا کرنے اور اللہ کے حق کی بجا آوری کا سبب بنتا ہے یا نہیں ؟ اسی طرح فقیر کو فقروتنگی کے ذریعہ آزما یا جاتا ہے تاکہ دیکھے کہ آیا یہ فقیر صبر ورضا پر قائم رہتا ہے یا غصہ وناراض ہوتا ہے؟

جب اللہ متقی شخص کومال دیتا ہے تو وہ اس کو اللہ کی نعمت مان کر اللہ کا شکر بجالاتا ہے اور مال کا پوار پورا حق ادا کرتا ہے پھر وہ مال اس کے مزید نیک بننے کا سبب بن جاتا ہے اور وہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے میں سبقت کرتا ہے۔ لیکن جب غیر متقی اوربرے شخص کو مال مل جاتا ہے تو یہ مال اس کے مغرور وسرکش بننے کا سبب بن جاتا ہے، نہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور نہ مال کاحق ادا کرتا ہے۔ بلکہ وہ گھمنڈ سے کہتا ہے کہ اس مال کے حصول میں اللہ کا کیا دخل ہے؟ یہ تو میں نے اپنے علم وہنر اور اپنی صلاحیت سے کمایا ہے۔ چنانچہ وہ مال اس کے لیے عذاب کا سبب بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ) [إبراهيم: 7]

“اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کروگے تو بےشک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کروگے تو یقیناً میرا عذاب سخت ہے۔”

میرے مسلمان بھائیو! اللہ تعالیٰ نے مسلم مالداروں پر ان کے اموال میں اپنے فقیر بھائیوں کا حق واجب کیا ہے، جس کا نام ہے زکاۃ، تاکہ وہ اس کے ذریعہ ان کی مدد کریں ، اللہ نے اسے اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن قرار دیا ہے:چنانچہ جن ارکان پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے ان میں یہ زکاۃ تیسرا رکن ہے۔

جیسا کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم کی روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

“بنی الإسلام علی خمس؛ شھادۃ أن لا إلہ إلا اللہ و أن محمدا رسول اللہ، و إقام الصلاۃ و إیتاء الزکاۃ وصوم رمضان وحج البیت”

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے:

اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔

نماز قائم کرنا ۔

زکاۃ ادا کرنا۔

ماہ رمضان کے روزے رکھنا ۔

خانۂ کعبہ کا حج کرنا ۔

نیز صحیحین یعنی بخاری ومسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ سے فرمایا کہ پھر تم انہیں یہ بتاؤ کہ اللہ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لی جائےگی اور ان کے محتاجوں پر تقسیم کی جائےگی۔

قرآن کریم اورحدیث نبوی کے نصوص زکاۃ کی رکنیت اور اس کی اہمیت کو واضح طور پر ثابت کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نےفرمایا:

( وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ ) [البينة: 5]

“انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لیے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکاۃ دیتے رہیں۔ یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔”

ملت اسلامیہ کا دین یعنی دین توحید جس کی طرف ہر زمانے میں اللہ کےنبی اپنی امت کو دعوت دیتے رہے۔

میرے مسلما ن بھائیو! زکاۃ ایک آزمائش وامتحان ہے۔ اس کے ذریعہ اللہ تعالی ٰ لوگوں کی آزمائش کرتا ہے۔ ایمان کے سچے مسلمان اپنے مال کی زکاۃ خوش دلی سے اس کے وجوب کا یقین واعتقاد کرتے ہو نکالتے ہیں۔ اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اور اس کے فضل ونعمت کا شکر کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں۔

جیسا کہ اللہ نے فرمایا:

( خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ) [التوبة: 103]

“آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کر دیں اور ان کے لیے دعا کیجئے، بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا ہے خوب جانتا ہے۔”

