خطبۂ استسقاء

تفصیل

قحط، لوگوں کی اطاعتِ الہٰی سے دوری کی علامت اور اس کے حرمات کی پامالی کا واضح اشارہ ہے۔ اللہ کی معصیت ونافرمانی شر لاتی اور خیر وبرکت کو مٹاتی ہے۔ اللہ کا اپنے بندوں پر کرم اور نوازش یہ ہے کہ اس نے ان کےلیے استسقاء کی نماز کو مشروع کیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور اس سے اس چیز کے ازالے کی فریاد کرتے ہیں جس میں وہ مبتلا کر دیے گئے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے بندوں پر ترس کھا کر بارش نازل کرتا ہے ۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

برادرانِ اسلام!سب سے پہلے میں اپنے آپ کو پھر آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ اللہ سے ڈرنے کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ جن کاموں کواس نے کرنے کا حکم دیا ہے اسے کیا جائے اور جن کاموں سے روکا ہے اس سے رک جایا جائے، قرآن کی زبان میں اسی کو تقویٰ کہتے ہیں۔ اور یہی تقویٰ ہی نجات وسلامتی اور فلاح وکامرانی کا دار ومدار ہے۔ جولوگ اللہ سے ڈر کر اس کے حکم پر عمل کرتے اوراس کی نافرمانی سے بچتے ہیں وہی اللہ کے عذاب سے نجات پا سکیں گے۔ارشاد باری ہے:

( ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا ) [مريم: 72]

“پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچالیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔”

اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا ہے اس کے وارث بھی یہی لوگ ہوں گے جو اللہ سے ڈر کر نیک عمل کریں گے اور برے کاموں سے بچیں گے۔ ارشاد باری ہے:

( تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا ) [مريم: 63]

“یہ ہے وه جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے انہیں بناتے ہیں جو متقی ہوں۔”

نیز ارشاد باری ہے ( إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ) [المائدة: 27]

“اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔”

میرے بھائیو!گنا ہوں پر پردہ ڈالنے والی اور ہماری خطاؤں اور غلطیوں کو معاف کر نے والی ذات صرف اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں سے فر ماتا ہے:

( وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) [النور: 31]

“اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔”

وہ انہیں ملأ اعلیٰ میں آواز دیتا ہے:

(یا عبادی إنکم تخطئون باللیل والنھار وأنا أغفر الذنوب جمیعا فاستغفروا لی أغفر لکم)

“اے میرے بندو!تم رات اور دن خطائیں کرتے ہو، اور میں تمہارے سارے گناہوں کو معاف کرتا ہوں، لہذا تم مجھ سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں معاف کر دوں گا۔”

اللہ تعالی ٰ اپنی ساری مخلوقات کو جانتا اور ان سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ ان کی ساری کمزوریوں اور خامیوں سے آگاہ ہے۔ اسی لیے وہ اپنی بخشش ومغفرت کا دروازہ ان کے لیے ہر آن کھلا رکھے ہے اور انہیں اپنی جنت اور بخشش کی طرف بلا تا ہے۔

ارشاد باری ہے ( وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ ) [البقرة: 221]

“اور اللہ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے۔”

ہمارے رب کی رحمتیں بے پایاں ہیں ان کا کوئی حساب نہیں۔ وہ دینے سے کبھی ختم بھی نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے بندوں پر بہت رحیم وشفیق ہے۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں جو ان کے گناہ معاف کرے۔

( وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ ) [آل عمران: 135]

" فی الواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟"

میرے بھائیو!امت میں جب توبہ واستغفار کی کثرت ہوتی ہے تو اللہ ان سے اپنی ارضی وسماوی آفات ومصائب کو دفع فرما دیتا ہے۔

ارشاد باری ہے:

( وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ) [الأنفال: 33]

”اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرےگا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دےگا اس حالت میں کہ وه استغفار کرتے ہوں۔”

