خطبۂ عید الفطر

تفصیل

عید الفطر نعمت، خوشی، عبادت، تینوں کی جامع ہے۔ یہ رمضان کے عمل کا تکملہ ہے۔ اسی موقع پر صدقۃ الفطر دی جاتی ہے جو روزہ دار کے لیے اس کے لغو اور بےہودہ کاموں سے پاکی کا ذریعہ ہے۔ اس میں اسلام کے اجتماعی اور انسانی اقدار ومفاہیم زیادہ اچھی طرح اجاگر ہوتے ہیں۔ عید میں دلوں میں قربت بڑھتی ہے اور لوگوں میں اجتماعیت پیدا ہوتی ہے۔ عید اسلامی معاشرے میں حقوق کی یاددہانی ہوتی ہے تاکہ ہر گھر عید کی خوشی میں شامل ہوسکے اور یہ نعمت ہر خاندان کوعام ہو۔

پہلاخطبہ:

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وشر الأمور محد ثاتھا وکل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار.

خظبۂ مسنونہ کے بعد:برادران اسلام! اللہ جل شانہ وعم نوالہ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے ہمیں یہ توفیق عطا فرمائی کہ رمضان المبارک کے پورے روزے رکھیں چنانچہ اسی کے فضل کرم سے ہم نے ایک ماہ کے مکمل روزے رکھے، تراویح کی نماز ادا کی، قرآن پا ک کی تلاوت کی اور صدقہ وخیرات کرکے اپنی جھولیوں کو نیکیوں سے بھرلیا۔ درحقیقت رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت اور ان کی ادائیگی جہاں ایک بہت بڑی عبادت اور اجر وثواب کا باعث ہے وہیں یہ ہمارے لیے ایک امتحان اور آزمائش کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ ہم لوگوں نے جب بفضل الہٰی ماہ رمضان کے پورے روزے رکھ لیے تو ایک اہم فریضہ کی ادائیگی سے سبکدوش ہو گئے اور ایک بہت بڑے امتحان میں کامیاب ہو گئے۔ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ کسی بھی امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد انسان کوبڑی خوشی اور مسرت حاصل ہوتی ہے اور عموماً امتحان ختم ہونے کے بعد ایک اجتماع اور پروگرام ہوتا ہے جس میں کامیاب ہونے والوں کو انعامات اور مبارکبادیوں سے نوازا جاتا ہے۔ آج کی عید کایہ اجتماع بھی تقریبا اسی نوعیت کا ہے۔ ایک ماہ کے روزے رکھ کر اور دیگر عبادتیں کرکے ہم ایک بڑے امتحان میں کامیاب ہوý ہیں۔ اس بناء پر ہم سب کو بےحد مسرت اور بےپناہ خوشی ہے اور ہم اپنے پروردگا سے بخشش وانعام حاصل کرنے اور عید منانے کے لیے اس میدان میں اکٹھا ہو ہیں۔

برادران اسلام!اس ناحیہ سے آپ غور فرما ئیں تو عید درحقیقت ان لوگوں کی ہے جنہوں نےرمضان المبارک کے روزے رکھے ہیں اور اس ماہ مبارک کی تمام عبادتیں ادا کر کے اپنے دامن مراد کو نیکیوں سے بھر لیا ہے اور امتحان میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ عید ان لوگوں کی نہیں ہے جنہوں نے اس ماہ کو غفلت اور لاپرواہی میں ضائع کر دیا اور امتحان میں ناکام ہو گئے۔ کسی نے سچ کہا ہے ؎

لیس العید لمن لبس الجدید

إنما العید لمن خاف الوعید

“عید اس کی نہیں جس نے نئے اور زرق برق لباس پہن لیے،عید اس کی ہے جو اللہ کی وعید سے ڈرگيا۔”

یعنی رمضان المبارک کے روزے رکھ کر متقی اور پرہیزگار بن گیا اور ایفائے عہد وذمہ داری کے امتحان میں کامیاب ہوگیا۔

