إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!

محترم بزرگو اور عزیزو! ہم میں سے بہت لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان جب مر جاتا ہے اور قبر میں دفن کر دیا جاتاہے تو وہ گل سڑ کر مٹی میں مل جاتاہے اور ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتاہے اور اس کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی اور مرنے کے بعد اسے کسی اور چیز کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

میرے بھائیو! یہ بڑی خطرناک غلطی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد ایک نئی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ یہ زندگی برزخ کی زندگی کہلاتی ہے اور برزخ کے بعد آخرت کی زندگی ہوگی جو ہمیشہ رہے گی کبھی ختم نہ ہوگی۔

مرنے کے بعد جو کچھ پیش آ گا اسے قرآن حکیم اور احادیث نبویہ میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیاہے۔ آج کے خطبے میں مرنے کے بعد جوجو چیزیں پیش آئیں گی انہیں میں سرسری طور پر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ انسان جب مر جاتاہے اور اسے لے جا کر قبر میں دفن کردیا جاتا ہے تو سب سے پہلے اسے قبر کے فتنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قبر کے تصور ہی سے اہل ایمان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام ہانی کا بیان ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ آنسوؤں سے آپ کی داڑھی تر ہوجاتی۔ ان سے پوچھا گیا کہ جب جنت اور دوزخ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ اتنا نہیں روتےجتنا قبر پر کھڑے ہو کر روتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے:

(إن القبر أول منازل الآخرۃ، فإن نجا منہ أحد فما بعدہ أیسر منہ و إن لم ینج منہ فما بعدہ أشد منہ)

“قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ اگر انسان اس میں نجات پا گیا تو بعد میں آ نے والی منزلیں اس سے زیادہ آسان ہوں گی۔ اور اگر وہ اس میں نجات نہ پا سکا تو بعد میں آنے والی منزلیں اس سے زیادہ سخت ہوں گی۔

اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم برابر ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے اور یہ دعا پڑھتے تھے :

(اللھم إنی أعوذ بک من عذاب القبر)

“اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔”

اور لوگوں کو بھی آپ اس کی تلقین فرماتے، آپ نے فرمایا :

(أیھا الناس استعیذوا باللہ من عذاب القبر فإن عذاب القبر حق)

“لوگو! قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہو کیونکہ عذاب قبر بر حق ہے۔”

صحیحین میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(إن العبد إذا وضع فی قبرہ وتولی عنہ أصحابہ و إنہ یسمع قرع نعالھم أتاہ ملکان فیقعدانہ فیقولان ما کنت تقول فی ھذا الرجل لمحمد صلی اللہ علیہ وسلم فأما المومن فیقول أشھد أنہ عبد اللہ ورسولہ فیقال لہ انظر الی مقعدک من النار قد أبدلک اللہ بہ مقعدا من الجنۃ فیراھما جمیعا وأما المنافق والکافر فیقال لہ ما کنت تقول فی ھذا الرجل فیقول لا أدری کنت أقول ما یقول الناس فیقال لا دریت ولا تلیت ویضرب بمطارق من حدید ضربۃ فیصیح صیحۃ یسمعھا من یلیہ غیر الثقلین)

“بےشک بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اسے دفنانے والے اس سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں، اس وقت وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سن رہا ہو تا ہے، تو دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، اور اسے بیٹھاتے ہیں، پھر اس سے پو چھتے ہیں اس شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم )کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟ مومن کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمہیں جنت میں ٹھکا نا دیا ہے۔ تووہ ان دونوں ٹھکا نوں کو دیکھتا ہے۔ رہا منافق اور کافر تو اس سے کہا جاتا ہے : تم اس شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے متعلق کیا کہتے ہو؟ وہ کہتا ہے مجھے کچھ پتہ نہیں، میں تو وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ تو اس سے کہا جاتا ہے: نہ تونے جاننے کی کوشش کی اور نہ ہی تونے قرآن پڑھا۔ پھر اس کو لوہے کے ہتھیار سے اس زور سے مارا جاتاہے کہ اس کی چیخیں نکل آتی ہیں، جنہیں وہ ساری چیزیں سنتی ہیں جو اس کے قریب ہوتی ہیں سوائے انسان اور جنات کے۔”