توبہ وا ستغفار سے اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں، ارشاد ہے:

( لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ) [النمل: 46]

“تم اللہ تعالیٰ سےاستغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔”

میرے بھائیو!فرد اور سو سائٹی کی فارغ البالی اور خوشحالی اور مالداری میں اضافےمیں اور توبہ واستغفار کے ذریعہ پاکی میں بہت گہرا اور مضبوط رشتہ ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اسی حقیقت کی طرف اپنی قوم کو توجہ دلا تے ہوئے ان سے فرمایا تھا:

( فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ١٠ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا ١١ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا [نوح: 10 - 12]

“اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے والا ہے۔ وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دےگا۔ اور تمہیں خوب پےدرپے مال اور اولاد میں ترقی دےگا اور تمہیں باغات دےگا، اور تمہارے لیے نہریں نکال دےگا۔”

سب سے افضل استغفار یہ ہے کہ اللہ تعالی ٰ کی حمد وثنا سے اس کی شروعات کی جائے۔ پھر اس کے انعامات واحسانات اور نوازشوں کا ذکر کیا جائے۔ پھر اپنے گناہوں اور کو تاہیوں کا اعتراف واقرار کیا جائے۔ اس کے بعد اس سے مغفرت وبخشش کا سوال کیا جائے۔ جیسا کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :

(سید الاستغفار أن یقول العبد: اللھم أنت ربی، لا إلہ إلا أنت، خلقتنی وأنا عبدک، وأنا علی عھدک و وعدک ما استطعت، أعوذ بک من شر ما صنعت، أبوء لک بنعمتک علی، و أبوء بذنبی، فاغفر لی، فإنہ لا یغفر الذنوب إلا أنت) (بخاری)

“سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ کہے: اے اللہ ! تو میرا رب ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے۔اور میں تیرا بندہ ہوں۔ اور جہاں تک طاقت رکھتا ہوں، تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، اور میں اپنے کیے ہوئے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ ان نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں ، جو تونے مجھ پر کیں ہیں، اور میں اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں۔ پس تو مجھے معاف فرما دے۔ بےشک تیرے سوا کوئی گنا ہوں کو معاف کرنے والا نہیں۔

اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ دعا سید الاستغفار اس لیے ہےکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت والوہیت اور اس کی توحید کے اقرار اور اعتراف پر مشتمل ہے۔ اور ساتھ ہی اس میں بندے کے اپنے عجز وتقصیر اور اپنی کوتاہیوں کا بھی اعتراف واظہار ہے۔

اللہ کے بندے!تمہیں ایک ایسی ذات نے پیدا کیا ہے جو ہر چیز پر قدرت رکھتی ہے۔ وہی تمہیں وفات دےگی، پھر وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرےگی، اور تم اللہ کے سامنے حساب کے لیے پیش کیے جاؤ گے۔ اس لیے اس دن کی تیاری کرلو، اور اس دن کے لیے توشہ جمع کرلو۔

میرے نوجوان بھا ئیو!کیا تم بڑھاپے کا انتظار کررہے ہو؟ اور اس انتظار میں ہو کہ تمہیں کوئی بیماری آ دبوچے اور تم عمل کرنے کے لائق نہ رہ جاؤ۔ یاد رکھو، موت پہلے سے بتا کر نہیں آئےگی۔ وہ اچانک آئےگی۔ اس لیے ہمیں ہر وقت اس کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ اور ہم نے جو گناہ کے کام کیے ہیں، نیک اعمال کر کے اس کی تلافی کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے نہ بنائے جنہوں نے اپنی عمریں ضائع کردیں اور مرنے کے قریب پہنچ گئے اور ابھی تک آنے والی زندگی کے لیے کوئی سامان نہیں کیا۔

