شراب ومنشیات اور جوانی کی تباہی میں اس کا کردار

تفصیل

آج امت کی نوجوان نسل کے لیے سب سے مہلک اور خطرناک چیزوں میں نشہ آور چیزیں ہیں۔ یہ صحت اور عقل دونوں کوبرباد اور انسان کو غلط کاریوں میں مبتلا کردیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل وفہم سے نوازاہے۔عقل انسان کو دی جانے والی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ہے۔ اسی سے وہ خیر وشر کے اور مفید اور مضر کے درمیان فرق کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام عقل کی حفاظت کا شدید خواہاں ہے۔ اسی وجہ سے اس نے شراب اور تمام نشہ آور چیزوں کو اور ہراس چيز کو حرام قرار دیا ہے جو اسے اس کے وظیفےسے غافل کر دے۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

فقد قال اللہ تبارک و تعالیٰ فی کلامہ المجید، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔

( وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آَدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا ) [الإسراء: 70]

“یقینا ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی”

اللہ عزوجل نے انسان کو بہت ساری خوبیوں سے نوازا ہے، جن کے سبب وہ جمادات وحیوانات اور نباتات نیز جن وغیرہ جیسی بہت ساری مخلوقات سے ممتاز ہے ۔ اللہ نے انسان کو عقل وشعور اور فہم وتدبیر سے نوازا، عقل انسان کے لیے اللہ کی نعمتوں میں سے ایک اہم نعمت ہے، جس سے وہ خیر وشر میں تمیز وفرق کرتا ہے۔ نفع ونقصان کو سمجھتا ہے۔ اسی سے وہ اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اسی سے وہ امور ومسائل میں غور وفکر کرتا ہے، اسی سے وہ فائدہ اٹھا تا ہے۔ اسی سے قومیں عروج پر جاتی میں اور زندگی کو فروغ ملتا ہے۔ عقل ایک قیمتی جوہر ہے۔ عقلاء واہل دانش اس کی فضیلت واہمیت کے اعتراف اور خسارہ ونقصان کے خدشہ سے اس کی حفاظت ورعایت کرتے ہیں۔

انسان جب عقل وشعور کھو دیتا ہے تو وہ اپنے اور حیوانات وجمادات کے بیچ فرق نہیں کرپاتا ہے۔ جو عقل وشعور سے ہی محروم ہواس میں بھلا کیا فائدہ؟ بلکہ وہ اپنے گھرانہ اور معاشرہ وسماج کے لیے ایک بوجھ ہے۔ یہ بیش قیمت نعمت عقل جو انسان کو ملی ہے اگر اس کی حفاظت نہ کرے اور اسے خود ہی ضائع وبرباد کر دے تو اس سے زیادہ بدنصیب اور محروم شخص کوئی نہیں۔

شرابی جب شراب کا جام لڈھاتا یا کسی نشہ آور چیز کی گھونٹ لیتاہے، یا کوئی نشہ آور ناک سے لیتا ہے تو وہ اپنی عقل کھو دیتا ہے اور انسا نیت کے دائرہ سے نکل جاتا اور جرم وبے حیائی کا لبادہ اورڑھ لیتا ہے ۔ پھر تو زندگی ہی بیکار ہوجاتی اور نشہ کا شکار(انسان) اپنے رب کو بھول جاتاہے، وہ اپنے پر ہی ظلم کرتاہے، حیا کا دامن چاک کر ڈالتا ہے اور بسااوقات یہی چیز اس کی موت کا سبب بن جاتی ہے۔ اس طرح وہ اپنے بچوں کو یتیم وبےسہارا اور اپنی بیوی کو بیوہ بنا ڈالتا ہے ۔ اس طرح سےوہ پانچوں میں سے ایک ضرورت کو نظر انداز کردیتا ہے جس کی حفاظت پر تمام آسمانی ادیان وشریعت کا اتفاق ہے، اور وہ ہے عقل کی ضرورت۔ نشہ آور اشیاء یا منشیات کے استعمال کے سبب اپنی عقل وشعور سے محروم انسان اپنا اور معاشرہ کا بھی برا کرتا ہے، اپنی قوم وملت کو رسوا کرتا، امن وامان میں خلل ڈالتا اور اپنے معاشرہ کو ہرا ساں کر دیتا ہے۔ منشیات کا استعمال کرنے والے اپنے زیر اختیار معاملہ اور اپنی عقل وشعور پر قابو نہیں رکھ پاتے۔