معززحاضرین! آج ہم روزہ داروں کے انعام کا دن ہے، جب روزہ دار عید گاہ میں پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ ان مزدوروں کا کیا بدلہ ہونا چاہجنہوں نے اپنے کام پورے کرلیے؟فرشتے جواب دیتے ہیں اے ہمارے معبود، اے ہمارے آقا! ان کا بدلہ یہی ہونا چا ہے کہ انہیں ان کی پوری پوری مزدوری دے دی جائے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! تم گواہ رہو کہ ان کے رمضان کے روزے اور تراویح کی وجہ سے میں ان سے خوش ہوگیا اور ان کو بخش دیا پھر بندوں سے خطاب کر کے فرماتا ہے:اے میرے بندو!تم مجھ سے مانگو میں اپنی عزت وجلال کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس اجتماع میں دنیا وآخرت کی جو کچھ بھی بھلائی تم مجھ سے مانگوگے میں دوں گا اور تمہارا خصوصی خیال رکھوں گا اور جب تک تم مجھ سے خوف کھاتے رہوگے میں تمہاری خطاؤں اور لغزشوں سے درگزر کرتا رہوں گا۔ مجھے اپنی عزت وبزرگی کی قسم ہے کہ نہ تمہیں ذلیل اور رسوا کروں گا، نہ مجرمین کے درمیان تمہیں فضیحت کروں گا۔ تم سب کو میں نے معاف کردیا۔ تم نے مجھےراضی کرنا چاہا تو میں تم سے راضی ہوگیا۔ اس امت کے لیے انعام وبخشش کا یہ اعلان سن کر فرشتے بھی جھوم اٹھتے ہیں اور خوشیاں منانے لگتے ہیں۔ (منذری)

برادران اسلام!ہمارا دین، دین فطرت ہے، اس کے تمام احکام واعمال فطرت کے موافق ہیں۔ ہر قوم وملت کے لوگوں کایہ طریقہ ہے کہ سال کے بعض دنوں میں وہ خوشیاں مناتے ہیں،ان دنوں میں وہ اپنے تمام کاروبار اور روزمرہ کے اشغال واعمال چھوڑ کر اچھے اچھے لباس پہن کر خوشیوں کے گیت گاتے ہوئے کسی میدان میں جمع ہوتے ہیں۔ وہاں میلہ لگاتے،ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے، کھیلتے کودتے اور خوشیاں مناتے ہیں۔ جس سے دلوں میں تازگی پیدا ہوتی ہے اور سال بھر کام کرنے سے جو طبیعت میں افسر دگی، سستی اور اکتاہٹ پیدا ہو جاتی ہے وہ دور ہوتی ہے۔ مسرت وحرکت سے خون میں گرمی اور طبیعت میں جوش اورچستی پیدا ہوتی ہے۔ ایسا رواج تمام قوموں میں ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

إن لکل قوم عیدا وھذا عیدنا (رواہ البخاری)

“بےشک ہر قوم کے لیے عید اور تہوار ہے اور یہ ہماری عید ہے۔”

تو جیسے دوسری قوموں کی عیدیں اور تہوار ہیں ہمارے دین میں بھی دو عیدیں ہیں۔البتہ ہماری عیدوں اور دوسری قوموں کی عیدوں میں فرق یہ ہے کہ ہماری عیدیں محض کھیل تماشا اور لہوولعب کا نام نہیں ہیں بلکہ ان میں مباح لہو ولعب، سیر وتفریح اور خوشی ومسرت کے ساتھ مختلف قسم کی عبادتیں بھی ہیں۔ غریبوں کے ساتھ تعاون وہمدردی ہے۔ مسلمانوں کی سیرت سازی اور روحانی تربیت ہے۔ جبکہ غیر مسلموں کے تہواروں میں شراب وکباب ہے، ناچ گانے ہیں، مرد وزن کا بیہودہ اور ناشائستہ اختلاط ہے، بے حیائیاں اور فحش کاریاں ہیں، گندگی،گالیاں اور شور وہنگامے ہیں۔ ہماری عیدوں میں تکبیرات اور دعائیں ہیں، دوگانہ نماز ہے، وعظ ونصیحت ہے، صدقہ وخیرات ہے، ایک دوسرے سے ملاقاتیں اور مبارک بادیاں ہیں اور دعوتیں اور خوش گپیاں ہیں۔ غرض کہ ہماری یہ عیدیں خوشیوں،مسرتوں اور روحانی تربیت اور عبادت کا بڑا حسین مرقع ہیں۔ اس واسطے آپ حضرات آج عید کے دن کو صرف لہو لعب میں نہ صرف کردیں۔ بلکہ اپنے اہل خانہ، دوست واحباب اوراعزاء واقارب کے ساتھ مل کر خوب خوشیاں بھی منائيں اور غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کا بھی خیال رکھیں ۔آ پ جائز سیر وتفریح اور کھیل کود سے لطف اندوز ہوں اور فرحت ومسرت سے اپنے دلوں میں گرمی اور خوشی پیدا کریں ۔ مگر سینما بازی اور بلو فلمیں دیکھنے، دکھانے اور اس قسم کے مخرب اخلاق اور ناجائز اعمال کا ارتکاب کرنے سے اجتناب کریں۔

