یہ لٹیرے دین وایمان کے

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله:

أما بعد !

محترم سامعین وسامعات!ایک مسلمان صرف اور صرف اللہ عزوجل سے لو لگاتا ہے۔ اس کی محبت والفت کی ڈور محض رب تعالی سے بندھی رہتی ہے۔ زندگی میں اگر اسے خوشی ومسرت نصیب ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتا ہے اور اگر گردش لیل ونہار اسے مصائب وآلام کے سمندر میں ڈبوتی ہے تو وہ اسی رب کے حضور گڑگڑاتا ہے، دعا کرتا ہے، روتا اور بلکتا ہے، اپنے گناہوں سے معافی چاہتا ہے اور اپنے رب ہی سے فریاد کرتا ہے کہ پروردگار!تیرے سوا میرا اور کون ہے جس سے میں اپنے گناہوں کی معافی چاہوں، کس کے سامنے ہاتھ پھیلاؤں، کس سے فریاد کروں؟ کون ہے تیرے سوا۔ جو میری مصیبتوں کا مداواکرےگا، میرے دکھوں اور غموں کودور کرےگا، میرے اشکوں کی لاج رکھےگا؟ پرور دگار!میرا سہارا تو بس تو ہی ہے اور میں تجھ ہی سے مدد چاہتا ہوں، تجھ ہی سے فریاد کرتا ہوں کہ میرے مصائب دور کردے! غرض کہ ایک بندۂ مومن کا دل خوشی اور غمی ہر دو حال میں اپنے رب سے لگا رہتا ہے!وہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی کے ہر موڑ پر رہنما اور رہبر بنا کر اپنے رب سے اپنے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط ترین بنانے کی سعی پیہم میں مصروف رہتا ہے۔ معزز سامعین! بندہ کا اپنے رب سے یہی وہ تعلق اور رابطہ ہے جسے توڑنے کی کوشش اور مسلسل جدو جہد شیاطین انس وجن ہمہ وقت کرتے ہیں۔ جہاں کہیں کسی بندے کا اپنے رب سے تعلق ورابطہ ذرا مستحکم ہوا، یا ہونا شروع ہوا، شیاطین انس وجن متحرک وسرگرم ہوگئے۔ ہمیں وہ حدیث پاک ہرگز نہیں بھولنا چاہے جو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں آیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ابلیس لعین نے کہا:پروردگار!تیری عزت کی قسم!میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کروں گا جب تک ان کے جسموں میں روح با قی ہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا:میرے عزت وجلال کی قسم!میں بھی ان کو اس وقت تک معاف کرتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے۔” (احمد اور حاکم نے اسے روایت کیا ہے۔حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

سامعین کرام!معلوم ہوا کہ شیطنت کی انسانیت سے دشمنی اور عداوت ازلی ہے۔ یہ اتنی قدیم ہے جتنی خود انسانیت کی تاریخ قدیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تاریخ کے ہر دور میں دیکھتے ہیں کہ شیطانوں نے انسانوں کو طرح طرح کی ضلالتوں اور گمراہیوں میں مبتلا کیا اور انہوں نے اس سلسلے میں نہ صرف یہ کہ اپنی جنس ونوع کے افراد کو استعمال کیا بلکہ جنس ونوع انسانی کے بےشمار افراد کو بھی اپنے دام فریب میں پھانس کر اپنا کارندہ وکار پردازبنا لیا اور حقیقت تو یہ ہے کہ شیطانوں کے لیے ان کے انسانی کارندے زیادہ کارگر اور مفید ثابت ہوئے۔ کچھ کارندے ایسے تھے جو وقتی ثابت ہوئے؛ لیکن کاہن، نجومی،جادوگر، شعبدہ باز اور ہاتھ کی لکیروں کو دیکھ کر قسمت بتانے والے، شیطان کے ایسے کارندے ثابت ہوئے جن کی زہرناکی کی شکار انسانیت روز اول سے رہی ہے اور آج بھی ہو رہی ہے۔