“صحیح مسلم کی ایک روایت میں حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے یہ بھی ذکر کیاگیا ہے کہ مومن کی قبر کو ستر ہاتھ تک کشادہ کردیا جاتا ہے اور قیامت تک کے لیے اس میں نعمتیں اور شادابیاں بھر دی جاتی ہیں۔ صحیح احادیث میں ہے کہ مومن جو ان دونوں فرشتوں کے سوالوں کا صحیح جواب دے دیتا ہے تو آسمان سے ندا آتی ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لیے جنت سے بستر لا کر بچھا دو اور اسے جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دو۔ چنانچہ اس کے پاس جنت کی خوشبو اور نعمتیں آتی رہتی ہیں اور اس کی قبر کو حد نگاہ تک وسیع کر دیا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف کافر ومنافق جو ان دونوں فرشتوں کے سوالوں کا جواب نہیں دے پاتا ہے، تو آسمان سے ایک ندا آتی ہے اس کے لیے جہنم کا بستر بچھا دو اور اس کے لیے جہنم کا ایک دروازہ کھول دو۔ چنانچہ اس سے جہنم کی بدبو اور گرم ہوا اس کے پاس آتی رہتی ہے، اور اس کی قبر کو اتنا تنگ کر دیا جاتا ہے کہ اس کی دونوں پسلیاں باہم مل جاتی ہیں۔”

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بنو نجار کے ایک باغ میں تھے۔ آپ اپنے خچر پر سوار تھے کہ اچانک خچر بدکنے لگا قریب تھا کہ وہ آپ کو نیچے گرادے۔ ہمیں وہاں کچھ قبریں نظر آئیں۔ آپ نے پوچھا ان قبر والوں کو تم میں سے کوئی جانتا ہے؟ تو ہم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول میں جانتا ہوں۔ آپ نے پوچھا بتاؤیہ کب فوت ہو تھے؟ اس نے کہا کہ شرک کی حالت ہی میں مر گئے تھے۔ تو آپ نے فرمایا:

“إن ھذہ الأمۃ تبتلی فی قبورھا فلو لا أن لا تدافنوا لدعوت اللہ أن یسمعکم من عذاب القبر الذی أسمع منہ” (مسلم: 2867)

“بےشک یکہ لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جا رہے ہیں۔ مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفنانا چھوڑ دوگے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کے عذاب کو سنا دے جو میں سنتا ہوں۔”

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(إن الموتی لیعذبون فی قبورھم حتی إن البھائم لتسمع أصواتھم)

“بےشک مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ یہاں تک چوپا ان کی آواز یں سنتے ہیں۔”

یاد رکھئے، عذاب قبر سے مراد عذاب برزخ ہے جو بھی اس کا مستحق ہوگا اسے یہ عذاب چکھنا پڑے گا۔ خواہ اسے قبر میں دفن کیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے یادریا میں ڈال دیا جائے یا کسی درندے نے اسے کھا لیا ہو۔ کوئی بھی صورت ہو اسے یہ عذاب پہنچ کر رہےگا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادرہے۔ اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی۔

لہذا میرے بھا ئیو! ہمیں قبر کے عذاب سے بچنے کی فکر کرنی چاہئے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے آپ قبر کے کنارے بیٹھے رو رہے تھے، یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے سامنے کی مٹی تر ہو گئی۔ پھر آپ نے فرمایا:

(یا إخوانی لمثل ھذا فاعدوا)

“اے میرے بھائیو ! اس طرح کے دن کے لیے تم بھی تیاری کرلو۔”

