تفصیل

اسلام مسلمانوں کے درمیان اخوت ومحبت کے روابط کو مستحکم ومضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔ چنانچہ اس نے ہر اس چيز کی دعوت دی ہے جس سے یہ محبت مستحکم اور مضبوط ہوتی ہو۔ جیسے سلام کو عام کرنا اور ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا وغیرہ۔ اور ہر اس چيز سے بچنے کی تلقین کی جو اس محبت کو کمزور کرتی ہو۔ جیسے مسلمانوں کے درمیان بدظنی، غیبت اور چغل خوری وغیرہ۔ بدظنی، عداوت ودشمنی پھیلانے ، تعلقات ختم کرنے، خاندان سے اسلامی اخوت کو تباہ وبرباد کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔ لہذااپنے بھائيوں کے سلسلہ میں اچھاگمان رکھو

الْحَمْدُ لِلہِ نَحْمَدُهُ، وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا ومن سیئات أعمالنا، مَنْ يَهْدِهِ اللہُ فَلا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ، وأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللہُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ، وَرَسُولُهُ۔

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ 102 ) [آل عمران: 102]

( يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا 1 ) [النساء: 1]

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا 70 يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا 71 ) [الأحزاب:70 - 71]

وقال تعالىٰ: ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ 12 ) [الحجرات: 12]

وقد قال النبي صلى الله عليه و سلم: (إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث) (متفق عليه)

امابعد:حضرات! یوں تو آج دنیامیں تمام مذاہب امن وسلامتی کے دعوے پیش کرتے ہیں۔ بیشتر تحریکیں اور تنظیمیں فروغ انسانیت اور الفت ومحبت کا دم بھرتی ہیں، بلکہ ان چیزوں کو بطورشناخت اور لیبل پیش کرتی ہیں؛ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان ساری چیزوں کا جو تصوّر مذہب اسلام میں موجود ہے وہ جامع تصوّر نہ کسی اور مذہب میں پایاجاتاہے اور نہ ہی دنیا کی کسی بھی تحریک اور تنظیم میں۔ چونکہ کسی بھی مرض کا جو علاج آسمانی نسخہ میں موجود ہوگا وہ کسی بھی انسان کے وضع کردہ نسخہ میں نہیں ہوسکتاہے۔

حضرات! یہ کون نہیں جانتا کہ امن وسلامتی دراصل باہمی مضبوط روابط انسانیت اور آپسی محبت وانسیت سے فروغ پاتی ہے۔ جس سماج میں بھی انسانیت اور آپسی محبت وانسیت کا جس قدر وجود ہوگا اسی کے بقدر وہاں پر امن وسلامتی کے آثار ملیں گے اور جس سر زمین پرجس قدر یہ چیزیں مفقود ہوں گی وہاں پر اسی کے بقدر امن وسلامتی کا وجود بھی خطرے میں ہوگا۔

یہ ایک عام مشاہدے کی بات ہے کہ جس محلہ اور گاؤں میں لوگوں کے باہمی تعلقات مستحکم ہوتے ہیں، وہاں آپسی محبت واُنسیت کا ساگر بہتا نظر آتا ہے۔ اور جہاں آپسی محبت واُنسیت کی حکمرانی ہوتی ہے، وہاں انسانیت کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ اور جہاں انسانیت کا وجود ہوتا ہے، وہاں لوگ ایک دوسرے کا پاس ولحاظ رکھتے ہیں، ایک دوسرے کی عزت وآبرو کی مکمل حفاظت کرتے ہیں، وہاں پر کسی پر کیچڑ اچھالنا تو دور کی بات؛ بلکہ دوسرے پر اچھالے گئےکیچڑ کو صاف کرنے کی مکمل کوشش کرتے ہیں۔ اور جس سماج میں یہ خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں وہی سماج امن وسلامتی کا گہوارہ کہلاتاہے۔ اس کے برعکس جس سماج میں آپسی کشیدگی ہو، دلوں میں بغض وحسد کا آتش فشاں پھٹ رہا ہو، جہاں پر بدظنی کی لہر پائی جاتی ہو، وہاں آپسی محبت واُنسیت کی روح مر جاتی ہے اور اخوت وبھائی چارگی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ ایسے سماج میں پھر انسانیت کا تصوّر عبث ہے اور اس کی امید کرنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟ بلاشبہ اس سماج میں جہنم کا ماحول نظر آئے گا اور وہاں امن وسکون کا دور دور تک نام ونشان نہ ہوگا۔

