زکاۃالفطراور صلاۃعید

تفصیل

اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے اختتام پر ہمارے لیے کچھ اہم عبادتیں مشروع قرار دی ہیں جن سے ایمان بڑھتا ہے عبادت پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے اور نعمت کا اتمام ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں: زکوۃ الفطراور صلاۃ عید۔ زکوۃ الفطر کو ہمارے لیے اس لیے مشروع قرار دیا ہے تاکہ یہ روزہ دار کے لیے گناہ اور بےہودہ کاموں سے پاکی کا ذریعہ بنے اور مسکینوں کے کھانے کا سامان بھی۔ اور اس کے کچھ شروط واحکام مقرر کیے ہیں۔ اور عید کی نماز مسلمانوں کی قوت ان کی وحدت کے اظہار کے لیے مشروع کیا ہے ۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له،ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ) [آل عمران: 102]

( يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ) [النساء: 1]

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا 70 يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ) [الأحزاب:70 - 71]

أما بعد! فإن أصدق الحدیث کتاب اللہ، وأحسن الھدی ھدی محمد -صلی اللہ علیہ وسلم-، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ فی النار۔

زکاۃ الفطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:

“إن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض زکاۃ الفطر صاعا من تمر، أوصاعا من شعیر،علی حر، أوعبد، ذکر أو أنثی، من المسلمین” (رواہ البخاری، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر علی العبد وغیرہ من المسلمین)

“فقہائے مسلمین کااس بات پر اتفاق ہے کہ رمضان کے روزے ختم ہونے کے بعد ہر مستطیع مسلمان پر زکاۃ الفطر واجب ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کےآزاد یا غلام، مرد یا عورت ہرایک پرکھجور یا جوکا ایک صاع صدقۃ الفطرواجب قرارد یا ہے۔”

محترم بھائیو! آپ اپنے نفس کا خود محاسبہ کیجئے کہ آپ نے اس مبارک مہینے میں کس حدتک عمل کیا؟ یہ مہینہ آپ کا ایک مہمان تھا جو ابھی ختم ہونےوالا ہے، جو قریب ہے کہ آپ سےرخصت ہوجائے،جو عنقریب آپ کے حق میں یا آپ کے خلاف اس بات کی گواہی دینے والا ہے کہ آپ نےاس میں کیا کچھ عمل کاذخیرہ کیا ہے۔ اللہ آپ پر رحم کرے! اب بھی اس کا جو حصہ باقی ہے، آپ جلدی اس میں توبہ واستغفار کرلیجئے، اور زیادہ سے زیادہ نیک عمل کر گزرئیے، اور صاحب عظمت وجلال کی طرف دست دعا پھیلا ئیے۔ شاید کہ آپ کی یہ کوشش اس کمی اورکوتاہی کی بھر پائی کردے، جوآپ سے سرزد ہوئے۔

ربِّ کریم نے ماہِ رمضان کے اختتام پر آپ کی بھلائی کے لیے کچھ عظیم عبادتیں مشروع کی ہیں، جنہیں انجام دینے پر آپ کا ایمان زیادہ ہوگا، آپ کی عبادتیں مکمل ہوں گی اور آپ کے رب کی نعمت پوری ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے زکاۃ الفطر مشروع فرمائی ہے، جسے صدقۃ الفطر بھی کہا جاتاہے، جس طرح ہر مستطیع پر زکاۃ واجب ہے۔ اسی طرح ہر مستطیع پر فطرہ بھی واجب ہے۔

(عن عبد اللہ بن عمر؛ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض زکاۃ الفطرۃ من رمضان علی کل نفس من المسلمین، حر أو عبد، رجل أو إمرأۃ، صغیر أو کبیر، صاعا من تمر أوصاعا من شعیر) (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر علی المسلمین من التمر والشعیر)

“حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کے روزے کے خاتمہ پر ہر مسلمان شخص پر، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت ، چھوٹا ہو یا بڑا ، کھجور یا جوکا ایک صاع زکاۃ الفطر واجب قرار دیا ہے۔

