تفصیل

رحمت اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے جس سے اپنے آپ کو اس نے متصف کیا ہے اور اپنے رسول کے دل میں بھی اس رحمت کو ودیعت فرمائی ہے۔ اور شریعت سازی میں اسے ایک نمایاں حیثیت دی ہے۔ جو بھی شریعت کے احکام میں غور وخوض کرےگا ہر شکل ومعانی میں رحمت کی جھلک اسے محسوس ہوگی۔ اور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں غور وخوض کرےگا اسے آپ کے اخلاق میں اس کے تمام روشن معانی کے ساتھ مجسم پاۓگا۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محد ثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ فی النار.

اللہ تعالیٰ رحمت کی صفت سے متصف اور ارحم الراحمین ہے۔

الرحمن الرحیم، اللہ تعالیٰ کے دو وصف ہیں اور اس کے اسمائے حسنیٰ میں سے دو ایسے نام ہیں جو مبالغہ کے طور پر رحمت سے مشتق ہیں۔ الرحمن میں الرحیم سے زیادہ مبالغہ ہے کیوں کہ رحمن دنیا کے اندر موجود تمام مخلوقات کو اور آخرت میں مومنوں کو شامل ومحیط رحمت والے کانام ہے۔ جب کہ الرحیم قیامت کے دن مومنوں کے لیے خاص رحمت والا ہے۔ اکثر علماء اسی رائے پر ہیں اس کے آثار رحمت سے ہم جیسے چاہتے ہیں بہرہ ور ہوتے ہیں اور اس کی رحمت کو شمار بھی نہیں کیا جاسکتا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ ) [فاطر: 2]

“اللہ تعالیٰ جو رحمت لوگوں کے لیے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کردے سو اس کے بعد اس کا کوئی جاری کرنے والا نہیں۔”

علامہ شنقیطی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آیت میں مذکور رحمت دنیوی واخروی دونوں قسم کی رحمتوں کو جو بھی اللہ اپنی مخلوق پر کرے، سب کو شامل ہے، مثلا مخلوق کے لیے بارش کی رحمت۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( فَانْظُرْ إِلَى آَثَارِ رَحْمَةِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ) [الروم: 50]

“پس آپ اللہ کی رحمت کے آثار دیکھیں کہ زمین کی موت کے بعد کس طرح اللہ تعالیٰ اسے زندہ کر دیتا ہے؟”

اور فرمان الہٰی:

( وَهُوَ ٱلَّذِي يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦ) [الأعراف: 57]

“اور وہی ہے جو اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وه خوش کر دیتی ہیں۔”

اور فرمایا:

( وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآَيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ ) [الأعراف: 156]

“میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻتے ہیں۔”

یہ رحمت، جو ہر شے کو عام ہے۔ رحمت عام ہے جس سے دنیا اور آخرت میں کوئی مخلوق الگ نہیں۔ چنانچہ تمام مخلوق ازروئے ایجاد وامداد رحمت الہٰی سے سرفراز ہے۔ اور آخرت میں اہل ایمان کے لیے جو رحمت نوشتہ ہے وہ رحمت خاص ہے۔

رحمت کی کوئی حد اور انتہا نہیں۔ اس لیے کہ یہ اس رحم والے کی صفت ہے جس کی اپنی کوئی حد نہیں۔ اور اس لیےبھی کہ اس کی رحمت سے کوئی چیز باہر نہیں جیسے اس کی قدرت وحکمت سے کوئی چیز باہر نہیں۔

ہم سب اللہ کے بندے ہیں ہم سے اللہ کا مطالبہ ہے کہ ہم اس کی مخلوق پر رحم کریں تاکہ اللہ بھی ہم پر رحم فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا: رحم کرو، تم پر بھی رحم ہوگا، اور بخش دو تمہیں بھی بخش دیا جائےگا۔ ان اصرار کرنے والوں کے لیے ویل ہے جو جانتے بوجھتے اپنے کیے پر مصر رہتے ہیں۔ (أحمد وطبرانی)

