دعا؛ اہمیت ، آداب اور قبولیت کی شرطیں

تفصیل

مخلوق جلبِ منفعت اور اپنے دین ودنیا کی اصلاح کے لیے اپنے رب کی محتاج ہے۔ بندہ ان آزمائشوں سے جو اس پر نازل ہوتی ہیں اور جو اسے ہمیشہ کے لیے اپنے رب کا محتاج بناتی ہیں بچ نہیں سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ نے اس کے لیے دعا کرنے کو مشروع قرار دیا ہے۔ اور اس کے لیے آداب وشروط اور مستحب اوقات مقرر کر دیے ہیں۔ ان وقتوں میں دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔

الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی أمابعد!

معزز برادرانِ اسلام!

انسان جب رحم مادر میں نطفہ کی شکل میں قرار پاتا ہے اسی وقت سے وہ حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی ضرورتوں اور حاجتوں کا یہ لامتناہی سلسلہ اس کی زندگی کی آخری سانس تک ختم نہیں ہوتا۔ وہ مرنے کے بعد بھی دوسروں کا محتاج ہوتاہے۔ اس کی محتاجی اور ضرورت مندی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ویسے تو انسان دنیا میں آنے کے بعد قدم قدم پر اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کا بھی ضرورت مند ہوتا ہے؛ لیکن سب سے زیادہ ضرورت مندوہ اپنے خالق حقیقی کا ہوتا ہے۔ زندگی میں اسے بےشمار ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں کوئی دوسرا انسان اس کی ذرا بھی مدد نہیں کرسکتا۔ دنیا کے سارے وسائل وذرائع جواب دے جاتے ہیں۔ اپنے بھی بےگانے ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں جو ہمیشہ اور ہر حال میں نصرت وامداد کا، متاع زیست لٹانے کا اور ضرورت پڑنے پر جان تک نچھا ور کردینے کا دم بھرتے رہتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر انسانی زندگی میں ایسا وقت بھی آتا ہے جب بقول شاعر ؎

وقت انسان پہ ایسا بھی کبھی آتاہے

راہ میں چھوڑ کے سایہ بھی چلاجاتا ہے

ایسے میں اس کی امیدوں کا چراغ، تمناؤں کی کرن، آرزؤوں کا محل، آشاؤوں کی جو تی صرف ایک رہ جاتی ہے اور وہ ہوتی ہے ربِّ کائنات کی ذات کریم۔ ہاں وہی ذات باقی رہ جاتی ہے جو انسان کو کبھی تنہا اور بےسہارا نہیں چھوڑتی۔ پوری دنیا سے مایوس ہوکر جب کوئی بےچارہ، بےبس، لاچار، مجبور ومقہور، ستم رسیدہ اور کمزور ولاغربندہ اسے پکارتا ہے تو وہ ذات فوراً اس کی چارہ جوئی کرتی ہے، اس کے دکھوں کا مداواکرتی ہے۔ اس کے غموں کو ہلکا کرتی ہے، وہ جو کچھ مانگتا ہے دیتی ہے اور جو آرزو کرتا ہے پوری کرتی ہے۔ بےشک وہ ذات ہے ربِّ کائنات کی، وہ ذات ہے وحدہٗ لاشریک کی، جو ہر حال میں، ہر وقت اپنے بندوں کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے اور ستم رسیدہ افراد کی فریاد سنتی ہے اور اسے پورا بھی کرتی ہے۔ وہ ذات ہے ہی ایسی جس کے درِ اقدس سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ بس اسے پکار کردیکھ تولو!