برادرانِ اسلام!غالباً آپ حضرات کو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے مسلمان ان دنوں کھیل کود کرتے اور خوشیاں مناتے تھے۔ اس پر آپ نے ان سے پوچھا: (ما ھذان الیومان؟) “یہ دونوں دن کیسے ہیں ؟” یعنی تم ان میں کیوں خوشیاں مناتے ہو؟انہوں نے عرض کیا: (کنا نلعب فیھما فی الجاھلیۃ) “ہم زمانۂ جاہلیت میں یعنی اسلام قبول کرنے سے قبل ان دونوں دنوں میں کھیل کود کرتے تھے ۔ (بس اسی طریقہ پر اب بھی ہم لوگ ان میں خوشیاں مناتے اور کھیل کود کرتے ہیں )

چنانچہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا:

“قد أبدلکم اللہ بھما خیرا منھما، یوم الأضحی ویوم الفطر” (رواہ أبو داود)

“ اللہ تعالی ٰ نے تم کو ان کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا کیے ہیں: “یوم الأضحیٰ اور یوم الفطر”

برادرانِ اسلام!اس حدیث پر غور کرنے سے ایک تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہماری عیدیں دوسروں کی عیدوں اور تہواروں سے بہت بہتر ہیں۔ ان کے تہواروں میں صرف لہو ولعب اور کھیل کود ہوتا ہے جبکہ ہماری عیدوں میں خوشی ومسرت کے باوقار اور پاکیزہ پروگراموں کے ساتھ عبادت اور تعاون بھی ہے۔ اس میں جسم وروح دونوں کی خوشیوں اور سکون کا سامان ہے۔ ان کے تہوار عموما کسی بڑے شخص کی ولادت یاجنگ میں فتح یا موسمی تبدیلی کی مناسبتوں سے ہیں۔ جبکہ ہماری ایک عید رمضان المبارک کےروزے بخیر وعافیت گزر جانے اور اس میں مختلف عبادات کے ذریعہ اپنے دامنِ مراد کو نیکیوں سے بھر لینے اور اللہ کی رضامندی ومغفرت کے حاصل کرنے کی خوشی میں ہے۔ اور دوسری عید حج کے اکثر وبیشتر ارکان کے مکمل ہونے اور ابونا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کاحکم دے کر اللہ تعالیٰ نے جو امتحان لیا تھا اس میں ان کے کامیاب ہونے اور پھر (وَفَدَینَاہُ بِذِبحٍ عَظِیمٍ) کا جو انعام انہیں ملاتھااس کی یادگار اورخوشی ہے۔

دوسری بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہمارے لیے دوسری قوموں کے تہواروں میں شریک ہونا اور ان کے تہواروں کو اپنا تہوار بنانا جائز نہیں ہے۔ تیسری بات اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہماری شرعی عیدیں صرف دو ہی ہیں: عید الفطر اور عید الاضحی۔ اور دوسری قوموں کی نقالی میں عید میلاد النبی وغیرہ کا تہوار منانا درست نہیں ہے۔

معززسامعین !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مردوں کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی عید گاہ جایا کرتے تھے۔ عورتوں کے عیدگاہ جانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور سے حکم دیا تھا اور تاکید کی تھی۔ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

“أمرنا أن نخرج الحیض یوم العیدین وذوات الخدور فیشھدن جماعۃ المسلمین ودعوتھم، وتعتزل الحیض عن مصلاھن” (رواہ البخاری)

“ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم عورتوں اور نوجوان پردہ نشین لڑکیوں حتی کہ حائضہ عورتوں کو بھی عیدین میں عیدگاہ لے جائيں۔ یہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کی دعاؤں میں شریک ہوں گی۔ اور جو خواتین حیض وماہواری کی حالت میں ہوں گی وہ نماز کی جگہ سے الگ رہیں گی (یعنی نمازنہیں ادا کریں گی، صرف خطبہ سنیں گی اوردعاؤں میں شریک رہیں گی)

