اللہ تعالیٰ کا ذکر

تفصیل

ذکر دل کے لیےایسا ہی ہے جیسے پانی مچھلی کے لیے۔ مچھلی جب پانی سے جدا کر دی جاۓ تو وہ کیونکر زندہ رہ سکتی ہے؟ دین نے اس بات کی ترغیب دی ہے کہ مسلمان اپنے رب سے اپنا تعلق استوار رکھے تاکہ اس کا ضمیر بیدار رہے، اس کا نفس صاف ستھرا رہے اور اس کادل پاک رہے، اور وہ اللہ سے توفیق ومدد کا طالب رہے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم اور سنتِ مطہرہ میں ایسی چیزیں آئی ہیں جو اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ اور اس نے ہر وقت اور ہر حال میں ذکر کو مشروع قرار دیا ہے۔

إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔

عزیز بھائیو! ہم خود کو اور آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اپنانے کی وصیت کرتے ہیں۔ آپ سری طور پر بھی اور ظاہری طور پر بھی اس سے ڈرتے رہیں۔ اسی کی عبادت کریں، اسی کو سجدہ کریں اور بھلائی کا کام کرتےرہیں۔تا کہ آپ کامیابی حاصل کرسکیں۔

بھائیو! انسان کا دل دیگر جاندارِ کائنات کی طرح نرم ہوتا ہے، اسے ایسے مادّہ کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کی قوت حاصل ہو۔ تمام عقلمند انسان اس بات پر متفق ہیں کہ دل بھی زنگ آلود ہو جاتے ہیں، جیسے لوہا زنگ آلود ہوتا ہے۔ انہیں بھی پیاس لگتی ہے، جیسے کھیتی کو پیاس لگتی ہے، اور وہ سوکھ جا تے ہیں، جیسے دودھ کا تھن سوکھ جاتا ہے۔ لہذا وہ روشنی وسیرابی کے محتاج ہیں، جو دل کے زنگ وپیاس کو دور کردیتے ہیں۔ انسان اس زندگی میں ہر جانب سے دشمنوں کے گھیرے میں ہے۔ برائی کی رہنمائی کرنے والا اس کا نفس ِ امّارہ اسے ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح کا برتاؤ اس کی ہوس اور اس کا شیطان بھی کرتا ہے۔

چنانچہ انسان بہت زیادہ محتاج ہے ایسی چیز کا جو اسے بچائے، اطمینان دلائےخوف والی باتوں سے، اسے سکون بخشے اور اس کے دل کو مطمئن کردے۔ جو چیز سب سے زیادہ ان بیماریوں کو دور کرتی ہے اور دشمنوں سے محفوظ رکھتی ہے، وہ اللہ کی یاد اور اس کی یاد میں زیادہ سے زیادہ مشغول رہنا ہے۔ کیونکہ اللہ کی یاد دلوں کو روشن اور صیقل کرتی رہتی ہے ۔ بلکہ وہ دلوں کی دوا ہے۔ جب انہیں کوئی بیماری لاحق ہو۔

ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ- قدس اللہ روحہ- کویہ کہتے ہوئے سنا کہ دل کے لیے اللہ کی یاد ایسی ہے، جیسےمچھلی کے لیے پانی۔ چنانچہ جب مچھلی پانی سے الگ ہوتی ہے تو اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟

میرے بھائیو!بندہ اور اس کے رب کے درمیان تعلق صرف صبح شام کی مناجات کے وقت تک ہی محدود نہیں ہے کہ اس وقت کے بعد وہ یکسر غافل ومست رہے اور بغیر کسی قید وضبط کے جو چاہے کرتا رہے، ہرگز نہیں!یہ دھوکہ والی دینداری ہے۔ اس کےبرعکس عابد ومعبود کے درمیان سچا تعلق یہ ہے کہ بندہ جہاں کہیں بھی ہو اپنے رب کو یاد کرے اور اس کی یہ یاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر ونواہی کا پابند رکھنے والی اور بندے کواس کی بشری کمزوری پر متنبہ کرنے والی ہو اور اسے ہر پیش آنے والی پریشانی کے وقت اپنے خالق کی پناہ لینے پر معین ومددگار ہو۔