بلکہ وہاں رنجشوں کی بھٹی ہر وقت دہکتی ہوگی، جو تعلقات کو جلا کر خاکستر کرنے کے لیے کافی ہے۔ وہاں نفرت وبدظنی کی آندھی ہوگی، جو اُخوت وبھائی چارگی کو بنیاد سے ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ وہاں ایک دوسرے کے پیچھے پڑنے کا ایسا گھناؤنا ماحول ہوگا جس سے انسانیت پناہ مانگتی ہوگی۔ انہی امراض ناسور سے بچنے کے لیے قرآن حکیم نے بدظنی سے بچنے کا حسین نظریہ پیش کیا۔ ارشاد باری ہے:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ 12 ) [الحجرات: 12]

”اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹولا کرو، اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔”

اور حدیث شریف میں بھی اس بدگمانی سے بچنے کی بےحد تاکید آئی ہے:

عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: “إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث” (متفق عليه)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ تم بد گمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔” (بخاری:5143مسلم:2563)

قرآن کریم اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر بدظنی سے اس قدر دور رہنے کی تاکید کیوں کی ہے؟ بلاشبہ یہ تاکید ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یقیناً بدظنی ایک بہت ہی بری چیز ہے اور اس سے بڑے بڑے خطرات وجود میں آتے ہیں۔ یہ تاکید اس لیے بھی کی گئی تاکہ ایک صالح معاشرے کی تشکیل ممکن ہوسکے۔ یہ تاکید اس لیے بھی کی گئی تاکہ امن وسکون کا ماحول بن پائے ۔ چنانچہ دین اسلام نے کتاب وسنت کے ذریعہ متعدد طرق سے لوگوں کو حسن ظن کی ترغیب دلاتےاوربدظنی کی مذمت کرتے ہوئے اس کی ہلاکت خیزیوں کو اجاگر کیا ہے تاکہ لوگ اس سے بچنے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کریں۔

حضرات! یہ ایک فطری امر ہے کہ ایک برائی دوسری برائی کو کھینچ لاتی ہے اور اس طرح صرف ایک برائی کئی برائیوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہے نیز اس کا انجام، باعث ننگ وعار، وجہ شرم وندامت اور سبب ذلت وخواری ہوتاہے۔ ذرا غور کیجئے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ پر:

( وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ 62 أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ ) [ص:62 - 63]

”اور جہنمی کہیں گے کیا بات ہے کہ وه لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے۔ کیا ہم نے ہی ان کا مذاق بنا رکھا تھا یا ہماری نگاہیں ان سے ہٹ گئی ہیں۔”

مکہ کے کفار ومشرکین کے فاجر اور چودھری قسم کے لوگ غریب اور نادار مومنوں کا مذاق اڑیا کرتے تھے ۔ تفسیر ابن کثیر میں ان فاجر چودھریوں میں ابو جہل کا نام ذکر کیا گیا ہے جو حضرت بلال، حضرت عمار اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہم کا مذاق اڑاتا تھا اور ان کو ازراہ خبث برے لوگوں میں شمار کرتا تھا ۔

دوسری تفاسیر میں مطلق طور پر روسائے کفار قریش کا ذکر کیا گیا ہے اور صحابہ میں حضرت عمار، حضرت خباب، حضرت صہیب، حضرت بلال، حضرت سلمان وغیرہم رضی اللہ عنہم اجمعین کا نام پیش کیا گيا ہے کہ ان نادار مومنوں کو مکہ کے چودھری لوگ اشرارکہا کرتے تھے۔ یہ سب کچھ بدظنی کی بنیاد پر کیا کرتے تھے۔ ان کا گمان تھا کہ فقیر لوگ جو ان کے آبائی دین سے دور ہو چکے ہیں وہ اشرار ہیں اور وہ جہنم میں جائیں گے۔ مگر آخرت میں نتیجہ اس کے بر عکس ہوگا۔ بلکہ یہ بد گمانی رکھنے والے اور خود کو برحق سمجھنے والے ہی جہنم میں جائیں گے۔

قرآن کریم کی دوسری آیت میں اس کی مزید وضاحت ملتی ہے اور اس کا آخری نتیجہ بھی ظاہر ہوتا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آَمَنُوا يَضْحَكُونَ 29 وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ 30 وَإِذَا انْقَلَبُوا إِلَى أَهْلِهِمُ انْقَلَبُوا فَكِهِينَ31 وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلَاءِ لَضَالُّونَ 32 وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ 33 فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آَمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ ) [المطففين:29 - 34]