ایک عورت نے کہا:

“یا رسول اللہ إحدانا لیس لھا جلباب؟”

“ اے اللہ کے رسول!ہم میں سے کسی کے پاس جلباب اور نقاب نہ ہو تو کیا کرے؟”

آپ نے فرمایا:

“لتلبسھا صاحبتھا من جلبابھا”

“اس کی سہیلی اور ساتھی اسے اپنا زائد جلباب اور نقاب دے دے یا اپنی چادر میں شریک کر لے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ گئے، آپ نے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر عورتوں کے پاس آئے، ان میں وعظ کہا اور انہیں نصیحت کی اور صدقہ وخیرات کا حکم دیا۔ میں نے دیکھا وہ اپنے کانوں اور گلےسے زیورات نکال نکال کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں ڈال رہی تھیں۔ اس کے بعد آپ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ گھر واپس آگے۔” (متفق علیہ)

بعض روایتوں میں ہے کہ میں اس وقت نابالغ بچہ تھا اسی واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خواتین کے پاس نصیحت کرنے اور خطبہ دینے کے لیے تشریف لے گئے تو میں بھی وہاں گیا اور ساری با تیں دیکھیں اور سنیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں عورتیں اور بچے بھی عیدگاہ جاتے تھے۔

اس پرغور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عورتوں کو ان کے حقوق عطا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔ انہیں عیدین میں شرکت کی اجازت دی ہے۔ ،اس سلسلہ میں اگر کسی کی کوتاہی ہے، تو تنگ نظر اور جامد علماء کی ہے۔ انہوں نے اپنی تنگ نظری اور جمود سے نہ صرف خواتین کی حق تلفی کی ہے، بلکہ اسلام کو بھی بدنام کیا ہے۔

معزز خواتین!آپ کو شریعت اسلامیہ نے عیدین اور نماز جمعہ وغیرہ میں شرکت کی اجازت دی ہے۔ آپ کے حقوق اور جائز جذبات وخواہشات کا بھرپور لحاظ کیا ہے۔ مگر اسلامی اخلاق وتہذیب کے دائرہ میں رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہیں پر دیکھئے کہ عورتوں کو عیدگاہ جانے کی تاکید کی ہے مگر پردہ کرنے اور برقع اور جلباب میں آنے کا حکم دیا ہے۔ مسجدوں میں نماز کے لیے آنے کی اجازت دی ہے مگر حکم دیا ہے کہ وہ خوشبو لگا کر، زیب وزینت کر کے اور ایسے زیورات پہن کر کے نہ جائيں جن سے آواز پیدا ہوتی ہے اور اجنبی مردوں کی نگاہیں ان کی جانب اٹھتی ہیں۔

معزز خواتین! ابھی آپ سن چکی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید میں عورتوں کو نصیحت کی۔ انہیں آخرت کی یاددلائی، صدقہ وخیرات پر ابھارا اور خواتین نے دل کھول کر صدقہ وخیرات کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے گلے اور کانوں کے زیورات بھی نکال کر کے دے دیئے۔ آج بھی آپ کو اپنی آخرت کے سنوارنے، عذابِ الہٰی سے بچنے اور غریبوں اور مسکینوں کے تعاون اور دینی ورفاہی اداروں کے قیام وبقاء کے لیے آپ کے صدقہ وخیرات کی ضرورت ہے۔ اوریہ موقع صدقہ وخیرات کرنے کا ہے۔ آپ اپنے اسلاف خواتین کے نقش قدم پر چلئے اور صدقہ وخیرات کیجئے، یہ صدقات آخرت میں آپ کے کام آئیں گے اور آپ کو جہنم کی آگ سے بچائیں گے۔

معززسامعین! آج خواتین کے سامنے اسلام کے مسائل اُلجھائے جا رہے ہیں۔ اسلام مخالف میڈیا ان کو خوب اچھال رہا ہے۔ حالانکہ میں پورے وثوق اور دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ دنیا کا کوئی دین، دھرم، قانون اور د ستور ایسا نہیں ہے جس نے عورتوں کو وہ حقوق اور مقام دیا ہو جو اسلام نے انہیں عطا کیا ہے۔ مگر کچھ ہماری کوتاہیاں ہیں۔کچھ خواتین میں علم کی کمی اور نادانیاں ہیں اور زیادہ اعدائے اسلام کے غلط پروپگنڈے اور سازشیں ہیں جو اسلام کو بد نام کر رہے ہیں ۔

