چاندگہن اور سورج گہن

تفصیل

سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب وہ اپنے بندوں سے اپنی نافرمانی اور اپنے حکم کی مخالفت دیکھتا ہے تو ان دونوں میں گہن لگاتا ہے اور ان کی روشنیاں چھین لیتا ہے تاکہ وہ اس کی طرف پلٹیں اور اپنےگناہوں سے توبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے سورج گہن اور چاند گہن کی نماز کو مشروع کیا ہے تاکہ وہ اللہ کی طرف پناہ پکڑیں اور اس سے فریاد رسی کریں تاکہ وہ ان سے یہ مصیبت اٹھا لے۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!

محترم بزرگو ، نوجوان بھائیو اور عزیزو ! اللہ سے ڈرو، اس کی نشانیوں اور پیدا کی ہوئی چیزوں، آسمان وزمین ، سورج چاند پہاڑوں اور دریاؤں میں غوروفکر کرو۔ اللہ نے ان چیزوں میں عبرت وموعظت کے بہت سے سامان رکھے ہیں۔ ان آسمانوں کو دیکھو۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی قدرت سے کس طرح روکے ہو ہے۔ انہیں گرنے نہیں دیتا ہے اور انہیں کس قدر مضبوط اور مستحکم بنایا ہے۔ نہ ان میں کہیں شگاف ہے، نہ پھٹن۔ اور انہیں کس طرح سورج، چاند اور چمکدار اور خوبصورت ستاروں سے مزین کیا ہے اور یہ سورج چاند اور ستارے کس طرح اپنی محور میں جو اللہ نے ان کے لیے مقرر کیا ہے، گردش کررہے ہیں؟ اللہ نے ان کے لیے ایک نظام مقرر فرما دیا ہے جس سے وہ سرمو انحراف نہیں کرتے۔ ان کی چال میں نہ کوئی کمی ہوتی ہے نہ زیادتی، اپنے محور سے وہ بال کے برابر بھی نہیں ہٹتے۔ کتنی پاک اور قادر ہے وہ ذات جو انہیں چلا رہی ہے! بلاشبہ وہ بڑی عظیم طاقتور اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والی ذات ہے۔

اللہ کے بندو!سورج چاند اور ستارے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی بڑی عظیم نشانیاں ہیں، جو اس کی کمال قدرت اور کمال حکمت ورحمت پر دال ہیں۔ جب ہم ان عظیم نشانیوں کی عظمت اور ان کی چال اور گردش کے محکم نظام میں غور کریں گے، تو اللہ کی قدرتِ کاملہ کے اعتراف پر مجبور ہوجائیں گے۔ اسی طرح جب ہم ان کی چالوں کے اختلاف اور ان میں پوشیدہ مصالح ومنافع اور فوائد میں غور کریں گے تو اس کی کمال حکمت ورحمت ہمارے لیے واضح ہو جائےگی۔

محترم بھائیو!اللہ کی حکمتوں میں سے ایک حکمت سورج اور چاند میں گہن لگنا بھی ہے۔ یہ گہن ہے کیا؟ کچھ دیر کے لیے اللہ تعالیٰ ان دونوں سے ان کی روشنی جزئی اور کلی طور پر چھین لیتا ہے یہی گہن ہے۔ یہ گہن اللہ کے حکم سے لگتا ہے۔ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا اور ان کے دلوں میں خوف پیدا کرتاہے۔ تاکہ وہ اس سے ڈر کر قیامت کی ہولناکیوں کو یاد کریں اور اللہ کےحضور توبہ واستغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آفاق وانفس کی بےشمار نشانیاں دکھلاتا رہتا ہے تاکہ وہ اس سے ڈریں اور اس کی قدرت کاملہ پر ایمان لائیں۔

ارشاد باری ہے:

( سَنُرِيهِمۡ ءَايَٰتِنَا فِي ٱلۡأٓفَاقِ وَفِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّۗ أَوَ لَمۡ يَكۡفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ ٥٣ أَلَآ إِنَّهُمۡ فِي مِرۡيَةٖ مِّن لِّقَآءِ رَبِّهِمۡۗ أَلَآ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَيۡءٖ مُّحِيطُۢ ٥٤ ) [فصلت:53-54]

”عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ حق یہی ہے، کیا آپ کے رب کا ہر چیز سے واقف و آگاه ہونا کافی نہیں۔ یقین جانو! کہ یہ لوگ اپنے رب کے روبرو جانے سے شک میں ہیں، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔”

میرے بھائیو ! اللہ تعالیٰ نے آسمان اور وزمین میں جو اپنی بےشمار نشانیاں بکھیر رکھی ہیں اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے ان میں غور کریں اور ان کے ذریعہ قیامت کے قریب ہونے کو یاد کریں تو ہم سارا ٹال مٹول چھوڑ کر اس ہولناک دن کی تیاری میں لگ جائیں۔ دنیا کی بےوقعتی و بےثباتی قیامت کی ہولناکی اور آخرت کی پائیداری ہماری نگاہوں کے سامنے ہو جائے۔ انسان جب مر جاتا ہے تو گویا اس کی قیامت قائم ہوجاتی ہے۔ اب اس کے لیے کسی عمل کا اورتلافی مافات کاموقع باقی نہیں رہ جاتا۔ اب اس کے سامنے صرف برزخ اور آخرت کا حساب ہوتا ہے ۔

ارشار باری ہے :

( أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ) [الأعراف: 185]

”اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آ پہنچی ہو۔ پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے؟۔”

جو لوگ آفاق میں بکھری ہوئی ان نشانیوں میں غور وفکر نہیں کرتے، اور ان سے نصیحت حاصل نہیں کرتے، گمراہی ان کا مقدر ہوجاتی ہے۔ وہ کبھی ہدایت نہیں پاتے۔

( مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ) [الأعراف: 186]

”جس کو اللہ تعالیٰ گمراه کر دے اس کو کوئی راه پر نہیں لا سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے۔”

ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے:

( قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ) [يونس: 101]

“آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں۔”

اس کے بعد ارشاد ہے :

( وَمَا تُغْنِي الْآَيَاتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَا يُؤْمِنُونَ ) [يونس: 101] "اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائده نہیں پہنچاتیں۔"

پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں اپنی درناک پکڑ سے یوں ڈراتا ہے ( فَهَلْ يَنْتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ قُلْ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ ) [يونس: 102]

”سو وه لوگ صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اچھا تو تم انتظار میں رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔”

اللہ کے بندو! آسمان اور زمین کی تخلیق میں بےشمار مصلحتیں اور حکمتیں پوشیدہ ہیں اورعبرت وموعظت کے بہت سارے سامان ہیں۔ لیکن غافلوں کو یہ چیزیں کچھ بھی فائدہ نہیں دیتیں۔

ارشاد باری ہے ( حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ) [القمر: 5]

”اور کامل عقل کی بات ہے لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائده نہ دیا۔”

صحیح حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے:

(إن الشمس والقمر آیتان من آیات اللہ لا ینکسفان لموت أحد ولا لحیاتہ ولکن اللہ یخوف بھما عبادہ، فإذا رأیتم شیئا من ذلک فافزعوا إلی ذکر اللہ و إلی الصلاۃ وعجلوا للاستغفار)

“بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ ان دونوں میں گہن کسی کے مرنے یا پیدا ہونے سے نہیں لگتا؛ بلکہ ان کے ذریعہ اللہ اپنے بندوں کو ڈراتاہے۔ تو جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو اللہ کے ذکر، نماز، دعا اور استغفار کی طرف دوڑ پڑو۔”

میرے بھائیو! آؤ ہم غور کریں اور اپنے دلوں کا جائزہ لیں کیا اللہ تعالیٰ کی اس تخویف اور ڈرا نے سے ہمارے دلوں میں کوئی خوف پیدا ہوا؟ اور اس سے ڈر کر جہنم سے بچنے کی فکر لاحق ہوئی اور جنت کو پانے کی ہمارے اندر کوئی تڑپ پیدا ہوئی؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(من خاف أدلج ومن أدلج بلغ المنزل، ألا و إن سلعۃ اللہ غالیۃ ألا و إن سعلۃ اللہ الجنۃ) (ترمذی)