لہذا میرے بھائیو ! قبر کی زندگی کے لیے تیاری کرنی چاہئے، اور اس دن کی تیاری ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے۔ قبر میں انسان کے ساتھ اس کا عمل جائےگا، اور جیسا اس کا عمل ہوگا اسی کے مطابق اس کے ساتھ سلوک کیا جائےگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“یتبع المیت ثلاثۃ أھلہ و عملہ و مالہ فیرجع إثنان و یبقی واحد یرجع أھلہ و مالہ و یبقی عملہ” (متفق علیہ)

“میت کے ساتھ اس کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں؛ اس کے گھر والے، اس کا عمل اور اس کا مال۔ پھر دو چیزیں واپس لوٹ آتی ہیں اور ایک ہی چیز اس کے ساتھ باقی رہتی ہے، اس کے گھر والے اور اس کا مال واپس آجاتا ہے۔ اور اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہتاہے۔”

اس لیے اللہ کے بندو! ہم میں سے ہر ایک پر یہ گھڑی آنے والی ہے۔ لہذا ہم میں سے کسی کو بھی اس سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔ ایمان کے ساتھ ہمیں کثرت سے نیک اعمال کرتے رہنا چاہئے۔ کب ہم پر یہ گھڑی آجائے، ہم میں سے کسی کو معلوم نہیں۔

میرے بھائیو! قبر میں دفنائے جانے کے بعد اس سے اٹھائے جانے کا مرحلہ پیش آئےگا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مرکرمٹی میں مل جائیں گے۔ کون ہمیں دوبارہ زندہ کرسکےگا؟

میرے بھائیو یاد رکھو، وہ ذات ہمیں دوبارہ زندہ کرنے پر پوری طرح قادر ہے جس نے ہمیں پہلی بار بےجان نطفے سے پیدا کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ ٧٧ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ ٧٨ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ) [يس:77 - 79]

“کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا۔ اور وہ ہمارے لئے مثال بیان کرنے لگا اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زنده کر سکتا ہے۔آپ کہہ دیجئے! کہ انہیں وه زنده کرے گا جس نے انہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے، جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے والا ہے۔”

قبروں سے اٹھائے جانے کے بعد سارے لوگ میدان حشر میں جمع کیے جائیں گے۔ اور اللہ کے سامنے حساب وکتاب کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

ارشاد باری ہے:

( وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُمْ مِنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ ) [يس: 51]

“تو صور کے پھونکے جاتے ہی سب کے سب اپنی قبروں سے اپنے پروردگار کی طرف (تیز تیز) چلنے لگیں گے۔”

میدان محشر میں لوگ ننگے بدن، ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کیے جائیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے:

“یحشر الناس یوم القیامۃ حفاۃ عراۃ غرلا قلت یا رسول اللہ النساء والرجل جمیعا ینظر بعضھم إلی بعض؟ قال: یا عائشہ الأمر أشد أن ینظر بعضھم إلی بعض” (مسلم)

“قیا مت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون حالت میں جمع کیے جائیں گے۔ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! مرد اور عورت سب ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آ پ نے فرمایا : اےعائشہ! اس روز کا معاملہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔»

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ میدانِ محشر کی طرف جاتے وقت لوگوں کے تین گروہ ہوں گے؛ ایک گروہ سواروں کا ہوگا، دوسرا گروہ پیدل چلنے والوں کا ہوگا اور تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہوگا جو اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے۔

اس روایت میں ہے:

(تأتون یوم القیامۃ وعلی وجوھکم الفدام أول ما یعرب عن أحدکم فخذہ)

“تم قیا مت کے دن اس حال میں آوگے کہ تمہارے منہ بند کر دیے گئے ہوں گے اور سب سے پہلے تمہاری ران تمہارے بارے میں بیان دےگی۔” (اس روایت کی سند حسن ہے)

قرآن کریم نے اس وقت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے:

( وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا ١٠ يُبَصَّرُونَهُمْ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ١١وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ ١٢ وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ ١٣ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنْجِيهِ ١٤ كَلَّا إِنَّهَا لَظَى ١٥نَزَّاعَةً لِلشَّوَى ) [المعارج: 16]

“اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھےگا (حالانکہ) ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ گناہ گار اس دن کے عذاب کے بدلے فدیے میں اپنے بیٹوں کو اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے کنبے کو جو اسے پناه دیتا تھا۔ اور روئے زمین کے سب لوگوں کو دینا چاہے گا تاکہ یہ اسے نجات دلا دے۔ (مگر) ہرگز یہ نہ ہوگا، یقیناً وه شعلہ والی (آگ) ہے۔”

لوگو! ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے عمل کے مطابق پسینے میں ڈوبا ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(یکون الناس علی قدر أعمالھم فی العرق، فمنھم من یکون إلی کعبیہ، ومنھم من یکون إلی رکبتیہ ومنھم من یکون إلی حقویہ، ومنھم من یلجمہ العرق إلجاما، قال وأشار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدہ إلی فیہ)

“لوگ اپنےاعمال کےمطابق پسینےمیں ڈوبےہوں گے۔ ان میں سے کسی کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہوگا۔ کسی کا اس کے گھٹنوں تک، کسی کا اس کی کوکھ تک اور کسی کا پسینہ اسے لگام پہنا رہاہوگا۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا، یعنی اس کے منہ تک پسینہ ہوگا۔”

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے:

“إن العرق یوم القیاقۃ لیذھب فی الأرض سبعین باعا و إنہ لیبلغ إلی أفواہ الناس أو آذانھم” (مسلم: 2863)

“قیامت کے دن پسینہ زمین میں ستر ہاتھ تک جا گا اور وہ لوگوں کے منہ اور ان کے کانوں تک پہنچ رہا ہوگا۔”

اس دن ہر ایک کی اللہ کے سامنے الگ الگ پیشی ہوگی، ارشار باری ہے :

( وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَا كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ ) [الأنعام: 94]

”اور تم ہمارے پاس تنہا تنہا آگئے جس طرح ہم نے اول بار تم کو پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا اس کو اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے اور ہم تو تمہارے ہمراه تمہارے ان شفاعت کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم دعویٰ رکھتے تھے کہ وه تمہارے معاملے میں شریک ہیں۔ واقعی تمہارے آپس میں تو قطع تعلق ہوگیا اور وه تمہارا دعویٰ سب تم سے گیا گزرا ہوا۔”

( لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا ) [النبأ: 38]

”کوئی کلام نہ کر سکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وه ٹھیک بات زبان سے نکالے۔”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:

(یقبض اللہ الأرض یوم القیامۃ ویطوی السماء بیمینہ ثم یقول أنا الملک أین ملوک الأرض؟) (مسلم)

“قیامت کے روز اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لےگا، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لےگا، پھر فرمائےگا: میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟”

عبد اللہ بن عمر کی روایت میں ہے:

(یطوی السماء یوم القیامۃ ثم یأخذھن بیدہ الیمنی ثم یقول أنا الملک أین الجبارون أین المتکبرون؟)

“اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمان کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لےلےگا، اور فرمائےگا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم وسرکشی کرنے والے، اور کہاں ہیں تکبر کرنے والے؟”

اس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائيں گی۔

ارشاد باری ہے:

( إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ٤٢ مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ ) [إبراهيم: 42 - 43]

“ناانصافوں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی۔ وه اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑ بھاگ کر رہے ہوں گے، خود اپنی طرف بھی ان کی نگاہیں نہ لوٹیں گی اور ان کے دل خالی اور اڑے ہوئے ہوں گے”۔

اس دن دل حلق تک پہنچ جائيں گے، ارشاد باری ہے:

( وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْآَزِفَةِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَاظِمِينَ مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ ) [غافر: 18]

”اور انہیں بہت ہی قریب آنے والی (قیامت سے) آگاه کر دیجئے، جب کہ دل حلق تک پہنچ جائیں گے اور سب خاموش ہوں گے، ظالموں کا نہ کوئی دلی دوست ہوگا نہ سفارشی، کہ جس کی بات مانی جائے”۔