میرے بھائیو!اپنے اس رب سے ڈرو جو تمہارا پالنہار اور پروردگار ہے۔ نیکی کے کام کرو اور اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرو ۔ برائی سے اور بےحیائی کے کاموں سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ لوگوں کےحقوق کا خیال رکھو۔ ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو۔ بھوکوں کو کھانا کھلاؤ۔ یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرو۔ اور اللہ کی راہ میں کثرت سے صدقہ وخیرات کرو۔ یہی وہ اعمال ہیں جو ہمیں اللہ کی ناراضگی سے بچا سکتے ہیں۔

میرے بھائیو!اس جگہ ہم اس لیے جمع ہوئے ہیں تاکہ ہم اپنے رب سے اس قحط اور خشک سالی کی شکایت کریں، جو ہماری بداعمالیوں کی وجہ سے ہم پر مسلط ہو گئی ہے۔ ہم اس سے بارش طلب کریں، جس کی خود ہمیں ہمارے چوپایوں اور ہماری کھیتیوں کو شدید ضرورت ہے، جو ہمیں اللہ کو خوش کیے بغیر نہیں مل سکتی ہے ۔ اس لیے ہم اپنے نیک اعمال کے حوالے سے رو رو کر گڑگڑا کر اس سے دعائیں کریں، اور اپنی عاجزی وبےچارگی اور محتاجی کا اقرار واعتراف کریں اور اپنی کوتاہیوں اور بداعمالیوں پر افسوس وندامت کا اظہار کریں اور آئندہ اس سے باز رہنے کا پختہ عہد کریں۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود وسلام بھیجیں کیونکہ دعائیں اس وقت تک آسمان وزمین کے درمیان موقوف ہو تی ہیں، جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام نہ بھیجا جائے۔

اللھم صل وسلم وبارک علی عبدک ورسولک محمد، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔

میرے بھائیو!ہم پر جو آفتیں اورمصیبتیں آتی ہیں، وہ ہماری بداعمالیوں ہی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

ارشاد باری ہے :

( وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آَمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ) [الأعراف: 96]

”اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔”

دوسری جگہ ارشاد ہے:

( وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ ) [الشورى: 30]

”تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وه تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہیں اور وه تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔”

ایک اور جگہ ارشاد ہے:

( ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ) [الروم: 41]

”خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے۔”

میرے بھائیو! آسمان سے جو بارش رک جاتی ہے اور کنویں، تالاب اور دریا خشک ہو جاتے ہیں، اور لہلہاتی کھیتیاں سوکھنے لگتی ہیں، گھاسیں اور سبزیاں خشک ہو جاتی ہیں، جانور اور چوپائے بھوک اور پیاس سے مرنے لگتے ہیں ، (معاذ اللہ) یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ کے خزانے میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس کے خزانے میں کبھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اس کا ہاتھ ہمیشہ بھرا ہوتا ہے۔ وہ دن ورات خرچ کرتا ہے۔ پھر بھی اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ قسم ہے اللہ کی! اس کی وجہ اور اس کاسبب صرف اور صرف ہماری بدعملی، کوتاہی اور اللہ کے احکام کی نافرمانی ہے۔ ہماری بداعمالیوں اور نا فرمانیوں سے ناراض ہو کر اللہ ہم سے اپنی رحمت روک لیتا ہے۔ اس لیے آئیے، ہم اپنے اعمال کا جا ئزہ لیں۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو شرک وبدعات میں گرفتار ہیں، ان کے عقیدے صحیح نہیں، جو تعلق اللہ سے ہونا چاہئے وہ دوسروں سے قائم کر رکھے ہیں۔ توحید جو ہمارا مضبوط قلعہ ہے اور ہماری پناہ گاہ بھی، وہ ہمارے پاس نہیں رہی۔ تو ہم اللہ کے غضب کا شکار کیوں نہیں ہوں گے۔ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ اس کی الوہیت کا اقرار اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں:

( لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ) [الأنبياء: 87]

“الہٰی! تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں ہو گیا۔”

چنانچہ اللہ کی مدد آتی ہے اور وہ اس مصیبت سے جس میں وہ گرفتار تھے نجات پالیتے ہیں۔

( فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ ) [الأنبياء: 88]

”تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں۔”

آئیے، ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔ ہم میں کتنے ایسے ہیں جو سرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں، اور کتنے ایسے ہیں جو من چاہی نماز پڑھتے ہیں۔ جب ان کا دل چاہتا ہے پڑھتے ہیں اور جب دل چاہتا ہے چھوڑ دیتے ہیں۔ کیا نماز کا چھوڑ نا اکبر الکبائر نہیں؟ بہت سے محققین اہل علم کے نزدیک جان بوجھ کر نماز چھوڑ دینے سے آدمی دائرۂ اسلام ہی سے نکل جاتا ہے۔

بریدہ ابن حصیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(العھد الذی بیننا وبینھم الصلاۃ فمن ترکھا فقد کفر) (ترمذی)

“ ہم میں سے کتنے مالدار ہیں جو صاحب نصاب ہیں جن پر زکاۃ فرض ہے؛ لیکن وہ ز کاۃ نہیں دیتے۔ حالانکہ اللہ نے اپنی کتاب میں بےشمار مقامات پر نماز کے ساتھ زکاۃ کا ذکر کیا ہے اور اسے غریبوں اور محتاجوں کا حق بتایا ہے، اور اس کی ادائیگی کی تاکید فرمائی ہے۔ اس کے باوجود ہم اس کی حکم عدولی سے نہیں ڈرتے۔ اللہ کی رحمت ہم سے کیوں نہیں روٹھےگی۔

( فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآَتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ ) [التوبة: 11]

”اب بھی اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰة دینے لگ جائیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔”

ہمارے دین کا ایک رکن رکین امربالمعروف ونہی عن المنکر ہے؛ لیکن کتنےلوگ ہیں جو اس ذ مہ داری کو پا بندی کے ساتھ نبھاتے ہیں ؟ ہم اپنی آنکھوں سے لوگوں کو منکر کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھتے ہیں؛ لیکن ہم انہیں نہیں روکتے، اور اپنے بھائیوں کے لیے ہمارے اندر خیرخواہی کا کوئی جذبہ نہیں ابھرتا۔ اسی طرح ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو سود خوری ، شراب نوشی، زنا وحرام کاری میں مبتلا ہیں ، اور کھلے عام بےحیائی کے کام کرتے ہیں۔ کیا ہم کبھی خیرخواہانہ طور پر ان سے ان کاموں سے باز رہنے کے لیے کہتے ہیں؟

( وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا66 وَإِذًا لَآَتَيْنَاهُمْ مِنْ لَدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا ٦٧ وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا ) [النساء: 68]

“اور اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لئے بہتر اور بہت زیاده مضبوطی والا ہے۔ اور تب تو انہیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیں۔ اور یقیناً انہیں راه راست دکھا دیں۔”

میرے بھائیو!ہم نے شرک وکفر کا ارتکاب کیا، نمازوں کو ضائع کیا، حرمتوں کو پامال کیا، ہمارے معاملات درست نہیں، سود خوری ہم میں عام ہے، گانے بجانے کی چیزوں ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ہم دلدادہ ہیں، بےحیائی اور فحش کاری میں ہم سر سے پیر تک غرق ہیں۔ پھر اللہ اپنی رحمت کو ہم سے کیوں نہیں روک لےگا؟ جب کہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ زکاۃ کی عدم ادائیگی ، حرام خوری اورامر بالمعروف ونہی عن المنکر کو چھوڑ دینے سے آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے۔

(اللھم لا تقتلنا بغضبک) “اے اللہ! تو ہمیں اپنے غضب کا شکار نہ بنا۔”

(اللھم لاتھلکنا بعذابک) “اے اللہ! تو ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر۔”

