عورتوں کی بےپردگی اور اظہار زینت کے مفاسد

تفصیل

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں عورتوں کو پردہ کرنے اور اپنے گھروں کو لازم پکڑنے کا حکم دیا ہے اور بےپردگی اور مردوں سے لچکیلے انداز سے بات کرنے سے ڈرایا ہے تاکہ وہ فتنہ و فساد اور اس کے اسباب سے بچی رہیں۔ عورت کی بےپردگی ایسی برائی ہے جو دوسری عورتوں کو بھی بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ عورت کا محافظ اس کا حجاب اور اس کی حشمت ہے۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!

یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر شرک کے دروازے بند کر دیے ہیں اور ان کے لیے بچاؤ کا پردہ ڈال دیا ہے۔ اب جو بھی وہ پروہ ہٹا ۓگا یا اس کو چاک کرےگا وہ گناہ اور معصیت کے کام میں جاپڑےگا۔

إذا المرأ لا یلبس ثیابا من التقی

جرد عریانا وإن کان کاسیا

وخیر خصال المرء طا‏عۃ ربہ

لاخیر فیمن کان للہ عاصیا

آدمی جب تقویٰ کی پوشاک نہ پہنے ہو تو وہ ننگا ہی رہےگا، چاہے وہ بہ ظاہر پوشاک ہی میں کیوں نہ ہو۔آدمی کی سب سے اچھی خصلت اپنے رب کی اطاعت ہے۔ اللہ کے نافرمان بندے میں کوئی خیر وخوبی نہیں ہوتی ہے۔

اہل علم کے نزدیک بچاؤ کے اس طریقے اور باب کو “باب الذرائع “ کا نام دیا جاتا ہے اور عام زبان میں اس کی مثال یوں دی جاتی ہے کہ جس راستے سے تم تک بدبو آتی ہو اس کو بند کر دو اور راحت کی سانس لو۔

ذرائع جمع ہے ذریعہ کا ۔ ذریعہ لغت میں کسی چیز تک پہنچانے والے راستہ کو کہا جاتا ہے۔ غایت ومقصد اگر کوئی شرعی مصلحت ہوتو ذرائع کا باب کھلا رہتا ہے اور اگر کوئی مفسدہ یا خرابی ہو تو پھر اس دروازہ کو بند کر دیا جاتا ہے۔

میرے بھائیو! آپ حضرات سے یہ مخفی نہیں کہ عورتوں کی بےپردگی اور اظہار زینت کی وبا کس قدر عام ہو گئی ہے۔ حالانکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر اپنے شوہر کے علاوہ کے لیے اظہار زینت و بےپردگی کو حرام قرار دیا ہے اور اسے معاشرہ کے بگاڑ وفساد کا ایک اہم ذریعہ بتایا ہے۔ جس زنیت کے اظہار کو اللہ نے ان کے لیے حرام قرار دیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بڑے منکرات اور ظاہر وباہر گناہ کے کاموں میں سےہے۔ اس سے اور بھی زیادہ بگاڑ وخرابی پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ عذاب وعقاب کو دعوت دینے کا اہم سبب ہے۔

ارشاد باری ہے:

( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ) [الأحزاب: 59]

“اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔”

جلابیب، جلباب کی جمع ہے۔ یہ اس چادر کوکہا جاتا ہے جسے عورت پردہ کے لیے اپنے سرپر ڈالتی ہے۔ اللہ نے مومن عورتوں کو بال اور چہرہ وغیرہ محاسن کو چھپانے کے لیے چادر اپنے اوپر اوڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔ تاکہ عفت وپاکدامنی سے ان کی پہچان ہو۔ تاکہ نہ وہ خود بھی فتنہ میں پڑیں اور نہ مردوں کو فتنہ میں ڈالیں۔

لہذا اے مسلمانو!اللہ سے ڈرو۔ اپنی عورتوں کو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے دور رکھو اور انہیں پردہ وحجاب کے ساتھ باہر نکلنے کی تاکید کرو اور اللہ کے غیظ وغضب اور اس کے عقاب وعذاب سےبچو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: لوگ جب منکر کو دیکھ کر اسے نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ ان پر اپنا عذاب عام کر دے۔

ارشاد باری ہے:

( لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ ٧٨ كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ) [المائدة: 79]

“ بنی اسرائیل میں سے کافروں کو حضرت داود وعیسیٰ علیہما السلام کی زبان سے لعنت کی گئی۔ یہ اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھے جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقیناً وہ بہت برا تھا۔”

