تفصیل

کیا کسی کو حج، اس کی عظمت اورا یمان اور اس کی ہیجان انگيزی کا شعور واحساس ہے؟ کس طرح ایک جم غفیر کی آمد ہوتی ہے اور وہ اللہ کی تعظیم وتکبیر اور تحمید میں ہروقت لگا رہتا ہے؟ حج کا منظر ایک نہایت عجیب اورحیرت ناک منظر ہے۔ اہل ایمان کو یہ منظر دیکھ کر بڑی خوشی ومسرت ہوتی ہے، اور اس سے اہل توحید سر بلند ہوتے ہیں۔ جبکہ غافل لوگ اسے دیکھ کر حیرت میں پڑجاتے ہیں اورمدہوش ہوجاتے ہیں۔ مسلمانو! سمجھو، حج تم سے کیا چاہتا ہے؟

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

أما بعد، فإن أصدق الحدیث کتاب اللہ، وأحسن الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ فی النار۔

قال سبحانہ تعالیٰ:

( وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ) [آل عمران: 97]

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

محترم سامعین کرام ! کیاآپ نے حج کے میدان اور حج کے لیے پہنچنے والے لوگوں کے عظیم اجتماع کو دیکھا ہے؟ کیا آپ نے ان کے ایمان اور اس کی چمک کا کچھ احساس کیا؟ کیا آپ نے اس جم غفیر کے بارے میں اندازہ لگایا کہ وہ کس طرح اللہ کی تعظیم وکبریائی اور حمد وثنا بیان کرنے کے لیے امڈ پڑے ہیں؟ یقیناً حج کا منظر ایک عجیب وحیرت انگیز منظر ہے، جس سےمومنین خوش ہوتے ہیں اور موحدین عزت محسوس کرتے ہیں:جبکہ کفار اس سے جلتے ہیں اور غافلین اس سے حیرت زدہ رہتے ہیں۔ پس میرے مسلمان بھائیو! کیا آپ نے محسوس کیا کہ یہ حج آپ کو کیا پیغام دے رہا ہے ؟

مجھے یقین نہیں ہورہا ہے کہ حج کے یہ عظیم مناظر ومشاہد کوئی موعظت دیئے بغیر یوں ہی گزر جاتے ہوں گے ۔ بلاشبہ یہ جم غفیر اللہ کی دعوت قبول کرتے ہوئے حاضر ہوا ہے۔ سارے لوگ اللہ کی عظمت بیان کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں ، یہ اللہ ربُّ العالمین کی توحید کے اعلان کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں اور یہ اللہ کے اس فرض کی ادائیگی کے لیے حاضر ہوئے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے ذریعہ لوگوں پر فرض کیا ہے:

( وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ) [آل عمران: 97]

“اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔”

اور اس فرض کا اعلان اللہ تعالیٰ نے پورے عالم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ کرایا :

چنانچہ ارشاد فرمایا:

( وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ )[الحج: 27]

“اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے لوگ تیرے پاس پا پیاده بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی اور دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے۔”

میرے بھائیو! یہی وجہ ہے کہ دنیا کے سارے اطراف سے لوگ یہاں حاضر ہوتے ہیں، حج کا یہ مجمع عظیم مجمع ہے جس کے لیے پورا عالم حرکت میں ہوتا ہے اور اس سے دشمن کانپ اٹھتے ہیں۔ جبکہ اس حج سے یہود ونصاری نے اپنے کو الگ کرلیا ہے، کیا آپ نے اس بات کو معلوم کیا؟ اور کیا آپ نے اس دین اور اس امت کی عظمت کو محسوس کیا؟

محترم بھائیو! یہ حج امت مسلمہ کے لیے تفرق کے بعد اجتماع کا میدان ہے اور یہ اس کے لیےذلت کے بعد عزت کا منارہ ہے۔ بلکہ یہ اس کے لیے زندگی اور وجود کا عنوان ہے۔ چنانچہ امت مسلمہ کے لیے مناسب نہیں کہ وہ حج کے معانی واسرارسے غافل رہے۔ یہ اپنے آپس کے تعلقات کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی ہے اور آپ کےتعارف، اور تجدید ایمان کی جگہ بھی ہے؛ کیونکہ اس میں ایک مسلمان اپنے دوردراز سے آنے والے مسلمان بھائی سے متعارف ہوتاہے، اس کی بات سنتا ہے اسے اپنا دکھ درد سناتا ہے اور اس کی ضروریات کی تکمیل میں مدد کرتا ہے۔