سامعین کرام! دنیا کی تمام مخلوقات خواہ وہ جاندار ہوں یا بےجان، زبان رکھتی ہوں یا بےزبان ہوں، اپنے تمام معاملات میں اپنے رب کی محتاج ہوتی ہیں۔ فوائد کے حصول میں، مصائب وآلام سے نجات پانے میں، اپنے دین وایمان کی اصلاح اور اپنی دنیا کی بہتری کے لیے، الغرض ہر ایک معاملہ میں تمام مخلوقات اپنے ربِّ کریم کی سراپا محتاج ہوتی ہیں۔ اور اپنی محتا جگی میں، اپنی ضرورت خیزی میں، اپنی حاجت مندی میں جب کوئی مخلوق اپنے رب کو پکارتی ہے تو در حقیقت وہ اپنی عبدیت کا اظہار کرتی ہے اوریہی عبدیت کا اظہار انسانیت کی معراج ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کو بہت پسند فرماتا ہےکہ اس کے بندے اسی سے اپنی حاجات وضروریات کی تکمیل کا سامان مانگیں۔ رب کریم خود کہتا ہے:

( وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ) [غافر: 60]

”اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہو چکا ) ہے مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔”

حضرات گرامی!یہ مقام عبرت اور مقام سبق آموزی ہے۔ ذرا غور کرو اور سمجھو کہ ربِّ کائنات جو کسی کا محتاج نہیں، جسے کسی کی کوئی ضرورت وحاجت نہیں، خود وہ کہہ رہا ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا کو قبولیت کا تاج پہناؤں گا۔ جو مانگوگے دوں گا؛ کیوں کہ میرے خزانہ میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اگر پوری دنیا کی بادشاہت بھی مانگوگے، جب بھی عطا کردوں گا، میرے خزانے میں اس سے کوئی کمی نہیں آئےگی۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ پوری دنیا میری نظر میں ایک پر کی بھی تو حیثیت نہیں رکھتی، تم مانگ کر تو دیکھو، جھولی پھیلاؤ تو سہی!

دوستو! ذراغور کرو۔ کوئی بات تم بھی کہتے ہو، ہم بھی کہتے ہیں، ساری دنیا کہتی ہے؛ لیکن ہمارے اور ربِّ کائنات کے کہنے میں فرق ہوتا ہے۔ آسمان وزمین کا فرق ہوتا ہے۔ ہم آپ جو بات کہتے ہیں وہ پوری ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی ہے۔ ہماری بات حقیقت بھی ہو سکتی ہے اور مذاق بھی؛ لیکن ربِّ کائنات جو بات کہتا ہے وہ وعدہ ہوتی ہے اور رب کا وعدہ سچا ہی ہوتا ہے، کبھی جھوٹا نہیں ہوتا اور ہو بھی نہیں سکتا۔ اب دیکھو، رب کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے: مجھ سے دعا مانگو، میں قبول کروں گا۔ نامراد نہیں کروں گا بلکہ بامراد بنادوں گا۔

سبحان اللہ! یہ وہی ربِّ کائنات وعدہ کرتا ہے جسے کسی چیز کو انجام دینے کے لیے صرف “ہوجا” کے الفاظ کہنے پڑتے ہیں اور وہ چیز معرضِ وجود میں آجاتی ہے۔ چاہے وہ کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو؟

ایک حدیث قدسی میں،حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اللہ تعالی ٰ فرماتا ہے:

“اے میرے بندو!میں نے خود پر ظلم کو حرام قراردے لیا ہے، اور اسے تمہارے لیے بھی حرام ٹھہرادیا ہے، لہذا ایک دوسرے پر ظلم وستم نہ کرو۔ اے میرے بندو!ہر ایک گمراہ ہے، مگر جسے میں ہدایت عطا کردوں، لہذا مجھ سے ہدایت طلب کرو۔ میں تمہیں ہدایت سے نوازوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب لوگ بھوکے رہوگے اگر میں نہ کھلاؤں، لہذا تم مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب لوگ ننگے رہو گے اگر میں تمہیں نہ پہناؤں، لہذا مجھ سے پہناوے مانگو، میں تمہیں پہناوے عطا کروں گا۔ اے میرے بندو!تم سب رات دن گناہ کرتے رہتے ہو، اور میں تمام گناہوں کو بخش سکتا ہوں، لہذا تم مجھ سے اپنے گنا ہوں کی بخشش مانگو، میں تمہیں بخش دوں گا۔

حدیث کے آخر میں ربِّ کریم فرماتا ہے:

اے میرے بندو!جنات وانسان کے اوّلین وآخرین ایک ہی جگہ جمع ہو کر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کردوں تو بھی میرے خزانے میں اتنی بھی کمی نہیں آئےگی جتنی کمی سمندر میں سوئی ڈبو کر اٹھا لینے سے واقع ہوتی ہے۔”(صحیح الترغیب والترھیب: جلد دوم صفحہ نمبر 274، حدیث نمبر : 1625)