برادران اسلام وخواتین ملت!ہم سب کو مل کر ان سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ مردوں کو چاہئے کہ ان کی جانب سے خواتین کے حقوق کی ادائیگی میں جو کوتاہیاں ہوں ان کو دور کریں۔ اور تعلیم وتربیت، نماز، روزہ، زکاۃ، حج، شادی بیاہ، میراث اور ازدواجی زندگی اور خانگی ومعاشرتی امور میں ان کے جو حقوق ہیں ان کوصحیح طریقے سے انہیں دیں۔ بچیوں اور خواتین کی تعلیم میں آج کمی ہے۔ شادی، طلاق اور میراث کے مسائل میں بھی کوتاہیاں ہیں۔ آیئے، ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم ان کوتاہیوں کو دور کریں گے۔ خواتین کے اندر بھی کچھ خامیاں ہیں۔ وہ پردہ کاخاطر خواہ اہتمام نہیں کرتیں اور دشمنوں کے پروپگنڈے سے متاثر ہوکر برقع کو کالی مصیبت اور گھر میں عزت کے ساتھ بیٹھنے کو جیل خانہ میں رہنا سمجھتی ہیں۔ حالانکہ ان میں ان کی عزت وآبرو کی حفاظت ہے۔ ان کے لیے امن وسکون ہے۔ آفسوں، کارخانوں اور کھیتوں وغیرہ میں کام کرنے والی خواتین سے پوچھئے کہ انہیں کس طرح مردوں کی نظربد، ناشائستہ باتوں اورچھیڑخانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ کس طرح وہ صبح سے لے کر شام تک بستر پر جانے تک گھر اور باہر کے کاموں میں مشغول رہ کر پریشان اور تھکن سے چور چور ہوتی ہیں؟

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

برادرانِ اسلام! آج ہمارا عقیدہ، ہمارا دین، ہماری تہذیب، ہمارے مساجد ومدارس، ہماری جان ومال اور عزت وآبرو سب خطرے میں ہیں۔ اسلام دشمن طاقتیں ہر سطح پر مسلمانوں کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ چیچنیا میں کس طرح اقوام متحدہ، ناٹو، امریکہ، برطانیہ اور پوری دنیا کے سامنے بربریت اورظلم وستم کا ننگا ناچ ناچایا جا رہا ہے، اور “الکفر ملۃ واحدۃ” کے تحت یہ سارے ادارے، ساری قومیں اور سارے ممالک آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے کی سازش میں برابر کے شریک ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان کے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے؟ فلسطین میں کیا ہورہا ہے؟ کوسوغو اور البانیہ میں کیا ہوا اور سوڈان میں کیا ہو رہا ہے؟اگر انڈونیشیا کے ایک جزیرہ میں مٹھی بھر عیسائی بغاوت کریں اور الگ ریاست بنا نے کے لیے مظاہرہ اور مطالبہ کریں تو اسے حق آزادی اور حق خوداری کا نام دیا جائے اور اقوام متحدہ سمیت ساری عیسائی ویہودی دنیا ان کی مدد کے لیے پہنچ جائے۔ اس کے لیے ظلم وستم کی کہانیاں وضع کی جائيں۔ ملک میں مظاہرے اور ہنگامے کرا کے حکام بدلے جائیں اور خائن اور قوم فروش لیڈروں کو آگے لایا جائے اور حقوق انسانی کے نام پر اس جزیرہ کو زبردستی آزادی دلائی جائے۔ مگرکوسوغو، فلسطین، چیچنیا وغیرہ میں پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے، ان کے حق خود ارادی وآزادی کو سلب کیا جائے، تین تین، چار چار ماہ شب وروز بمباری کی جائے، شہروں کو کھنڈر بنا دیا جائے، بچوں کو ذبح کیا جائے، عورتوں کی بےعزتی کی جائے ، ان کے پیٹ چا ک کر کے حمل کو ضائع کیا جائے اور ان کی بےحرمتی کر کے تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا جائے، لاشوں پر جشن منایا جائے اور ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات وجرائد وغیرہ کے ذریعہ ساری چيزیں دنیا کے سامنے آئیں۔ لیکن کسی کے کا ن پر جوں تک نہ رینگے اور اُلٹے یہ مسلمان غدار اور باغی قرار پائیں اور ظالموں وقاتلوں کی تائيد کی جائے۔