دین حنیف یعنی دینِ اسلام نے ترغیب دی ہے کہ مسلمان اپنے رب سے تعلق پیدا کرے ۔ تاکہ اس کا ضمیر زندہ رہے۔ اس کے نفس کا تزکیہ ہو۔ اس کا دل پاک رہے اور اپنے رب سے مددوتوفیق طلب کرتا رہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم اورسنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ذکرِ الہٰی زیادہ سے زیادہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ٤١ وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ) [الأحزاب:41 - 42]

“مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیادہ کرو۔ اور صبح وشام اس کی پاکیزگی بیان کرو۔”

اور فرمایا ) وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا ) [الأحزاب: 35]

”بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لیے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اوربڑا ثواب تیار کر رکھاہے۔”

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: کلمتان خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان حبیبتان إلی الرحمن، سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم” (صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب فضل التسبیح)

“حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو کلمات ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں؛ لیکن میزان (ترازو)میں بھاری ہیں اور اللہ کے نزدیک بہت محبوب ہیں اور وہ یہ ہیں؛ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم)

“وعن أبی الدرداء قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا أنبئکم بخیر أعمالکم وأزکاھا عند ملیککم وأرفعھا فی درجاتکم، وخیرلکم من إعطاء الذھب والورق وخیرلکم من أن تلقوا عدوکم فتضربوا أعناقھم ویضربوا أعناقکم؟ قالوا: وذلک ما ھو یا رسول اللہ؟ قال: ذکر اللہ عز وجل” (مسند أحمد، باقی حدیث أبی الدرداء)

ابو درداءروایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہارے ایسے عمل کے بارےمیں خبر نہ کروں جو سب سے بہتر ہو، رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ ہو، تمہارے درجات کو زیادہ بلند کرنے والا ہو، تمہیں سونا وچاندی دینے سے بہتر ہو اور تمہاری اس شہادت سے بھی بہتر ہو کہ تم نے اپنے دشمن سےلڑ کر انہیں قتل کر ڈالا ہو اور انہوں نے تمہیں قتل کر ڈالا ہو؟ صحابہ نے دریافت کیا کہ وہ کیا عمل ہے، اے اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ تعالیٰ کا ذکرہے۔

“عن جابر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من قال: “سبحان اللہ بحمدہ، غرست لہ نخلۃ فی الجنۃ” (صحیح سنن الترمذی، أبواب الدعوات، بعد باب: من باب فضل التسبیح والتکبیر…)

جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص “سبحان اللہ وبحمدہ” پڑھتا ہے اس کے لیےجنت میں کھجور کا ایک باغ لگادیا جاتا ہے۔

میرے بھائیو!ذکر کی وجہ سے بہت ساری آفات ٹل جاتی ہیں، بہت ساری تکالیف دور ہوجاتی ہیں اور مصیبت زدہ شخص پر بہت ساری آفات ہلکی ہوجاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے اللہ ذکرکرنے والوں کی زبانوں کو مؤثر بنا دیتا ہے اور دیکھنے والوں کی بصارت کو نورسے مزین کردیتا ہے۔ اللہ کے ذکر سے غافل شخص کی زبان، اندھی آنکھ جیسی بے فیض، بہرے کان جیسا بےفائدہ اور سوکھا مارے ہوئے ہاتھ کی طرح بےسود ہوتی ہے۔

گناہ کا ارتکاب، خواہ کبیرہ ہو یاصغیرہ ، بنی آدم صرف اسی وقت کرتا ہے جب وہ اللہ کی یاد سے غفلت کی حالت میں ہوتا ہے، یاوہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا بھول جاتا ہے؛ کیونکہ اللہ کی یاد، کامل زندگی گزارنے کا سبب ہوتی ہے اور جس کی موجودگی میں اس شخص کے لیے مشکل ہے کہ وہ اپنے نفس کو جہنم کے گڈھے میں یاربِّ عظیم کے غیض وغضب میں دھکیل دے۔ اور اس کے برعکس اللہ کی یاد کو ترک کرنے والا یا بھولنے والا، تو وہ ایک مردے جیسا ہے، جسے شیطان کسی بھی کو ڑے دان یا کسی گندی جگہ پر ڈال دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرےگا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ ) [الزخرف: 36]

”اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے۔”

نیز فرمایا ( وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى ) [طه: 124]

”اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرےگا اس کی زندگی تنگی میں رہےگی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے۔”