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

میرے بھائیو!یاد رکھو جب کسی قوم میں برائی عام ہو جاتی ہے، تو وہ قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔ برا ئیوں کی کثرت اور زیادتی رزق سے محرومی اور رحمتوں اور برکتوں کے چھن جانے کا سبب بنتی ہے۔ اس سے فساد عام ہوتا ہے۔ بیماریاں پھیلتی ہیں۔ دشمنوں کا خوف دلوں پر چھا جاتا ہے۔ سوسائٹی اضطراب وبےچینی اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک دن اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا:

“یامعشر المھاجرین خمس إذا ابتلیتم بھن وأعوذ باللہ أن تدرکوھن، لم تظھر الفاحشۃ فی قوم قط حتی یعلنوا بھا إلا فشا فیھم الطاعون والأوجاع التی لم تکن مضت فی أسلافھم الذین مضوا، ولم ینقصوا المکیال والمیزان إلا أخذوا بالسنین وشدۃ المؤونۃ وجور السلطان علیھم، و لم یمنعوا الزکاۃ فی أموالھم إلا منعوا القطر من السماء و لو لا البھائم لم یمطروا، ولم ینقضوا عھد اللہ وعھد رسولہ إلا سلط اللہ علیھم عدوا من غیرھم فأخذوا بعض ما فی أیدیھم، و ما لم تحکم أئمتھم بکتاب اللہ ویتخیروا مما أنزل اللہ إلا جعل اللہ بأسھم بینھم” (ابن ماجہ وحاکم)

“اے مہا جرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہوجاؤ گے (اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم ان میں مبتلا ہو) پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں اعلانیہ فسق وفجور اور زناکاری ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں، جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں۔ دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور ظلم وجور کے شکار ہو جاتے ہیں، تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکاۃ نہیں دیتے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش کو روک لیتا ہے اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے بارش کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا، چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد وپیمان کو توڑ دیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کردیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہو تا ہے ان سے چھین لیتا ہے، پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمراں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جواللہ نے نازل کیا ہے، اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتاہے۔”

میرے بھائیو!گناہوں کی نحوست ہوتی ہے۔ اس کے اثرات بد اور برے انجام ہوتے ہیں، جنہیں قوموں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھئے، کتنی قومیں اپنے گنا ہوں کے پاداش میں ہلاک وبرباد کردی گئیں۔

ارشاد باری ہے :

( وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آَخَرِينَ) [الأنبياء: 11]

“اور بہت سی بستیاں ہم نے تباه کر دیں جو ظالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم کو پیدا کر دیا۔”

ایک جگہ ارشاد ہے۔

( كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ٢٥ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ ٢٦ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ ٢٧ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آَخَرِينَ 28 فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ ) [الدخان:25 - 29]

“ وه بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے۔ اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے۔ اور وه آرام کی چیزیں جن میں عیش کررہے تھے۔ اسی طرح ہوگیا اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنادیا۔ سو ان پر نہ تو آسمان وزمین روئے اور نہ انہیں مہلت ملی۔”

گناہوں سے نعمتیں چھن جاتی ہیں، اور آفات ومصائب، اور بلیات نازل ہوتی ہیں، اور لوگ فتنوں اور آزمائشوں میں مبتلا کردیے جاتے ہیں۔ ارشاد باری ہے :

( إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ) [الرعد: 11]

”اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل لیں ۔”

میرے بھائیو! اللہ کی حکمت اور اس کی مشیت اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ وہ اس علاقے میں رہنے والے بندوں کو آزمائے۔ وہ خوش حالی اور قحط اورفراخی وتنگی دونوں کے ذریعہ آزماتا ہے۔ یہ آزمائش بھی درحقیقت اس کی مہربانیاں اور اس کے الطاف ہیں۔ اس کا شعور اور ادراک وہی لوگ کر پاتے ہیں جو سچے اور مخلص مومن ہوتے ہیں ۔ ان آزمائشوں سے ایمان ویقین میں اضافہ ہوتا ہے، جب آزمائشیں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں اور پریشانیاں اور مصائب وآرام سخت ہوجاتے ہیں، تو اللہ کی نصرت ومدد کا وقت بھی قریب آ جاتا ہے۔