دوستان وبزرگان دین وملت ! میں نے آپ حضرات کے سامنے جو آیت کریمہ پڑھی ہے اور جو حدیث پاک بیان کی ہے اس جیسی بہت سی آیات اور بہت سی احادیث ایسی ہیں جن سے دعا کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ اب آئیے ! میں آپ کو بتادوں کہ دعا کی حقیقت وماہیت کیا ہے؟

دعا دنیوی اور اخروی حاجات وضروریات کی تکمیل کا زینہ ہے۔

دعا غموں اور مصیبتوں کو دور کرنے کا عظیم ترین ذریعہ ووسیلہ ہے۔

دعاعبدیت وعبودیت کی تکمیل کا اشارہ ہے۔

دعااللہ سے تعلقات استوار کراتی ہے۔

دعااخلاصِ عمل کی رغبت وخواہش بڑھاتی ہے۔

دعااحساس دلاتی ہے رب کی قدرت کا اور بندے کی عاجزی کا۔

دعاآدابِ حیات سکھاتی اور انہیں دل کے نہاں خانوں ميں پیوست کرتی ہے۔

دعا مومنوں ، مسلمانوں کا اچوک ہتھیار ہے۔

دعاعبادت ہے اور عبادت ذریعہ ہے خوشنودی ِ رب کے حصول کا۔

دعازندگی کی زینت وآرائش ہے جو سجاتی ہے امیدوں کا گلشن۔

دعا فضائل وبرکات کے حصول کا وہ ذریعہ ہے جو تقدیر بھی بدل ڈالتا ہے۔

دعا زندگی کا وہ گل سر سبز ہے جو پو رے گلشن حیات کو معطر رکھتا ہے ۔

دعااحساس بندگی کی وہ معراج ہے جس کے اوپر کوئی معراج نہیں۔

دعاخالق ومخلوق کے درمیان کا وہ پل ہے جو خالق سے مخلوق کو سید ھا جوڑ دیتا ہے۔

دعا سرگوشی ہے جو ربِّ کائنا ت سے کی جاتی ہے۔

دعا قربت الہٰی کا وہ وسیلہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی دوسرا وسیلہ نہیں۔

دعا ربِّ کا ئنات کو محبوب ہے اور یہ ایسی فضیلت ہے جو کسی عبادت کو بھی حاصل نہیں ۔

دعاکے فضائل:

دوستو ! اب اس کی فضیلتوں کی گلشن نما محفل میں آئیے اور سنئے۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرما تے ہیں کہ رسولِ گرامی قدر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :دعا عبادت ہے۔”(ترمذی، أبو داود)

“حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دنیا کی کوئی بھی شے اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ برتر وعزیز تر نہیں۔ (صحیح الترغیب والترھیب: 1629)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ارشاد فر ماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکا رتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ (صحیح الترغیب والترھیب حدیث:1626)

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:روئے زمین پر کوئی بھی مسلمان اللہ سے کوئی دعا کرے تو اللہ اس کی دعا ضرور قبول کرتا ہے۔ یا تو اس کی مانگی ہوئی مراد فوری طور پر اسے مل جا تی ہے یا دعاء کے بقدر اس کی مصیبت ٹال دی جاتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کی دعا گناہ یا قطع رحمی پر مبنی نہ ہو۔ (حوالہ مذکور حدیث:1631)

دعا صرف اللہ سے کیجئے:

میرے محترم ومکرم بھائیو! یہ رہے دعا کے فضائل وبرکات کے سمندر کے محض چند قطرے۔ حقیقت تویہ ہے کہ اگر دعا کے فضائل وبرکات کو ایک ایک کر شمار کیاجائے تو دفتر چاہئے۔ ہم نے صرف یہ اشارہ کر دیا ہے کہ دعا واقعی انتہا ئی فضیلت واہمیت کی حامل عبادت ہے۔اب یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ دعا کس سے کی جائے؟ کیسے کی جا ؟ کن اوقات اور کن گھڑیوں میں کی جائے ؟ کن وسائل کے ذریعہ اور کن آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کی جائے؟