“ جو ( دشمن کے حملے ) سے ڈرا وہ رات کے ابتدائی حصے ہی میں نکل گیا اور جو رات کے ابتدائی حصے میں نکل گیا، وہ منزل کو پہنچ گیا۔ اچھی طرح سن لو، اللہ کا سودا گراں قیمت ہے، خبردار اللہ کا سودا جنت ہے۔”

“رات کے ابتدائی حصے میں نکل گیا” کے معنی ہیں شروع ہی سے اللہ کی اطاعت میں سرگرم رہا یعنی جو اللہ سے ڈر کر شروع ہی سے اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری میں لگارہا، وہ یقینا اپنی منزل مراد یعنی جنت کو پا لےگا۔

میرے بھائیو! ہم ایک لمحے کے لیے غور کریں کہ اس سورج گہن کے ذریعہ ہمیں کون ڈراتا ہے۔ بلاشبہ یہ وہ ذات ہے جو سارے جہان کا پروردگار اور اولین وآخرین سب کا معبود ہے جو ہر چیز پر قدرت رکھتی ہے وہ جس چیز کو بھی وجود میں لانا چاہتی ہے صرف کہہ دیتی ہے ہو جا اور وہ چیز وجود میں آ جاتی ہے۔ اسی کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ ہمارے ہر کھلے اور چھپے کو وہ جانتی ہے۔

( وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآَنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ) [يونس: 61]

”اور آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو۔ اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذره برابر بھی غائب نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اورنہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے۔”

وہ قیامت کے دن ساتوں آسمانوں کو ایک انگلی رکھےگا، اور زمین کو ایک انگلی پر، اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی کو ایک انگلی پر اور مٹی کو ایک انگلی پر، اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر۔ پھر ان کو جھنجھوڑ کر فرمائےگا۔

(أنا الملک أین الجبارون وأین المتکبرون وأین ملوک الأرض؟) (بخاری ومسلم)

“میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں ظلم وشرکشی کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے؟ اور کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟”

غیب کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ ارشاد ہے:

( وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ) [الأنعام: 59]

”اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں(خزانے)، ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے۔ اور وه تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وه اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں۔”

نیز ارشاد ہے ( يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ ) [غافر: 19]

”وه آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے۔”

قیامت کے دن اس کے سامنے ہم سب کی پیشی ہوگی۔ ارشاد باری ہے:

( يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ ) [الحاقة: 18]

”اس دن تم سب سامنے پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیده نہ رہے گا۔”

اس لیے میرے بھائیو ہم اپنے رب کی ان عظیم نشانیوں کو دیکھ کر اس سے ڈریں اور نیک عمل کریں اور برے کاموں سے بچیں اور اپنے سابقہ گناہوں اور معصیت کے کاموں سے توبہ واستغفار کریں۔ اور اللہ سے گڑ گڑا کر اپنی بخشش کے لیے دعائیں کریں۔ سرکشی کی روش چھوڑیں اور جہنم کی آگ سے ڈریں تاکہ اللہ ہمیں دنیا وآخرت میں قول ثابت پر جما رکھے۔

جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:

( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آَمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآَخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ) [إبراهيم: 27]

”ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، ہاں ناانصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کر گزرے۔”

دنیا کی زندگی میں یعنی قبر میں جس وقت روح جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور میت دفنا کر واپس جانے والے اپنے لوگوں کی جوتیوں کی آہٹ کو سنتا ہے، اس وقت دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے سختی سے جھڑک کر بٹھاتے ہیں، پھر اس سے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا ہے جو تیرے اندر مبعوث کیا گیا تھا؟ مومن اس کے جواب میں کہتا ہے : میرا رب اللہ ہے۔ میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی تھی۔ تو میں اس پر ایمان لایا تھا۔ اور اس کی تصدیق کی تھی۔

میرے بھائیو!قبر کا فتنہ یہی آخری فتنہ ہے جس سے مومن کو دوچار ہونا پڑےگا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آَمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآَخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ) [إبراهيم: 27]

”ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، ہاں ناانصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کر گزرے۔”