“عن أبی الملیح عن رجل قال: کنت ردیف النبی صلی اللہ علیہ وسلم فعثرت دابتہ، فقلت: تعس الشیطان، فقال: “لاتقل: تعس الشیطان، فإنک إذا قلت ذلک تعاظم حتی یکون مثل البیت ویقول: بقوتی، ولکن قل: بسم اللہ، فإنک إذا قلت ذلک تصاغر حتی یکون مثل الذباب” (صحیح سنن أبی داؤد، کتاب الأدب، باب لایقال خبثت نفسی، رقم: 4982)

ابو ملیح نے ایک آدمی سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا کہ آپ کی سواری پھسل گئی، اس پر میں نے کہا: شیطان کا برا ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:تم یہ نہ کہو کہ شیطان کا برا ہو، اس لیے کہ جب تم ایسا کہوگے تو وہ فخر سے پھول کر گھر کے برابر ہو جائےگا اور وہ کہےگا کہ میں نے اپنی طاقت سے ایسا کیا۔ بلکہ بسم اللہ کہو یعنی اللہ کی مشیت سے ایسا ہوا، جب تم یہ کہوگے تو وہ پچک کر مکھی کی طرح چھوٹا ہوجائے گا۔

ذکر اللہ، کثرت سے کرتے رہنا نفاق سے براءت کا با عث ہے۔ خواہشِ نفس کی قید سے آزادی ہے اور گویا وہ ایک پل ہے جس کے ذریعہ بندہ اپنے رب کی رضامندی اور ہمیشہ باقی رہنے والی اس نعمت تک پہنچتا ہے جسے اس کے لیے اللہ نے تیار کررکھا ہے ؛ بلکہ وہ حقیقی لڑائی کا پیشگی ہتھیار ہے جو کبھی کند نہیں ہوتا، قسطنطنیہ کی فتح کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرف اشارہ فرمایا:

“عن أبی ھریرۃ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: (ھل) سمعتم بمدینۃ جانب منھا فی البر وجانب منھا فی البحر؟ قالوا: نعم یا رسول اللہ! قال:لاتقوم الساعۃ حتی یغزوھا سبعون ألفا من بنی اسحاق، (والمعروف والمحفوظ “من بنی إسماعیل” فی أصول صحیح مسلم وھو الذی یدل علیہ سیاق الحدیث فإذا جاءھا نزلوا، فلم یقاتلوا بسلاح ولم یوموا بسھم، (بل) قالوا: “لا إلہ إلا اللہ واللہ أکبر، فیسقط أحد جانبیھا، ثم یقول الثانیۃ: لا إلہ إلا اللہ واللہ أکبر، فیسقط جانبھا الآخر، ثم یقول الثالثۃ: لا إلہ إلا اللہ اللہ، واللہ أکبر فیفرج لھم فیدخلوھا فیغنموا… الحدیث” (صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب لاتقوم الساعۃ حتی یمر…)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے کسی ایسے شہر کے بارے میں سنا ہے جس کا ایک کنارہ خشکی پر ہے اور اس کا دوسرا کنارہ سمندر پر؟ صحابۂ کرام نے جواب دیا کہ جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت نہیں قائم ہوگی یہاں تک کہ بنی اسحاق کے ستر ہزار مجاہد ین اس پر فوج کشی کریں گے(اور صحیح مسلم کی اصل کتابوں میں معروف ومحفوظ الفاظ بنی اسحاق کے بجائے”بنی اسماعیل” ہیں اور حدیث کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے ) پس جب وہ لوگ شہر کے قریب پہنچ جائيں گے تو وہ (شہر کے باہر ) پڑاؤ ڈالیں گے پھر وہ کوئی ہتھیا ر لے کر لڑائی نہیں کریں گے اور نہ کوئی تیر چلائيں گے۔ بلکہ وہ لوگ صرف “لا إلہ إلا اللہ واللہ أکبر” کا نعرہ لگائيں گے تو شہر کا ایک کنارہ مسمار ہوجائےگا، پھر دوسری بار “لا إلہ إلا اللہ واللہ أکبر” کا نعرہ لگائيں گے تو اس کا دوسرا کنارہ مسمار ہوجائےگا، پھر وہ لوگ تیسری بار “لا إلہ إلا اللہ واللہ أکبر” کا نعرہ لگائيں گے تو ان کے لیے دروازہ کھول دیا جائےگا، پھر وہ لوگ اس شہر میں داخل ہو جا ئیں گے اور غنیمت کے مال حاصل کریں گے۔۔۔ الحدیث