محترم دوستو!جہاں تک سوال ہے کہ دعا کس سے کی جائے؟ تو خود اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک کے اندر متعدد ومختلف مقامات پر مختلف انداز میں اس کا جواب دیا ہے۔ اگر اس نے ایک طرف( وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا) [الجن: 18]

“بیشک مسجدیں اللہ ھی کے لیے ہیں پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو”

فرما کردعا کا رخ صرف اپنی جانب موڑلیا ہے تو دوسری طرف

( وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آَخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِنْدَ رَبِّهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ ) [المؤمنون: 117]

“جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوýئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب پاس ہے، بے شک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں”

فرما کر دعا کے تمام شرکیہ دروازوں کو پوری طرح بند فرما دیا ہے۔ اگر اس نے ایک جگہ

( وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ) [يونس: 106]

“اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت نہ کرنا جو تم کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر” ارشاد فرماکر بتوں اور پتھروں سے مانگنا منع فرمایا ہے تو دوسری جگہ (وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ ٤٠ قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا ) [سبأ:40 - 41] “اور ان سب کو اللہ اس دن جمع کر کے فرشتوں سے دریافت فرما گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے، وہ کہیں گے تیری ذات پاک ہے اور ہمارا ولی تو تو ہے۔” فر ماکر یہ بالکل واضح کردیا ہے کہ دعا صرف ایک اللہ وحدہ ٗ لاشریک سے کی جائےگی۔ کیوں کہ وہی ہے داتا جس کے سوا کوئی داتا نہیں۔ وہی ہے عطا وبخشش کا منبع وسرچشمہ جس کے سوا کوئی اور نہیں جو کسی کو کچھ دے سکے۔

حضرات!دعا صرف ربِّ کا ئنات سے کیجئے ربِّ کا ئنات کے سوا کوئی مقرب فرشتہ ، خدا کا کوئی نبی ورسول اور نہ ولی اور نہ پیر فقیر آپ کو کچھ دے سکتا ہے اور نہ آپ کی بلاؤں کو ٹال سکتا ہے۔ کیوں کہ ایسا کرنے کا اختیار صرف کائنات کے رب کو ہے اور بس۔

کہاں ہیں وہ لوگ جو خالق کو چھوڑ کر مخلوق کو پکارتے ہیں؟

کہاں ہیں وہ لوگ جو کسی نبی کو پکار کر خوش ہوتے ہیں ؟

کہاں ہیں وہ لوگ جوکسی فرشتے کو پکا رکر اپنی مراد پانے کی آشا کرتے ہیں؟

کہاں ہیں وہ لوگ جو اولیاء اورصالحین میں اللہ کا جلوہ دیکھنے اور عوام کو دکھانے کے سوسو جتن کرتے ہیں ؟

کہاں ہیں وہ لوگ جو جنات کو پکار کر خوش ہولیا کرتے ہیں؟

کہاں ہیں وہ لوگ جواہل قبور سے اپنی مراد یں مانگتے ہیں؟

کہاں ہیں وہ لوگ جو خود ساختہ اقطاب وابدال سے اپنی مرادیں مانگتے ہیں ؟

کہاں ہیں وہ لوگ جو پیروں اور فقیر وں کو اپنا ملجا وماوی بنائے ہوئے ہیں؟

کہاں ہیں وہ لوگ جو مجذوبوں اور باباؤں کو اپنا مشکل کشا اور حاجت روابنائےبیٹھے ہیں؟

آؤ!اور دیکھوان آیات کو، آؤ اورسمجھو ان آیات کو، آؤ اور تدبر وتفکر کرو ان آیات ربانیہ میں اور ذرا ایمان سے بتاؤ کہ کیا تمہارا اللہ کو چھوڑ کرنبیوں اور ولیوں کو پکارنا شرک نہیں ہے؟ کیا تمہارا ابدال واقطاب سے اپنی مراد یں مانگنا شرک جلی نہیں ہے؟ ہاں ہے، یاد رکھو کہ یہ تمہارےسارے کرتوت خدائی فرمان کے خلاف ہیں۔ خدرا ان سے باز آؤ اور اپنی ہر ضرورت کی چیز اللہ سے مانگو کیوں کہ تمہاری مرادیں صرف وہی پوری کرسکتا ہے، کوئی اور نہیں، کوئی اور نہیں!