جب ہم اس عمدہ خصلت سے آراستہ ہوں گے۔ تو ہم دنیا وآخرت دونوں میں اللہ کی رحمت کے مستحق قرار دیئے جائیں گے۔ اور اللہ دنیا اور آخرت دونوں میں ہم پر رحم فرمائےگا۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو سےمرفوعا روایت ہے :

“الراحمون یرحمھم الرحمن تبارک وتعالی، إرحموا من فی الأرض یرحمکم من فی السماء”

“ رحم کرنے والوں پر رحمن (اللہ) تبارک وتعالیٰ مہربان ہوگا۔ اس لیے جو زمین پر ہیں ان پر رحم کرو تم پر وہ ذات رحم کرےگی جو آسمان میں ہے۔” (أحمد، أبوداوýد، ترمذی وحاکم، امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے)

کرو مہربانی تم اہل زمین پر

خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر

اورحضرت جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا:

“من لا یرحم الناس لا یر حمہ اللہ عز وجل”

“جو لوگوں پر رحم نہیں کرےگا اس پر اللہ بھی رحم نہیں کرےگا۔”

رحمت الہٰی کی مختلف صورتیں:

اللہ نے انسانی مخلوق کو سب سے خوبصورت شکل وصورت میں پیدا کیا۔ بنی آدم کو عزت عطا کی۔ اور اسے اپنی بہت ساری مخلوقات پر فضیلت بخشی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ [التين: 4]

“یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔”

اور فرمایا: ( وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آَدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا ) [الإسراء: 70]

“یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزه چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔”

یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی روزی کی ضمانت لی۔ چنانچہ اس نے کسی کو کسی کے حوالے نہیں کیا۔ بلکہ اس نے خود سبھوں کے رزق کی ضمانت لی۔ چنانچہ اولاد کو ان کے والدین کے سپرد کیاگيا اور نہ والدین کو ان کی اولاد کے حوالے کیا گیا۔ بلکہ سب ہی اس کی رحمت وفضل اور کرم واحسان کے ماتحت ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرمایا:

وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ [العنكبوت: 60]

“اور بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے، ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے، وه بڑا ہی سننے جاننے والا ہے۔”

اور فرمایا: ( وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ) [هود: 6]

“زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہےاور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے۔”

یہ اس کی رحمت ہے کہ زمین وآسمان کی تمام چیزوں کو ہمارے لیے اپنی زندگی کی ضرورتوں اور انتظام معیشت کے لیے مسخر کر دیا، فرمایا:

( وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ) [النحل: 12]

“اسی نے رات دن اور سورج چاند کو تمہارے تابع کر دیا ہے اور ستارے بھی اسی کے حکم کے ماتحت ہیں۔ یقیناً اس میں عقلمند لوگوں کے لیے کئی ایک نشانیاں موجود ہیں۔”

اور فرمایا: ( هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ) [البقرة: 29]

“وه اللہ جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا۔”

اور فرمایا: ( وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ ) [الجاثية: 13]

“اور آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے تابع کر دیا ہے۔”

اور ارشاد الہٰی: ( وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ١٠ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ ١١ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ ١٢ فَبِأَيِّ آَلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ) [الرحمن:10 - 13]

“اور اسی نے مخلوق کے لیے زمین بچھا دی، جس میں میوے ہیں اور خوشے والے کھجور کے درخت ہیں، اور بھس والا اناج ہے۔ اور خوشبودار پھول ہیں، پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟۔”

اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ) [الملك: 15]

“اللہ ہی وہ ذات ہے، جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کردیا تو تم اس کے راستے پر چلو اور اس کی روزی کھاؤ، اور اسی کی طرف (اٹھ کھڑے) جمع ہونا ہے ۔”