میرے بھائیو!آپ نے “ذکر اللہ” کی خوبی دیکھ لی۔ اب تک جس قدراذکاربیان کیے گئے اگر آپ نے ان میں سے کوئی مختصر “ذکر” کو اپنا کر اسے صبح شام کی نماز کے بعد چند منٹ ہی سہی، روزانہ پڑھنے کا معمول بنالیا تو آپ کی اُخروی سعادت اور اطمینانِ قلب کے لیے بہت زیادہ مفید ہوگا؛

مثال کے طور پر بہت اجر ثواب والا ایک ذکر یہ بھی ہے:

سبحان اللہ وبحمدہ، عدد خلقہ، ورضا نفسہ، وزنۃ عرشہ، ومداد کلماتہ” (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب التسبیح أول النھار وعند النوم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کو تین بار پڑھنے کا بہت زیادہ ثواب بتایا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا “ذکر” ذاکر کے دل میں اللہ کی عظمت کا شعور پیدا کرتا ہے اور یہ شعور بھی عطا کرتا ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے قہر وقوت سے باہر نہیں جا سکتی اور وہی اس شخص کو لاحق مخفی پریشانی سے بھی دور کرتا ہے؛ ساتھ ہی وہ ذکر کرنے والا شخص سعادت واطمینان محسوس کرتا ہے جو اس کے قلب وجوارح پر چھائے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( الَّذِينَ آَمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ) [الرعد: 28]

”جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔”

عزیز بھا ئیو!اگر ہم میں سے ہر ایک شخص اپنے نفس کو اس بات کے لیے مکلف کرے کہ وہ اپنی دونوں پلکوں کو حرکت دے تاکہ وہ اپنے دائیں بائیں قلت ذکر وغفلت کی وجہ سے گر پڑ ے، لوگوں کو دیکھے، تو کیا اسے گھروں ومحلات کی اندھیری نظر نہیں آتی، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی ہیں؟ کیا اسے ایسے بیمار لوگ نظر نہیں آتے، جن کی ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں؟جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے اپنے نفس کے حوالہ کردیا ہے؛لیکن وہ اپنی کسی ایک ہڈی کو بھی نہ جوڑ سکے جسے اللہ نے توڑ دیا ہے اور ایسے بیمار لوگوں کی بیماری ایک کے بعد دوسری بڑھتی ہی گئی۔ کیا ایسے جادو میں مبتلا مرد وعورتیں نظر نہیں آرہی ہیں جن کے خلاف جادو گروں، شعبدہ بازوں اور جھوٹھے دھوکہ بازوں کے مجرم ہاتھوں نے اذیت رساں کاروائياں کررکھی ہیں۔ پھر انھوں نے ایسے لوگوں سے خوشی وسادگی بھی چھین لی اور ان کی اطمینان بخش زندگی کے ستون اکھاڑ پھینکے۔ چنانچہ اوپر سے ان کی نیک بختی کی چھت بھی ان پر گرپڑی۔

کیا ان سب لوگوں نے اس بات سے واقفیت حاصل نہیں کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر موقعہ ومناسبت کے لیے ذکر متعین فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں داخل ہونے کے لیے اور گھر سے نکلنے کے لیےذکر متعین فرمایا۔ سونے اور جاگنے کے لیے ذکر متعین فرمایا۔ صبح وشام کے لیے ذکر یا دعا سکھائی۔ یہاں تک کہ اپنی بیوی سے ہمبستر ہونے، بلکہ بیت الخلامیں داخل ہونے اور نکلنے کی بھی دعا سکھائی۔ بلکہ ہر کام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نہ کوئی دعا متعین فرمائی۔ جس کسی نے اس کا اہتمام کیا اس نے اسے سیکھ لیا اور جس نے اس سے لا پرواہی برتی وہ اس سے ناواقف رہا۔ میرے عزیز بھائیو!آپ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس آیت کو اس سلسلے میں اپنا لائحۂ عمل بنالو: ( وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) [الأنفال: 45]

”اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔”