حاضرین گرامی!تاریخ کے گذرے ہوئے ادوار کی بات چھوڑیئے کہ ان ادوار کو اندھیروں کا زمانہ کہہ کر پلو جھاڑ لیا جاتا ہے؛لیکن موجودہ زمانہ جسے جدید اور ترقی یافتہ زمانہ کہا جاتا ہے، اس زمانہ میں بھی وہ کون سی توہم پرستی ہے جو پوری شان وشوکت بلکہ یوں کہئے کہ پہلے سے ہزار گنا زیادہ خطرناک صورت میں موجود نہیں۔ زمانہ ہاتھ کی لکھائی کے دور سے نکل کر پرنٹ کے دور میں داخل ہوا۔ پرنٹ دور بھی اب پیچھے چھوٹ رہا ہےاور الکٹرانک پرنٹ کا زمانہ بھی تقریبا ً ناپید ہوا چاہتا ہے، کیوں کہ یہ سیٹیلائٹ کا زمانہ ہے۔

اس زمانہ میں بھی دھڑلے سے ان گمراہیوں کو سٹیلائٹ چینل عوام الناس کے سامنے چھوٹے اور بڑے ہر پردے میں پیش کررہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ عظیم الشان تجارتی انڈسٹری بن گئی ہے۔

سامعین عظام!ذرا غور فرمائیں تو آپ کو معلوم ہو جائےگا کہ آج کیا مرد، کیا عورت، کیا چھوٹے اور کیا بڑے بوڑھے، دھڑلے سے جادوگروں، کاہنوں، نجومیوں اور شعبدہ بازوں کے آستانے پر اپنی جبینِ نیازخم کرنے آتے ہیں اور مقصد ومدعا انکا یہ ہوتا ہے کہ وہ ان چالبازوں کے ذریعہ اپنی آرزو اور تمنا کی کلیاں کھلا کر پھول بنانے میں کامیاب وبامراد رہیں گے جو افسر وحاکم ہے وہ بھی ان کی چوکھٹ پر سرتسلیم خم یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کرتا ہے اور ان کا اشارہ پائے بغیر کوئی کام نہیں کرتا کہ اسی کاہن کی بدولت اس نے افسری اور حاکمیت پائی ہے اور وہ جب چاہیں گے اس کی افسری اور حاکمیت چھین بھی سکتے ہیں۔ وہ بھول جاتا ہے کہ افسری اور حاکمیت عطا کرنا کسی بدچلن وبداطوار کاہن کے بس کا کام نہیں بلکہ یہ تو صرف اللہ تعالی ٰ کی ذات ہے جو افسری عطا کرتی اور چھینتی ہے۔

ارشادِ باری ہے ( قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) [آل عمران: 26]

“آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔”

اگر کوئی تاجر ہے تو وہ بھی خرید وفروخت اسی کاہن کے مشورے سے یا شعبدہ باز کی ہری جھنڈی پاکر کرتا ہے، جس سے اس کا دل لگا ہواہے۔ تاجر وہی کرتا ہے جو کاہن اسے کرنے کے لیے کہتا ہے۔

محترم دوستو اور بزرگو!حد تو اس وقت ہو جاتی ہے جب کسی کی بیوی کسی بابا یا پیر وفقیر یا کاہن وجادوگر کے پاس جاتی ہے اور اپنے شوہر پر کلی حکمرانی کا نسخہ کاہن یا جادوگر سے مانگتی ہے۔ اس کے صلے میں اسے ملتا کیا ہے؟(نعوذ باللہ)اس کی عزت وعصمت تارتار ہوتی ہے۔ کاہن وجادوگر اس کی عزت وعصمت سے کھلواڑ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی زندگی کالک کی لیپ بن کر رہ جاتی ہے جسے وہ کبھی مٹا نہیں پاتی۔ یہ ہے ہمارے جدید معاشرے کی بدصورت کہانی کی ایک جھلک۔

جادوگری، کہانت اور شعبدہ بازی کی حرمت:

معزز حاضرین!یہی وہ اسباب ووجوہات ہیں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے جادو، کہانت اور شعبدہ بازی کے علم کو سیکھنا اور کسی بھی طرح برتنا کفر قرار دیا ہے؛کیوں کہ ان علوم کے ذریعہ انسانیت کو فائدہ ہونے کے بجا مختلف قسم کے سماجی،معاشرتی اور سیاسی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ) [البقرة: 102]

“وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر۔”