قبولیت دعا کی شرطیں:

بزرگانِ دین وشریعت! آج کے خطبۂ جمعہ کے پہلے وقفے میں میں نے دعا کی اہمیت، مشروعیت، حقیقت، فضائل اور دعا کس سے کی جائے؟ جیسے موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔ اس وقفے میں میری گفتگو کا موضوع ہوگا؛ دعا کی قبولیت کی شرطیں کیا ہیں۔

عزیزانِ قوم وملت! آپ کو بھی بہت سے ایسے لوگوں سے پالا پڑا ہوگاجو دعا کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ بات کہتے ہوئے آپ نے بہتوں کو سنا ہوگا کہ دعا سے کیا ہوتا ہے؟میں نے بھی اپنی زندگی میں بےشمار دعائيں کیں۔ لیکن ان میں سے ایک بھی دعا قبول نہیں ہوئی یہ اور اس طرح کی دوسری بےشمار باتیں کی جاتی ہیں۔ یہ بہکی بہکی باتیں خصوصاً آج کے زمانے میں ہر چوک اورچورا ہے پر سنی جاسکتی ہیں۔

لیکن میرے دوستو!حقیقت یہ ہے کہ ایسی بےہودہ باتیں جو لوگ کرتے ہیں، انہوں نے دراصل دعا کے آداب واصول کو جانا ہی نہیں۔ جس طرح دنیا کی ہر چیز اصول وضوابط کے بندھن میں بندھی ہوئی ہے، اسی طرح دعا بھی ایک عظیم شے ہے اور وہ بھی اپنے جلو میں کچھ آداب واصول وضوابط رکھتی ہے۔ میں آپ کو بتا نا چاہوں گا کہ دعا کی قبولیت کے آداب اور شرائط کیا ہیں:

پہلی چیز :

اس ضمن کی پہلی چیز یہ ہے کہ آپ مناسب اوقات میں دعا کریں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دعا کے مناسب اوقات کون سے ہیں؟ جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں حاضر ہے:

دعا کے مناسب وموزوں اوقات:

آپ سجدوں میں دعا کرنے کی عادت ڈالیں کیوں کو بندہ سجدہ کی حالت میں اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہو تا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعا ً بیان کرتے ہیں کہ رسول گرامی قدر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ لہذا سجدوں میں کثرت سے دعا کیا کرو۔"(مسلم)

دوسری حدیث پاک رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ لہذا رکوع میں اپنے رب کی کبریائی اور عظمت بیان کرو اور سجدوں میں کثرت سے دعائیں کرو۔ کیوں کہ سجدوں کی حالت میں کی جانے والی دعائيں جلد قبول ہوتی ہیں۔" (مسلم)

اذان اور اقامت صلوۃ کے درمیان کا وقت قبولیتِ دعا کا خاص اور موزوں وقت ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں جلد قبول فرماتا ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعا رد نہیں کی جا تی۔" (ترمذی)

جمعہ کے دن میں اللہ تعالی ٰ نے ایک ایسی گھڑی رکھی ہے جس میں کی جانے والی کوئی بھی دعا قبولیت سے سرفراز ضرور ہوا کرتی ہے۔ اس گھڑی میں کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی۔ بخاری ومسلم کی متفق علیہ روایت میں آیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کے فضائل کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسا پل اور ایک ایسا لمحہ ہے کہ جس بندے کی دعا اس لمحے سے ٹکرائی یعنی اس گھڑی میں جس بندے کی زبان سے دعا نکلی اللہ تعالیٰ اسے ضرور شرفِ قبولیت سے نوازتا ہے۔