اسلامی ممالک میں مخدرات ومنشیات کی وبا دشمنوں کی چال ہے۔ عقلمند لوگ اپنی عقل وشعور کا خیال رکھتے ہیں اور اسے ایک انمول نعمت سمجھتے ہیں ۔

کمزور عقل والے، دشمنوں کی مہلک پیش کش اور مفسددلالوں کی لانچ کردہ چیزوں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں یہ سب مخدرات ومنشیات کی مصیبتیں مسلمانوں میں بھی پہنچ گئی ہیں اور وہ اپنے مقصد وغایت سے غافل وبےخبر ہیں ادھر دشمنوں کو مسلمانوں کے اندر گھسنے کا راستہ تو معلوم ہی ہے۔

اللہ تعالی ٰ نے فرمایا:

( وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا ) [البقرة: 217]

“یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہوسکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کر دیں۔”

تعجب تو اس پر ہوتا ہے، جو کوئی اپنے ہی مال سے اپنے ہی حق کا نقصان دہ سامان خریدتا ہے۔ شرابی اور منشیات کا خوگر آخر ان لوگوں سے سبق کیسے نہیں لیتا، جو دوسرے شرابیوں کی وجہ سے مصیبت میں پڑے، اور اس نے ان کو برباد کرکے رکھ دیا ۔

اور ایسا آدمی خود کوعقلمندوں اور شریفوں کی جماعت سے الگ کرکے پا گلوں اور بےعقل والوں سے جاملتا ہے۔ حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ اگر عقل کی خرید وفروخت ہوتی تو لوگ اس کی قیمت خوب لگاتے۔ تو پھر آخر کوئی اپنی عقل کو خود ہی خراب کیونکر کرتا ہے۔ یہ ایک مصیبت ہے جو مسلمانوں کے بچوں کے سرآ گئی ہے۔ ہم اللہ سے ہدایت کی دعاء کرتے ہیں۔ ماکولات یا مشروبات یا اور دیگر چیزیں جو انسان کی عقل کو ختم کر دیتی یا اس میں فتور پیدا کر دیتی ہیں بھی اسی قبیل کی ہوں گی اور وہ حرام ہوں گی۔

شراب کی حرمت پر شرعی نصوص :

قران مجید میں فرمان الہٰی ہے:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) [المائدة: 90]

“اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر، یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔”

اس آیت کریمہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ شراب نجس عین ہے، کیوں کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ وہ رِجس ہے، جو عربی زبان میں ہر اس گندگی کو کہا جاتا ہے جس کو نفس گوارا نہ کرے۔ بلکہ صحابہ کرام نے تو آیت سے یہ سمجھا کہ شراب صرف حرام ہی نہیں بلکہ وہ اس شرک کے برابر ہے، جو ان گناہوں میں سب سے بڑاگنا ہ ہے جن کا انسان ارتکاب کرتا ہے ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اصحاب نبی ایک دوسرےکے پاس گئے اور کہنے لگے: شراب حرام اور شرک کے برابر گناہ قرار دی گئی ہے۔(طبرانی۔ رواۃ صحیح ہیں ) اور یہ اس لیےکہ اللہ تعالیٰ نے شراب کے بارے میں فرمایا: (رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ) “ شیطان کا گندہ کام” اور شرک کے بارے میں فرمایا: (فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ) “ بتوں کی گندگی سے بچو۔”

شراب سے اجتناب :

شراب کی حرمت اور اس سے اجتناب اور اس کے استعمال کرنے یا اس کے قریب پھٹکنے کی سخت مذمت پر قرآن اور حدیث میں بہ کثرت دلائل موجود ہیں۔ شراب ضلالت وگمراہی کا اشاریہ اور فواحش ومنکرات کا عنوان ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا کہ عبد الرحمن بن وعلہ نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے شراب کی خرید وفرخت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ قبیلہ ثقیف یا دوس کا ایک شخص دوست تھا، چنانچہ وہ آدمی فتح مکہ کے دن آپ کو شراب کا مٹکا ہدیہ دینے کے لیے آپ سے ملا تو آپ نے فرمایا : اے فلاں! کیا تم کو نہیں معلوم کہ اللہ نے شراب کو حرام قرار دیا ہے؟ پھر وہ آدمی اپنے غلام کے پاس آکر کہا کہ جاؤ اس کو بیچ دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے فلاں! اسے کیا حکم دے رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے اسے شراب بیچ دینے کے لیے کہا ہے۔ تب آپ نے فرمایا : جس نے شراب کو حرام قرار دیا ہے، اسی نے شراب کی خرید وفروخت بھی حرام کردی ہے ۔ پھر میں نے اس کو حکم دیا تو بطحاء میں جا کر اس کو بہا دیا۔ (مسلم)