بھائیو! اللہ تعالیٰ کی کتاب میں وارد حج کی آیات میں ذرا رک کر غور کیجئے، اس عظیم عبادت کی حکمتیں اور اس کے اسرار ورموز آپ پر ایک ایک کر کے واضح ہوتے چلے جائیں گے۔ حج توحید کا ایک عظیم شعار ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ حج کی عبادت کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ جس کا کوئی شریک نہیں ہی کے لیے خالص کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ) [الحج: 26]

“اور جبکہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف، قیام، رکوع اور سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا”

توحید خالص ہی زمین پر انسان کی خلافت کا ستون ہے۔ یہ سب سے افضل مطلوب اور سب سے زیادہ مرغوب فیہ چیز ہے۔

توحید کے ستونوں پر ہی کوئی مضبوط ملک قائم کیا جاسکتا ہے۔ اور اسے بگاڑنے اور مٹا دینے سے وہ ملک زائل اور کالعدم ہوجاتا ہے۔ عقیدۂ توحید کے پھیلنے سے ہی اسلامی ملک طاقتور ہوتا ہے اور عقیدۂ توحید کے مٹنے سے ہی وہ ذلیل اور کمزور ہوتا ہے۔

توحید خالص ہی ایسی چیز ہے جو لوگوں کو امن کے ساحل کی طرف اور اللہ کے ساتھ اس کی الوہیت وربوہیت میں شرک سے اور اسماء وصفات میں الحاد سے حفاظت کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ توحید ہی ہے جو امید وخوف کو اور استعانہ و استغاثہ کو اللہ سے جوڑتی ہے اور اس بات سے جوڑتی ہے کہ زمین پر صرف اللہ کی شریعت کے ذریعہ حکومت کی جائے ۔ یہ توحید ہی ہے جو مسلمانوں کے دلوں کو خالص یقین سے بھر دیتی ہے اور اسی توحید کے لیے ہی حج مشروع کیا گیا ہے جیسا کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ ) [الحج: 31]

“تم لوگ اللہ کے لیے موحدبن کر رہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔”

یہی وجہ ہے کہ اللہ نے عزت کے گھر کعبہ شریف کو لوگوں کے لیےجائے عبادت بنایا۔ اور کعبہ میں لگا ہوا حجر اسود (کالا پتھر ) سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ وہ کعبہ شریف کے طواف شروع کرنے اور ختم کر نے کی جگہ ہے۔ نہ وہ برکت کے لیے ہے اور نہ تبرک کے لیے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس مفہوم کی کیسی اچھی تصویر کشی کی ہے۔ آپ نے اس پتھر کو خطاب کرتے ہوۓ اور لوگوں کو توحید کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:

“إنی أعلم إنک لا تضر ولا تنفع، ولو لا أنی رأیت رسول اللہ یقبلک ما قبلتک” (صحیح البخاری، کتاب الحج، باب ما ذکر فی الحجر الأسود)

“میں جانتا ہوں کہ تو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع۔ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔”

میرے بھائیو! اللہ تعالیٰ حج کے احکام وآداب بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ جان لیں کہ ان پر ان میدانوں میں کیا چیز واجب ہے اور اللہ کے احکام کی کیسی تعظیم ہونی چاہئے۔کسی طرح ان کی بجاآوری ہونی چاہئے۔ ان کی تکمیل میں کسی قسم کی سستی ہرگز نہیں برتنی چاہئے اور نہ ان میں سے کسی حکم کی تعمیل میں غفلت برتنی چاہئے۔

اللہ تعالیٰ نے احکام حج کے بیان کے ساتھ ہی فرمایا:

( وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ) [البقرة: 196]

“لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے۔”