مسند احمد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آيت تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ وقدرت میں میری جان ہے، تم بھلائی کا حکم دوگے اور برائی سے روکوگے، بےوقوف ونادان انسان کی گرفت کروگے اور حق پر ایک دوسرے کو ابھاروگے، یا پھر اللہ تمہارے دلوں کو ایک دوسرے کے خلاف کردےگا۔ پھر تم پر اسی طرح لعنت کرےگا۔ جیسے ان (یہود ونصاری) پر لعنت کی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: تم میں جو کسی منکر کو دیکھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے ہی اس کو برا جانے۔

اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو شرعی حجاب کا حکم دیا ہے۔ عورت کی اور اس کے بعد معاشرہ وسماج کی حفاظت میں ان کو اظہار زینت سے منع فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اندر عورتوں کو پردہ کرنے، ان کے گھروں میں رہنے، اظہار زینت سے بچنے اور فساد وخرابی سے خود کو بچانے اور اپنے کو اسباب فتنہ سے دور رکھنے کے لیے مردوں کے ساتھ پست آواز میں بات کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا :

( يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا ٣٢ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآَتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ) [الأحزاب: 32 - 33]

“اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وه کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو۔ اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔”

اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، امہات المؤمنین جو ساری عورتوں میں سب سے بہتر اور سب سے پاکباز ہیں، کو مردوں سےنرم گفتگو کرنے سے منع فرمایا ہے تاکہ جس کے دل میں شہوت زنا کا مرض یا بدنیتی ہو ان کو اقدام گناہ کا موقع نہ مل سکے۔ ساتھ ہی ان کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا اور زمانۂ جاہلیت کے تبرج (اظہار زینت ومحاسن، جیسے سر، گردن، سینہ، بازو، پنڈلی وغیرہ کو کھول کر رکھنے) سے منع فرمایا ہے، کیوں کہ اس میں بڑی خرابی، بڑا فتنہ اور مردوں کے دل کو اسباب زنا کی طرف لے جانے کا خطرہ ہے۔

اور اللہ تعالیٰ جب امہات المؤ منین کو، ان کی صلاح وایمان اور طہارت و پاکیزگی کے باوجود، ان منکر چیزوں سے روک رہا ہے تو دوسری عورتیں ان چیزوں کے تعلق سے تحذیر وانکار اور اسباب فتنہ کو لے کر ان اندیشوں کی اور کہیں زیادہ حقدار ہیں۔ اللہ ہمیں اور آپ سب کو فتنوں سے محفوظ رکھے۔ امہات المؤ منین اور دیگر عورتوں کے لیے بھی عموم حکم کی دلیل اس آیت کے اند ر ہے:

( وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآَتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ) [الأحزاب: 32]

“نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔ “

یہ تمام اوامر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے ساتھ دوسری عورتوں کے لیےبھی عام ہیں۔

ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ) [الأحزاب: 53]

“جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے کامل پاکیزگی یہی ہے ۔”

مردوں سے پردہ کرنے اور ان سے اپنے آپ کو چھپانے کے وجوب کی ایک واضح دلیل اس آیت میں موجود ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے اندر واضح فرمایا ہے کہ پردہ کرنا مردوں اور عورتوں کے دل کے لیے زیادہ بہتر ہے اور فحش اور بےحیائی کے کام سے بہت دور رکھنے والا ہے۔ ساتھ ہی اللہ نے اشارہ فرمایا ہے کہ اظہار زینت اور بےپردگی نجاست اور گندگی ہے، جبکہ پردہ طہارت وپاکیزگی ہے۔

شرعی پردہ وحجاب میں آٹھ شرطوں کا پایا جا ناضروری ہے ۔

پہلی شرط: یہ عورت کے پورے بدن کے لیے ساتر ہو،کیونکہ فرمان باری تعالی ٰ ہے:

( يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ) [الأحزاب: 59]

“وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔”

جلباب اس پورے کپڑے کو کہا جاتا ہے جو پورے بدن کو ڈھانپ لے۔ يُدْنِينَ کا مصدر ادناء ہے جس کا مطلب ہے ڈالنا اور گرانا۔ اس طرح شرعی لباس وہ ہے جو پورے بدن کو ڈھانپ لے۔

دوسری شرط:یہ ہے وہ شوخ اور بھڑکیلا نہ ہو کہ مردوں کی نظر اس کی طرف خود بخود اٹھے۔ ارشاد باری ہے:

( وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ) [النور: 31]

“اور اپنی زینت کوظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو خود ظاہر ہو جائے۔”