“ گنہگار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑیا کرتے اور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھ کے اشارے کرتے تھے۔ اور جب اپنے لوگوں کی طرف لوٹتے تو دل لگی کرتے تھے اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے یقینا یہ لوگ گمراہ ہیں یہ ان پر پاسبان بنا کر تو نہيں بھیجے گئے۔ پس آج ایمان والے ان کافروں پر ہنسیں گے ۔ تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے۔ اب ان منکروں نے جیسا یہ کرتے تھے پورا پورا بدلہ پالیا۔”

اور ارشاد ربانی ہے :

( زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آَمَنُوا وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ) [البقرة: 212]

“ کافروں کے لیے دنیا کی زندگی خوب زینت دار کی گئی ہے۔ وہ ایمان والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں؛ حالانکہ پر ہیزگار لوگ قیامت کےدن ان سے اعلیٰ ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بےحساب روزی دیتاہے۔”

“چونکہ مسلمانوں کی اکثریت غرباء پر مشتمل تھی جو دنیوی آسائش اور سہولتوں سے محروم تھے اس لیے کفار یعنی قریش مکہ ان کا مذاق اُڑاتے تھے جیسا کہ اہل ثروت کا ہر دور میں شیوہ رہاہے۔ اہل ایمان کے فقراء کااور ان کی سادگی کا کفار جو استہزا کرتے اس کا ذکر فرما کر کہا جا رہاہے کہ قیامت والے دن یہی فقراء اپنے تقویٰ کی بدولت بلندی والے ہوں گے۔ بےحساب روزی کا تعلق آخرت کے علاوہ دنیا سے بھی ہوسکتا ہے کہ چند سالوں کے بعد ہی اللہ تعالیٰ نے ان فقراء پر بھی فتوحات کے دروازے کھول دئیے جن سے سامان دنیا اوررزق کی فراوانی ہوگئی۔” (أحسن البیان:84-85)

یہاں تک اللہ تعالیٰ نے بدگمانی کا وہ فلسفہ پیش کیا جو کفار ومومنوں کے درمیان تھا۔ مومنوں کی صفت بدگمانی سے خالی تھی۔ جبکہ کفار بدگمانی سے متصف تھے۔ اور آخرت میں یہ بدگمانی باعث ندامت ثابت ہوئی اور ان سب کا ٹھکا نہ جہنم بن گیا؛ بلکہ جن کے بارے میں وہ بدگمانیوں میں مبتلاتھے وہ جنت میں داخل ہوگئے۔ یعنی بدگمانی کواہل جنت کا شیوہ نہیں؛ بلکہ اہل جہنم کا شیوہ بتلا یا گیا۔ اور بدگمانی اس قدر بری چیزہے کہ مومنوں کو بھی اس سے محتاط رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ 12 ) [الحجرات: 12]

“اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹولا کرو، اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ توبہ قبول کرنے والامہربان ہے۔”

ظن کے معنی ہیں گمان کرنا۔ مطلب، اہل خیر اور اہل صلاح وتقویٰ کے بارے میں ایسا گمان رکھنا جو بےاصل ہو،یقیناً تہمت وافتراءکے ضمن میں آتاہے۔اسی لیے اس کا ترجمہ بدگمانی سےکیا جاتا ہے۔ اور حدیث میں اس کو “أکذب الحدیث” (سب سے بڑا جھوٹ) کہہ کر اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے “إياكم والظن”(البخارى) ورنہ فسق وفجور میں مبتلا لوگوں سے، ان کے گناہوں کی وجہ سے بدگمانی رکھنا، وہ بدگمانی نہیں ہے جسے یہاں گناہ کہا گیا ہے اور جس سے اجتناب کی تاکید کی گئی ہے۔

“إن الظن القبيح بمن ظاهره الخير لايجوز، وإنه لا حرج فی الظن القبيح بمن ظاهره القبيح” (القرطبی) (أحسن البيان:1459-1460)

“ايسے شخص كے بارے ميں بدگمانی جائز نہيں جس كا ظاهر خير ہو البتہ جس كا ظاهر ہی برا(يعنی گناه پر مبنی ) ہو اس كے بارے ميں بدگمانی ميں كوئی حرج نہيں”۔

