بندے کی زندگي میں گناہ کے اثرات

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

اللہ کے بندو!اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم لوگ شب وروز جو معصیت اور نافرمانی کے کام کر تے رہتے ہیں، ان کے خطرناک اثرات فرد ومعاشرہ اور پوری زندگی پہ مرتب ہوتے ہیں اس لیے کہ زندگی کی بہتری کی بنیاد اطاعت وفرماں برداری، حکم الہٰی پر استقامت اور دین حنیف کی پابندی میں ہے حکم الہٰی سے انحراف دین سے بیزاری، شیطانی وسوسوں کی پیروی، ضلالت وگمراہی اور بدبختی میں بھٹکنا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنی زندگی میں اور اپنے رب سے ملاقات کے دن ( کو مد نظر رکھتے ہوئے) گناہ کے اثرات کو محسوس کرے اور اس کے ازالے کی فکر کرے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَى خَائِنَةٍ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ) [المائدة: 13]

“پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرمادی اور ان کے دل سخت کر دیئے کہ وه کلام کو اس کی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے، ان کی ایک نہ ایک خیانت پر تجھے اطلاع ملتی ہی رہے گی ہاں تھوڑے سے ایسے نہیں بھی ہیں پس توانہیں معاف کرتا جا اور درگزر کرتا ره، بےشک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔”

اور فرمایا:

( كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ) [المطففين: 14]

“یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے۔”

اور فرمایا:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ ) [الأنفال: 29]

“اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناه دور کر دے گا۔”

اور فرمایا:

( وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى ١٢٤ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنْتُ بَصِيرًا ١٢٥ قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آَيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنْسَى ١٢٦ وَكَذَلِكَ نَجْزِي مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِآَيَاتِ رَبِّهِ وَلَعَذَابُ الْآَخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَى ) [طه: 124 - 127]

“اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہےگی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ وہ کہےگا الٰہی مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا، حالاںکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا، جواب ملے گا کہ اسی طرح ہونا چاہیے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گيا۔ تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے ہم ایسا ہی بدلہ ہر اس شخص کو دیا کرتے ہیں جو حد سے گذر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بے شک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور بہت دیرپا ہے ۔”

بندے پر معصیت اور گناہ کا بڑا اہم اور خطرناک اثروہ وحشت ہے، جو گناہ کے کام سے بندے اور رب کے درمیان پیدا ہو جاتی ہیں، وہ اطاعت اور نیکی کو گراں سمجھنے لگتا ہے، فحش اور بےحیائی کے کاموں میں لگا رہتا ہے۔ اگر اللہ کی رحمت اور ہدایت اسے نہ ڈھانپ لے تو وہ گناہ اور معصیت کے کاموں میں برابر بڑھتا چلا جاتا ہے اور بدبختی وبدنصیبی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔

برادران اسلام! آدمی کی حقیقی زندگی، اطاعت وبندگی کی زندگی ہے ساتھ ہی یہ شعور واحساس بھی کہ اس نے اپنے سے مخلوق کی بندگی کا جوا اپنے کندھے سے اتار پھینکا ہے اور اس حقیقی بندگی کے سایہ میں آگيا ہے، جو اسے کفر وشرک کی آلائشوں اور گندیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ اسی لیے اللہ نے کافر کو زندہ نہیں مردہ قرار دیا ہے۔ “ أَمْواتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ” “زندہ نہیں مردہ ہیں وہ۔”

امام احمد نے مسند میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی حدیث روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے پہلے تلوار کے ساتھ میری بعثت ہوئی ہے، یہاں تک کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت ہو نے لگے، میرے نیزے کے سایہ تلے میری روزی مقدر ہوئی ہے اور ذلت ورسوائی اس کے نام ہے جس نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی، جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ اسی میں سے ہے ۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے فرماتے ہوئے سنا، دلوں پر فتنے، چٹائی کی تیلیوں کی طرح پیش آئیں گے، چنانچہ جس دل میں فتنہ پیوست ہوا،اس میں سیاہ نکتہ پڑا ، اور جس دل نے اس کو جگہ نہیں دی ، اس میں سفید نکتہ پیدا ہوا۔ اس طرح سے دل دو قسم کے ہوتے،ایک چکنے پتھر کی طرح سفید، جسے رہتی دنیا تک کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچا سکتا اور دوسرا وہ دل جو سیاہ مٹیالا ، اوندھے منہ پیالے کی طرح ہوتا ، جو معروف کو معروف سمجھتا اور نہ منکر کو منکر، بس جو اس کے دل میں جس طرح رچ بس جائے۔ (مسلم)