برادران اسلام!آیئے، غور کریں کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ ایسا اس واسطے ہے کہ مسلمانوں میں اتفاق واتحاد نہیں ہے۔ خلافت عثمانیہ کے ختم ہو جانے کے بعد مسلمانوں کا کوئی متحدہ پلیٹ فارم نہیں۔ آج ان کی کوئی اجتماعی فوج اور طاقت نہیں۔ ان میں کوئی رابطہ اور تعاون نہیں۔ سب ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہیں اور ریوڑ سے الگ ہو جانے والی بکری کی طرح باری باری انسان نما بھیڑ یوں کا شکار ہورہے ہیں۔

دوستو!آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام عالم اسلام، بلکہ تمام مسلمانوں کا ایک متحدہ پلیٹ فارم ہو۔ ان کی ایک متحدہ فوج اور ایک متحد قوت بنائی جائے تا کہ اس کے ذریعہ ان پر ہونے والے عالمی ظلم وستم کے سیل رواں کو روکا جا سکے۔

ہندی مسلمانو!تمہارے آباء واجداد نے اس سے پہلے خلافتِ عثمانیہ کے لیے تحریک چلائی تھی۔ انہوں نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو متحد کرکے اور انصاف پسند غیرمسلموں کو بھی ساتھ لے کر خلافتِ عثمانیہ کی حفاظت واحیاء کے لیے بڑی کوشش کی تھی۔ آج یہ تحریک نسیا منسیا ہوچکی ہے۔ حالانکہ آج اس کی سخت ضرورت ہے۔ کیا ہے تم میں کوئی جو اس تحریک کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرے؟ اور عالم اسلام کو اس کا بھولا ہوا سبق یاددلائے؟ان کو متحد ومتفق کر کے ایک پلیٹ فارم پر لے آئے اور ایک عالمی قوت بنادے؟

برادران اسلام! آج چیچنیا میں، روس اور فلسطین میں، اسرائیل اور عراق وافغانستان میں امریکہ جس طرح مسلمانوں پر ظلم وستم کر رہا ہے اور پوری مسلم قوم کو نیچا دکھانے اور رسوا و ذلیل وخوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس کے لیے ہم کو کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام مسلمانوں کی جانب سے یہ معاملہ پوری قوت کے ساتھ اقوام متحدہ میں پیش کرنا چاہے۔ دنیا کے امن پسند ملکوں اور قوموں سے رابطہ قائم کر کے انہیں ساتھ لینا چاہیے اور پوری دنیا کے سامنے ان کے مظالم کو اجاگر کرنا اور اس کے خلاف آواز اٹھانا چاہئے۔ سب کو قنوت پڑھنا چاہئے اور اپنے مسلمان بھائيوں کی فتح اور کامیابی اور دشمنوں کے مظالم سے نجات کے لیے خلوص دل سے دعا کرنی چاہئے۔

آج ہم نےقنوتِ نازلہ کی اہمیت کو فراموش کر دیا ہے۔ حالانکہ مظلوم اور کمزور مسلمانوں کے لیے یہ ایک زبردست ہتھیار ہے۔ اس سے اللہ کی نصرت ومدد کا نزول ہوتا ہے اور دشمنوں کو شکست وناکامی ہوتی ہے۔

برادرانِ اسلام!آپ، اپنےملک کے حالات سے ہم سے زیادہ واقف ہیں۔آپ کے دین وعقیدہ، تہذیب وتمدن، زبان وادب، دینی مدارس وجامعات، دینی جماعتوں اور تحریکوں اور مساجد ومقدس مقامات کو جو خطرات لاحق ہیں ان کے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ ان کی حفاظت کے لیے آپ کو ہر وقت بیدار رہنے اور فرقہ پرستوں کی سازشوں کو مل کر ناکام بنا نے کی ضرورت ہے۔

آج آپ کی وفاداری پر شک کیا جا رہا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں آپ کو بدنام اور مہتم کرنے کے لیے شب وروز کوششیں کر رہی ہیں۔ میڈیا ان کے ساتھ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندی، انگریزی، مراٹھی اردو وغیرہ زبانوں میں مسلمانوں کے ایسے اخبارات وجرائد اور ٹی وی ہوں، جو ان الزام ترشیوں کا بروقت جواب دیں۔ مسلمانوں کا دفاع کریں اور انہیں جوش وہمت عطا کریں۔