برادرانِ اسلام! اپنی مخلوق کےساتھ اللہ کی رحمت یہ بھی ہے کہ اس نے پیغمبروں کو جنت کی خوشخبری دینے والا اور جہنم سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا، جو اللہ کے بندوں کو اس کی پہچان کراتے، ان کو اللہ کی عبادت اور اللہ کے لیے دین کو خالص کرنے کی دعوت دیتےہیں، ان کو حق کی تعلیم دیتے اورباطل اور گمراہی کے راستے سے ان کوبچا تےہیں۔

اللہ تعالیٰ نےفرمایا:

( لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ) [الحديد: 25]

“یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت وقوت ہے اور لوگوں کے لیے اور بھی (بہت سے) فائدے ہیں اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بےدیکھے کون کرتا ہے۔”

اور فرمایا:

( رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ) [النساء: 165]

“ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے۔ اللہ تعالی بڑا غالب اور بڑا باحکمت ہے۔”

اور ہم پر اس کی یہ بھی رحمت ہے کہ اس نے ہمارے درمیان سید الاولین والآخرین اور امام المتقین محمد بن عبد اللہ صلوات اللہ وسلامہ علیہ کو مبعوث فرمایا۔ چنانچہ آپ کی رسالت سارے جہان والوں کے لیے ہے اور وہ کتاب بھی جسے آپ پر نازل کی ہےسارے جہان والوں کے لیے قیامت تک نذیر (ڈرانے والی) اور بشیر (خوشخبری دینے والی) ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا ) [الفرقان: 1]

“بہت بابرکت ہے وه اللہ تعالیٰ جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وه تمام لوگوں کے لیے آگاه کرنے والا بن جائے۔”

اور فرمایا:

( وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ) [الأنبياء: 107]

“اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔”

اور فرمایا:

( وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ) [سبأ: 28]

“ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے۔”

صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ ایسی چيزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، ایک مہینہ کی مسافت پر مجھے رعب سے نوازاگيا، میرے لیے پوری روئے زمین کو مسجد اور پاکی قراردیاگيا، چنانچہ میری امت کے جس آدمی کو جہاں کہیں نماز کا وقت مل جائے وہ وہاں نمازپڑھ لے۔ میرے لیے مال غنیمت حلال قرار دیاگيا جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی وہ حلال نہیں تھا۔ مجھے شفاعت عطا کی گئی اور نبی پہلے ہمیشہ اپنی ہی قوم کے لیے خاص مبعوث ہوتے تھے مگر مجھے عام لوگوں کے لیے مبعوث کیا گیا۔

اور صحیح مسلم میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سےمروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اس امت (امت دعوت) کا کوئی یہودی اور عیسائي میرے بارے میں سنے اور مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔

اور بندوں پر اللہ کی رحمت یہ شریعت بھی ہے جو اپنے مبادی و اصول اور اخلاق واقدار میں کامل ہے۔ چنانچہ یہ شریعت ہر دور اور ہر انسان کے لیے شامل و کامل بھی ہے اور بہتر وکار گر بھی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ) [المائدة: 3]

“آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا۔”

چنانچہ اللہ نے اس کامل شریعت کو نازل کرکے ہم پر رحم فرمایا جس کے اندر سے اللہ نے ان بوجھوں اور پابندیوں کو ختم کردیا جو ہم سے پہلے والوں پر تھیں۔

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے بارے میں بیان فرماتا ہے:

( وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ) [الأعراف: 157]

“اور ان سے وہ نبی وہ بوجھ اور پابندیاں ختم کرتا ہے، جو ان پر تھیں”

اس لیے یہ شریعت نہایت آسان اور سہل ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے،سختی نہیں ۔

“یسروا، ولا تعسروا، وبشروا، ولا تنفروا”

“نرمی کرو، سختی نہیں، خوش خبری دو اور نفرت مت دلاؤ۔”

اور اس دیہاتی سے متعلق حدیث میں ہے جس نے مسجد کے اندر پیشاب کردیاتھا:

“إنما بعثتم میسرین” (حمیدی مع تصحیح ھادی)