میرے بھائیو!حج سے متعلق آیتوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ حج تعاون، انفاق اور ایک دوسرے کی ضرورتوں کو محسوس کرنے اور پوراکرنے کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ حج کے ذکر کے سیاق میں یہ آیتیں آئی ہیں جو تعاون کی عظمت اور فقراء اور بھوکے لوگوں پر شفقت کر نے اور ان کی بھوک مٹانے کی ضرورت پر دلالت کرتی ہیں ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ) [الحج: 28]

“اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقرره دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں ان چوپایوں پر جو پالتو ہیں۔ پس تم آپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔”

ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے:

( فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ) [الحج: 36]

“پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں اسے (خود بھی) کھاؤ اور مسکین، سوال سے رکنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ، اسی طرح ہم نے چوپایوں کو تمہارے ماتحت کردیا ہے کہ تم شکر گزاری کرو۔”

میرے بھائیو!حج میں آپ کے لیے تقویٰ کی اہمیت اور اس کے اثر کی عظمت واضح ہوتی ہے۔ گویا تقویٰ میزان ہے جس سے لوگوں کو اور ان کے اعمال کو تولا جائے گا۔ اسی لیے آيات حج میں تقویٰ کی کثرت سے وصیت کی گئی ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

( وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ) [البقرة: 196]

“لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو اور جانو کہ اللہ سخت عذابوں والا ہے۔”

نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

( وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ ) [البقرة: 197]

“تم سفر خرچ لے لیا کرو، بلا شبہ بہترین سفر خرچ اللہ سے ڈرتے رہنا ہے اور اے عقل والو! تم مجھ سے ڈرتے رہو۔”

( فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ) [البقرة: 203]

“جس نے منیٰ میں دو دنوں کے بعد ہی رمی جمار کر کے جانے کے لیے جلدی کی اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو رک جائے اور بعد میں جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم سب اس کی طرف جمع کیے جاؤگے۔”

نیز فرمایا:

ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ [الحج: 32]

“اللہ کی نشانیوں کی جو شخص عزت کرےگا، بےشک یہ دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے۔”

نیز فرمایا:

( لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ ) [الحج: 37]

“اللہ کو قربانی کے گوشت نہیں پہنچتے بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔”

لہذا اصل چیز تقویٰ ہے، اے اللہ کے بندو!آپ تقویٰ کو اپنائيں جو ہر طرح کے خیر کو جامع ہے۔

میرے بھائیو! آپ جب اللہ کی ہدایت کی روشنی میں اللہ کی عبادت کریں تو آپ کو چا ہئے کہ آپ اللہ سے ثواب پانے کی امید رکھیں۔ اور جب آپ اللہ کی ہدایت کی روشنی میں اللہ کی کسی حرام کردہ چیز کو ترک کریں گے تو اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایسا کریں۔ تبھی آپ اپنی عملی زندگی میں تقویٰ کو پوری طرح نافذ کر سکیں گے۔ ان تمام حقوق کو ادا کر سکیں گے جو آپ سے متعلق ہیں خواہ وہ آپ کے اپنے خالق کے تیئں ہوں یا آپ کے اپنے دینی بھائیوں کے تیئں۔

محترم بھائیو! حج کی تمام شکلیں اسی مقصد پر دلالت کرتی ہیں کہ تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں ، وہ سب کے سب ایک مکان کی طرح ہیں جس کا ہر ایک جزء دوسرے جزء کو تقویت پہنچاتا ہے اور سارے مسلمان حج کے مبارک مقامات میں ایسے اوقات گزارتے ہیں جن میں تقویٰ کے معانی گویا ایک مجسم شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جس سے باہمی اخوت اور بھائی چارگی کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔ جو مسلمانوں کے درمیان زبان ورنگ اور قومیت کے اختلاف کے باوجود ان کی تالیف قلوب کی باعث بنتی ہیں۔ چنانچہ حجاج کرام جب اپنے روز مرہ کے لباس کو حج کے یکساں لباس سے بدل دیتے ہیں تو اس وقت سب کے سب ایک ہی شکل میں ہوجاتے ہیں۔ ایک ہی تلبیہ کا ورد کرتے ہوئے ایک ہی رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، ایک ہی گھر کا طواف کرتے ہیں اور ایک ہی قسم کے مناسک ادا کرتے ہیں۔