اس کے برخلاف کافر وفاجر فرشتوں کے ان سوالوں کے جواب میں کہےگا:

(ھاھا لا أدری سمعت الناس یقولون ذلک، قال: لا دریت ولا تلیت)

“ہائے افسوس! مجھے کچھ معلوم نہیں۔ میں نے لوگوں کو جو کہتے سنا وہی میں بھی کہہ دیا کرتا تھا، نہ میں نے جاننے کی کوشش کی اور نہ ہی میں نے قرآن پڑھا۔”

اس لیے میرے بھائیو! معاملہ کی اہمیت کو محسوس کرو اور قبر کے سوالوں کے جواب کے لیے تیار رہو، اور اس کے فتنے سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ اللہ کے رسول نے سورج گہن کے موقع پر ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔

آپ کا ارشاد ہے:

(تعوّذوا باللہ من عذاب القبر) (مسلم)

“ لوگو! اس موقع پر عذاب قبر سے اللہ کی پنا ہ چاہو۔”

اسی طرح آ پ نے ہر نماز کے بعد قبر کے عذاب سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے، اور یہ دعا سکھا ئی ہے:

(اللھم إنی أعوذ بک من عذاب القبر وعذاب النار ومن فتنۃ المحیا والممات ومن شر فتنۃ المسیح الدجال) (بخاری ومسلم)

“اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، قبر کے عذاب سے اور جہنم کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے کی برائی سے۔”

سورج گہن کے موقع پر جن ہلا ک کرنے والی چیزوں سے آپ نے ہمیں ڈرایا ہے ان میں ایک زنا بھی ہے۔ آپ نے اس موقع پر ارشاد فرمایا تھا:

(یا أمۃ محمد! واللہ ما من أحد أغیر من اللہ أن یزنی عبدہ أو تزنی أمتہ، یا أمۃ محمد! واللہ لو تعلمون ما أعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا)

“ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگو! اس بات پر اللہ سے زیادہ غیرت کسی کو نہیں آتی کہ اس کا کوئی بندہ یابندی زنا کرے۔ اے امت محمد! واللہ جو کچھ میں جانتا ہو، اگر تمہیں بھی معلوم ہو جا ، تو تم ہنسو کم اور روؤ زیا دہ۔”

اس لیے اے اللہ کے بندو! زنا اور اس کے جملہ محرکات سے بچو اور ہر اس چیز سے اپنے آپ کو بچاؤ جو تمہیں زنا سے قریب کرنے والی ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا ) [الإسراء: 32]

”خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں کہ وه بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راه ہے۔”

اس لیے ہمیں چاہئے کہ ہم راستوں میں چلتے وقت اپنی نگاہوں کو پست رکھیں اور ایسی چیزوں کو نہ دیکھیں جو اللہ نے ہمارے لیے حرام کی ہیں۔ ہمارے رب نے ہمیں اس کی تعلیم دی ہے۔

( قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ) [النور: 30]

” مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔”

اگر ہم اللہ تعالیٰ کی اس تخویف اور ڈراوے سے نصیحت حاصل نہیں کریں گے تو پھر نصیحت حاصل کرنے کا اور کون موقع آئےگا؟ اور کب ہم اپنی گمراہیوں اور غلط کاریوں اور غفلتوں سے باز آئیں گے؟ کیا ہمیں قیامت کے دن کا انتظار ہے”

( حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ ٩٩ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ) [المؤمنون:99 - 100]

“یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے۔ کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کرلوں، ہرگز ایسا نہیں ہوگا، یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل ہے، ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے، ان کے دوباره جی اٹھنے کے دن تک۔”

صحیح حدیث میں وارد ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گہن کے موقع پر فرمایا:

(لقد أوحی إلی أنکم تفتنون فی القبور مثل أو قریبا من فتنۃ الدجال)

“مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں فتنے میں ڈالے جاؤگے۔ دجال کے فتنے کے مثل یا اس کے قریب قریب۔”

اس لیے بارالہا! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں قبر کے فتنے سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے۔ اللہ سے زیادہ حلیم وبردبار کوئی نہیں۔ اس کے باوجود وہ فرماتا ہے:

( وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ) [إبراهيم: 7]

“ اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بےشک میں تمہیں زیاده دوں گا اور اگر تم ناشکری کروگے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔”

اس سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں، وہ فرما تا ہے:

( وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي فَقَدْ هَوَى ) [طه: 81]

“اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وه یقیناً تباه ہوا۔”

حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“یا عبادی لو أن أولکم وآخرکم وإنسکم وجنکم کانوا علی اتقی قلب رجل واحد ما زاد ذلک فی ملکی شیئا۔ یا عبادی! لو أن أولکم وآخرکم و إنسکم وجنکم کانوا علی أفجر قلب رجل واحد منکم ما نقص ذلک من ملکی شیئا۔ یا عبدی لو أن أولکم وآخرکم وإنسکم وجنکم قاموا فی صعید واحد فیسألونی فأعطیت کل إنسان مسألتہ ما نقص من ذلک مما عندی إلا کما ینقص المتخیط إذا أدخل البحر۔ یا عبادی إنما ھی أعمالکم أحصیھا لکم ثم أوفیکم إیاھا۔ فمن وجد خیرا فلیحمد اللہ۔ ومن وجد غیر ذلک فلا یلومن إلا نفسہ” (مسلم:2577)

“اے میرے بندو!اگر تمہارے اول وآخر اور تمہارے انس وجن سبھی تم میں سے سب سےزیادہ پر ہیز گار کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہ ہوگا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اول وآخر اور تمہارے انس وجن سب سے زیادہ فاجر شخص کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اول وآخر اور تمہارے انس وجن سبھی ایک میدان میں کھڑے ہو کر ایک ساتھ مجھ سے مانگیں اور میں ہر شخص کی مانگ پوری کر دوں تو میرے خزانے میں کمی نہیں ہوگی، مگر اتنی ہی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈالنے کے بعد ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لیے شمار کر رہا ہوں ۔ پھر میں تمہیں انہیں پورا پورا دوں گا۔ تو جو خیر کو پا لے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے وہ اپنے علاوہ کسی اور کو ملامت نہ کرے۔”

نفعنی اللہ و إیاکم بھدی کتابہ۔ أقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم ولکافۃ المسلمین من کل ذنب، فاستغفروہ إنہ ھو الغفور الرحیم۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!

میرے بھا ئیو! سورج گہن کی اس مناسبت سے اس سلسلے کی چند اہم باتیں ہم بیان کر دینا مناسب سمجھتے ہیں۔ جن کی جانکاری ہم سب کو ہونی چاہئے۔

پہلی بات یہ ہے کہ سورج یا چاند گہن ان غیبی امور میں سے نہیں ہے جن کا علم ہمیں ان کے وقوع سے پہلے نہیں ہوسکتا، بلکہ علم ہیئت اور امور فلکیات کے ماہرین، گھنٹے، منٹ اور سیکنڈ کی تعیین کے ساتھ اس کے لگنے کے پہلے ہی سے خبر دے دیتے ہیں اور جس وقت کی وہ خبر دیتے ہیں اس سے ایک منٹ بھی ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ علوم فلکیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ زمین اور سورج کے بیچ چاند حائل ہو جاتا ہے تو سورج گہن لگتا ہے۔ اسی طرح چاند اور سورج کے درمیان زمین حائل ہو جاتی ہے تو چاند گہن لگتا ہے۔ بہرحال چاند اور سورج گہن کے ظاہری اسباب کچھ بھی ہوں، یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ غافل لوگوں کے لیے یہ ایک عبرت ہے۔ اور اللہ کی طرف سے انہیں یہ تنبیہ ہے کہ وہ اللہ کے عذاب سے نڈر اور بےخوف نہ ہوں، جس طرح چاند اور سورج جیسے اجرام فلکی کو وہ سیاہ اور بےنور کر سکتا ہے اور ان سے اپنی روشنی چھین سکتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہم سے بھی اپنی ان نعمتوں کو چھین سکتا ہے۔ جن میں ہم رات دن پل رہے ہیں۔ اور وہ ہماری آنکھوں اور ہمارے دلوں کی روشنی بھی چھیننے پر قدرت رکھتا ہے اور اس بات پر بھی تنبیہ ہے کہ چاند اور سورج اپنی ذات میں خود مختار نہیں بلکہ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور یہ بھی اپنے خالق کے تابع ہیں۔ پھر بھلا عبادت کے لائق یہ کیسے ہوسکتے ہیں؟