اگر اس آیت کریمہ کے اندر آپ غور کریں تو آپ کو بخوبی یہ اندازہ ہو جائےگا کہ یہاں نہ صرف بد گمانی سے روکا گیاہے؛ بلکہ کسی کا بھید ٹٹولنے اور غیبت کرنے سے بھی منع کیا گیاہے، تاکہ مسلمانوں کی عزت وآبرو کا قلعہ محفوظ رہ سکے۔ کیونکہ انسان جب کسی کے بارے میں بدظنی کا شکار ہو جاتا ہے تو پھر نہ اس کے بھید ٹٹولنے سےباز آتا ہے اور نہ ہی اس کی غیبت کرنے سے احتراز کرتا ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں انسان کی عزت وناموس کے قلعہ میں شگاف پیدا کر دیتی ہیں۔ اور ان ساری قباحتوں کا اصل سبب یہی بدگمانی ہے۔

آیت کریمہ میں غیبت کو اپنےمردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قراردیا گیا ہے۔ یعنی اس مذموم فعل کی جسارت کرنے اور اس کے انجام دینے کا سبب بھی یہی بدگمانی ہے۔ اگر انسان بدگمانی میں مبتلا نہ ہو، تو وہ ان وعیدوں کے زمرہ میں ہرگز داخل نہ ہوگا۔ ورنہ بدگمانی کے چکر میں قدم قدم پر اس کا پھسلنا یقینی ہے۔

“عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ “ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلاَ تَحَسَّسُوا وَلاَ تَجَسَّسُوا وَلاَ تَنَافَسُوا وَلاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا” (مسلم:6701)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم بد گمانی سے بچو، کیوں کہ بد گمانی سب سے بڑ اجھوٹ ہے، اور عیبوں کی ٹوہ مت لگاؤ اور نہ جاسوسی کرو، اور نہ دوسرے کا حق غصب کرنے کی حرص اور اس کے لیے کوشش کرو، نہ ایک دوسرے سے حسد کرو، نہ باہم بغض رکھو، نہ ایک دوسرے کو پیٹھ دکھاؤ، اور اے اللہ کے بندو! تم بھائی بھائی ہو جاؤ۔” (امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو “باب تحریم الظن” کے تحت ذکر کیا ہے ۔ یعنی بد گمانی کو حرام کاموں میں شمار کیا ہے۔)

عموماً بدگمانی کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کی عیب جوئی میں لگ جاتے ہیں۔ جب کہ عیب جوئی نہایت ہی گھٹیا خصلت ہے۔ ایک مسلمان کی صفت یہ ہے جب کسی کےاندر کوئی عیب دیکھ بھی لے تو اس کو چھپانے کی کوشش کرے۔

“من ستر مسلما ستر اللہ لہ یوم القیامۃ”

جو کسی کا عیب چھپائےگا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا عیب چھپائے گا۔ مگر جو شخص کسی کے عیب ظاہر کرنے میں لگ جاتا ہے،تو وہ گویا فتنہ وفساد کو جنم دینے میں لگ جاتا ہے۔

“عن معاوية رضی الله عنه قال:سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول:إنك إن اتبعت عورات المسلمين، أفسدتهم أو كدت أن تفسدهم” (أبوداود: 4888 حدیث صحیح)

“حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ماتے ہوئے سنا، آپ فرماتے تھے کہ: اگر تو مسلمانوں کے عیبوں کی تلاش میں رہےگا تو ان کے اندر بگاڑ پیداکرےگا یا قریب ہے کہ تو ان کے اندر فساد پیداکردےگا۔”

اللہ تعالیٰ ہم سب کو بد گمانی اور اس سے پیدا ہونے والی تمام برائیوں سے محفوظ رکھے، آمین۔

أقول قولی هذاواستغفرالله لی ولکم ولسائرالمسلمين،واستغفروہ،إنہ ھوالغفورالرحیم۔

حضرات! بدگمانی واقعی بری چیزہے اور اس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ جیسا کہ خطبۂ اولیٰ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں اس پر مکمل بحث کی گئی ۔ تاہم بعض علماء نے تھوڑا فرق بیان کیا ہے کہ بدظنی ایسے شخص کے بارے میں کرنا جس کا ظاہر خیر سے متصف ہو سراسر حرام ہے۔ البتہ جس شخص کا ظاہر وباطن ہر قسم کی قباحتوں سے پر ہو، اس کے بارے میں بدظنی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛اس کے باوجود جہاں حسن ظن کا پہلو غالب آ سکتاہو تو وہاں حسن ظن قائم رکھنا ہی بہتر ہے اور یہی اصحاب فضل مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہاہے۔