یقیناً یہ شکل تقوی ٰ کا بہترین ثمر ہے، جو لوگوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے سے نفرت کریں اور آپس میں اجنبی بن کر رہیں۔ نہ ظالموں کے ظلم کی جگہ ہے نہ ہی یہ حسب نسب کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کی جگہ۔ بلکہ اگر تقویٰ مومن بندہ کے دل میں جاں گزیں ہوجائے تو وہ تمام انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد سمجھےگا۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ) [الحجرات: 13]

“اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو، کنبے اور قبیلے بنا دیئے ہیں۔”

مذکورہ تقسیم ایک دوسرے کےتعارف، ہمدردی اور تعاون کے لیے ہے۔ جبکہ رنگ، زبان اور جنس کی اس تقسیم میں کوئی جگہ نہیں۔ اور نہ اللہ کے میزان میں زبان، جنس اور وطن کا کوئی حساب ہے۔ وہاں صرف ایک ہی میزان ہے جس کی روسے انسان کی قدر وقیمت متعین ہوتی ہے اور جس کی بنیاد پر لوگوں کی خوبی پہچانی جاتی ہے وہ ہے تقویٰ۔

ارشاد باری ہے:

( إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ) [الحجرات: 13]

“اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده اللہ سے ڈرنے والا ہے۔”

تقوی ٰ ہی نے میرے بھائیو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو،جو خاندان قریش کے سیدوں میں سےتھے،آمادہ کیا کہ اپنی پھوپی زاد بہن زینب بنت جحش اسدیہ کی شادی زید بن حارثہ کے ساتھ کردیں۔ جبکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام (اور منہ بولے بیٹے)تھے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض صحابیوں سے فرمایا کہ اے بنی بیاضہ! تم لوگ ابو ہند کے قبیلہ سے شادی کرو اور کراؤ۔ جبکہ ابو ہند پیشہ کے اعتبار سے حجام تھے۔ خلاصہ یہ کہ اہل تقویٰ مسلمانوں میں پیشے کی بلندی اور پستی سے کوئی تفریق نہیں کی جانی چاہئے۔

محترم بھائیو! حج میں کچھ ایسی خوبیاں بھی ہیں جو مناسب نہیں کہ عقل وبصیرت والوں سے مخفی رہیں۔

ان خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ حج ایک بہت بڑی اسلامی کانفرنس ہےجو وحدت امت اور امداد باہمی کے التزام کی دعوت دیتی ہے۔ حجاج کرام ایک ہی میدان اور ایک ہی مکان میں جمع ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ جبکہ وہ اس سے کچھ روزقبل ایک ماہ کے روزے رکھ چکے ہوتے ہیں اور ایک جگہ جمع ہوکر آپس میں مل کر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔ یہ سب کے سب اجتماعی مظاہر اورشکلیں ہیں جو یہ اعلان کرتی ہیں کہ یہ امت امت اجتماع ہے اور یہ کہ یہ امت اجتماع وترابط کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔

حج کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ حج کافروں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ یہ امت اپنے دین کو رہن میں نہیں رکھتی اور نہ اپنے عقائد پر مول بھاؤ کرتی ہے۔ اور یہ کہ یہ امت اپنے رب کے ساتھ ہی قوی ہے اور اپنے دین کے ساتھ مضبوط ہے۔ وہ اس سے الگ نہیں ہو سکتی۔ پس یہ دین اس کی زندگی ہے اور اس کی بقا کا عنوان ہے اور اس کی عز ت وظہور کا مصدر ہے۔ پس اہل ایمان اپنی کمزوری کے باوجود اپنے دین کے تحفظ اور بچاؤ کی فکر کرتے ہیں۔ حج کی عبادت انہیں بیدار کرتی اور ان کے نفوس کو زند گی بخشتی ہے۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

( إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ) [الرعد: 11]

سامعین کرام! سابقہ گفتگو میں حج کی حکمتیں اور اس کی بہت سی خوبیاں آپ کے سامنے آ چکی ہیں۔ اب حج کی چند اور خوبیاں اختصار کے ساتھ پیش کی جارہی ہیں جن سے واقفیت (إن شاء اللہ) آپ میں سے ہر ایک کے لیے مفید رہےگی۔