نیزاللہ تعالی نے ہمارے لیے روزے کے اختتام پر نماز عید بھی مشروع فرمائی ہے، تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس مبارک مہینے میں روزے رکھنے کی توفیق دینے پر اجتماعی طور سے شکریہ کی دورکعت نماز کھلے میدان میں جاکر ادا کریں، جس میں مردو عورت سبھی شامل ہوں۔”

عید کی نماز اگرچہ دیگر نمازوں کی طرح تکبیرورکوع وسجود کے ساتھ ادا کی جاتی ہے؛ لیکن اس میں کچھ تکبیرات زیادہ پڑھی جاتی ہیں۔ یعنی صحیح حدیث کے مطابق پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد دعائےثنا پڑھ کر سات(7) تکبیرات زوائد بھی پڑھی جاتی ہیں۔ اس کے بعد سورۂ فاتحہ اور دوسری سورہ کی قرأت ہوتی ہے۔ پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوکر پہلے پانچ (5) تکبیرات زوائد پڑھ کے، سورۂ فاتحہ ودیگر سورہ کی قرأت کی جاتی ہے۔ لیکن ایک بات ملحوظ رہےکہ عام نمازکی حالت قیام میں جب تکبیر پڑھی جاتی ہے تو اس میں صحیح حدیث کے مطابق رفع الیدین کرنا سنت ہے؛ لیکن عیدین کی مذکورہ تکبیرات زوائد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع الیدین کرنا ثابت نہیں۔

عید کا چاند نظر آتے ہی یاچاند نظر آنے کی تصدیق ہوتے ہی، کچھ مخصوص تکبیرات کاباربار پڑھنا بھی مشروع ہے، اور وہ تکبیرات یہ ہیں؛

“اللہ أکبر، اللہ أکبر، لا إلہ إلا اللہ، واللہ أکبر، اللہ أکبر وللہ الحمد۔ اللہ أکبر کبیرا، والحمد للہ کثیرا، وسبحان اللہ بکرۃ وأصیلا۔

جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ عید الفطر کے دن زکاۃ الفطر نکالنا ہر مستطیع پر واجب ہے، تو یہ بھی معلوم کر لیجئے کہ زکاۃ الفطر نکالنے میں اللہ تعالیٰ نے کیا حکمت رکھی ہے؟

پہلی حکمت تو یہ ہے کہ روزے دار کے روزوں میں لغو یا بیہودہ گوئی کی وجہ سے یا شرک کے علاوہ دیگر چھوٹے بڑے گناہوں کی وجہ سے اگر کوئی نقص رہ جائے تو یہ زکاۃ الفطر روزے دار کو ان گنا ہوں سے پاک کردیتی ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:

(عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: فرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زکاۃ الفطر طھرۃً للصائم من اللغو والرفث، وطعمۃً للمساکین۔ من أداھا قبل الصلاۃ فھی زکاۃ مقبولۃ۔ ومن أداھا بعد الصلاۃ فھی صدقۃ من الصدقات) (صحیح سنن أبی داؤد ،کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر رقم:1609)

“ابن عباس رضى الله عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ الفطر کو فرض قرار دیا ہے، روزے دار کو روزے میں اس کی لغو گوئی سے، یا شرک کے علاوہ دیگر چھو ٹے بڑے گناہوں سے پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھلا نےکے لیے۔ جو شخص اسے نماز سےقبل ادا کردےگا تو وہ مقبول زکاۃ ہے اورجو شخص اسےنماز کے بعدادا کرےگا تو وہ عام صدقات میں شمار ہوگی۔”

دوسری حکمت یہ ہے کہ اس زکاۃ الفطر کے ذریعہ فقرا ومساکین کی خیرخواہی ہوتی ہے۔ یہ زکاۃ الفطر اس لیے مشروع کی گئی ہے کہ مساکین پر شفقت کی جائے اور عید کے دن انہیں دست سوال دراز کرنے سے مستغنی کردیاجائے اور انہیں بھی عید کے دن کی خوشی میں شریک کیا جائے۔ چنانچہ زکاۃ الفطر سے ان کی پریشانی اور فقیری وغربت کے درد میں مدد ملتی ہے۔