حضرات! حسن ظن اور بدظنی میں انسان کی سیرت، اخلاق وکردار اور ایمان وعقیدہ کاضرور خیال رکھنا چاہئے۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ “والاعتبار بطریقة القائل وسيرته ومذهبه وما يدعو إليه ويناظر عنه”جس شخص کے بارے بدگمانی کی نوبت آرہی ہے اس کے اخلاق وعادات اور سیرت وکردار بھی ضرور ملحوظ نظر رہیں۔ چونکہ بسا اوقات انسان سے ایسے کا م کا ارتکاب ہوجاتا ہے جو اس کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہوتاہے۔

مثال کے طور پر، جس نے یہ جملہ کہاتھا:”اللھم أنت عبدی و أنا ربک”اللہ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔” ظاہر ہے کہ یہ اس کا ارادہ نہیں تھا؛ بلکہ غیرارادای طور پر یہ جملہ زبان سے اظہار فرط مسرت میں نکل گیا تھا۔ اسی لیے اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا گیا۔

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے بعض مخالفین کے اقوال نقل کرتے پھر کہتے:

“هذاالكلام فيه إجمال، والمحق يحمله محملا حسنا، وغير المحق يدخل فيه أشياء”

“ اس کلام میں اجمال ہے، اور حق پسند آدمی اس اجمال کو اچھائی پر محمول کرتاہے؛ جبکہ دوسرے لوگ اس اجمال میں کچھ چیز داخل کر دیتے ہیں۔” مطلب، اس اجمال کی غلط تشریح کرتےہیں۔

اورسلف صالحین کے درمیان یہی زریں اصول ہمیشہ موجود رہا ۔ کسی کے بھی بارے میں عدل و انصاف سے رائے قائم کرنا ہمیشہ سے علمائے ربانیین کی صفت رہی ہے۔ ان کے سامنے جب کسی کی کوئی مبہم عبارت سامنے آتی تو وہ اس کو صحیح نیت پر محمول کرتے۔ مگر افسوس کہ آج مسلمانوں نے اس منہج سلیم اور صراط مستقیم کو چھوڑدیا۔

سلف صالحین کا ہرگز یہ طریقہ نہیں رہا کہ وہ الفاظ کی تأویل کریں اور معانی کا رخ پھیریں اور فرح وسرور کو مصیبت بنا ڈالیں اور مسلمانوں کے ساتھ بدگمانی کا معاملہ کریں۔ مگر آج امت کا براحال ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے بد گمان نظر آتے ہیں۔ اور کسی پراتہام والزام سے گریز نہیں کرتے۔ حالانکہ کہیں اگر اس کے خلاف بد گمانی کی وجہ وعلت بھی ملتی ہو تو حتی الامکان حسن ظن کے ساتھ اس میں ایسے اسباب تلاش کئے جائیں جس سے بدگمانی ختم ہوجائے۔

سوء ظن میں سےایک یہ بھی ہے کہ آپ کسی کی بات کے دو معنی نکا لیں؛ ایک معنی میں خیر کا پہلو غالب ہو اور دوسرے میں شرکا۔ حالانکہ جہاں شر واضح نہ ہو وہاں اسے زبردستی واضح کرنا، نہ صرف بدگمانی کو فروغ دینا ہے؛ بلکہ الزام تراشی بھی ہے۔ چونکہ نیتوں کا حال صرف اللہ ہی جانتاہے۔ ہمیں کسی کی نیت پر حکم لگانے کا کیاحق پہنچتاہے۔ سینے میں پوشیدہ رازوں کو جاننا اور نیتوں سے باخبر رہنا، یہ اللہ کے خصائص میں سےہے۔

انسان تو صرف اپنے بھائی کے ظاہری اعمال ہی کو جان سکتاہے۔ مشہور مصنف ومحدث عبد الرزاق نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ اثر نقل کیا ہے کہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں لوگوں کا محاسبہ اور مؤاخذہ وحی کے ذریعہ ہوجاتاتھا؛مگر اب وحی الٰہی کا سلسلہ منقطع ہو چکاہے۔ چنانچہ اب ہم تم لوگوں کے ظاہری اعمال ہی پر حکم لگائیں گے۔ لہذا جس کے اعمال بظاہر اچھے ہیں، تو سمجھو ہم نے اس کو مامون رکھا اور اس کو قریب کرلیا اور ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا ہے کہ ہم ان کے ٹوہ میں لگ جائیں اور عیب جوئی کریں۔