“تم آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو۔”

برادران اسلام! اللہ کی رحمت دنیا وآخرت میں مومن کے لیے جو رحمت ہے اسے بھی شامل ہے۔ اور دنیا میں غیرمومن اور کفار ومشرکین کو جن نعمتوں سے نوازا ہے اسے بھی شامل ہے۔ البتہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اُخروی رحمت صرف مومن بندوں کے لیے خاص ہوگی۔

( وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآَيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ ) [الأعراف: 156]

“اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکاة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔”

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت ومہربانی جو اخبارواحادیث نے بیان کی ہے اور وہ متواتر بھی ہیں اس کی شہادت اپنے اور غیر سب نے بھی دی ہے اور کیسے نہ دیتےجبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

( لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ) [التوبة: 128]

“تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔”

نبی کی رحمت دشمنوں کے ساتھ:

جس وقت آپ نے طائف والوں کو اسلام کی دعوت دی تھی تو انہوں نے بڑاخراب جواب دیا اور نادانوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا تھا۔ انہوں نے پتھروں سے مار مار کر آپ کے دونوں پاؤں لہولہان کر دیے تھے۔ اللہ نے آپ کے پاس پہاڑوں کے فرشتوں کوبھیجا، انہوں نے آکر آپ کو تسلی دی اور آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کہیں تو مکہ کے دو پہاڑوں کے درمیان انہیں رکھ کر پیس دوں۔ آپ نے فرمایا: ایسا نہ کرو۔ ممکن ہے کہ اللہ ان کی نسلوں سے اللہ کی عبادت کرنے والے پیدا کردے۔

گنواروں کے ساتھ آپ کی مہربانی:

ایک گنوار نے مسجد میں پیشاب کردیا تو صحابہ کرام اس کو سزا دینے کے لیے لپکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روکا تاکہ وہ پورے طور پہ پیشاب کرلے۔ پھر ایک بالٹی پانی منگایا اور اس آدمی کے پیشاب پر بہادیا۔ اور آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا : تم نرمی والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے نہیں۔ اس لیے نرمی برتو سختی نہیں۔ خوشخبری سناؤ نفرت مت دلاؤ۔ ساتھ ہی دیہاتی سے فرمایا:

“إنما بنیت ھذہ المساجد لذکر اللہ و صلاۃ”

“یہ مسجد یں ذکر الہٰی اور نماز کے لیے قائم ہوئی ہیں(لہذا ان میں پیشاب وغیرہ کرنا درست نہیں ہے)۔”

بعد میں جب اس دیہاتی کا سلیقہ وادب سنور گيا تووہ کہنے لگا: میرے باپ ماں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں! آپ نے مجھ پر سختی کی اور نہ ہی مجھے سزادی۔

دیہاتیوں کے ساتھ آپ کا رحم دلانہ برتاؤ:

ان دیہاتیوں کے ساتھ جنہوں نے ابھی اسلام میں تربیتی پہلو کو پورا نہیں کیا تھا، آپ کا بڑا رحم دلانہ برتاؤ ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بڑے ہی گستاخانہ لہجے میں آکر کہتا ہے: اے محمد! اور وہ اپنا ناخن آپ کے کندھےپر رکھ دیتا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف مسکراتے ہوئے متوجہ ہوتے ہیں اور بڑی شفقت سے اس کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ایک دوسرا شخص وقت پورا ہونے سے قبل ہی آپ سےقرض وصول کرنے چلا آتا ہے اور کہنے لگتا ہے: اے محمد! مجھے میرا قرض دو۔ اے بنو عبد المطلب! تم لوگ ٹال مٹول کرنے والے ہو۔ صحابہ کرام اس کو مارنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ تو آپ ان کو منع کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“إن لصاحب الحق مقالا”

“حق والے کو اپنی بات کہنے کا حق اور آزادی ہوتی ہے۔”

اہل ایمان کے ساتھ آپ کی شفقت ومہربانی:

حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہےانہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ہم سب ہم عمر اور نوجوان ہی تھے۔ آپ کی خدمت مبارک میں ہمارا بیس دن ورات قیام رہا۔ آپ بڑے ہی رحم دل اور ملنسار تھے۔ جب آپ نے دیکھا کہ ہمیں اپنے وطن واپس جانے کا شوق ہے تو آپ نے پوچھا کہ تم لوگ اپنے گھر کیسے چھوڑ کر آئے ہو؟ ہم نے بتایا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اچھا اب تم لوگ اپنے گھر جاؤ اور ان گھر والوں کے ساتھ رہو اور انہیں بھی دین سکھاؤ اور دین کی باتوں پر عمل کرنے کا حکم کرو۔

امت محمدیہ کے ساتھ ولی الامر (حاکم وذمہ دار) کی رحمت ومہربانی:

ولی الامر سے اپنی رعیت کے ساتھ رحمت وشفقت برتنے کا مطالبہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“و من ولی من أمر أمتی شیئا فرفق بھم فأرفق بہ۔ و من ولی من أمر أمتی شیئا فشق علیھم فأشقق علیہ” (متفق علیہ)

“اور جو آدمی میری امت کا کچھ بھی ذمہ دار ہوا اور اس نے لوگوں کے ساتھ نرمی برتی تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی کر۔اور میری امت کا جوشخص کچھ بھی ذمہ دار ہوا اور اس نے لوگوں کے ساتھ سختی برتی تو تو بھی اس پرسختی کر”

ولایت وحکمرانی اسلام میں شرف وفضیلت کی چیز نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری اور امانت کا نام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر!یہ ایک امانت ہے اور قیامت کے دن ندامت وشرمندگی بھی اِلا یہ کہ کوئی اسے ایمان داری کے ساتھ قبول کرے اور اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں کو کما حقہ انجام دے۔

صحابہ کرام ولایت وحکمرانی کا منصب امت کی دیکھ ریکھ اور خبر گیری کے لیے قبول کرتے تھے نہ کہ لوگوں کے دلوں میں اپنا رعب قائم کرنے کے لیے۔ انہیں ہر وقت حتی کہ اپنی خوراک وپوشاک اور سونے اور اٹھنے میں بھی اللہ کا ڈرلگارہتا تھا۔ جبکہ آج کے زمانے میں صورت حال اس کے بر عکس ہے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ کے کنارہ پر ایک بوڑھی اندھی عورت کی خبر گیری کرتے۔ اس کے پاس جاتے خود ہی اس کا پیشاب پائخانہ صاف کرتے، اس کے لیے کھانا پانی لاتے، پھر چلے جاتے۔ حضرت عمر بن خطاب نے دیکھا کہ کوئی ان کے آگے آکر اس بوڑھی عورت کے تمام کام کر جاتا ہے تو سوچا کہ ذرا دیکھیں کہ اس کارخیر میں کون اس سے پہلے ہوتا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں اول شب میں گیا تو دیکھا کہ وہ حضرت ابوبکر ہیں جو اس وقت خلیفۃ المسلمین تھے۔ خلافت کے منصب جلیلہ پر فائز ہونے کے بعد بھی ان کی انکساری اور تواضع میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بلکہ وہ اسی طرح اپنی رعایا کی خبرگیری اور دیکھ بھال کرتے رہے جیسے پہلے کرتے تھے۔

حیوان کے ساتھ اسلام کا رحم وکرم:

دین اسلام کی یہ خوبی ہے کہ اس نے حیوان تک کے ساتھ بھی رحمت وشفقت کا حکم دیا ہے اور انہیں تکلیف دینے اور ایذا پہنچانے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ایک عورت ایک بلی کے تعلق سے جہنم میں داخل ہوئی جس کو اس نے باندھ رکھا تھا نہ اسے کھانا پانی دیتی تھی اور نہ ہی اسے چھوڑتی تھی کہ وہ چل پھر کر خود اپنا کھانا تلاش کرے یہاں تکہ وہ مر گئی۔