اس سے واضح ہوتا ہے کہ زکاۃ اس کے ادا کرنے والے شخص کو پاک کرنے والی ہے جو اس کے دل کو کنجوسی اور بخل جیسی بیماری سے پاک کرتی ہے۔ اسے کرم وسخاوت کے لیے مخلص بناتی ہے اور وہ مال کو گندگیوں اور نجاستوں سے پاک کرتی ہے۔ کیونکہ جس مال سے (زکاۃ نکالنے کا وقت ہوجانے کے باوجود ) زکاۃ نہیں نکالی جاتی ہے وہ مال گندگیوں اور نجاستوں کو شامل ہوتا ہے اور اس مال کو ان گندگیوں اور نجاستوں سے صرف زکاۃ ہی پاک کرسکتی ہے اگر اس کی زکاۃ نکال دی جائے، مال کی زکاۃ نکالنے سے وہ صرف مال ہی کی زکاۃ نہیں ہوتی بلکہ وہ دل کی بھی زکاۃ ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کے نکالنے سے ایمان مضبوط ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا نکالنے والا اپنی خواہش کے دباؤ، اپنے نفس کی چاہتوں اور شیطان کے وسوسوں پر قابو پالیتا ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کے دشمن شیطان کے وسوسہ کے باوجود اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے زکاۃ نکالتا ہے اور اللہ خوش ہو کر اس کے دل کو مضبوط کردیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ) [البقرة: 268]

“شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعده کرتا ہے، اللہ تعالیٰ وسعت والا اور علم والا ہے۔”

جس مال کی زکاۃ نکال دی گئی ہو وہ مال پاک ہے اور وہ بڑھتا ہے اور اس میں اللہ برکت نازل کرتا ہے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث مروی ہے کہ “وما نقصت صدقۃ من مال” “ زکاۃ مال کو کم نہیں کرتی۔”

میرے بھائیو!مال کی زکاۃ زیادہ مقدار میں مطلوب نہیں۔ اللہ نے آپ کو بہت دیا ہےاور آپ کو صرف ڈھائی فیصد نکالنا ہے۔ یعنی آپ ڈھائی پرسنٹ زکاۃ نکالیں گے۔ اللہ آپ کے اس تھوڑے پر راضی ہے اور اس تھوڑے کا آپ کو دنیا وآخرت میں بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔

محترم بھائیو!زکاۃ پوری نکالو۔ مال کا اچھی طرح حساب کرو اور وقت پر زکاۃ ادا کرو۔ زکاۃ نکالتے وقت ادائیگی زکاۃ کی نیت اورقصد کرو۔ کیونکہ تمام اعمال کے ثواب کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ اگر آپ باضابطہ زکاۃ نکالتے رہے تو آپ کو اللہ کی طرف سے آخرت میں خیر وبرکت اور عظیم ثواب کی خوشخبری ہے۔

محترم بھائیو!اللہ تعالیٰ نے مال کی مختلف اقسام پر زکاۃ واجب کی ہے۔ چنانچہ ان میں سے ایک قسم زمین کی پیداوار ہے جس پر زکاۃواجب کی ہے، خواہ وہ دانوں کی قسم سے ہوں یا پھلوں کی قسم سے۔

جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا:

( وَآَتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ) [الأنعام: 141]

“اور اس کے کاٹنے کے دن اس کی زکاۃ ادا کردو ۔

نیز فرمایا:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ ) [البقرة: 267]

“ اے ایمان والو! اپنی پاکیزه کمائی میں سے اور ان چیزوں سے جو زمین سے ہم نے تمہارے لیے نکالی ہیں، خرچ کرو، اوران میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرو۔”

زمین کی پیداوار میں سے زکاۃ ادا کرنے کی شرط یہ رکھی گئی ہے کہ یہ پانچ وسق یعنی ہمارے ملک میں رائج پیمانےکے مطابق ساڑھے سات کوئنٹل کو پہنچ جائیں تو ان پر زکاۃ نکالنا واجب ہوگا ورنہ نہیں۔ اگر یہ پیداوار آسمانی بارش یا قدرتی تراوٹ سے ہوئی ہو یعنی بوائی اور کٹائی کے بیچ کوئی محنت یاخرچہ نہ کرنا پڑا ہو تو اس کی زکاۃ پیداوار کا دسواں حصہ یعنی دس پرسنٹ ہے۔ اور اگر یہ پیداوار انسانی یا مشینی سینچائی ونکائی جیسی محنت سے ہوئی ہو تو اس کی زکاۃ پیداوار کا بیسواں حصہ یعنی پانچ فیصد یا پانچ پرسنٹ ہے۔ جبکہ سبزیوں اور ان پھلوں میں جو سال بھر ذخیرہ کرنے کے قابل نہیں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔

میرے بھائیو! اللہ تعالیٰ نے دوسری قسم ان چوپائے جانوروں کی زکاۃ واجب فرمائی ہے، جو ماکول اللحم ہوں۔ جیسے اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ بشرطیکہ وہ چرنے والے ہوں یعنی سال کے اکثر ایام چراگاہ کے گھاس سے پرورش پارہے ہوں جنہیں گھر میں چارہ فراہم نہ کیا جاتا ہو۔

ان جانوروں کی زکاۃ واجب ہونے کی شرط ( جسے نصاب کہا جاتا ہے ) یہ ہے: اونٹ کا نصاب کم سے کم پانچ ہے۔ گائے کا نصاب تیس اور بھیڑ اور بکری کا نصاب چالیس ہے۔

اگر ان جانوروں کو گھر میں چارہ پانی فراہم کیاجارہا ہو اور گوشت کھانے اور دودھ پینے کے لیے پالا جارہا ہو تو ان کی زکاۃ واجب نہیں۔ اور اگر انہیں تجارت کے لیے گھر میں پالا جا رہا ہے تو ان کی بھی زکاۃ واجب ہے۔ اس طرح تجارت کے لیے گھر میں پالے جانے والے جا نوروں کی ہر سال قیمت لگائی جائےگی اور ان کی زکاۃ کے لیے ان کی قیمت کاچالیسواں حصہ نکالا جائے گا یعنی ڈھائی فیصد۔

اللہ تعالیٰ نے تجارت کے ہر قسم کے سامانوں میں زکاۃ واجب کی ہے۔ خواہ وہ کھا نے کے سامان ہوں یا پہننے کے ہوں یا سواری کے ہوں۔ پس جو بھی تجارتی سامان ہو سال کے آخر میں بازار بھاؤ کے مطابق اس کی قیمت لگائی جائے گی۔ خواہ یہ قیمت، قیمت خرید سے زیادہ ہو یا کم۔ اگر مجموعی قیمت، چاندی کے نصاب 200 درہم یا سونے کے نصاب 20 دینار تک پہنچ جائے تو اس کی زکاۃ ڈھائی فیصد نکالی جائے گی۔ جبکہ نصاب پورا ہونے کے باوجود زکاۃ نہ نکالنے والوں کے سخت وعید آئی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ٣٤ يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ ) [التوبة: 34 - 35]

“جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے۔ جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لیے خزانہ بنا کر رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزه چکھو۔”

چنانچہ مسلمانوں کو چاہئے کہ ان دونوں قسم کے سکوں کی زکاۃ ادا کریں اور ان نقدی نوٹوں کی بھی زکاۃ دیں جو آج کل ان سکوں کے قائم مقام ہیں جو خرید وفروخت اور نقدی تعامل میں ان نقدی سکوں کا حکم لے چکے ہیں۔ لہذا ان کرنسی نوٹوں کی زکاۃنکالیں۔

محترم بھائیو! آپ کو مختلف کمپنیوں کے شیئروں کے بارے میں جانکاری ہونی چاہئے۔ یہ شیئرز دو قسم ہوتے ہیں؛

(الف) ایک وہ شیئرز جن کا لین دین ہوتا رہتا ہے۔ جن میں مسلما ن فائدے کی امید رکھتے ہیں۔ جب ان کی طلب بڑھتی ہے، تو وہ لوگ فروخت کے لیے انہیں بازار میں پیش کرتے ہیں۔ اور جب ان کی طلب میں کمی ہوتی ہے تو انہیں محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کی بھی نقدی کی طرح ہر سال کے خاتمہ پر مارکیٹ ریٹ کے حساب سے زکاة نکالیں۔ کیوں کہ وہ آپ کے ہاتھ میں ہیں نقدی کے قائم مقام ہیں۔

