تفصیل

جب کپڑے پر زیادہ میل اکٹھی ہوجاۓ اور اسے دھویا نہ جاۓ تو اس کا کیا حال ہوگا؟بالکل یہی حال دل کا بھی ہے۔ جب گناہ لگا تار کیا جاۓ اور توبہ واستغفار نہ کیا جاۓ تو اس دل کا کیا حال ہوگا ؟ مومن گناہ سے بچ نہیں سکتا۔ مومن کے لیے معصوم ہونا شرط نہیں، لیکن اس کے لیے توبہ کرنے والا ہونا شرط ہے۔ اور دل جو گناہ کرتا ہو اور توبہ نہ کرتا ہو، اس کپڑے کی طرح ہے جو میلا ہو اور اسے دھویا نہ جاۓ۔ پس جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے، اس کے لیے توبہ واستغفار اور اس ذات کی طرف رجوع ضروری ہے جو رحیم وغفار ہے۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

قال اللہ تعالیٰ: ( وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) [النور: 31]

(اے مسلمانو!) تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔”

وقال: ( يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةٗ نَّصُوحًا٨ ) [التحريم: 8] "اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔"

محترم حاضرین!انسان کا اصل کام اللہ کی عبادت ہے، اسی کے لیے اس کی تخلیق عمل میں آئی ہے، ارشاد باری ہے:

( وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ) [الذاريات: 56]

”میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔”

لہذا جوبھی اللہ کی عبادت اور اس کی مرضی کے کام کرے گا، وہ اپنا فرض ادا کرےگا، اور جو اللہ کی عبادت سے منہ موڑےگا اور اس کی ناراضگی کے کام کرے گا تو وہ جس کام کے لیےپیدا ہوا تھا اس کے خلاف کام کر رہا ہے اسے اس کا وبال بھگتنا پڑےگا۔

یاد رکھیٔے! اللہ کی نافرمانی اور گناہ کے کا موں سے اللہ کا کچھ نہیں بگڑتا ۔ اس کا و بال خود اسی کو بھگتنا پڑتا ہے،جو گناہ کرتا ہے اسی طرح نیکی اور ثواب کے کاموں کا فائدہ خود اسی کو پہنچتا ہے جو نیکی کرتا ہے۔ اس سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔

محترم بھا ئیو!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ کے کاموں کو قاذورات (گندگی اور آلائش)سے تعبیر کیا ہے۔ موطأ امام مالک کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(من أصاب من ھذہ القاذورات شیئا فلیستتر بستر اللہ)

“ جو اس طرح کے گندے کام ( گناہ) کر بیٹھے تو وہ اسے اللہ کے پردے میں چھپالے۔”

اس حدیث میں آپ نے گناہ کے کاموں کو قاذورات یعنی گندے کام سے تعبیر کیا ہے۔ اور فی الواقع ہے بھی یہ گندگی۔ اگرچہ ہم اس گندگی کو دیکھ نہیں سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی بدبو سونگھ سکتے ہیں۔ لیکن ان گنا ہوں کا اثر ہم دلوں پر دیکھتے ہیں۔ جب انسان مسلسل گناہ کرتا ہے تویہ گناہ اس کے دل کو ڈھانپ لیتے ہیں اور اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ اور کوئی بھی بھلی بات اس کے دل کو اچھی نہیں لگتی۔

ارشاد باری ہے:

( كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ) [المطففين: 14]

”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے۔”

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

(إن العبد إذا أذنب ذنبا کانت نکتۃ سوداء فی قلبہ، فإن تاب منھا صقل قلبہ وإن زادت زاد)

“بندہ جب کو ئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے تویہ نکتہ اس کے دل سے صاف ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ مزید گناہ کرتا ہے تو وہ نکتہ اور بڑھ جاتا ہے۔ اور جتنا وہ گناہ کرتا جاتا ہے وہ نکتہ بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ پورے دل کو ڈھانپ لیتا ہے۔”

یہ گناہ جو دل پر برابر بڑھتا چلا جاتا ہے اور اسے توبہ واستغفار کے ذریعہ صاف نہیں کیا جاتا،ایک سخت حجاب بن جاتا ہے۔ پھر اس کے دل میں کوئی بھلی بات داخل نہیں ہوپاتی۔