(جو خود ظاہر ہو جائے) کا مطلب ہے کہ جو بےقصد وارادہ ظاہر ہوجائے۔ اس لیے جو شوخ اور بھڑکیلا ہو اس کا پہننا اور اوڑھنا جائز نہیں، اور نہ ہی اس کو حجاب کہا جائےگا۔ کیوں کہ حجاب وہ ہے جو زینت کو نہ ظاہر ہونے دے۔

تیسری شرط: یہ ہے کہ وہ دبیز اور موٹا ہو، جس سے عورت کا جسم نہ جھلکتا ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: دو قسم کے لوگ جہنمی ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا: ایک وہ جماعت جس کے پاس گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے۔ اور دوسری ان عورتوں کی جماعت جو بظاہر کپڑا پہنے ہونگی لیکن وہ ننگی ہوں گی۔ دوسروں کو مائل کرنے والی اور خود بھی مائل ہونے والی ہوں گی یہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گی۔ جبکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی دوری سے ہی محسوس ہوگی۔

چوتھی شرط:یہ ہے کہ یہ ڈھیلا ڈھالا ہو، اتنا تنگ نہ ہو کہ جسم کے اعضاء نمایاں ہوں۔ کیوں کہ کپڑے کا مقصد ہے فتنے کا سدباب۔ جو صرف ڈھیلے ڈھالے کپڑے سے ہی حا صل ہو سکتا ہے۔ تنگ کپڑا اگر بدن کے اوپری حصہ کے رنگ کو چھپا بھی لے تو عورت کے جسم کی ساخت اس سے نہیں چھپتی۔

حضرت اسامہ بن زید کے لڑکے سے روایت ہے کہ ان کے والد اسامہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک باریک قسم کی قبطی چادر اوڑھائی جو دحیہ کلبی نے آپ کو ہدیہ میں دی تھی۔ وہ میں نے اپنی بیوی کو پہنا دی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا کہ تم وہ چادر کیوں نہیں استعمال کرتے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ میں نے اپنی بیوی کو پہنا دی۔ تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اس سے کہو کہ اس چادر کے نیچے استر رکھ لیا کرے۔ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ عورت کی ہڈیوں کے ڈھانچہ کو نمایاں نہ کرے۔

پانچویں شرط:یہ ہے کہ اس میں خوشبو نہ لگی ہو۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بہت ساری احادیث وارد ہیں جو عورتوں کو خوشبو لگا کر باہر نکلنے سے منع کرتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت خوشبو لگا کر لوگوں کے پاس سے گذرے تاکہ اس کی خوشبو وہ پائیں تو وہ زانیہ ہے۔

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت ان کے پاس سے خوشبو لگا کر گذری تو انہوں نے پوچھا کہ اے فلاں کی ماں! مسجد جار ہی ہو کیا؟ اس نے جواب دیا: ہاں! انہوں نے پوچھا کہ اسی کے لیے خوشبو لگائی ہے؟ جواب دیا کہ ہاں! اس پر انہوں نے کہا کہ واپس جاýؤ اور غسل کرو، کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا: جو بھی عورت خوشبو لگا کر مسجد کی طرف نکلے تو اللہ اس کی نماز اس وقت تک قبول نہیں فرمائےگا، جب تک کہ وہ اپنے گھر جا کر غسل نہ کر لے۔

چھٹی شرط:عورت کا لباس مرد کے لباس کی طرح نہ ہو۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی پوشاک پہننے والے مرد پر اور مرد کی پوشاک پہننے والی عورت پر لعنت بھیجی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جائز نہیں کہ عورت کا لباس مرد کے لباس جیسا ہو۔

ساتویں شرط:عورت کا لباس کافر عورتوں کے لباس جیسا نہ ہو۔ کیوں کہ شریعت میں یہ طے شد ہ ہے کہ مسلمان مرد وزن کے لیے کافروں کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ خواہ وہ عبادات ميں ہو یا عید اور تہوار میں یا ان کے ساتھ خاص لباس وپوشاک میں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بعثت تلوار کے ساتھ ہوئی ہے یہاں تک کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت ہونے لگے۔ میری روزی نیزہ کے سایہ تلے رکھی گئی ہے اور میری مخالفت کرنے والے کے لیے ذلت ورسوائی ہے اور جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ اسی میں سے ہوگا۔ اس لیے مسلم خواتین کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مغربی پوشاک والے فیشن ڈریس اور کافروں والا لباس پہنیں۔