اللہ ان کے پوشید ہ اعمال کا محاسب ہے۔ اور جس شخص کا ظاہری عمل برا ہو، تو ہم نہ اسے امن دیں گے، نہ اس کی تصدیق کریں گے۔ اگرچہ اندرونی طورپر وہ اچھا آدمی ہو۔

اس سلسلے میں ہمیں قرآن کریم کی یہ آیت ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے: “جس بات کی تمہیں خبر نہ ہو، اس کے پیچھے مت پڑو۔ کیونکہ کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔”

صاحب “احسن البیان” اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “جس چیزکے پیچھے تم پڑوگے اس کے متعلق کان سے سوال ہوگا کہ اس نے کیا سناتھا۔ آنکھ سے سوال ہوگا کہ اس نے کیا دیکھا تھا اور دل سے سوال ہوگا کہ اس نے کیا جانا تھا۔ کیونکہ یہی تینوں علم کےسب سے اہم ذرائع ہیں۔ مطلب اللہ تعالیٰ ان اعضاء کو قیامت کےدن قوت گویائی عطا فرمائےگا اور ان سے پوچھا جائےگا۔”

اس دور کی یہ عجیب بد نصیبی ہے کہ لوگ اپنی شخصیت پرفخر کرتے ہیں اور اپنے بارے میں عجب وغرور میں مبتلاہو جاتے ہیں۔ وہ خود کو ہمیشہ برحق سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس اوروں کی راہ کو باطل وناحق گردانتے ہیں۔ وہ اپنے نفس کی صفائی پیش کرتے ہیں جب کہ دوسروں کی تحقیر ان کا شیوہ بن چکا ہے ۔ اور وہ بدگمانی ہی ہے جو ان باتوں کو پیدا کرتی ہے۔اس طرح بدگمانی اور اتہام سے نہ صرف معاشرے کے افراد میں افرا تفری پھیلتی ہے؛ بلکہ خاندان کا خاندان، اس سے اجڑ جاتاہے۔ بڑی بڑی قومیں اس کے سبب ظلم وستم کی شکار ہوجاتی ہیں۔ اور ماضی میں صرف بدظنی کی بنا پر نہ جانے کتنے لوگوں کو تختۂ مشق بنا کر ملک بدر کر دیا گیا۔ اور وہ بغیر کسی شرعی علت کے مجرم قرار دے کر پابند سلاسل کئے گئے ۔ کسی نے کیا ہی خوب لکھاہے:(أرى عداوة ولا أرى أسبابها)

“ہم دشمنی تو دیکھ رہے ہیں؛ مگر اس کےاسباب نظر نہیں آتے۔”

در حقیقت اس قسم کی عداوتوں کا سبب یہی بد ظنی اوربہتان تراشی ہی تو ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا ) [الأحزاب: 58]

“اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر کسی جرم کے ایذاء دیں، جو ان سے سرزد ہوا ہو، وہ بڑے ہی بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔”

حضرات! جب بدظنی کی خطرناکی اورہلاکت خیزی سامنے آگئی تو اس کا علاج بھی آخر میں ذکر کر دینا مناسب ہوگا۔ اس مرض کی دوا یہ ہے کہ ہم دوسروں سے حسن ظن رکھیں اور بد ظنی سے دور رہیں۔ کسی کے بارے میں بری رائے قائم کرنے سے پہلے خوب غور وفکر کر لیں۔ اگر آپ نے کسی کے بارے میں حسن ظن کے ساتھ اچھی را قائم کرنے کی خطا کی، تو وہ بدظنی کے ساتھ کسی کے بارے میں بری را قائم کرنے سے بہتر ہے۔ اس مرض کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کے لیے عذر تلاش کریں، کسی کے ٹوہ میں لگنے سے بچیں، کسی کے پیچھے نہ پڑیں، دل کو صاف رکھیں اور اپنے کام سے کام رکھیں۔

اللہ ہم سب کو بدظنی جیسی مہلک بیماری سے بچا ، آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