ہاروت اور ماروت جس کسی کو جادو کا علم سکھاتے تھے، اسے پہلے ہی بتا دیتے تھے کہ ہم ایک آزمائش ہیں، لہذا ہم سے علم سیکھ کر کفر نہ کرو۔ دوسری جگہ باری تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

( وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى) [طه: 69] ”اور جادو گر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔”

سامعین کرام!دیکھا آپ نے ان دوآیتوں میں رب کائنات نے جادوئی علم کے بارے میں کیا کہا؟کہا کہ یہ علم کفر کا درزاوہ کھولتا ہے۔جو بھی اسے سیکھتا ہے، وہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور کافر کا ٹھکانہ کہاں اور کیا ہے؟یہ بات آپ سب کو معلوم ہے۔ دوسری بات یہ کہی کہ جادوگر اپنے فن میں چاہے جتنا بھی ماہر ہو، جتنے بھی کرتب دکھا لے، کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اور جب جادوگر خود کامیاب وبامراد نہیں ہو سکتا تو بھلا وہ شخص جو کسی پر جادو کروا، کیسے اور کیوں کر کامیاب ہوسکتا ہے؟یہی وجہ ہے کہ رب العالمین کے رسول برحق رحمۃ للعالمین نے ارشاد فرما دیا ہے: کہ سات ہلاکت خیز وبلاآفریں چیزوں سے بچو! صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا:یا رسول اللہ وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ارشاد ہوا؛

اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا ۔

جادو

یتیم کا مال ناحق طریقے پر کھانا۔

میدان جنگ سے پیٹھ دکھا کر بھاگنا۔

سادہ لوح پاک دامن مومنہ عورتوں پر تہمت تراشی کرنا ۔۔۔” الخ (متفق علیہ)

دوسری حدیث میں ہے،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کا بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ کسی کھیت کی مولی نہیں ہوتے۔ ان لوگوں نے عرض کیا:لیکن یا رسول اللہ!وہ کبھی کبھی ایسی بات بھی بتا دیتے ہیں جو حقیقت بن کر سامنے آ جاتی ہے!تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ بات جو سچ نکل جاتی ہے،اس کی اصل یہ ہے کہ کوئی جن اسے آسمان سے اچک کر لے آتا ہے اور اپنے مؤکل کے کانوں میں ڈال دیتا ہے۔ پھر وہ مؤکل اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں کو بتا دیتے ہیں۔" (بخاری)

دوستو اور عزیزو! کاہنوں، نجومیوں اور جادوگروں کی بات یہیں تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ معاملہ اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے۔ یہ دراصل ایمان وشریعت کے لیٹرے ہیں جو مختلف بھیسوں میں عوام الناس اور سادہ لوح لوگوں کا دین وایمان برباد کر دیتے ہیں اور لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ یہی سبب ہے کہ نبی گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اوہام پرستوں کے سایہ سے بھی اپنی امت کے لوگوں کو دور رہنے کی جابجا تلقین وتاکید فرمائی۔

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم سے نہیں جس نے بدشگونی لی یا جس کے لیے بدشگونی لی گئی، جس نے کہانت کی یا جس کے بارے میں کہانت کرائی گئی، جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کرایا گيا۔ اور جو کاہن کے پاس گیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی، اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو چیز نازل کی گئی یعنی قرآن وسنت، سے کفر کیا۔ (بزار۔ بسند صحیح)

معزز حاضرین جمعہ!یہی وجہ ہے کہ آثار صحابۂ رضی اللہ عنہم سے معلوم ہوتا ہے کہ جادوگر اور شعبدہ بازوں کی سزا تلوار سے قتل کردینا ہے۔ کیا بات ہے آخر کہ اسلام میں ایسے لوگوں کے لیے قتل کی سزا مقررکی گی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے لوگ کسی بھی معاشرہ کو تباہ وبرباد کر ڈالتے ہیں۔ وہ لوگ معاشرہ کے لیے زہر ہلاہل سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوا کرتے ہیں۔ان کی غلط کاریوں سے معاشرہ کی چولیں ہل جاتی ہیں۔ نقصانات کا ایک لامتناہی سلسلہ معاشرہ کو آ گھیر تا ہے:

پہلا نقصان:

ایسے لوگوں سے یہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس آنے والے لوگوں اور ان کی تصدیق کرنے والے اشخاص کا دین وایمان چھن جاتا ہے جیسا کہ آپ نے حدیث پاک میں ملاحظہ فرمایا۔

دوسرا نقصان:

ان لوگوں سے یہ ہوتا ہے کہ معاشرہ میں قتل وغارت گری کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ یہ بدقماش وبدفطرت لوگ انسانوں کی بلی چڑھا نے تک سے گریز نہیں کرتے جس سے ہتک انسانیت ہوتی ہے۔ حالانکہ اللہ نے انسان کو مکرم بنایا ہے۔

تیسرا نقصان:

یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے ذریعہ سماج ومعاشرہ میں زناکاری وبدکاری کی وبا عام ہو جاتی ہے۔کتنے ہی کا ہن اور بابا ایسے ہیں جنہوں نے ان گنت عورتوں کی عصمت وعزت کو تار تار کیا۔ ایسی خبریں گا ہے بگاہے تاریکی کے پردے سے چھن چھن کر روشنی میں آتی رہتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معا شرہ کی بنیاد متزلزل ہوجاتی ہے۔

چوتھا نقصان:

یہ ہوتا ہےکہ لوگوں کے خون پسینہ کی کمائی کو باطل طریقے سے کھانے کا رواج عام ہوتا ہے کیوں کہ یہ لوگ اپنے مخہتانہ کے طور پر جو مال لوگوں سے وصول کرتے ہیں، وہ یقیناً باطل اور خبیث ہوتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ “رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، رنڈی یا فاحشہ عورت کی کمائی اور کاہن کی شیر ینی کھانے سے منع فرمایا ہے۔”(بخاری)

پانچواں نقصان:

یہ ساد ہ لوح لوگوں کو گمراہی اور فسق وفجور کے غار عمیق میں دھکیلتے اور انھیں شعائر دینیہ کی دھجیاں اُڑانے پر مجبور کرتے ہیں۔ بسا اوقات وہ اپنے پاس آنے والوں کو واضح طور پر نماز چھوڑنے اور غسل جنابت نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور ہر قسم کی برائيوں کا ارتکاب کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور ان کے متبعین ایسا کرتے بھی ہیں۔

چھٹا نقصان:

یہ لوگ اس طرح پہنچاتے ہیں کہ وہ اپنی کالے کرتوتوں سے اللہ تعالیٰ کے عذاب وعقاب کو دعوت دیتے ہیں کیوں کہ یہ چیزیں اللہ کی نظر میں نہایت مبغوض ومکروہ ہیں اور جس سماج میں یہ چیزیں پائی جائیں، وہ ہمیشہ عذاب خداوندی کی لپیٹ میں رہتا ہے۔

ساتواں عظیم ترین نقصان:

یہ ہے کہ ایسے لوگ اور ان پر یقین کرنے والے لوگ دنیا وآخرت دونوں کے خسران ونقصان سے دوچار ہوتے ہیں۔انہیں کسی کروٹ بھی فلاح وکامرانی نہیں ملتی۔

ارشاد باری ہے: ( وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى) [طه: 69]

“اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔”

علامہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ نجومی کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ دنیا وآخرت میں کہیں بھی نہیں۔ (مجموع فتاوی ابن تیمیۃ: 35/193)

بزرگو اور دوستو!اب ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتا ؤ کہ کیا تم ان کے ہتھے چڑھ کر اپنا دین وایمان کفر کے بدلے بیچوگے؟ کبھی نہیں۔

کیا تم چاہو گے کہ معا شرہ میں انارکی پھیلے، قتل وغارت گری عام ہو، اور عزت وعصمت یوں ہی ان گھناؤنے لوگوں کے ہاتھوں لٹتی رہے؟ ہرگز نہیں، واللہ ہرگز نہیں۔

تو اٹھو، ایسے لوگوں سے اپنے سماج، گاؤں اور خاندان کو بچاؤ۔ ایک ایک آدمی کو بتاؤ کہ یہ چیزیں سراپا نقصان ہیں۔ ان سے اصل متاع زندگی چھن جاتی ہے۔ان سے باز رہو،خدارا بازرہو۔