وہ گھڑی کون سی ہے؟ اس سلسلے میں علماء کا اختلاف ہے۔ سب سے زیادہ صحیح بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ وہ گھڑی جمعہ کے دن عصر کے بعد ہوتی ہے اور اس کی دلیل ابو داؤد کی وہ حدیث ہے جس میں کہا گيا ہے کہ جمعہ کے دن کی گھڑیوں میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں بندہ اللہ سے جو کچھ مانگتا ہے پا لیتا ہے، اسے عصر کے بعد والی گھڑی میں تلاش کرو۔

قبولیتِ دعا کے مقامات خاصہ:

چلتے چلتے ان مقامات کا ذکر کردینا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ کچھ خاص مقامات ایسے بھی ہیں، جہاں کی جانے والی دعائيں ضرورقبولیت کا تاج پہنتی ہیں۔ شریعت کی نظر میں پہلی جگہ وہ ہے جہاں پر آپ شب قدر کے دوران ہوں۔ اسی طرح عرفہ کے میدان میں کی جانے والی دعا ئيں بھی قبول کرلی جاتی ہیں۔ حجر اسود کے پاس، بارش کے نزول کے وقت چاہے آپ جہاں کہیں بھی ہوں، اسی طرح فرض نما زوں کے بعد کی جانے والی دعائيں بھی شرف قبولیت سے نوازی جاتی ہیں۔

قبولیت دعا کی شرطیں:

عزیزان گرامی!جس طرح پھولوں کے بغیر گلستاں میں رونق نہیں آسکتی ، جس طرح سورج کی کرنوں کے بغیر دھرتی پہ اُجالا پھیلنا ناممکن ہے، جس طرح آسمان تاروں کے بغیر بےزیب وزینت لگتا ہے، اسی طرح اگر آپ کی دعائيں اخلاص کے زیور سے آراستہ وپیراستہ نہ ہوں، اگر آپ کے جسم میں حرام کا دانہ پانی جا تا ہو، آپ کا لباس حرام رقم سے خریدا گيا ہو، اگر آپ کی دعا ئيں حضورِ قلب اور قوت آرزوئے قبولیت سے خالی خولی ہوں، اگر آپ کی دعائیں حمد وثنائے خداوندی کی شمیم عطربیز میں گھلی ہوی نہ ہوں، تویقین جانئے، آپ کی تمام دعائيں صدا بصحرا ثا بت ہوں گی۔ وہ دعا ئیں جو ان اوصاف سے خالی ہوں، یقین مانئے، عرش ربِّ ذوالجلال تک پہنچنا تو درکنار،آپ کے سر کے اوپر بھی نہیں جاسکتیں۔ آپ دعائیں کرتے جا ئيں گے اور سنی نہیں جائیں گی۔ آپ گڑگڑائیں گے، لیکن مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئےگا۔ پھر شکایت آپ ہی کو ہوگی کہ میں دعائیں کرتا ہوں، لیکن میری دعائيں سنی نہیں جا تیں۔ میں روتا ہوں، لیکن میرے آنسو کام نہیں آتے۔ میں اللہ کو پکارتا ہوں، لیکن اللہ میری پکار نہیں سنتا۔ اسی لیے میں آپ سے کہتا ہوں کے پہلے خود کو ان اوصاف سے متصف کیجئے پھر دعا کیجئے ورنہ ؎

آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں

ہم عرض کریں گےتو شکا یت ہو گی

میرے دوستو! پہلے اپنے دل کو اخلاص عمل اور اخلاص نیت کی ضیا سے منور کیجئے، خلوص وصفا کی جوت اپنے من مندر میں جگائیے۔ کیوں کہ اس کے بغیر دعا ئيں مجنوں کی بڑ، دیوانوں کے خواب اور مجذوب کی بےہنگام باتوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ دیکھئے، ربِّ کائنات خود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:

( فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ) [غافر: 14]

”تم اللہ کوپکارتےرہواسکےلیےدین کوخالص کرکےگوکافربرامانیں۔”

یعنی اگر دعا کی قبولیت کا مزا چکھنا ہے، دعا کی قبو لیت کی بھینی بھینی خوشبو سے اپنی حیاتِ مستعار کے مشامِ جاں کو معطر کرنا ہے، تو پہلے توحید کو اللہ کے لیے خالص کرلو، ہر آمیزش سے بالکل پاک اور شدھ، ورنہ دعا ئيں کرتے جاؤگے اور میں ان سنی کرتا جاؤ ں گا۔