وجوب زکاۃ کی شرطیں:

اسلام

زکاۃ الفطر کافر پرواجب نہیں ہے۔ اگر اس کے کچھ مسلم رشتہ دار ہوں جن کا نفقہ اس کافر پر واجب ہوتا ہے، تو بھی اس پر ان رشتہ داروں کی زکاۃ الفطر واجب نہیں ہوتی۔ کیونکہ زکاۃ اسلامی عبادت ہے، جوغیرمسلم پر واجب نہیں۔

آزادی

اصولاً مسلم غلام پرزکاۃ الفطر واجب ہے؛ لیکن اس وجوب کی ادائیگی اس پر واجب نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کے کمائے ہوئے مال کی ملکیت اس کے مالک کی ہوتی ہے۔ اور جب وہ غلام اپنے آقا کے تابع ہے، تو اس کی طرف سے زکاۃ الفطر کی ادائیگی اس کے آقاپر واجب ہوگی جس طرح بچہ پر زکاۃ الفطر واجب ہے۔ لیکن اس وجوب کی ادائیگی اس کےباپ پر ہوتی ہے۔

زکاۃ الفطر کی مالی صلاحیت:

یہ صلاحیت کسی کے لیے اس وقت ثابت ہوگی جب وہ عیدکی رات ودن کی ضروت سے زائد مال کا مالک ہو ۔اگر وہ اس قدر مال کا مالک ہے، تو اس پرزکاۃ الفطر کی ادائیگی واجب ہوگی؛ اگر چہ وہ فی نفسہ زکاۃ کا مستحق ہو۔ ایسے شخص کوچاہئے کہ وقت پرزکاۃ الفطر پوری ادا کرکے اسی وقت بیت المال سے اپنی ضرورت کے مطابق اناج حاصل کرلے۔

۳۔ زکاۃ الفطر کا وقت

رمضان کے آخری دن کے سورج غروب ہوتے ہی زکاۃ الفطرواجب ہوجاتی ہے۔ یعنی وہ ماہِ رمضان کے آخری دن کے افطار سے واجب ہوتی ہے۔ اور عید کی نماز شروع ہوتے ہی اس کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ زکاۃ الفطر کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا جائز نہیں ہے۔ جبکہ ایک دو دن پہلے نکالنا جائز ہے، اور جس نے نماز عید کے بعد نکالی وہ زکاۃ الفطر نہیں ہوگی؛ بلکہ وہ دیگر عام صدقہ کی طرح صدقہ ہوگا۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“من أداھا قبل الصلاۃ فھی زکاۃ مقبولۃ، ومن أداھا بعد الصلاۃ فھی صدقۃ من الصدقات” (صحیح سنن أبی داؤد، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر رقم:1609)

“ جوشخص زکاۃ الفطر ادا کرنے پر قادر ہے، وہ پہلے اپنی طرف سے نکالے، پھر ان لوگوں کی طر ف سے جن کا نفقہ اس پر واجب ہے۔ جیسے بیوی، بچہ خواہ وہ ایک ہی دن کا کیوں نہ ہو، ماں ، غلام اور خادم، جس پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے:”

“أخبرنا إبراھیم بن محمد عن جعفر بن محمد عن أبیہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض زکاۃ الفطر علی الحر والعبد والذکر والأنثی من تمئونہ؟” (مسند الشافعی، باب فرض زکاۃ الفطر علی الحر والعبد)

۴۔مقدار زکاۃ الفطر اور اس کے اجناس عصری وزن میں:

زکاۃ الفطر کی مقدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقرر کردہ ایک صاع نبوی ہے، جو عصری یعنی موجودہ زمانے کے رائج وزن سے تقریباً ڈھائی (2/1.2)کیلو گرام ہے (عملی موازنہ کے لیے راقم الحروف نے پانچ چھ عمدہ اوسط قسم کے اناج کو جیسےگندم، جو، چاول بلا چھلکا ، کھجور اور کشمش کو صاع مدنی میں بھر کر کیلو گرام سے وزن کیا تو کوئی اناج ڈھائی کیلوگرام سے:دس، بیس، پچاس یا سوگرام زیادہ ہوا اور کوئی دس، بیس یا سوگرام کم، جبکہ کوئی پوراڈھائی کیلوگرام بھی ہوا، اس لیے اوسطاً یاتقریباً ڈھائی کیلوگرام کی تعیین بہت معقول ومناسب سمجھی گئی۔ کویت کے کسی مجلہ یا کتا بچہ میں بھی ڈھائی کیلوگرام کے اوسط کو ترجیح دیا گیا ہے)

“عن عیاض بن عبد اللہ بن سعد بن أبی سرح أنہ سمع أبا سعید الخدری یقول: کنا نخرج زکاۃ الفطر صاعا من طعام أو صاعا من شعیر أو صاعا من تمر أو صاعا من أقط أوصاعا من زبیب” (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر علی المسلمین من التمر والشعیر)

“ عیاض بن عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم لوگ (یعنی صحابہ کرام ) زکاۃ الفطر نکالتے تھے (عہد نبوی میں) گندم یا جو یا کھجور یا پنیر یا کشمش کا ایک صاع۔”

زکاۃ الفطر قیمت میں ادا کرنے کا مسئلہ:

جمہور فقہاء نے زکاۃ الفطر کی قیمت نکالنے کو ناجائز قرار دیا ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دینار ودرہم کے سکے پائے جانے کے باوجود اور لوگوں کو نقدی کی ضرورت رہنے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محتاجوں کو عید کے دن کھانے کی چیز حاصل کرنے کے لیے محنت مزدوری میں لگنے سے مستغنی کرنے کی غرض سے کھانے کے قابل مذکورہ اجناس کی شکل میں زکاۃ الفطر واجب فرمائی تاکہ وہ لوگ اس دن اکتساب معاش سے بےفکر ہو کر اپنے عام مسلم بھائيوں کے ساتھ عید کی خوشی میں شامل ہوسکیں۔

اس کے برعکس فقہائے احناف نے زکاۃالفطر کے لیے نقدی قیمت نکالنے کو جائز قرار دیا ہے؛ تاکہ محتاج لوگ عید کے دن اپنی پسند کی ضروری چیزیں حاصل کرسکیں۔ البتہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر فقراء ومساکین کی حاجت ومصلحت کے پیش نظر زکاۃ فطر کی قیمت نکالی جائے تو کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ زکاۃ فطر کا مقصود فقراء ومساکین کی خیر خواہی کرنا اور ضرورت کی چیزیں مہیا کرنا اور انہیں عید کے دن خوشی میں شریک کرنا ہے۔ لیکن آپ خود غور کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فر مان کے مطابق عمل کرنا بہتر ہے؟ یا کسی شخصی مصلحت پر عمل کرنا بہترہے؟

اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کے لیے دو مبارک عیدیں مشروع کی ہیں، جن میں سے ہر ایک کسی عظیم عبادت کے پیچھے آتی ہے، اور یا اسلام کے ارکا ن میں سے کسی رکن کی ادائیگی کے بعد آتی ہے۔ ان دونوں عیدوں میں مسلمانوں کے لیے خوشحالی، خیرات وبرکات اور بہت سارے فوائد ہیں، اور سا تھ ہی یہ جاہلیت کی عیدوں کا بد ل بھی ہیں۔

“حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں غیرمسلموں کے دو ایسے دن تھے جن میں وہ لوگ کھیل تماشہ کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیاکہ یہ کس قسم کے دن ہیں؟ اسلام قبول کیے ہوئے صحابۂ کرام نے جواب دیاکہ ہم جاہلیت کے زمانے میں ان دنوں میں کھیلا کرتے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے ان کے بدلے جو دو عیدیں تمہیں دی ہیں، وہ ان دونوں سے بہتر ہیں۔ یعنی عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کے دو دن۔” (صحیح سنن أبی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب تفریع أبواب الجمعۃ، باب صلاۃ العیدین رقم:1134، وصحیح سنن نسائي، کتاب صلاۃ العیدین رقم: 1556)