سارے لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ ان کی کوئی بھی چیز اس سے پوشیدہ نہ ہوگی۔

( لَا يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ ) [غافر: 16] "ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیده نہ رہے گی۔"

اللہ تعالیٰ حساب لینا شروع کرےگا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(لا تزول قدما ابن آدم یوم القیامۃ من عند ربہ حتی یسأل عن خمس عن عمرہ فیما أفناہ وعن شبابہ فیما أبلاہ وعن مالہ من أین اکتسبہ وفیما أنفقہ وماذا عمل فیما علم)

"قیامت کے دن پانچ چیزوں کے بارے میں سوال سے پہلے کسی بندے کے قدم اپنے رب کے پاس سے ٹل نہیں سکیں گے۔ اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے اسے کہاں کھپایا۔ اس کی جوانی کے بارے میں کہ اس نے اسے کہاں گذارا۔ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس نے اس پر کہاں تک عمل کیا؟۔"

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک کافر قیامت کے دن بلایا جائےگا، اس سے پو چھا جائےگا کہ اگر تجھے زمین بھر کے سونا مل جائے تو کیا فدیہ میں دے کر اپنی جان چھڑا لینا چاہےگا؟ وہ جواب دےگا۔ ہاں تو اس سے کہا جائےگا: تجھ سے تو اس سے کہیں زیادہ آسان چیز کا مطالبہ کیا گيا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ اس سے کہےگا کہ میں نے تو تجھ سے اس سے زیادہ آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا۔ لیکن تو نہیں مانا شرک کرتا رہا۔" (متفق علیہ)

ایک روایت میں ہے:

"ما منکم من أحد إلا سیکلمہ ربہ لیس بینہ وبینہ ترجمان فینظر أیمن منہ فلا یری إلا ما قدم من عملہ وینظر أشأم منہ فلا یری إلا ما قدم وینظر بین یدیہ فلا یری إلا النار تلقاء وجھہ فاتقوا النار ولو بشق تمرۃ ولو بکلمۃ طیبۃ" (بخاری)

"عنقریب تمہارا رب تم میں سے ہر ایک سے ہم کلام ہوگا۔ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ وہ اپنے دائیں جانب دیکھےگا، تو اسے اس کا وہ عمل ہی نظر آئے گا جسے اس نے اپنے آگے بھیجا ہے اور اپنے بائیں جانب دیکھےگا تو ادھر بھی اس کا وہی عمل ہی نظر آئےگا جسے اس نے آگے بھیجا ہے اور اپنے سامنے دیکھےگا، تو اسے جہنم کی آگ نظر آئے گی۔ لہذا تم جہنم کی آگ سے بچو۔ اگر چہ کھجور کے آدھے خوشے کا صدقہ کر کے ہی سہی۔ اورایک روایت میں ہے اگرچہ ایک اچھی بات ہی کہہ کر سہی۔"

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(إن أول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ من عملہ الصلاۃ فإن صلحت فقد أفلح وأنجح، و أن فسدت فقد خاب وخسر ولو انتقص من فریضتہ قال الرب: أنظروا ھل لعبدی من تطوع فیکمل بھا ما انتقص من الفریضۃ ثم یکون سائر عملہ علی ذلک)

"قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائےگا۔ اگر نمازٹھیک نکلی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا۔ اگر خراب نکلی تو وہ خائب وخاسر ہوگا۔ اگر فرض نماز میں کوئی کمی پائی گئی، تو اللہ تعالیٰ کہےگا: دیکھو کیا میرے بندے نے کچھ نفل پڑھی ہے؟ تو نفل کے ذریعہ فرض نمازوں کی کمی پوری کی جا ئیگی۔ اسی طرح سارے اعمال کا حساب لیا جائےگا۔"

اللہ تعالی ٰ کے حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق کا بھی حساب ہوگا۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

(من مات و علیہ دینار أو درھم قضی من حسناتہ لیس ثم دینار ولا درھم)