اللہ ہم سب کا حامی ونا صر ہو!آمین۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله:

دوستان گرامی!خطبۂ اولیٰ میں آپ نے سنا کہ معاشرہ کو جادو اور اس سے متعلق علوم کس قدر نقصانات سے دوچار کرتے ہیں۔ اب میں چند ناصحانہ کلمات اپنے دل کی گہرائيوں سے آپ حضرات کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔ میرے دوستو!تم ان شعبدہ بازوں کی طرف نہیں، بلکہ اپنے ہر معاملے میں اللہ سے رجوع کرو۔ وہ اللہ ایسا ہے کہ اگر وہ دے تو کوئی روکنے والا نہیں اور اگر وہ روک دے تو کوئی دے نہیں سکتا۔

اس اللہ نے ہمارے لیے شرعی اسباب پیدا کر دیے ہیں،انہیں کوبرو کار لا کر اپنی زندگی کا سامان کرو۔اسی سے دعائیں مانگواسی سےاپنے مصائب سے چھٹکارا مانگو۔

کون ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے اپنی روزی مانگے کہ وہ اللہ عطا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیارہے۔ ارشاد ہے:

( فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ) [العنكبوت: 17]

”تم اللہ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکرگزاری کرو اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔”

اے وہ خواتین!جو باباؤں اور ڈھونگی پیروں کے پاس اپنے بانجھ پن کی شکایت لے کر جاتی ہو اور بسااوقات اپنے دامن عصمت کو تارتار کر کے واپس آتی ہو کیا تمہیں یاد نہیں کہ زکریا علیہ السلام نے اللہ سے کیا دعا مانگی تھی؟ اگر نہیں یاد ہے تو اب یاد کر لو۔ ربَّ کا ئنات نے ان کی دعا کو قرآن پاک میں نقل کیا ہے:

( رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ ) [آل عمران: 38]

”اے میرے پروردگار! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بےشک تو دعا کا سننے والا ہے۔”

اور اے غلط طریقوں اور وسائل سے جاہ ومنصب طلب کرنے والو!جاہ ومنصب ان بدقماش شعبدہ بازوں سے نہیں بلکہ حقیقی جاہ ومنصب والے خدا سے مانگو۔ وہ خود تم سے کہتا ہے:

( وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ) [البقرة: 186]

"جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں۔"

ربَّ کائنات خود کہہ رہا ہے کہ میں اپنے بندے کی پکار سنتا ہوں، وہ جب مجھ سے دعا کرتا ہے تومیں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں، اور تم اے نادانو! رب کریم کے آستانِ مبارک کوچھوڑ کران بےمایہ بدقما شوں کی چوکھٹ پر سرجھکانے اور گڑگڑانے جاتے ہو؟اور اے افسرو اور حاکمو!تمہاری غیرت کہاں چلی گئی؟تم کیوں اتنے مجبور ہوگئے کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے شعبدہ بازیوں کا جال پھیلا ہوا ہے اور تم آنکھیں بند کیے پڑے ہو؟اٹھو،خدارا، اٹھو،اپنی غیرت کو آواز دو، اور سماج سے ان شعبدہ بازوں کے اڈوں کو اکھاڑ پھینکو، تا کہ کسی کی عزت نہ لٹے، کسی کی عصمت تار تار نہ ہو، کوئی ٹھگا نہ جا ، کسی کی بلی نہ چڑھے۔ اٹھو، خود جاگو اور قوم وملت کو جگا دو۔ یادرکھو:

( وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ) [المائدة: 2]

“نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم وزیادتی میں مدد نہ کرو۔”

سامعین کرام!یہ تھیں میرے دل کی آوازیں جن کو آپ تک پہنچا دینا میرا فریضہ تھا اور وہ فریضہ میں نے ادا کر دیا ہے۔ اب آئیےہم سب مل کر سماج ومعاشرہ کو جادوگری، کہانت اور شعبدہ بازی کے مکڑجالوں سے پاک کریں۔ خود جاگیں اور لوگوں کو جگائیں۔ اللہ ہمارا، اور آپ کا اور تمام مسلمانوں کا حامی وناصر ہو، آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