یقین کرو کہ موجودہ تمدن اور خشک مادی زندگی میں لوگوں کا اللہ کے ساتھ تعلق تقریباً منقطع ہو چکا ہےإلا ماشاء اللہ، اور انسان خواہ وہ جتنا بھی طاقتورہو پھر بھی وہ کمزور ہے۔ خواہ اس نے جس قدر بھی علم حاصل کیا ہو پھر بھی اس کا علم محدود ہے۔ ہواوپانی سے زیادہ اسے اپنے رب کی ضرورت ہے اور مصیبتوں کے وقت اللہ کا ذکرایک مسلم کے لیے اطمینان وتسلی کا ذریعہ اور جینے کی امید ہے۔ جبکہ اطمینان اللہ کے ذکر سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ( الَّذِينَ آَمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ) [الرعد: 28]

”جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔”

اگر مسلمان اس راز سے آگاہ ہو جا ئیں اور مسنون اوراد و اذکار کاالتزام کریں تو اس کے بعد نہ کوئی جادوگر نقصان پہنچانے کی جرأت کرسکتا ہے اور نہ کوئی جادو کردہ شخص حیران ہو سکتا ہے، نہ کوئی خیروبرکت پلٹ سکتی ہے، اور نہ خوشی میں کوئی کدورت آسکتی ہے۔

الحمد للہ الذی ھدانا بھذا الدین، والصلاۃ والسلام علي خاتم الأنبیاء وسید المرسلین، محمد بن عبد اللہ وصحبہ ومن تبعھم بإحسان إلی يوم الدين، أمابعد!

قال اللہ سبحانہ وتعالیٰ:

( وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآَصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ ) [الأعراف: 205]

”اور اےشخص! اپنےرب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کےساتھ اورخوف کےساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ صبح اورشام اوراہل غفلت میں سےمت ہونا۔”

سامعین کرام! اللہ کے ذکر کے سلسلے میں آپ کو بہت اچھی اچھی باتیں بتائی گئیں۔ کچھ اوراوراد واذکار یا دعائیں بھی نوٹ کر دی گئیں ہیں۔ آپ ان کا حتی الامکان اہتمام کریں اور جو اذکارودعائیں پڑ ھیں، دھیان سے سمجھ کر پڑھیں۔ بہت سے لوگ پڑھتے تو ہیں؛ لیکن وہ ذکر کےمعنی نہیں سمجھتے۔ چنانچہ ان کے دل اللہ کی عظمت وجلالت کے شعور سے خالی رہ جاتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالی ٰ کا ذکر ایسا کلام ہے جس سے ان لوگوں کے بدن کانپ جاتے ہیں، جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ پھر ان کے جسم اور دل اللہ کے ذکر کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ لیکن لوگ جس چیز سے مانوس ہیں اور اس کے معنی سے ناواقف، اسے رسمی کلام کی طرح رٹتے ہیں۔ کیا کسی نے کلمہ “اللہ أکبر” کے بارے میں غور کیا ہے، جو کہ تکبیر کا سرّ وستون ہے؟ اور وہ ایسا کلمہ ہے جسے سب سے پہلے دل سے پڑھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کومکلف کیا۔ جب اللہ نے آپ کو حکم فرمایا کہ لوگوں کو برے انجام سے ڈرائیں۔ چنانچہ فرمایا:

( يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ١ قُمْ فَأَنْذِرْ ٢ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ) [المدثر: 1- 3]

“اے کپڑا اوڑھنے والے! کھڑے ہو جا اور آگاہ کردے۔ اور اپنے رب کی بڑائیاں بیان کر۔”

بےشک یہ ایک عظیم کلمہ ہے جو خشک زمین کو زندہ کر دیتاہے۔ جس کی آواز میں موج مارنے والے سمندر کی طرح ایک شور ہوتا ہے ۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ اثر اندازی ہوتی ہے۔

یہ تکبیر ایسا کلمہ ہے جو اگر کسی چور یا اُچکے کے کان میں گونجنے لگے تو اس کا ہاتھ کانپ اٹھے اور اس کا وجود تھرتھرانے لگے۔ اسی طرح اسے ہر اس شخص کے کان میں گونجنا چاہئے جو گناہ یا معصیت کا ارادہ کرتا ہے۔ تاکہ اس کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور وہ ڈرجائے۔ بلکہ اسے ہر ظالم، زیادتی کرنے والے متکبر شخص کے کان میں گونجنا چاہئے تاکہ وہ نصیحت حاصل کرے اور اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ اللہ اس کے قریب ہے، جو اس سے زیا دہ طاقتورہے، جس کی پکڑ انسانی پکڑ اور مکر وفریب سے زیادہ سخت ہے، اللہ أکبر۔