ارشاد باری ہے :

( حَتَّى إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا ) [يوسف: 110]

“یہاں تک کہ جب رسول ناامید ہونے لگے اور وه (قوم کے لوگ) خیال کرنے لگے کہ انہیں جھوٹ کہا گیا۔ فوراً ہی ہماری مدد ان کے پاس آپہنچی۔”

ہلاکتیں اور مصیبتیں مومن کی توجہ مخلوقات سے ہٹا کر اس کے خالق کی طرف پھیر دیتی ہیں، اور وہ صدق دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، اور اللہ سے عاجزی وگریہ وزاری میں لگ جاتا ہے۔ اللہ نے اپنی کتاب میں ان لوگوں کی مذمت فرمائی ہے، جو بلاؤں، آفتوں اور آزمائشوں میں اپنی عجز وبےبسی اور بےچارگی کا اظہار نہیں کرتے، اور اپنے رب کی طرف رجوع نہیں ہوتے۔

ارشاد باری ہے:

( وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ ) [المؤمنون: 76]

“اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاہم یہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی۔”

اللہ تعالیٰ ایسے بد بخت لوگوں میں سے ہمیں نہ بنائے۔ آئیے، ہم صدق دل سے اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس سے توبہ واستغفار کریں۔ اپنے گناہوں، خطاؤں اور کوتاہیوں کو یاد کریں اور اس سے معافی طلب کریں، اس کے سامنے رو رو کر، گڑگڑا کر، اس سے اس بات کا عہد کریں کہ ہم سے پھر یہ گناہ سرزد نہ ہوں گے۔ یاد رکھیں، دل کی آہ وزاری اورآنکھوں کے آنسوؤں سے بڑھ کر اس کی بار گاہ میں کوئی شفیع نہیں۔ ہم سے جس طرح بھی ہو سکے، ہم اپنے پیدا کرنے والے کو راضی کریں، اور اسے منائیں۔ ہم نے اپنی بداعمالیوں سے اسے ناراض کر دیا ہے۔

آئیے، ہم اس سے یوں دعا کریں۔ بار الہا! ہم نے اپنی بداعمالیوں سے تیری مقدس زمین کو ناپاک اور گندہ کردیاہے۔ ہم اپنی سزاؤں کو پہنچ چکے ہیں۔ اب ہم میں مزید طاقت نہیں ہے کہ ہم تیرے غضب وناراضگی کو برداشت کر سکیں۔ اے “حی” اور “قیوم” ہم پر رحم فرما۔ ہمارے قصوروں کو معاف فرما۔ ہم اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پرنادم وشرمسار ہیں۔ اگر چہ ہماری خطائیں بےشمار ہیں؛ لیکن ہم تو تیرے ہی بندے اور غلام ہیں۔ تو اگر ہم سے منہ موڑےگا، تو ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ ہمارے معصوم بچے پیاس سے بلک رہے ہیں، ہمارے چوپائے بھوک وپیاس سے مررہے ہیں، ہماری لہلہا تی کھیتیاں خشک ہو گئی ہیں، ہماری خطاؤں کی سزا ہمارے معصوم بچوں اور بےجان چوپایوں اور ہماری کھیتیوں کو نہ دے۔ بارالہا! ہم پر کرم فرما۔ ہم اپنے گناہوں پر بےحد نادم وشرمسار ہیں۔ اور رو رو کر تجھ سے اس بات کا عہد کرتے ہیں، کہ اب ہم ان گناہوں کے قریب نہ پھٹکیں گے۔ بار الہا! ہمیں اپنی ناراضگی کا شکار نہ بنا، ہم پر ہمارے معصوم بچوں پر رحم فرما ۔ اور ہمیں اپنی رحمت سے محروم نہ کر۔