آٹھویں شرط:یہ ہے کہ شہرت کا لباس وپو شاک نہ ہو۔ جس سے مقصد لوگوں کے درمیان پروپیگنڈہ ہو۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ جو دنیا میں شہرت (اشتہار ، پروپیگنڈہ) والا کپڑا پہنےگا، تو اللہ تعالیٰ اسےقیامت کے دن ذلت کی پوشاک پہنا ئےگا۔ پھر اس میں آگ سلگا دےگا۔

اس لیے ہر مسلمان کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے لباس میں ان شرطوں کا خیال رکھے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم سب ذمہ دار ہو اور تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحت کے بارے میں جوابدہ ہوگا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے مومنو!اپنے آپ کو اور اپنے افراد خانہ کو جہنم سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے، اس پر سخت قسم کے فرشتے موجود ہوں گے جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے ہیں وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم ہوتا ہے۔ مرد وزن کا ایک دوسرے کو گھور کر دیکھنا بھی فتنہ ہے۔ اسی لیے دونوں کو نظریں جھکا کر چلنے کی تاکید آئی ہے۔ ارشاد باری ہے:

( قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ٣٠ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آَبَائِهِنَّ أَوْ آَبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [النور:30 - 31]

“مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں۔ یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔اور مسلمان عورتوں سے بھی کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔”

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیتوں میں مومن مرد اور مومن عورتوں کو نگاہیں جھکا کر رکھنے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ حکم صرف زنا کی فحاشی اور اس سے پیدا ہونے والی خرابی وبگاڑ کے سبب دیا گیا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ نظر دل کی بیماری اور فحش کام میں پڑنے کا ایک اہم سبب ہے اور نظر جھکا کر چلنا اس سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے۔

اسی لیے نگاہ نیچی رکھنا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنا مومنوں کے لیے دنیا وآخرت دونوں جہاں میں بہتر ہے۔ جبکہ نگاہ کو اور شرمگاہ کو بےقابو رکھنا دنیا وآخرت دونوں جہاں میں ہلاکت وبربادی کے اسباب میں سے ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

( يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ ) [غافر: 19]

“وه آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے۔”

اور ایک جگہ فرماتا ہے:

( وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآَنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ) [يونس: 61]

“اور آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو۔ “

اس لیے ہم پر واجب ہے کہ ہم اپنے رب سے ڈریں اور اس بات سے شرم کریں کہ وہ ہمیں گناہ کے کام میں مشغول دیکھے۔

اللہ نے مومن عورتوں کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد باری ہے:

( وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ ) [النور: 31]

“مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں۔”

اللہ نے مومن عورتوں کو اسی طرح نگاہ جھکا کر رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے کاحکم دیا ہے،جیسے مومن مردوں کو حکم دیا ہے جس میں ان کی اسباب فتنہ سے حفاظت بھی ہے، اورعفت وپاکدامنی کے اسباب اپنانے کی ترغیب بھی ہے۔

آج عورتیں حد درجہ زیب وزینت کی نماýئش اور اظہار میں لگی ہوئی ہیں۔ اس لیے فساد وبگاڑ اور فحاشی وبےحیائی کو عام کرنے والے اسباب وذرائع کا سد باب اور ان کی روک تھام ضروری ہے۔ فساد وبگاڑ کے اہم اسباب میں سے مردوں کی عورتوں کے ساتھ خلوت اور بغیر محرم کے ان کے ساتھ سفر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :

“لا تسافر إمرأۃ إلا مع ذی محرم ولا یخلون رجل بإمرأۃ إلا ومعھا ذو محرم”

“کوئی عورت کسی محرم کے بغیر سفر نہ کرے اور کوئی مرد کسی عورت سے بغیر اس کے محرم کے خلوت میں نہ ملے۔ اور آپ نے فرمایا: کوئی مرد جب کسی عورت سے خلوت میں ملتاہے، تو شیطان دونوں کے بیچ میں تیسرا ہوتاہے۔ اورر آپ نے فرمایا:

“لا یبیتن رجل عند إمرأۃ ثیب إلا أن یکون ناکحا أو ذا محرم” (مسلم: 2171)

“کوئی مرد کسی عورت کے پاس رات نہ گذارے اِلا یہ کہ وہ شوہر ہویا اس کارشتہ دار۔”