آسمانی شریعت والی اُمتوں کو اللہ کی قربت اور حصول ثواب کے لیے اللہ تعالیٰ نے شرعی عیدیں عطا کیں ہیں۔ لیکن کافر امتوں کے لیے ایسی عیدیں مقدر کیں، جس سے ان کی گمراہی وعذاب میں اضافہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں عیدیں؛ صرف عید الفطر، عیدالاضحیٰ اور عید الجمعہ ہیں۔ ان کے علاوہ ساری عیدیں جاہلیت وگمراہی ہیں، جو انسان کو اللہ سےدوری میں اضافہ کرتی ہیں، جیسے عید المیلاد وغیرہ۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ) [آل عمران: 102]

( يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ) [النساء: 1]

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا 70 يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ) [الأحزاب:70 - 71]

أما بعد فإن أصدق الحدیث کتاب اللہ، وأحسن الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ فی النار۔

محترم بھائیو! اسلامی عید، بےشمار خوبیوں اور فوائد وحقائق پر مشتمل ہے۔ یہ عید اسلام کے صاف ستھرے عقیدہ پر مشتمل ہے، جو انسان کے لیے ایک عظیم نعمت ہے، جسے اللہ کی تعظیم، تکبیر اور تعریف کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ نیزاس شہادت کے ذریعہ کہ وہی سچا معبود ہے، جس کا مسلمان تقرّب حاصل کرتا ہے، اوراس کا تقرّب بذریعہ دعا، امید، استعانت اور اس کی تمام قسم کی عبادت کے ذریعہ حاصل کرتا ہے، وہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا ) [الجن: 18]

”اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔”

یعنی اس کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔ نیز اس شہادت کے ذریعہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ آپ کو رسول ماننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی جائے، اس چیز کو ترک کردیا جائے جس سے آپ نےمنع فرمایا ہے، اس بات کو سچ مانا جائے جس کی آپ نے خبردی ہے اور اللہ کی عبادت آپ کی شریعت کے مطابق انجام دی جائے۔

اسلامی عیداللہ کی عبادت، اللہ کے سامنے اپنی خاکساری وعاجزی کے اظہار اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر مشتمل ہوتی ہے۔ چنانچہ عید کی نماز میں یہ ساری چیزیں شامل ہیں۔

اسلامی عید میں اسلامی تشریع کا بیان بھی شامل ہے۔ اور وہ اس طرح کہ اس میں عید کے آداب اور نماز عید کی ادائیگی کے طریقے بیان کیے جاتے ہیں۔ پھر اس کے خطبے میں اسلام کے ضروری احکام بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ اسلامی عید میں اخلاق کی تہذیب اور سلوک کی استقامت کی تلقین کی جاتی ہے۔ اور وہ اس طرح کہ عید میں صبر، تحمل اور بردباری اپنا نے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس دن صلہ رحمی، عفو ودرگزر اور دلوں کو بغض وحسد اور کینوں سے پاک کرنے کی بھی ترغیب دی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ خوشی اور اسلامی بھائی چارہ کا دن ہے۔

اسلامی عید مسلمانوں کےدرمیان بھائی چارے کے تعلقات اور اجتماعی ذمہ داری کے شعور کو بھی بیدار کرتی ہے۔ اور زکاۃالفطر ادا کرنے کی تاکید کرتی ہے:

“عن ابن عمر قال: فرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زکاۃ الفطر وقال: أغنوھم فی ھذا الیوم”

“ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃالفطر کو واجب قرار دیا اور فرمایا: کہ “اس دن تم فقراء ومساکین کو اکتساب معاش سے مستغنی کردو۔”(سنن دارقطنی، باب زکاۃ الفطر، حدیث نمبر:2157)