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :شب اسراء میں ایلیاء (جگہ) پر آپ کے پاس شراب اور دودھ کے دو پیالے لائے گئے، آپ نے دونوں کو دیکھا اور دودھ کا پیالہ لیا جس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا: “الحمد للہ الذی ھداک للفطرۃ، ولو أخذت الخمر غوت أمتک”

“شکر ہے اس ذات کاجس نے آپ کو فطرت کی رہنمائی کی، اگر آپ شراب لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔” (بخاری)

اور ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: شراب کے سلسلے میں اللہ نے دس لوگوں پر لعنت بھیجی ہے: شراب نچوڑنے اورنچوڑوانے والے پر، پینے اور پلانے والے پر، بیچنے اورخریدنے والے پر، اٹھانے اور پہنچائے جانے والے پر، اس کی قیمت کھانے اور وہ جس کے لیےخریدی گئی ہے اس پر یہ سب کے سب بزبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ملعون ہیں۔

شراب اورمخدرات ومنشیات کی قلت وکثرت دونوں کی حرمت میں بڑی حکمت پنہاں ہے کیوں کہ کسی چیز کا کم حصہ زیادہ کی طرف لے جانے کا سبب ہو تا ہے۔ پھر یہی خوگر بناتا اور پھر ہمیشہ کا بادہ کش بنا دیتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ما أسکر کثیرہ فقلیلہ حرام) (أبوداود ونسائی)

“جس کا زیادہ مسکر ہے اس کا کم بھی حرام ہے۔”

حشیش وغیرہ جیسے جہنمی مخدرات کے ملعون درخت سے دور رہنا ضروری ہے جو استعمال کرنے والے کے بدن اور عقل وشعور کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں اور جس سے وزن خراب ہوتا ہے۔ استعمال کرنے والے کی قوت وطاقت اور عزم وارادہ میں کمی آتی ہے۔ یہ جام لڈھانا بصارت وبصیرت دونوں سے محروم کردیتا ہے اور لوگوں کی نظر میں ایسے آدمی کو ناقص العدالہ اور برے کردار کا بنا دیتا ہے۔ ایسا آدمی بےحیرت واستعجاب ہنستا اور بلاسبب روتا ہے۔ اس کی آنکھیں یوں گھومتی رہتی ہیں جیسے کہ وہ جانکنی کی حالت میں ہوں۔

اسی طرح اسلام دشمنوں نے مخدرات ومنشیات کی کئی قسمیں بنا دی ہیں۔ اور ہیروئن سے گزر کر اب اسے عقل میں فتور ڈالنے والے نہایت نقصان دہ ٹیبلٹس کی شکل دے دی ہے، جو سب شیطان کے کام ہیں۔ اس لیے ان سے بچنا چاہئے۔

منشیات ومسکرات کے دینی نقصانات:

اللہ کے بندو!منشیات ومسکرات کے دینی نقصانات اس فرمان الہٰی میں مذکور ہیں:

( إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ ) [المائدة: 91]

“شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض ڈال دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آجاؤ۔”

چنانچہ مسکرات اور نشیلی چیزیں اس نمازسے روکتی ہیں جودین کا ستون ہے۔ ذکر الہٰی سے اور فرشتوں سے روکتی ہیں جیسا کہ بزار نے حضرت ابن عباس کی حدیث روایت کی ہے: (لا تقرب الملئکۃ سکران)

“ فرشتے نشہ میں آئے ہوئے انسان کے ساتھ نہیں ہوتے۔”

اور جب فرشتے اس سے الگ ہوجاتے تو شیطان ساتھ لگ جاتا ہے اور اسے اپنے ساتھ دیکھ کر قریب اور خوش ہوتا ہے۔ ان مخدرات کو ہمیشہ استعمال کرنے والے یا کبھی کبھی استعمال کرنے والے کو دیکھو گے کہ ہر طرح کی اطاعت ونیکی اس کے لیے گراں ہوتی ہے۔ بھلے کاموں سے دل اس کا پھرا ہوتا ہے اور محرمات کا دلدادہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کا دل گندگیوں سے آلودہ رہتا ہے۔ اس کے دین میں نقص وکمی ہوتی ہے اور اس کی حالت ہمیشہ خستہ ہوتی ہے ۔