آپ نے کسی حیوان کو باندھ کر تیر یا نیزہ کا نشانہ بنانے سے سختی سے منع کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر لعنت بھیجی ہے۔

اسی طرح تماشہ اور تفریح کے طور پر کسی جانور کوقتل کرنے کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: گوریا بھی قیامت کے دن اللہ سے حجت کرےگی۔ کہےگی کہ اے رب!فلاں نے مجھے یوں ہی مار ڈالا تھا۔

حتی کہ جانوروں کے ذبح کرنے میں بھی رحم کے پہلو کو ملحوظ رکھا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“إذا قتلتم فأحسنوا القتلۃ وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، ولیحد أحدکم شفرتہ ولیرح ذبیحتہ”

“جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو (تاکہ تکلیف نہ ہو) اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بکری کو اپنے پاؤں کے نیچے لٹا کر اپنی چھری تیز کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا: برا ہو تیرا! تو نے اسے دوبار مار دیا۔ تو نے اسے ذبح کے لیےلٹانے سےقبل ہی کیوں نہیں چھری تیز کر لی۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما کو اپنے ایک غلام کو مار تے ہوئے دیکھ کر فرماتے ہیں:

“اتق من ھو أقدر علیک”

“ اس ذات سے ڈروجو تم پر زیادہ قادر ہے۔”

اس لیے میرے بھائیو! اپنے اندر رحم کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے دل کی قساوت وسختی کی بات پیش کرنے آیا، تو آپ نے اس سے فرمایا: یتیم کے سر پہ ہاتھ پھیرو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔ تمہارے اندر رحمت ومہربانی پیدا ہوگی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

“من نفس عن مؤýمن کربۃ من کرب الدنیا نفس اللہ عنہ کربۃ من کرب یوم القیامۃ”

“ جو کسی مومن کی کسی دنیوی مصیبت وپریشانی کو دورکرےگا، تو اللہ اس کی بہ روزقیامت کسی مصیبت وپریشانی کو دور کرےگا۔”

اور جو کسی عالم بزرگ کی عزت کرےگا، تو اللہ اس کی کبر سنی میں اس پر اسے متعین کر دےگا جو اس کی عزت کرےگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

“بروا آباءکم، تبرکم أبناؤکم” (مستدرک حاکم)

“اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، تمہارے بچے بھی تمہارے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے۔”

لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے باپ کو بازار میں مار رہا ہے تو لوگ سب باپ اور بیٹے کے بیچ حائل ہوجاتے ہیں۔ اس پر باپ لوگوں سے کہتا ہے کہ میرے بچے کو مجھے مارنے کے لیے چھوڑ دو کیونکہ میں نے بھی اپنے باپ کو یہیں پر ماراتھا۔ چنانچہ اللہ نے مجھ پر میرے بچے کو مسلط کر دیا ہے۔”

دوسراخطبہ:

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!

اے اللہ کے بندو!اللہ سے ڈرو اور ہر ایک کے ساتھ حسب استطاعت رحم وکرم اور حلم وبردباری کے ساتھ پیش آؤ۔ پہلے اپنے اہل خانہ کے ساتھ نرمی برتو۔ اس کے بعد اپنے ماتحتوں، اپنے پڑوسیوں، اپنے ہم وطنوں اور اپنے ملازموں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“لیس منا من لم یرحم صغیرنا ویعرف شرف کبیرنا” (أبوداود)

“وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت واحترام نہ کرے۔”

اسی لیے میرے بھائیو! ہمیں اللہ سے دعا کرنی چاہئے کہ ہمارے دلوں میں رحمت وشفقت کا جذبہ پیدا فرمائے اور اپنے چھوٹوں پر رحم کرنے اور بڑوں کی عزت وتوقیر اور تمام مخلوقات کے ساتھ رحمت وشفقت کا معاملہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