اللہ تعالیٰ نے صیام رمضان کے ایام کی تکمیل پر ہمارے لیے تکبیر مشروع فرمائی ہے:

( وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ) [البقرة: 185]

“ وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔”

نماز عید سنت مؤکدہ ہے۔ اس کے لیے مرد وعورت سب کو میدان میں جاکر باجماعت دورکعت نماز پڑھنے اور خطبہ سننے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے:

“عن أم عطیۃ قالت: أمرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أن نخرج فی الفطر والأضحی العواتق والحیض وذوات الخدور، فأما الحیض فیعتزلن الصلاۃ ویشھدن الخیر، ودعوۃ المسلمین، قلت: یا رسول اللہ! إحدانا لایکون لھا جلباب، قال: لتلبسھا أختھا من جلبابھا” (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ العیدین، باب إباحۃ خروج النساء فی العیدین إلی المصلی)

“ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم عید الفطر اورعید الاضحیٰ کے مصلی میں جوان لڑکیوں، ماہواری والی اور پردے والی عورتوں کوبھی لے جائیں۔ لیکن ماہواری والی عورتیں مصلیٰ میں نماز سے الگ رہیں۔ وہ صرف ثواب کے کام میں اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک رہیں۔(ام عطیہ کا کہنا ہے کہ) میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم میں سے جس کے پاس جلباب (سرسے پاؤں تک ڈ ھانکنے والی چادر ) نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی بہن یا سہیلی کو چاہئے کہ اسے (پہلومیں لے کر ) اپنے جلباب کا کچھ حصہ پہنا دے۔”

مسلمان بھائيو اور بہنو! آپ مرد وعورت، بڑے اور چھوٹے، اللہ کی عبادت کے لیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، اپنی اور مسلمانوں کی بھلائی وخیر چاہتے ہوئے عید کی نماز کے لیے میدان میں نکلیں۔ عید کے مصلیٰ میں ربِّ کریم کی طرف سے آپ بہت کچھ بھلائیاں وانعامات حاصل کر سکتے ہیں، اور آپ کی اچھی دعائيں قبول ہوسکتی ہیں۔

آپ عید کے لیے صاف ستھرا ہوکر، خوشبو لگا کر اور اچھے لباس زیب تن فرما کر نکلیں۔ البتہ مرد ریشم یا سونے کی کوئی چیز نہ پہنیں۔ کیونکہ دنیا میں یہ مردوں کے لیے حرام ہے۔ اور عورتیں اپنے مشروع وضروری لباس پہن کر خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔

عید الفطر کے دن سنت یہ ہے کہ نماز عید کے لیے نکلنے سے قبل طاق عدد میں کچھ کھجوریں کھالیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اگر کھجور میسر نہ ہو، تو کوئی میٹھی چیز یا پکوان کھا کر جا سکتے ہیں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن صبح جب تک چند کھجوریں تناول نہ فرمالیتے نہ نکلتے۔”

ایک اور روایت میں ہے کہ وہ کھجوریں طاق عدد میں کھاتے تھے۔”(البخاری، کتاب العیدین، باب الأکل یوم الفطر قبل الخروج)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآَخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ) [الأحزاب: 21]

”یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔”

بھائیو! عیدین کی سنتوں میں سے یہ بھی ایک سنت ہے کہ جس راستے سے آپ عید گاہ جائیں، ممکن ہو تو آپ اس کے علاوہ دوسرے راستے سے گھر واپس آئيں۔

“عن جابر قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا کان یوم عید خالف الطریق” (صحیح البخاری، کتاب العیدین، باب من خالف الطریق إذا رجع یوم العید)

اگر کسی کی نماز عید فوت ہوجائے تو مع تکبیرات زوائد اس کی قضا کرلے۔ اسی طرح عورتیں بھی اور وہ لوگ جوتاخیر کی وجہ سے گھر سے نکل ہی نہ پائے ہوں، وہ باجماعت عید کی قضا کرلیں۔ (صحیح بخاری، باب إذا فاتہ العید)