برادران اسلام!اللہ سے ڈرو۔ اپنی عورتوں کو اظہار زیب وزینت اور محاسن کی نمائش میں دشمنان خدا کی مشابہت اختیار کرنے سے روکو۔ اوریہ جان لو کہ ان (کی حرکتوں) پر خاموشی گناہ ہے جو غضب الہٰی کو دعوت دیتا ہے۔ اللہ ہم کو اور آپ کو اس کے شر سے بچائے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: میں نے اپنے بعد والوں کے لیے عورتوں سے زیادہ کوئی خطرناک فتنہ نہیں چھوڑا اور آپ نے فرمایا: دنیا شیریں وشاداب ہےاور اللہ وہاں تم کو جانشین بنا کر دیکھ رہا ہے کہ تم سب کیا کرتے ہو؟ اس لیے اللہ سے ڈرو۔عورتوں سے بچو،کیوں کہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں ہی کے بارے میں تھا۔

اور فرمایا:

“رب کاسیۃ فی الدنیا عاریۃ فی الآخرۃ”

“دنیا میں بہت سی بظاہر تن پوش آخرت میں حقیقتاًننگی ہوں گی۔

اور فرمایا : دوقسم کے جہنمیوں کو میں نے دیکھا ایک وہ جو بظاہر تن ڈھانکی ہوئی عورتیں ہیں مگر درحقیقت ننگی اور مائل ہونے والی اور مائل کرنے والی ہیں۔ ان کے سربختی اونٹ کے کوہان کی طرح ابھرے ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی۔ اور دوسری قسم ان لوگوں کی ہوگی جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے ان سے وہ لوگوں کو ماریں گے۔ تنگ کپڑےپہننے اور جسمانی محاسن کو ظاہر کرنے کافروں اور فاسقوں کے طرز پر بال کٹوانے وغیرہ جیسے کام میں عیسائیوں اور دوسری کافر عورتوں کی مشابہت ہوتی ہے۔ مسلمان عورتوں کا ان کی روش اختیار کرنا فساد اور بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“من تشبہ بقوم فھو منھم”

“جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ اسی میں سے ہے۔”

ایسی مشابہت جو تنگ کپڑوں کےسبب عورت کوننگی جیسی بنا دے۔ اس سے خود بچنا اور اپنی اولاد کو بچانا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں تو چھوٹی بچیوں کے ساتھ غفلت وتساہل قطعا نہیں برتی جانی چاہئے کیوں کہ اس طرح سے ان کی تر بیت ان کو اس کا خوگر بنا دےگی۔

رؤساء وحکام اور علماء وائمہ حضرات کی ذمہ دای ہے کہ وہ بے پردگی اور بے حیائی کے مفاسد اور اس کی خرابیوں سے لوگوں کو آگاہ کریں اور ان کے مفاسد سے انہیں ڈرائیں۔

اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے بچو۔ نیکی اور تقویٰ کے کام میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔حق کی وصیت اور اس پر صبر کرنے کی تلقین کرو۔ یہ بھی جانتے چلو کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں تم سے پوچھےگا۔ اور وہ صبر کرنے والوں، تقویٰ شعاروں اور اچھائی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس لیے، صبر کرو۔ اللہ سے ڈرو اور اچھا کام کرو۔ اللہ اچھے کام کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رؤساء وحکام، علماء وائمہ اسی طرح تنظیموں کے صدور اور ممبران پر دوسروں سے کہیں زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے چپ رہنے سے بہت سے فتنے اور مفاسد پھیلتے اور فروغ پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی صرف نکیر کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ اس سلسلے میں سختی کرنا اور اس بارے میں نرمی برتنے والوں کے ساتھ سخت رویہ اپنانا ضروری ہے۔ تاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اس مصیبت کو ہم سے ٹال دے۔ ہمیں اورہماری خواتین کوسیدھی راہ پر چلائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ نے کوئی ایسا نبی نہیں مبعوث فرمایا، جن کے لیے انہی کی امت سے کچھ حواری اور ساتھی نہ رہے ہوں جو ان کے طریقے کو اختیار کرتے اور ان کےحکم پر عمل کرتے۔

خواتین اسلام کے نام پیغام:

اے دخترانِ اسلام! اللہ سے ڈرو اور بن ٹھن کر بازاروں میں ہرگز نہ نکلو۔ کمزور ایمان والوں کے ہاتھوں کھلونا بننے سے خود کو بچاؤ۔ اپنی عزت وناموس کی حفاظت کرو، اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرو، انہیں نماز سکھاؤ، پاکیزہ خصلتوں کا عادی بناؤ۔

اخیر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پاکیزہ زندگی گزارنے کی توفیق دے، اور ہر طرح کے فتنوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔ وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