اور دیکھئے، یہ حدیث قدسی جس میں ربِّ کائنات اپنے بندوں کو اخلاص کی شمع لیے اپنے پاس آنے کی دعوت دے رہا ہے وہ کہہ رہا ہے:

اے ابن آدم اگر تم زمین بھر گناہوں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے اور اخلاص کے ساتھ مجھ سے معافی چاہوگے تو میں بھی زمین بھر مغفرت کے ساتھ تم سے ملوں گا لیکن شرط یہ ہے کہ تم نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو۔

دوستو!اگر تمہارا کھانا پینا حرام کا ہو، تمہارا پہنناحرام کا ہو اور تمہارے جسم کا گوشت اور اعضاء حرام کمائی کھا کھا کر فربہ ہوں، پلے بڑھے ہوں تو پھر اپنی دعاؤں کی قبولیت کی امید وآرزونہ کرو۔ کیوں کہ رسولِ عرب وعجم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا ہے کہ لوگو!اللہ تعالی ٰ خود پاکیزہ ہے اور پاکیزہ اشیا ء کو ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے تمام مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے اپنے انبیاء ورسل کو دیا تھا۔ یعنی ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ) [البقرة: 172]

”اےایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو۔”

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کوئی آدمی لمبے سفر پرروانہ ہوتا ہے اور اس کے بال پراگندہ اور قدم گرد آلود ہوتے ہیں، وہ اسی حال میں آسمان کی طرف ہاتھوں کو اٹھا کر گڑگڑاتا ہے:اے میرے رب! اے میرے رب!حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کے جسم میں جانے والی غذائیں حرام کی، پھر بھلا اس کی دعا ئیں قبول ہوں بھی تو کس بنا پر؟ (صحیح مسلم )

لہذا میرے بزرگو اور دوستو!حرام کھانے سے بچو۔ کیوں کہ یہ حرام کا کھانادعاؤ ں کو بےاثر بنا دیتا ہے۔ اور اسی وجہ سے لب پہ یہ بات آجاتی ہے کہ ؎

آہ کو چاہئےاک عمراثر ہونے تک

کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

حضورِ قلب وذہن:

عزیزانِ ملت بیضاء!آپ اللہ سے دعائيں کررہے ہیں؛ لیکن آپ کا دل کہیں اور ہے۔ یعنی غافل دل سے دعائیں کررہے ہیں۔ایسے میں آپ کا اپنی دعا ؤ ں کے قبول ہونے کی امید رکھنا کارِعبث ہے۔ دعا مانگتے ہوئے آپ کی حالت ایسی ہونی چاہئے کہ ؎

گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار

لیکن تمہاری یاد سے غا فل نہیں رہا

یعنی جب بھی آپ دعا کریں تو دل کے حضور کے ساتھ کریں اور آپ کے دل میں یہ یقین کامل ہوکہ میری دعا ضرور قبول کی جائےگی۔ دیکھئے یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم ارشاد فرما رہے ہیں: “قبولیت کے یقین کامل کی ضیا اپنے دل میں لیے دعا کرو۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ دلِ غافل کی دعا قبول نہیں کرتا۔” ( ترمذی)

ثنائےباری تعالیٰ اور درودبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم:

دوستواور بزرگو!قبولیتِ دعا کی چوتھی شرط یہ ہے کہ آپ کی دعا ئیں حمد وثنائےباری تعالیٰ سےاور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام سے مزین ہوں۔ یعنی اصل دعا کرنے سے پہلے آپ رب کائنات کی ثنا اور بڑائی بیان کریں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد وسلام بھیجیں۔ اس کے بعد اللہ کے سامنے اپنا مدعا رکھیں اور پھر قبولیت ِ دعا کا ذائقہ جی بھر کر چکھیں۔ دیکھئے، حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کیا فرمارہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ نبوی میں تشریف فرما تھے۔ اسی دوران ایک نمازی آیا اور نماز پڑھنے کے بعد دعا کی: اے اللہ!مجھ پر رحم کر اور مجھے بخش دے۔

یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے نمازی!تم نے تو بڑی جلدبازی دکھائی، دیکھو!آئندہ پہلے نماز پڑھو، پھراللہ کی شایانِ شان تعریف کرو، پھر مجھ پر درود پڑ ھو، اس کے بعد دعا کرو۔

حضرت فضالہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پھر ایک دوسرا نمازی آیا اور اس نے نماز پڑھنے کے بعد اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔ یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:اے نمازی! اب دعا کرو، تمہاری دعا قبول کی جائےگی۔ (اسے أحمد، ابو داوداور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ یہ صحیح حدیث ہے۔ اسے صحیح الترغیب والترھیب، جلد دوم صفحہ:282 پر حدیث نمبر :1643 کے تحت دیکھا جاسکتا ہے)

آدابِ دعا:

دوستواور محترم بزرگو!اب رہ گئی بات آدابِ دعا کی، تو میں اس کی تفصیل میں نہ جاکر مختصر بیان کر دینے کے بعد جلد ہی اپنی بات ختم کروں گا۔ (إن شاء اللہ)۔

پہلا ادب:

یہ ہے کہ آپ پاک صاف ہوکر دعا کریں کیوں کہ:

(إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّٰبِينَ وَيُحِبُّ ٱلۡمُتَطَهِّرِينَ ٢٢٢ ) [البقرة: 222]

”اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک ر ہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔”

دوسرا ادب:

یہ ہے کہ آپ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگیں۔ کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ تمہارا رب زندہ جاوید اور سخی ہے۔ وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ کوئی بندہ اس سے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر مانگے اور وہ اسے خالی ہاتھ لوٹا دے ۔” (مستدرک حاکم)

تیسرا ادب:

یہ ہے کہ دعا یقین محکم کے ساتھ کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم میں سے کوئی دعا کرے تو دعا کی قبولیت کے پختہ یقین کے ساتھ کرے۔ یہ نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو مجھے فلاں چیز عطا کردے۔ کیوں کہ اللہ کوکوئی مجبور نہیں کرسکتا۔(بخاری، الأدب المفرد)

چوتھا ادب:

یہ ہے کہ دعا کرنے والا اپنی دعا میں ماثورالفاظ استعمال کرے۔ خاص کرکےان صیغوں، الفاظ اور جملوں کا استعمال کرے جن میں اللہ کا اسم اعظم آتا ہو۔ مثلاً “حی قیوم” وغیرہ الفاظ سے اپنی دعا کا آغاز کرے۔

پانچواں ادب:

یہ ہے کہ دعا میں مداومت برتے۔ صرف مصائب آنے پر ہی دعا نہ کرے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےکہ جسے اس بات سے خوشی ہو کہ اللہ اس کی دعا مصائب وآفات کے وقت قبول کرے، اسے چاہئے کہ وہ خوشحالی کے وقت بھی خوب دعائیں کرے۔” (ترمذی، حاکم )

نیز دعا کرنے والا یاس وقنوط میں مبتلا نہ ہو جیسا کہ پہلے بیان کیا گيا ۔

حضرات گرامی!یہ تھے دعا کی قبولیت کے آداب وشرائط۔ اب آپ خود اپنے آپ کو جانچیں اور پرکھیں کہ اگر آپ کی دعائيں قبول نہیں کی جاتیں، تو کیوں نہیں کی جاتی ہیں؟ کیا آپ کی دعاؤں میں کوئی خامی درآئی ہے؟اگر ایسا ہے تو پھر اس خامی کو دور کرنے کی پوری کوشش کیجئے پھر دیکھے، آپ کی دعا ضرور قبول کی جائےگی۔ ذرابتائیں، کہاں گئیں ہماری نماز کے اندر کی اور بعد کی دعا ئيں؟ کہاں گئی ہماری آہِ سحر گاہی؟ کہاں ہیں وہ لوگ جن کی دعاؤں کو اللہ سنے؟ دوستو! حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے دعا کے اثرات کو نہیں پہچانا، اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا، اللہ ہمیں دعا کے آداب وشرائط پر عمل پیرا ہونے اور دعا کے ثمرات وبرکات اور فضائل سے آشنا ہونے کی تو فیق دے، آمین۔

وآخردعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