میرے بھائیو!یاد رکھو جب کسی قوم میں برائی عام ہو جاتی ہے، تو وہ قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔ برا ئیوں کی کثرت اور زیادتی رزق سے محرومی اور رحمتوں اور برکتوں کے چھن جانے کا سبب بنتی ہے۔ اس سے فساد عام ہوتا ہے۔ بیماریاں پھیلتی ہیں۔ دشمنوں کا خوف دلوں پر چھا جاتا ہے۔ سوسائٹی اضطراب و بےچینی اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک دن اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا:

“یامعشر المھاجرین خمس إذا ابتلیتم بھن وأعوذ باللہ أن تدرکوھن لم تظھر الفاحشۃ فی قوم قط حتی یعلنوا بھا إلا فشا فیھم الطاعون والأوجاع التی لم تکن مضت فی أسلافھم الذین مضوا، ولم ینقصوا المکیال والمیزان إلا أخذوا بالسنین وشدۃ المؤونۃ وجور السلطان علیھم، و لم یمنعوا الزکاۃ فی أموالھم إلا منعوا القطر من السماء و لو لا البھائم لم یمطروا، ولم ینقضوا عھد اللہ وعھد رسولہ إلا سلط اللہ علیھم عدوا من غیرھم فأخذوا بعض ما فی أیدیھم، و ما لم تحکم أئمتھم بکتاب اللہ ویتخیروا مما أنزل اللہ إلا جعل اللہ بأسھم بینھم) (ابن ماجہ وحاکم)

“اے مہا جرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہوجاؤ گے اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم ان میں مبتلا ہو۔ پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں اعلانیہ فسق وفجور اور زناکاری ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں، جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں۔ دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور ظلم وجور کے شکار ہو جاتے ہیں۔ تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکاۃ نہیں دیتے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش کو روک لیتا ہے اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے بارش کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔ چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد وپیمان کو توڑ دیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کردیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے ان سے چھین لیتا ہے۔ پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمراں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جواللہ نے نازل کیا ہے، اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلا ف ڈال دیتاہے۔”

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ) [الأنفال: 25]

“اور تم ایسے وبال سے بچو! کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔”

اور حضرت زینت بنت جحش رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے۔ پوچھا گيا کہ ہم میں نیک لوگ ہوں تو بھی ہم کیا ہلاک ہوں گے، فرمایا کہ ہاں!جب برائياں عام ہوجائیں گی۔ (متفق علیہ)

حضرت حذیفہ بن یمان بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تم بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ اپنا عذاب تم پر بھیج دے۔ پھر جب تم اسے پکاروگے تو تمہاری نہیں سنی جائےگی ۔ (ترمذی)

برادران اسلام! فرعون کو کس نے غرقاب کیا، قوم عاد وثمود اور قوم لوط، قارون وہامان کو کس نے ہلاک وبرباد کیا؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( وَعَادًا وَثَمُودَ وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَسَاكِنِهِمْ وَزَيَّنَ لَهُمَ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ ) [العنكبوت: 38]

“اور ہم نے عادیوں اور ثمودیوں کو بھی غارت کیا جن کے بعض مکانات تمہارے سامنےظاہر ہیں اور شیطان نے انہیں ان کی بداعمالیاں آراستہ کر دکھائی تھیں اور انہیں راه سے روک دیا تھا باوجودیہ کہ یہ آنکھوں والے اور ہوشیار تھے۔”

اور قارون وفرعون اور ھامان کو بھی، ان کے پاس حضرت موسی کھلے اور واضح معجزات لے کر آئے تھے، پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا، پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے وبال میں گرفتار کرلیا۔ ان میں سے بعض پر پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور آور سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ڈبودیا ۔ اللہ تعالیٰ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے ۔ بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ۔

مسلمانو!دنیا وآخرت دونوں جہان میں جو سلامتی چاہتا ہے، اس پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ضروری ہے ،

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ) [الأحزاب: 71]

“اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔”

اور فرمایا:

( وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) [النور: 31]

“ اے مومنو ! تم سب ہی اللہ کی طرف رجوع ہو،تاکہ تم کامیاب ہوسکو۔

آپ یہ جان لیں کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرنے سے ہی اللہ آپ کو نجات دے سکتا ہے۔

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی، جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم بھلائی کا حکم دوگے اور برائی سے روگے یا پھر قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب بھیجے، پھر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری سنے ہی نہیں۔ (ترمذی)

-----