(اللھم أنت اللہ لا إلہ إلا أنت، أنت الغنی ونحن الفقراء أنزل علینا الغیث واجعل ما أنزلت لنا قوۃ وبلاغا إلی حین)

“اے اللہ! تو ہی معبود حقیقی ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، تو ہم پر باران رحمت نازل فرما، اور جو تو نازل فرما اسے ہماری قوت (رزق)بنا دے، اور ایک مدت تک اس سے ہمیں فائدہ پہنچا۔”

(اللھم أغثنا غیثا مغیثا مرئیا مریعا نافعا غیر ضار عاجلا غیر آجل)

“اے اللہ تو ہمیں سیراب فرما، ایسی بارش سے جو ہماری فریادرسی کرنے والی ہو، اچھے انجام والی ہو، سبزی اگانے والی ہو، نفع بخش ہو، مضرت رساں نہ ہو، جلد آنے والی ہو، تاخیر سے آنے والی نہ ہو۔

(اللھم اسق عبادک وبھائمک وانشر رحمتک وأحی بلدک المیت)

“اے اللہ تو اپنے بندوں اور چو پایوں کو سیراب فرما۔ اپنی رحمت کو عام فرما ۔ اور اپنے مردہ شہر کو زندگی عطا فرما۔

(اللھم أنبت لنا الزرع وأدر لنا الضرع وأنزل علینا برکاتک)

“ اے اللہ! تو ہماری کھیتیاں پھر سے سبز وشاداب فرما ، ہمارے چوپایوں کے تھنوں کو دودھ سے بھر دے، ہم پر اپنی برکتیں نازل فرما۔ اے اللہ ! ہماری پریشانیوں کو دور فرما دے اور ہم پر آئی ہوئی اس مصیبت کو ٹال دے۔ بلاشبہ تو ہی بلاؤں، مصیبتوں اور آفتوں کا ٹالنے والا ہے۔ ہم تجھ سے مغفرت وبخشش طلب کرتے ہیں۔ تو بہت بڑا غفار ہے۔ ہمارے اوپر اپنی باران رحمت نازل فرما۔”

اے اللہ! تو ہمیں اپنی باران رحمت سے سیراب کر، ہمیں خوف سے امن دے، ہمیں اپنی رحمت سے مایوس نہ فرما، ہمیں قحط اور خشک سالی سے ہلاک نہ فرما۔ اے اللہ! تو ہمارے دودھ پیتے بچوں پر رحم فرما۔ ہمارے بےعقل چوپایوں پر رحم فرما۔ ہمارے بوڑھوں، کمزوروں اور ناتوانوں اور بیمار لوگوں پررحم فرما۔ اور اپنی تمام مخلوق پر رحم فرما۔

( رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ) [البقرة: 286]

”اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا ہم نے خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! تو ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔”

(اللھم إدفع لنا القحط والبلاء والوباء والربا والزنا والزلزال والمحق وسوء الفتن ما ظھر منھا وما بطن عن بلدنا وعن سائر بلاد المسلمین)

“اے اللہ کے بندو! اپنے نبی کی سنت کی اقتدا کرتے ہوئے، تم بھی اپنی چادریں پلٹ لو اور اللہ سے رو رو کر دعائیں کرو ، اور گڑاگڑا کر اس سے رحمت کا سوال کرو، تم یقین رکھو ، اللہ تمہاری دعائیں ضرور قبول کرےگا۔

کثرت سے توبہ واستغفار اور صدقہ وخیرات کرو ، رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو، لوگوں کے حقوق ادا کرو، ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ یقین رکھو، اللہ تعالیٰ کی رحمت ضرور تمہیں ڈھانپےگی۔ وہ تمہیں، تمہارے بچوں، تمہارے چوپا یوں اور تمہاری کھیتیوں کو اپنی باران رحمت سے ضرو ر سیراب فرمائے گا۔

(سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون، وسلام علی المرسلین، والحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ علی النبی الکریم)