مخدرات کے جسمانی نقصانات:

اللہ کے بندو!مخدرات اور نشہ آور اشیاء کے جسمانی نقصانات میں سے ہے کہ وہ دماغ کو خشک کر دیتی ہیں۔ انسان پر دورہ اور بےہوشی طاری کر دیتی ہے، دل کی دھڑکن بڑھا دیتی ہے، اعصاب میں تشنج پیدا کر دیتی ہے اور جوڑوں کو بھی شل کردیتی ہے۔ اسی طرح جریان خون کے نظام کو بھی محتل کر دیتی ہے۔ استعمال کرنے والے کے اندر خوف وہراس اور بےچینی پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا شخص ہر چیخ وپکار کو اپنے ہی خلاف سمجھتا ہے، ڈراؤنی چیزیں ہر چہار جانب سے اس کو گھیرلیتی ہیں، وہ برے انجام اور خراب ومہلک مرض سے ڈرتا رہتا ہے ۔

چنانچہ وہ ہرطرح کی خوبی وکمال سے محروم اور ہرطرح کی خرابی سے آلودہ ہوتا ہے۔ طرح طرح کے مخدرات ومنشیات سے متاثر ہو کر نہ جا نے کتنے جرائم کا ارتکاب ہوتاہے اور انسانی عقل وارادہ کے باقی نہیں رہنے پر کتنے فحش اور گناہ کے کا انجام پاتے ہیں کتنی حرمتیں پامال ہوتی ہیں کتنے مال چوری ہوتے ہیں، آمد ورفت کے کتنے حادثے ہوتے ہیں اور کتنے بےقصور مرد وزن کا اغوا ہوتا ہے یہ سب چیزیں مخدرات ومنشیات سے متا ثر ہونے کی وجہ سے اس سے سرزد ہوتی ہیں۔

اللہ کے بندو!دشمنان اسلام مومن کے تعلق سے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے، مسلمانوں اورجوانوں کو خصوصاً برباد کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے مخدرات ومنشیات کی تیاری میں وہ ایسا طریقہ اپناتے ہیں کہ ان کا حصول بڑوں سے پہلے چھوٹوں کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔

والدین اور سرپرست حضرات پر اس اہم معاملے کی بڑی ذمہ داری ہے کہ بچے ان مخدرات ومنشیات کا خاص نشانہ وہدف ہیں۔ اس لیے ان کی نگرانی آپ کی ذمہ داری ہے اسی طرح اخلاص اور سچی نیت کے ساتھ یہ دعا بھی کہ اللہ اس مہلک وبا سے ہم سب کو بچا ئے، اس وبا اور مصیبت کو ختم کرنے میں ایک دوسرے کو تعاون دینا ہی مضبوط ہتھیار ہے۔ اس خطرناک وبا کے سلسلے میں ہماری گفتگو نصیحت وخیرخواہی، تو جیہ وارشاد اور احتیاط برتنے کی بات بتانے کے طور پر ہے۔ ہمارے چاروں طرف دشمنان اسلام، اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے نیز مسلم جوانوں کو تباہی وبربادی کی راہ پر لگانے کی کوشش میں ہیں، اس لیے ان کے والدین پر ضروری ہے کہ وہ استقامت اور اصلاح نیز ہرطرح کے مضرونقصان دہ چیز سے دور رکھ کر ان کی تربیت کریں۔ ارشاد باری ہے:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ) [التحريم: 6]

“اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں۔”

اس لیے ہمارے اوپر جو ذمہ داریاں ہیں۔ وہ ہمیں پوری کرنی چاہئیں ۔

ہم اپنے ساتھ ساتھ اپنے بھائیوں، اپنے ملک وشہر اورمسلمانوں کی حرمتوں کی غیرت رکھنے والے سبھی حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ امن وامان کے ذمہ داروں کو اپنا تعاون دیں۔

ارشاد باری ہے:

( وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ) [المائدة: 2]

“نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم وزیادتی میں مدد نہ کرو۔”

یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور تعاون کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے ملک ووطن کی، ہمارے بچوں اور جوانوں کی اور ہماری نسل کی اس مہلک وبا سے حفاظت فرمائے۔ إنہ تبارک و تعالیٰ سمیع مجیب الدعوات۔

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا [الأحزاب: 56]

-----