عزیز بھائیو!اللہ سے ڈرو اور اللہ کو یاد کرتے رہو۔ تاکہ تم آخرت کی دائمی زندگی میں کامیاب ہوسکو۔

کوئی یہ سوال کرسکتا ہے کہ “ذکر اللہ” میں کیا راز ہے کہ یہ کلمہ زبان پر ہلکا ہونے اور اس کے پڑھنے میں تھکاوٹ نہ ہونے کے باوجود زیادہ نفع بخش اور زیادہ فضیلت والا ہے، بنسبت ان جملہ عبادات کے جنہیں باربار مشقتوں کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے؟

اس سلسلے میں عر ض ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے بقیہ عبادتوں کی مقدار متعین کردی ہے، جن کے لیے اوقات بھی محدود کردی ہے؛ لیکن “ذکر اللہ” کے لیے نہ کوئی مقدار متعین فرمایا ہے اور نہ کوئی وقت، اسے زیادہ سے زیادہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ کیونکہ “ذکر اللہ” ایسا نیک وباقی رہنے والا سرمایہ ہے، جو اللہ کو بہت زیادہ پسند ہے۔ جیسا کہ درج ذیل صحیح حدیث سے ثابت ہے:

“عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: “خذوا جنتکم، قلنا: یا رسول اللہ! من عدو قد حضر؟ قال: لا، جنتکم من النار، قولوا: سبحان اللہ، والحمد للہ، واللہ أکبر، فإنھن یأتین یوم القیامۃ منجیات ومقدمات وھن الباقیات الصالحات” (رواہ الحاکم فی المستدرک، کتاب الدعاء والتکبیر والتھلیل والتسبیح والذکر وصححہ)

“ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے بچاؤ کا انتطام کرو۔ تو صحابہ نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے دشمن سے بچاؤ کا انتظام کریں جو حملہ کرنے کے لیے پہنچ گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ تم جہنم کی آگ سے بچاؤ کرو، ان کلمات کے ورد کے ذریعہ:سبحان اللہ، والحمدللہ، واللہ أکبر، کیونکہ یہ کلمات قیامت کے دن نجات دینے والے اور سفارش پیش کرنے والے بن کر آ ئیں گے۔”

میرے بھا ئیو!ایک سچے مسلمان کو یہ جان لینا چاہئے کہ ذکر یا دعا کے سلسلے میں وہی ذکر ودعا مؤثر ونفع بخش ہوتی ہے جو حضور قلب کے ساتھ زبان سے روزانہ پڑھی جائے۔ کیونکہ زبان دل کی ترجمان ہے اور دل احساس واسرار کو محفوظ رکھنے والا ایک گودام ہے اور سینہ کا کا م یہ ہے کہ اللہ کا جو ذکر اس میں پہنچے اس کے لیے وسعت پیدا کرے، اسے پڑھنے کے لیے زبان کو پیش کرنے میں وہ لذت محسوس کرے اور اپنے خلوات میں دعا کے ساتھ صرف اپنے نفس کو مخاطب کرنے پر اکتفا نہ کرے،بلکہ اسے زبان تک پہنچا دے تاکہ اللہ تعالی ٰ کے اس قول کی تعمیل ہو سکے کہ:

( وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآَصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ ) [الأعراف: 205]

”اور اے شخص! اپنے رب کو یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کےساتھ اور خوف کےساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ صبح اور شامل اور اہل غفلت میں سے مت ہونا۔”

ایک حدیث میں آیا ہے:

“عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: “إعلموا أن اللہ لا یقبل دعاء من قلب غافل لاہٍ” (مستدرک الحاکم، کتاب الدعاء والتکبیر والذکر۔ والترمذی، باب جامع الدعوات)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یاد رکھو کہ اللہ تعالی ٰ کسی کھیلنے والے غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔

ھذا، وصلوا رحمکم اللہ علی خیر البریۃ وأفضل البشریۃ، اللھم صل علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