میرے بھا ئیو!آپ غور کریں، کپڑے پر برابر گندگی لگتی چلی جائے اور اسے صابن وغیرہ سے نہ دھو یا جائےتو اس کا کیا حال ہوگا؟ اسی طرح جب دل پر گنا ہ کا اثر بڑھتا چلا جائےاور توبہ واستغفار سے اس کے اثر کو زائل نہ کیا جائےتو پھر دل کا کیا حال ہوگا؟ ہم دن رات گناہ پر گناہ کیےجاتے ہیں۔ اور اپنے پورے دل کو سیاہ کرلیتے ہیں اور ہمیں توبہ واستغفار کی بھی توفیق نہیں ہوتی کہ ہم ہاتھ اٹھا کر اللہ سے اپنے گنا ہوں کی معافی مانگيں۔ پھر ہم گنا ہوں سے آلودہ اپنے ان دلوں سے کیاامید رکھ سکتے ہیں۔

میرے بھائیو!اصل صفائی وستھرائی ہے دل کی صفائی وستھرائی۔ دل اگر گندہ ہو تو کپڑوں اور جسم کی ظاہری صفائی سے کچھ نہیں ہوتا۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے جسم اور کپڑے بظاہر صاف ستھرے ہوتے ہیں؛لیکن وہ دل کے انتہائی گندے ہوتے ہیں، گناہ اور معصیت کی کثرت سے ان کے دل بدبودار ہوتے ہیں، اور ان کی یہ بدبوبڑھتی چلی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ توبہ واستغفار سے اسے صاف نہیں کرتے۔ پھر ایسے دل کی قیامت کے دن اللہ کی نظر میں کیا وقعت ہوگی، جس دن دلوں کے سارے راز منکشف ہوجائیں گے اور دلوں میں جو کچھ ہے باہر آجائےگا، اور اللہ سے کوئی چیز چھپی نہیں رہےگی۔

میر ےبھائیو!انسان سب کے سب خطا کار ہیں۔ (کل بنی آدم خطاؤن وخیر الخطائین التوابون)

“سارے بنی آدم خطا کار ہیں اور خطا کاروں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہو۔”

گناہ بھی لوگوں سے ہوتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے گناہوں پر شر مندہ اور نادم ہوتے ہیں اور اللہ سے توبہ واستغفار کر کے اپنے گناہ بخشوا لیتے ہیں اور ان کے دل پاک وصاف ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ اپنے گناہوں سے غافل اور لاپرواہ ہوتے ہیں اور ان کے گناہوں کی سیاہی ان کے دلوں کو برابر ڈھانپتی چلی جاتی ہے۔

میرے بھائیو!توبہ واستغفار کا دروازہ برابر کھلا ہوا ہے، ارشاد باری ہے:

( قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ) [الزمر: 53]

(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے۔”

اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی میں غفور اورتواب بھی ہے۔ یہ دونوں اسم عظیم گناہوں کو بخشنے اور توبہ قبول کرنے کی صفت کوشامل ہیں۔ وہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ موسی علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے کہ جب انہوں نے بغیر ارادے کے ایک شخص کو قتل کر دیا تو انہوں نے اپنے رب سے دعا فرمائی:

(رب إنی ظلمت نفسی، فاغفر لی، فغفر لہ، إنہ ھو الغفور الرحیم)

“اے میرے پروردگار میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو تو مجھے بخش دے تو اس نے انہیں بخش دیا وہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

اور آدم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: (وَعَصَىٰٓ ءَادَمُ رَبَّهُۥ فَغَوَىٰ ١٢١ثُمَّ ٱجۡتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدَىٰ ١٢٢ ) [طه: 122: 121]

“آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پس وہ بہک گیا۔ پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی۔”

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُون ) [الشورى: 25]

"وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے"ایک دوسری آیت میں اس کی وضاحت یوں کی ہے ( أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ) [التوبة: 104]

”کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے میں اور رحمت کرنے میں کامل ہے۔”

ایک جگہ ارشاد ہے ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ ) [التحريم: 8]

”اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناه دور کر دے۔”

ایک جگہ ارشاد ہے( وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ ) [آل عمران: 135]

“اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟”

اس مفہوم کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں۔

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(إن اللہ یبسط یدہ باللیل لیتوب مسئ النھار، ویبسط یدہ بالنھار لیتوب مسئ اللیل، حتی تطلع الشمس من مغربھا)

“اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے، تاکہ دن کو برائی کرنے والا رات کو توبہ کرے۔ اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلا تا ہے، تاکہ رات کو گناہ کا ارتکاب کرنے والا دن کو توبہ کرے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہےگا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے، جو قربِ قیامت کی نشانی ہے۔ اس نشانی کے ظاہر ہونے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائےگا۔”

گنا ہوں سے جلدی توبہ کرنا ضروری اور واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ) وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) [النور: 31]

”اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ”

اور اس میں تاخیر تبا ہی وخسران کا باعث ہے۔

ایک دوسری آيت میں ارشاد ہے:

(اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ) [هود: 52]

"تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو۔"

ایک اور جگہ ارشادہے:( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا) [التحريم: 8]

"اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔"

ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنا واجب ہے۔ کیونکہ ان آیات میں امرکا صیغہ وارد ہے۔ اوراصحاب اصول کے نزدیک امر وجوب کے لیےہوا کرتا ہے، الایہ کہ کوئی قرینہ ایسا موجود ہو، جو اسے وجوب کے معنی سےپھیر رہا ہو۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

"سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: واللہ إنی لأستغفر اللہ وأتوب إلیہ فی الیوم أکثر من سبعین مرۃ"

"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ کی قسم! میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں۔"

اغر بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(یا أیھا الناس توبوا إلی اللہ واستغفروہ فإنی أتوب فی الیوم مائۃ مرۃ)

"اے لوگو! اللہ سے توبہ کرو، اور اس سےمغفرت طلب کرو، کیونکہ میں دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔"

اہلِ علم کاکہنا ہے کہ جب بندہ کسی گناہ سے توبہ کرتا ہے تویہ توبہ صرف اسی گناہ کے لیے ہوتا ہے جس سے وہ توبہ کر رہا ہے۔ اس کے بقیہ گناہ اس کی گرد ن پر باقی رہتے ہیں جب تک کہ وہ ان سے بھی توبہ نہ کرلے۔

اللہ تعالی ٰ نے توبۂ نصوح (خالص توبہ) کا حکم دیا ہے اور توبۂ نصوح وہ توبہ ہے جس میں توبہ کے وہ تمام شروط پائے جائیں جو شریعت سے منصوص ہیں اور وہ شروط یہ ہیں؛

اگر گناہ کا تعلق اللہ سے ہے، کسی آدمی کا کوئی حق اس سے متعلق نہیں ہے، تو ایسے گنا ہ سے توبہ کی قبولیت کے لیے تین شرطیں ہیں؛ پہلی یہ کہ اس گنا ہ کو آدمی فوری طور پر چھوڑ دے۔ دوسری یہ کہ اس پر پشیمانی وندامت کا اظہار کرے۔ اور تیسری یہ کہ وہ پختہ ارادہ کرے کہ آئندہ کبھی یہ گناہ نہیں کرےگا۔ اگر ان تین شرطوں میں سے ایک بھی شرط مفقود ہوتی ہے تو توبہ صحیح نہیں ہوگی۔ اور اگر اس گناہ کا تعلق دوسرے آدمیوں سے ہے، مثلا کسی کا حق ماراہے یا کسی پر بہتان لگا یا ہے، تو اس سے توبہ کے لیے چار شرطیں ہیں؛تین وہی جو ابھی مذکور ہوئیں اور چوتھی یہ کہ وہ صاحبِ حق کاحق ادا کرے اگر کسی کا مال یااس قسم کی کوئی چیز ناحق لے لی ہے، تو اسے واپس کرے اور اگر کسی پر تہمت وغیرہ لگا ئی ہے تو اس کی حد اپنے نفس پر لگواے یا اس سے معافی طلب کر کے اس کو راضی کرے۔

گناہ کرنے والوں کا اکثر حال یہ ہے کہ وہ گناہ پر گناہ کیے چلے جاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ غفور ورحیم ہے، وہ ہمارے گناہ بغیر توبہ کے ہی بخش دےگا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر امید کا پہلو خوف کے پہلو پر غالب رہتا ہے۔ اسی کو اللہ کے عذاب سے بےخوف ہو جانا کہتے ہیں، ایسے ہی لوگوں کے متعلق ارشاد ہے:

( أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ ) [الأعراف: 99]

”کیا وه اللہ کی اس پکڑ سے بےفکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا”

علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں “ مَكْرَ اللَّهِ” سے مراد اللہ کا عذاب اور اس کی پکڑ ہے، وہ اچانک انھیں پکڑ لےگا جب وہ غافل و بےپروہ ہوں گے۔

حسن بصری کہتے ہیں: مومن کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نیکی اور ثواب کے کام کرتا ہے، اس کے باو جود اللہ کے خوف سے ہمیشہ لرزاں وترساں رہتا ہے۔ اس کے بر خلاف کافر گناہ پر گناہ کیے جاتا ہے اور بےخوف ہوتا ہے۔ لہذا عقلمند انسان وہ ہے جو اللہ کی پکڑ سے کبھی غافل نہ رہے۔ برابر اللہ کی پکڑاور اس کے عذاب سے ڈرتا رہے۔ ربیع بن خشم سے ان کی صاحبزادی نے پوچھا: ابا!جان کیا بات ہے، میں دیکھتی ہوں کہ آپ رات کو سوتے نہیں ہیں۔ تو انہوں نے کہا: بیٹی! تمہارا باپ اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں اللہ کاعذاب رات ہی میں نہ آ جائے۔ اس سے ان کی مراد اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد تھا:

( أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ ) [الأعراف: 97]

”کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب شب کے وقت آپڑے جس وقت وه سوتے ہوں۔”

اس لیے میرے بھا ئیو!اللہ کے عذاب سے کبھی بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔ اپنے گناہوں کی اس سے برابر معافی مانگتے رہنا چاہئے۔ اگر آدمی باوضو ہوکر دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ سے توبہ کرے اور اپنے گناہوں پر پشیمانی کا اظہار کرے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا اللہ سے عہد کرے، تو اللہ اس کی توبہ ضرورقبول کرےگا۔

امام احمد بن حنبل نے صحیح سند سے حضرت علی بن ابی طالب سے روایت نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی حدیث سنتا، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے جتنا چاہتا فائدہ پہنچاتا، اور جب میں کسی شخص کے واسطے سے آپ کی کوئی حدیث سنتا، تو میں اس سے قسم لیتا، اگر وہ قسم کھا لیتا، تو میں اس کی تصدیق کرتا۔ ایک دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حدیث بیان کی، اور وہ اپنے اس بیان میں یقیناً سچے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص گناہ کرتا ہے، پھر اچھی طرح وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ عزوجل سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ اسے بخش دیتا ہے۔ اس حدیث کی تائید امام مسلم کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے، جسے انہوں نے اپنی صحیح میں امیر المؤ منین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سےنقل کی ہے کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر “أشھدا أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لاشریک لہ وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ” کہتا ہے، تو جنت کے آٹھوں دروازے اس کے لیے کھول دیےجا تے ہیں، وہ جس سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده، لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله۔

شریعت کے نصوص سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آدمی جب نزع کی حالت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور روح حلق تک آجاتی ہے، تو توبہ کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ اسی کو غرغرہ کی حالت کہتے ہیں۔ اسی طرح جب سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو،تو اس وقت بھی توبہ کا دروازہ بند ہو جائےگا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آَيَاتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آَيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آَمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا قُلِ انْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ ) [الأنعام: 158]

”کیا یہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا ان کے پاس آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آئے؟ جس روز آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی آپہنچے گی، کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا۔ یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔ آپ فرما دیجئے کہ تم منتظر رہو، ہم بھی منتظر ہیں۔”

اس آیت میں فرشتوں کے آنے یا پروردگار کے آنے کا جو ذکر ہے، وہ قیا مت میں ہوگا۔ اور تمہارے رب کی بعض نشانیوں کے آنے کا جو ذکر ہے، وہ قیامت سے پہلے ہوگا۔ یہ قرب قیامت کی نشانیوں میں ہوگا۔جیسا کہ امام بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کرتے ہیں:

(لا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من مغربھا فإذا رأھا الناس آمن إیمانھا لم تکن آمنت من قبل)

“قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج مغرب سے نہ طلوع ہو جائے۔ اور جب لوگ اسے دیکھیں گے، تو اس پر ایمان لے آئيں گے۔ لیکن یہ وہ وقت ہوگا، جب ان کا ایمان انہیں کوئی نفع نہ دےگا۔ جو پہلے سے ایمان نہ لائے ہوں۔”

اسی طرح عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(إن اللہ عز وجل یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغر)

“اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے، جب تک اسے غرغرہ شروع نہ ہو۔امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ اور غرغرہ شروع ہونے کے معنی یہ ہیں کہ جب تک روح حلق کو نہ پہنچ جائے، یعنی مرنے کا یقین نہ ہو جائے۔ مرنے کا یقین ہو جانے کے بعد اللہ کی نظر میں توبہ کی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی ہے۔

ارشاد باری ہے ( وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآَنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ) [النساء: 18]

“ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی، اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھے ہیں۔”

یہ آیت صریحاً اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ موت کے وقت کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ توبہ آدمی کی ابدی سعادت اور دنیا وآخرت دونوں میں اس کے لیے خوشگوار زندگی کا ضامن ہے۔ ارشاد باری ہے:

( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) [النحل: 97]

“جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔”

قرآن کریم کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ نیک عمل وہ ہے جس میں تین شرطیں پائی جائیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے موافق ہو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ) وَمَا آَتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ) [الحشر: 7]

”اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ۔”

دوسری شرط یہ ہے کہ وہ عمل خالص اللہ کے لیے ہو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ( وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ) [البينة: 5] "انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لیے دین کو خالص رکھیں۔"

تیسری شرط یہ ہے کہ صحیح عقیدے کی اساس پر مبنی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ( وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ ) [غافر: 40]

“اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان والا ہو۔”

جس نے بھی نیک عمل کیا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو،اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان کے ساتھ مقید کیا ہے۔ اس کامفہوم مخالف یہ ہوا کہ اگر وہ مومن نہیں، تو اس کا یہ عملِ صالح قابل قبول نہ ہوگا۔سنت کی پابندی اخلاص اور ایمان یہ تینوں چیزیں توبہ ہی کے نتا ئج وثمرات میں سے ہیں۔ تو بہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے:

( إِلَّا مَنْ تَابَ وَآَمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ) [الفرقان: 70]

”سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔”

توبہ واستغفار سے اللہ کی رضا، اس کی مغفرت وبخشش حاصل ہوتی اور جنت ملتی ہے۔

ارشاد باری ہے:

( وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ ١٣٥ أُولَئِكَ جَزَاؤُهُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ) [آل عمران: 135 - 136]

” جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناه کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، فی الواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟ اور وه لوگ باوجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے۔ انہیں کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وه ہمیشہ رہیں گے، ان نیک کاموں کے کرنے والوں کا ثواب کیا ہی اچھا ہے۔”

آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب ان سے کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو وہ فورا ً توبہ واستغفار کرتےہیں۔

امام احمد نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے گناہ کیا، پھر اس نے اللہ سے یوں دعا کی کہ: اے میرے پروردگار! میں نے گنا ہ کر لیا ہے، تو اسے بخش دے۔ اس پر اللہ عز وجل فرماتا ہے: میرے بندے نے گنا ہ کیا، تو اسے اس کا علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ کو بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے۔ میں نے اس کے گناہ کو بخش دیا۔ پھر وہ دوسرا گناہ کرتا ہے، پھر کہتا ہے: پروردگار! میں نے گناہ کیا، تو اسے بخش دے۔ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ پھر فرماتا ہے: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ کوبخشتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے۔ میں نے اس کے گناہ کو بخش دیا۔ اس کے بعد پھر وہ گناہ کرتا ہے، اور پھر کہتا ہے: اے میرے پروردگار ! میں نےگناہ کیا، تو اسے بخش دے۔ اس پر پھر اللہ عز وجل فرماتا ہے: میرے بندہ کومعلوم ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو گنا ہ کو بخشتا ہے اور اس پر گرفت کرتا ہے۔ میں تم سب کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ وہ جو چاہے کرے۔ اس حدیث میں گنہ گاروں کے لیے زبردست خوشخبری ہے۔

اس لیے میرے بھا ئیو! گنا ہوں پر توبہ واستغفار کرتے رہو، اور یقین رکھو کہ اللہ ‏گنا ہوں کو ضرور بخش دےگا۔ شرط یہ ہے کہ سچے دل سے توبہ واستغفار ہو۔

اخیر میں اللہ تعالی ٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سچی توبہ کی توفیق بخشے، اور اپنی مغفرت وبخشش اور اپنی جنت کا ہمیں مستحق بنائے۔

أقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم ولسائر المسلمین، فاستغفروہ إنہ ھو الغفور الرحیم۔