برادرانِ اسلام!علم ایک بہت بڑی دولت، عظیم قوت اور زبردست ہتھیار ہے۔ اس کے بغیر کوئی بھی قوم پستی وذلت سے نکل کر بام عروج وعزت تک نہیں پہنچ سکتی۔ ہم کو اس جانب بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تعلیمی میدان میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ دینی تعلیم میں بھی اور عصری تعلیم میں بھی قوم کے خیر خواہوں اور باشعور لوگوں کو خصوصاً اور سارے ہی مسلمانوں کو عموما اس پر بھرپور توجہ دینا چاہئے۔ آپ حضرات قوم میں تعلیمی بیداری پیدا کریں۔ غریب طلبہ وطالبات کی رہنمائی ومدد کریں تاکہ وہ اچھےسے اچھے نمبروں سے کامیاب ہوسکیں اور اعلی تعلیم کے مختلف شعبوں تک پہنچ سکیں۔ ہر شخص اپنے بچوں کو پڑھانے کی کوشش کرے۔ اس کے لیے محنت اور پیسے خرچ کرے۔ خاص طور سے خواتین بچوں کی تعلیم وتربیت کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھیں اور صحیح طریقے سے ادا کریں۔

برادرانِ اسلام! عید کایہ اجتماع، اجتماعی نمازیں، اجتماعی زکاۃ، اجتماعی روزہ اور اجتماعی حج آپ کو اجتماعیت اور اتفاق واتحاد کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ ایک ساتھ تمام مردوں اور بچوں کا: “اللہ أکبر، اللہ أکبر، لا إلہ إلا، اللہ أکبر، اللہ أکبر وللہ الحمد” کی صدائے دلنواز بلند کرتے ہوئے عید گاہ آنا ، سب کا ایک امام کے پیچھے جماعت سے نماز پڑھنا اور پھر بیٹھ کر ایک ساتھ خطبہ سننا، اسی لیے تو ہے کہ ہم میں اجتماعیت اور اتحاد پیدا ہو۔ ہماری قوت وشوکت میں اضافہ اور اس کا مظاہرہ ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عید کے خطبہ میں جہاں مسلمانوں کو مختلف قسم کی نصیحتیں کرتے تھے، وہیں دعا بھی مانگتے تھے جیسا کہ حضرت ام عطیہ کی حدیث میں وارد: “فیشھدن جما‏عۃ المسلمین ودعوتھم” سے معلوم ہوتا ہے۔ اس واسطے آیئے، اپنے پروردگار کے سامنے ہاتھ پھیلائیں، روئیں اور اپنی اور امت اسلامیہ کی کامیابی وبھلائی کے لیے دعائیں مانگيں:

( رَبَّنَا آَتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآَخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ) [البقرة: 201]

( رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ) [الأعراف: 23]

( رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ) [البقرة: 286]

(اللھم انصر الإسلام والمسلمین وألف بین قلوبھم وأصلح ذات بینھم وأنصرھم علی عدوک وعدوھم، اللھم أخذل الکفرۃ والمشرکین، وشتت شملھم وفرق جمعھم، ودمر دیارھم وزلزل أقدامھم، وأنزل بھم بأسک الذی لا تردہ عن القوم المجرمین، اللھم إنا نجعلک فی نحورھم، ونعوذ بک من شرورھم، اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم، واجعلنا منھم، واخذل من خذل دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ولا تجلعنا منھم)

اے اللہ! اے ہمارے خالق ومالک! ہمارے روزوں، ہماری نماز، تراویح، قرآن کی تلاوت، آخری عشرہ کی شب بیداری، صدقہ وخیرات اور ديگر تمام عبادتوں کو قبول فرما۔

الٰہ العالمین! ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں ڈھانپ لے، ہمیں ہر قسم کی برائیوں سے بچا اور زیادہ سے زیادہ نیکیوں کی توفیق عطا فرما۔