حج انسان کو آخرت کی یاد دلاتا ہے اور اس سخت دن سے بھی متنبہ کرتا ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے:

( رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ ) [آل عمران: 9]

“اے ہمارے رب! تو یقیناً لوگوں کوایک دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ وعده خلافی نہیں کرتا۔”

چنانچہ حج کا دن یعنی عرفہ کادن، قیامت کے دن کا ایک چھوٹا سا منظر پیش کرتا ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن بھی انہیں اکٹھا جمع کیا جائےگا اور اس میں ایک یادہانی بھی ہے اس وقت کی جس میں لوگ اپنے رب کے پاس عاجزی وانکساری کے ساتھ جمع ہوں گے۔ جبکہ انہیں انتہائی تھکاوٹ وگھبراہٹ کا سامنا ہو گا۔

یہ حج امت محمدیہ کی عبادت وتدین کی ایک منفردمثال ہے۔ ان میں سے جو شخص مکہ مکرمہ جا کر اس گھرکا مشاہدہ کرتا ہے وہ مزید فخر وعزت محسوس کرتا ہے اور اس وقت اس کے ایمان میں مزید نکھار پیدا ہوتا ہے۔ حج کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کا ایک عام اجتماع ہے۔ اللہ نے انہیں اپنے دین پر اکٹھا کیا اور اپنی شریعت پر جمع کیا ہے۔ نہ انہیں کسی دنیوی نعرہ نے جمع کیا اور نہ انہیں کسی نسلی یا ملکی عصبیت نے جمع کیا۔ بلکہ انہیں صرف اس دین نے جمع کیا اور ایمان نے ان کے دلوں کو ملادیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا:

( وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ) [الأنفال: 63]

“ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا تو بھی تو ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے۔”

پس اے میرے بھائیو! تمہیں اس امت کے خیر کی خوش خبری ہو! کیونکہ یہ انصاف وقیادت والی امت ہے اور اسی کے ذریعہ امن وخوش حالی کا بول بالا ہوگا اور بھلائی وسلامتی عام ہوگی۔ اس امت کےلیے اللہ کا وعدہ ہے کہ یہ پوری دنیا پر اللہ کی کتاب “قرآن کریم وسنت مطہرہ” کے ذریعہ حکومت کرے گی۔ تم یہ یاد رکھو کہ مسلمانوں کے قیادت کے اسکرین یا نقشے سے اس وقت غائب ہوجانے کی وجہ سے دنیا اپنے صحیح راستے سے بٹھک گئی ہے۔ ظلم کا بول بالا ہے۔ بد نظمی عام ہوگئی ہے۔ جنگ وجدل سے دنیا پریشان ہے۔ سعادت ونیکی مفقود ہے۔ آج مغربی دنیا اپنے تہذیب وتمدن اور اپنی ثقافت پر بظاہر فخر کرتی ہے۔ لیکن دین وروحانیت کے بارے میں وہ خسارے وافلاس سے دوچار ہے اور وہاں قلبی استقرار مفقود ہے۔

میرے بھائیو! کسی فرد ومجتمع میں حقیقی استقرار اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اللہ کے دین سے اپنا رشتہ مضبوط نہ کرلے۔ اور حج کا مبارک موسم لوگوں کو اسی دین کی طرف کھینچتا ہے اور انہیں اللہ کا حق یاددلاتا ہے اور ان نفوس میں استعداد کے درجہ کو بلند کرتا ہے تاکہ وہ اپنے نفوس کی خرابیوں کواچھائیوں سے بدل دیں:

( إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ) [الرعد: 11]

“بےشک اللہ تعالی کسی قوم کی حالت کو (اچھائی سے خرابی میں یا خرابی سے اچھائی میں ) نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کےدلوں میں ہے۔

جو اجتماع اللہ کے دین اسلام کے التزام وپابندی کی ضرورت محسوس نہ کرے وہ اللہ کی رحمت سے دور شمار کیا جاتا ہے۔ دعا ہے کے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو دین اسلام کا پابند بنا دے اور ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو بھی اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

( إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ) [الأحزاب: 56]

اللھم صل وسلم وبارک علی محمد سید الأولین والآخرین فی الأرض، والخلفاء الراشدین۔