دوسری بات یہ ہے کہ سورج گہن جب لگتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو جمع کر کے دورکعت نماز پڑھتے تھے۔ اس نماز میں قراءت لمبی ہوتی تھی اور رکوع وسجدہ بھی بہت لمبا ہوتا تھا۔ یہ آپ کی سنت ہے۔ اس نماز کے مشروع ہونے پر تمام علمائے اسلام کا اتفاق ہے۔ جمہور علماء اس کے مسنون ہونے کے قائل ہیں۔ یہ نماز عام نمازوں سے قدرے مختلف ہے۔ صحیح روایتوں میں اس نماز میں ہر رکعت میں دو رکوع کا ذکر آیا ہے اور بعض روایتوں میں تین اور بعض میں پانچ رکوع کا تذکرہ ہے۔ ہر رکوع کے بعد آپ دیر تک قراءت کرتے تھے۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ آپ نے طویل رکوع کیا تھا اس لیے صحابہ کرام سر اٹھا اٹھا کر یہ دیکھتے تھے کہ آپ کھڑے ہو گئے یا نہیں جس کی وجہ سے بعض صحابہ نے جو پیچھے تھے یہ سمجھ لیا کہ آپ نے کئی رکوع کیے ہیں۔ لیکن یہ بات ہرگز درست نہیں۔ یہ صحابہ کرام کے متعلق ایک طرح کی بدگمانی ہے اور ان کی توہین وتخفیف ہے۔ بھلا ان پاک نفوس کے متعلق اس طرح کی بات سوچی جا سکتی ہے۔ یہ لوگ آپ کے پیچھے بڑے خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ ان کے متعلق یہ سوچنا کہ وہ اس طرح کرتے تھے۔ ہرگز درست نہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ اس نماز کا کوئی وقت متعین نہیں۔ اس کا وقت وہی ہے جب سورج یا چا ند گہن لگے۔ خواہ وہ کوئی بھی وقت ہو۔

چوتھی بات یہ ہے کہ اس نماز کے لیے نہ اذان دی جاتی اور نہ اقامت کہی جاتی ہے۔ البتہ اس نماز کے لیے لوگوں میں یہ اعلان کیا جاسکتا ہے کہ سورج یا چاند گہن کی نماز ہونے والی ہے۔ اس کے لیے لوگ مسجد میں جمع ہوجائیں۔

یہ نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کی جائےگی۔ اگر کوئی تنہا اسے پڑھ لے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ اس میں عورتیں بھی شریک ہوسکتی ہیں۔ صحابیات اس نماز میں آکر شریک ہوتی تھیں۔

چھٹی بات یہ ہے کہ نما ز سے فارغ ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے تھے۔ جس میں آپ لوگوں کو صدقہ وخیرات اور توبہ واستغفار پر ابھارتے تھے۔ اس موقع پر آپ لوگوں کو غلام آزاد کرنے کا بھی حکم دیتے تھے۔ اسی طرح ان موقعوں پر آپ لوگوں کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگنے کی بھی تلقین فرماتے تھے۔ اور زنا ومعصیت کے کاموں سے بچنے اور ان سے دور رہنے کی تلقین فرماتے تھے۔ یہ چند باتیں ہیں جنہیں اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

آخر میں اللہ تعالی ٰسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی نشا نیوں میں غور وفکر کرنے اور ان سے عبرت وموعظت حاصل کرنے کی توفیق مرحمت فرما ، اور ہمارے دلوں میں اللہ کی ان عظیم نشانیوں کو دیکھ کر اس کا خوف پیدا ہو اور اس کی قدرت کاملہ پر ہمارا یقین مستحکم ہو اور ہم اس کی ناراضگی اور غضب سے ڈریں اور ایسے نیک اعمال کریں جو اس کی رضا اور خو شنودی کا باعث بنیں۔

أقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم ولسائر المسلین فاستغفروہ إنہ ھو الغفور الرحیم.