الٰہ العالمین!ہمارے آباء واجداد، ماؤýں، بہنوں، اعزاء واقارب اور علمائے کرام میں سے جو انتقال فرماگئے ہیں ان کی مغفرت فرما، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے، ان کی قبروں میں جنت کی کھڑکیاں کھول دے، انہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھ، ان کے درجات کو بلند فرما، ان کی نیکیوں کو قبول کر اور گناہوں سے درگذر فرما۔

الٰہ العالمین!تمام مسلمانوں کی جان ومال کی حفاظت فرما، ان پر ہونے والے ظلم وستم کا ازالہ فرما، دشمنان اسلام کو شکست فاش دے، ان کی سازشوں کو ناکام بنا۔

ربُّ العالمین !تمام مظلوم مسلمانوں پر اپنی نصرت ورحمت کی بارش نازل فرما۔

الٰہ العالمین!تمام اعدائے اسلام کو تباہ وبرباد کر، ان کی فوجوں کے قدم اکھاڑ دے، ان کے اسلحوں کو ناکارہ بنا دے، ان پر ایسی ہیبت اور خوف طاری فرما کہ میدان کارزار سے ان کے قدم اکھڑ جائيں۔

الٰہ العالمین! امریکہ اور برطانیہ اور وہ ممالک جو مسلمانوں کی دشمنی میں پیش پیش ہیں، انہیں ذلیل وخوار کر، ان کی طاقت کو تباہ وبرباد کر، ان کی فوج اور ان کے اسلحوں کو انہیں کے لیے وبال جان بنا۔

الٰہ العالمین!تمام دنیا کے مسلمانوں میں اتحاد واتفاق پیدا کر، انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دے، ان کے امراء وحکام کو راہ حق کی ہدایت عطا فرما، ان کو ہمت، شجاعت اور غیرت عطا کر، انہیں اسلام اور ایمان کی راہ پرچلا۔

الٰہ العالمین ! روئے زمین پر خلا فت اسلامیہ کو قائم کر اور مسلمانوں کی ذلت وادبار کے دور کو ختم فرما۔

الہیٰ!ہمارے مدارس ومساجد کی حفاظت فرما، ہمارے دین، عقیدہ، تہذیب وثقافت اور زبان کی حفاظت فرما، ہمارے دینی ودنیوی دونوں قسم کے قائدوں کو متفق ومتحد کردے، ان کو اخلاص، ہمت وجرأت اور اسلام اورمسلمانوں کی خدمت کا جذبہ عطا فرما۔

الٰہ العالمین! ہماری قوم کو علمی وسائنسی ترقی، فوجی واقتصادی قوت عطا فرما۔

الٰہ العالمین!ہم میں جو بیمار ہیں انہیں شفائے کامل وشفائےعاجل عطا فرما، جو پریشان حال ہیں ان کی پریشانیوں کو دور فرما، جو مقروض ہیں ان کے قرضوں کی ادائیگی آسان کر، ہمارے جونوجوان دشمنوں کی جیلوں اور قیدخانوں میں ہیں انہیں اپنے فضل خاص سے رہائی وچھٹکارہ عطا فرما۔

الٰہ العالمین! ہمیں عمل صالح کی توفیق عطا فرما، ہم میں جو بےنمازی ہیں انہیں نمازی بنا دے، جو شرک وبدعت میں مبتلا ہیں انہیں ان سے نجات دے اور موحد بنا دے۔

الٰہ العالمین! توہمارے نوجوانوں کو نیک صالح بنا، انہیں حضرت خالد وطارق کی طرح غیرت وحمیت اور جوش وہمت عطا فرما، انہیں عفت وپاکدامنی اور تقویٰ وطہارت کی زندگی گذارنے کی توفیق دے۔

الہیٰ! ہماری ماؤں اور بہنوں کو نیک بنا ، انہیں حضرت خدیجہ، عائشہ اور فاطمہ کا نمونہ بنا۔

الٰہ العالمین! ہمارے بزرگوں کو اپنے گھر، خاندان اور قوم وملت کی صحیح رہنمائی اور خدمت کی توفیق عطا فرما۔

ربُّ العالمین! جب تک ہم سب کو زندہ رکھ ایمان وعمل صالح کے ساتھ زندہ رکھ اور جب اس دنیا سے لے جا تو ایمان کے ساتھ لے جا۔

ربنا تقبل منا إنک أنت السمیع العلیم وتب علینا إنک أنت التواب الرحیم، وصل اللھم وسلم علی عبدک ورسولک محمد وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، برحمتک یا أرحم الراحمین۔ وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