"جو شخص اس حالت میں مرا ہوگا کہ اس کے ذمہ کسی کے دینار یا درہم ہوں گے تو قیامت کے دن اس کی نیکیوں سے اسے ادا کیا جائےگا۔ کیونکہ وہاں دینار اور درہم نہیں ہوں گے۔"

مسلم کی روایت میں ہے کہ ایک بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(أ تدرون ما المفلس؟)

" کیاتم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟"

صحابہ نے جواب دیا:

(المفلس من لا درھم لہ ولا متاع)

" ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اورنہ کوئی ساز وسامان ہو۔"

آپ نے فرمایا:

"إن المفلس من أمتی من یأتی یوم القیامۃ بصلاۃ وصیام وزکاۃ ویأتی قد شتم ھذا، وقذف ھذا، و أکل مال ھذا، وسفک دم ھذا، و ضرب ھذا، فیعطی ھذا من حسناتہ، وھذا من حسناتہ، فإن فنیت حسناتہ قبل أن یقضی ما علیہ أخذ من خطایاھم، فطرحت علیہ ثم طرح فی النار" (مسلم: 2581)

"میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے اور زکاۃ لے کر آئےگا۔ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان باندھا ہوگا، کسی کامال ہڑپ لیا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، اور کسی کو مارا ہوگا ۔ پس ان میں سے ہر ایک کو اس کے حق کے بقدر اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی۔ اور اگر ان کے حقوق پورے ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں۔ تو ان کے گناہ اس کی گردن پر ڈال دیا جائےگا۔ پھر اسے جہنم میں گھسیٹ کر ڈال دیا جائے گا۔"

میرے بھائیو! آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ مرحلہ کتنا سخت ہوگا اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

(حاسبوا قبل أن تحاسبوا)

"لوگو! اپنا حساب خود ہی کر لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔"

یہ محاسبہ یہ ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے دنیا ہی میں توبہ کر لیں اور اللہ کے حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق کی بھی ادائیگی کا خیال رکھیں۔

میرے بھائیو! اپنا محاسبہ خود کرو اور یہ دیکھتے رہو کہ قبر کے فتنہ اور عذاب سے بچنے کے لیے اور میدانِ محشر میں اللہ کے سامنے پیش ہونے اور اپنے اعمال کا حساب دینے کے لے کیاتیاری کر رہے ہو؟ یا د رکھو، موت ہماری گھات میں ہے۔ اس کے آ جانے کے بعد عمل کا کوئی موقع باقی نہیں رہےگا۔ اللہ ہم سب کو اس دن کے لیے تیاری کی اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کی توفیق دے۔ اور ہمیں ایسے اعمال سے محفوظ رکھے جو قیامت کے دن اللہ کی ناراضگی کا باعث بنیں گے

اللھم إنی أعوذ بک من عذاب القبر وفتنۃ المحیا والممات، وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!

حساب وکتاب کے بعد لوگوں کے نامۂ اعمال کو ان کے ہا تھوں میں دیے جانے کا مرحلہ آ گا۔ یہ مرحلہ مجرموں کے لیے کتنا سخت ہوگا، قرآن نے اس کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے:

( وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا ) [الكهف: 49]

“ اور نامہٴ اعمال سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ پس تو دیکھے گا کہ گنہگار اس کی تحریر سے خوفزده ہو رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے ہائے ہماری خرابی یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا بغیر گھیرے کے باقی ہی نہیں چھوڑا، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم وستم نہ کرے گا۔”

یہ وہ وقت ہوگا جب لوگ دو حصوں میں بٹ جائیں گے۔ کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کا نامۂ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائےگا۔ یہ خوشی کے مارے لوگوں سے کہتے پھریں گے؛

( هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ ١٩ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ ) [الحاقة: 19 - 20]

“ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو۔ مجھے تو کامل یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے۔”

اور کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کا نامۂ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جا گا۔ وہ مارے افسوس کے کہیں گے:

( يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ ٢٥ وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ ٢٦ يَا ýلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ ٢٧ مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيَهْ ٢٨ هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ ) [الحاقة: 25 - 29]

“ کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی۔ اور میں جانتا ہی نہ کہ حساب کیا ہے۔ کاش! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کر دیتی۔ میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا۔ میرا ‏‏ý‏ّýغلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا۔”

نامۂ اعمال پا لینے کے بعد سارے لوگوں کو پل صراط سے گزرنا ہوگا۔

ارشار باری ہے :

( وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا ) [مريم: 71]

” تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شده امر ہے۔”

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

“ ثم یوتی بالجسر فیجعل بین ظھری جھنم، قلنا یا رسول اللہ! وما الجسر قال مدحضۃ مزلۃ علیہ خطاطیف وکلالیب وحسکۃ مفلطحۃ لھا شوکۃ عقیفۃ تکون بنجد یقال لھا السعدان یمر المومن علیھا کالطرف وکالبرق وکالریح وکأجاوید الخیل والرکاب فناج مسلم وناج مخدوش ومکدوس فی نار جھنم حتی یمر آخرھم یسحب سحبا” (بخاری)

“پھر پل کو لایا جا گا۔ ہم نے پو چھا اللہ کے رسول! پل کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ گرنے اور پھسلنے کی جگہ ہوگی، جس میں آنکس اور آنکڑے ہوں گے۔ چوڑے چوڑے کانٹے ہوں گے ان کے سر سعدان کے خم دار کانٹوں کی طرح ہوں گے، جو نجد میں ہوتے ہیں۔ مومن اس پر سے پلک جھپکنے کے مانند بجلی کی طرح، ہوا کی طرح تیز رفتار گھوڑ ے کی طرح گزر جائیں گے۔ ان میں سے بعض تو صحیح سلامت نجات پانے والے ہوں گے اور بعض جہنم کی آگ سے جھلس کر بچ نکلنے والے ہوں گے۔ یہاں تک کہ آخری شحص اس پر سے گھسٹتا ہوا گزرےگا۔”

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے، وہ بال سے باریک اورتلوار سے تیز ہوگا۔ اس پل پر سے سب کو گزرنا ہوگا۔ کافر ومشرک اس پل کو پار نہیں کر سکیں گے۔ وہ جہنم میں گر جائیں گے۔ جو لوگ اس پل کو پار کر لے جائیں گے، وہ مومن ہوں گے۔ اس پل سے گزرنے کے بعد مومنوں کے لیے حقوق العباد کے قصاص کا ایک مرحلہ پیش آ گا۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“یخلص المومنون من النار فیحسبون علی قنطرۃ بین الجنۃ والنار فیقتص بعصھم من بعض مظالم کانت بینھم فی الدنیا حتی إذا ھذبوا ونقوا أذن لھم فی دخول الجنۃ”

“مومن جو پل صراط پار کرلیں گے، اور جہنم سے بچا لیے جائیں گے، انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل کے پاس روک لیا جا گا اور ان کے حقوق کا فیصلہ لیا جا گا، جو دنیا میں ان کے درمیان تھے۔ یہاں تک کہ انہیں گناہوں اور بندوں کے حقوق سے بالکل صاف اور بری کردیا جا گا۔ اور جب وہ قصاص دے کر ایک دوسرے کے حقوق سے بری ہوجائيں گے، تب انہیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔

میرے بھائیو !مرنے کے بعد جو مراحل پیش آنے والے ہیں، ان کی چند جھلکیاں اختصار کے ساتھ ہم نے آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اب آپ بتائیں کیا جنہیں ان باتوں کا یقین ہو وہ ایک لمحے کے لیے ان سے غافل رہ سکتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں !

لہذا اے میرے بھائیو! گناہوں سے باز آجاؤ اور اللہ کے حضور خالص توبہ کرو اور ان کاموں کی طرف تیزی سے دوڑو جو فتنوں اور میدان محشر کی ہولناکیوں سے اور جہنم کے دردناک عذاب سے تمہیں بچا سکیں۔