(ب)دوسری قسم وہ شیئرز ہیں جنہیں آپ نے کمپنی میں راس المال کے طور پر حصے داری میں لے رکھا ہے۔ ان کو آپ نہیں بیچتے۔ البتہ آپ ان کے غلات سے استفادہ کرتے ہیں۔ پس جب ان کے غلات (بطور سامان تجارت) آپ کے قبضے میں ہوں اور ان پر پورا سال گزرجائے تو آپ ان کی زکاۃ اداکریں۔ لیکن اگر ان غلات میں سے کچھ آپ نے خود استعمال کرلیا تو اس استعمال شدہ غلات میں کوئی زکاۃ نہیں۔

کرایہ پر دیئے مکانات وزمینوں کے مجموعی کرایہ سے نصاب پورا ہو جائے یاجس مہینےمیں نصاب پورا ہو جائے اور وہ گھریلو خرچہ سے زائد ہو نے کی بنا پر جمع کیا جاتا رہا ہوتو نصاب پورا ہونے کے وقت سے اس پر سال پورا ہوتے ہی اس جمع شدہ رقم کی زکاۃ اداکرنا واجب ہے۔ اگر دوران سال گھریلو ضرورت کے لیے اس جمع شدہ کرایہ کی رقم سے کچھ خرچ کرنا پڑا، تو ایسی استعمال شدہ رقم پر کوئی زکاۃ نہیں۔ نیز اگر کرایہ کی رقم متفرق اوقات میں تھوڑی تھوڑی لیتے ہوئے گھریلو ضروریات پر خرچ کی جاتی رہی تو اس استعمال شدہ رقم پر کوئی زکاۃ نہیں۔ سال کے آخر میں جو کرایہ وصول ہو اگر وہ نصاب کے برابر ہے یا نصاب سے زیادہ تو اس پر زکاۃ واجب ہوگی۔ اور اگر نصاب سے کم رہا تو اس پر کوئی زکاۃ نہیں۔

آپ کا رہائشی مکان جس میں آپ رہتے ہیں،آپ کی گاڑی جس پر آپ سوار ہوتے ہیں، ان پر کوئی زکاۃ نہیں۔

جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے:

“عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن البنی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لیس علی المسلم فی عبدہ ولا فرسہ صدقۃ” (صحیح البخاری وصحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب لیس علی المسلم صدقۃ فی عبدہ وفرسہ)

“ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔”

بارک اللہ لنا ولکم فی القرآن الکریم و نفعنا بہ وإیاکم، إنہ کریم ملک غفور رحیم۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله۔ أما بعد ! فقد قال اللہ سبحانہ وتعالیٰ۔

( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاِبْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ) [التوبة: 60]

“صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لیے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لیے اور ان کے لیے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لیے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لیے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت والا ہے۔”

میرے محترم بھائيو! زکاۃ کے بارے میں ہمارے دل خوف خدا سے لبریز رہنے چاہئيں۔ آپ اس بات کو یاد رکھیں کہ آپ کے پاس زکاۃ ایک امانت ہے۔ چنانچہ آپ پر واجب ہے کہ اسے اس کے مستحق تک پہنچا دیں۔

اللہ نے فرمایا:

( إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا ) [النساء: 58]

“اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ!۔”

امانت زکاۃ کے مستحقین کی فہر ست اللہ تعالیٰ سے سورۃ التوبۃ کی آيت نمبر 60 میں پیش کردی ہے اور وہ ہیں:

فقراء ومساکین جن کے پاس کوئی مال ومتاع نہیں ہےیا ہے لیکن ان کی کفایت سے کم ہے۔ ان کا نہ کوئی مقررہ پیسے کا وظیفہ ہے، ان کا نہ کوئی صنعتی کام چالو ہے اور نہ ان کا کوئی ایسا نفقہ ہے جو دوسروں پر واجب ہے۔ پس ایسے فقراء ومساکین کو جوظن غالب میں مستحق محسوس ہوں انہیں زکاۃ کی اتنی مقدار دی جائےگی جو انہیں ایک سال کے لیے کافی ہو۔ اگر ایسے لوگ شادی کرنا ضروری محسوس کریں تو ان کی زکاۃ سے مدد کی جائے۔ کیونکہ یہ بھی اہم ضروریات میں سے ہے، اگر آپ کو ایسے لوگوں پر مالداری کے آثار نظر آئيں یا ان میں محنت کر کے کمانے کی قوت ونشاط محسوس ہو تو انہیں کمانے کی نصیحت وخیر خواہانہ تنبیہ کریں۔

ایک حدیث ميں آیا ہے:

“عن عبید اللہ عن رجلین أنھما أتیا النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی حجۃ الوداع وھو یقسم الصدقۃ فسألاہ منھا، فرفع فینا البصر و خفضہ فرآنا جلدین، فقال: إن شئتما أعطیتکما؟ و لا حظ فیھا لغنی ولا لقوی مکتسب” (صحیح سنن أبی داؤد، کتاب الزکاۃ، باب من یعطی الصدقۃ)

“عبید اللہ ایسے دو آدمیوں کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ جو حجۃ الوداع کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زکاۃ تقسیم کررہے تھے۔ چنانچہ ان دو آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس زکاۃ کی کچھ چیزیں مانگیں۔ ان دونوں کا خود کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غور سے دیکھا۔ نظر کو ہماری طرف اوپر اٹھا یا پھر نیچے ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس ہوا کہ ہم دونوں مضبوط آدمی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں دے دوں گا؛ لیکن اس زکاۃ میں مالدار کا کوئی حق نہیں ہے اور محنت سے کمانے کی طاقت رکھنے والے کا بھی اس میں کوئی حق نہیں ہے۔

عامل زکاۃ یعنی جو زکاۃ وصول کر کے لانے والے، زکاۃ کی حفاظت کرنے والے، اندراج کرنے والے اور انتظام کرنے والے لوگ ہیں، ان کی ماہانہ تنخواہوں میں زکاۃ کا مال خرچ کیا جاسکتا ہے۔

تالیف قلوب کے لیے اسلامی رفاہی کاموں میں زکاۃ فنڈ سے خرچ کیاجا ئے گا تاکہ نومسلموں کی دلجوئی ہو سکے اورغیر مسلم سوسائٹی کے لوگوں کے دلوں پر اچھا اثر پڑے اور اسلام کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے لیے ان کے دلوں میں رغبت پیدا ہو۔

زکاۃ کا مستحق وہ قرض دار بھی ہے جو اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے قرض دار ہوگيا اور اس پر قرض کا اتنا بوجھ ہوگيا جس کے چکانے سے وہ قاصر ہے۔ ایسے قرضدار کو زکاۃ دی جائےگی۔ بشرطیکہ وہ لوگوں کے مال میں باربار لاپرواہی نہ برتے۔ اور اس قرضدار کو بھی زکاۃ کا مال دیا جائےگا جس نے مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت کے لیے آپس میں مشورہ کر کے قرض لیا ہو۔ خواہ وہ بذات خود مالدار ہی کیوں نہ ہو۔

زکاۃ کے مال کے ذریعہ مسلما ن قیدیوں کو چھڑایاجاسکتا ہے ۔

شرعی جہاد کے لیے اگر شرعی حاکم کی طرف سے اعلان ہو تو ایسے جہاد میں شرکت کرنے والے مجاہدین کی زکاۃ کے مال سے مدد کی جاسکتی ہے۔

ایسے مسافر جوزادِ راہ لے کر سفر کر رہے تھے۔ لیکن اچانک کسی حادثہ کی وجہ سے وہ محتاج بن گئے تو انہیں بھی زکاۃ کے مال سے دیا جائےگا جس کے ذریعہ وہ اپنے گھر واپس جا سکیں۔

إن اللہ یأمرکم بالعدل والإحسان وإیتاء ذی القربی وینھاکم عن الفحشاء والمنکر، یعظکم لعکم تذکرون، واللہ یعلم ما تصنعون۔