قیامت کی نشایاں

تفصیل

یوم آخرت پر ایمان، ایمان کےارکان میں سے ایک رکن ہے۔اور آدمی کا یوم آخرت پر ایمان اسی وقت مکمل ہوگا جب وہ قیامت کی ان نشانیوں پر ایمان رکھے جن کی خبر اللہ کے رسول نے دی ہے ۔ جب تک یہ نشانیاں واقع نہ ہوں قیامت قائم نہیں ہوسکتی۔ قیامت کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں جو اس کے وقوع کے قریب ہونے کی خبر دیتی ہیں۔ لہذا بندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین کی طرف لوٹیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔اس وقت کسی کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا جب تک کہ وہ پہلے ہی ایمان نہ لے آیا ہو۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔

برادران اسلام ! آج ہماری گفتگو ایک اہم موضوع پر ہوگی جس کا تعلق غیب سے ہے۔ اور وہ ہے آثار قیامت پر گفتگو۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا فَأَنَّى لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ ) [محمد: 18]

“ تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟”

اور مشہور حدیث جبریل میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“الإیمان أن تؤمن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ، والیوم الآخر، وتؤمن بالقدر خیرہ وشرہ”

“ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں اور یوم آخرت نیز تقدیر کے خیر وشر پر ایمان لاؤ۔”

اور حذیفہ بن اسید الغفاری سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ ایک کوٹھری کے سایہ تلے بیٹھ کر باتیں کررہے تھے۔ چنانچہ ہم لوگ قیامت کا ذکر کرنے لگے۔ تو ہماری آواز بلند ہونے لگی۔ تب ہی اللہ کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: قیامت تب تک نہیں واقع نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے چند آیتیں (نشانیاں) سامنے نہ آجائيں۔ (أبوداود)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ) [الأعراف: 187]

“یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ظاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وه آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔”

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا ) [الأحزاب: 63]

“ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو۔”

اور فرمایا

( يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ٤٢ فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا ٤٣ إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا ) [النازعات:42 - 44]

“ لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں، آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟ اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے۔”

اور جب آپ سے وقوع قیامت کے بارے میں پوچھا گيا تو آپ نے فرمایا: اس کے بارے میں پوچھا جانے والاشخص، پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔” (مسلم)

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ نے فرمایا: وقوع قیامت کے وقت سے متعلق ساری مخلوق کا علم یکساں ہے۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو اپنے لیے خاص کر لیا ہے۔

امام احمد، ابن ماجہ اور حاکم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے، شب اسراء میں میں نے حضرت ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام سے ملاقات کی۔ فرمایا: کہ سبھوں نے قیامت کا ذکر کیا۔ پھر انہوں نے اس معاملہ کو حضرت ابراہیم کی طرف پھیر دیا۔ مگر انہوں نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ تب پھر حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف لوٹا دیا۔ تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔اس کے بعد حضر ت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف پلٹ دیا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ قیامت کی حقیقت وقوع کا پتہ صرف اللہ کو ہے۔ اور میرے رب کی مجھ سے صرف یہ بات ہے کہ دجال کا خروج ہوگا۔ فرمایا: کہ میرے پاس دو مسواک ہوں گی۔ چنانچہ دجال جب مجھے دیکھےگا تو وہ شیشہ کی طرح پگھلنے لگےگا اور اللہ اسے ہلاک وبر باد کر دےگا۔

آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ قیامت کی قربت ونزدیکی پر دال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ ) [الأنبياء: 1]

“لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وه بے خبری میں منھ پھیرے ہوئے ہیں۔”

اور فرمایا آپ کو کیا پتہ کہ کہیں قیامت قریب ہو:

( وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا ) [الأحزاب: 63]

اور فرمایا: “بعثت أنا والساعۃ کھاتین” (بخاری)

“میری بعثت اور قیامت دونوں (آ پ نے اپنی انگلیوں کو پھیلا کر اشارہ فر مایا کہ) اس طرح ہیں۔”

قیامت کی نشانیاں صغریٰ اور کبریٰ میں منقسم ہیں۔ چنانچہ صغریٰ وہ نشانیاں ہیں جو لمبے زمانوں سے قیامت کا پیش خیمہ ہیں۔ وہ معتاد رواں قسم کی ہوتی ہیں۔ ان میں بعض نشانیاں قیامت کی بڑی نشانیوں اور اہم امور میں سے ہیں جو قرب قیامت میں رونما ہوں گی اور وہ غیر معتاد قسم کی ہوں گی۔ جیسے دجال کا خروج وغیرہ۔

علامات قیامت کی اپنے ظاہر ہو نے کی حیثیت سے تین قسمیں ہیں:

۱۔ وہ جو ظاہر ہو کر ختم ہوگئيں۔

۲۔ وہ جو ظاہر ہوتی جارہی ہیں۔

۳۔ اوروہ جو اب تک ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(بعثت أنا والساعۃ کھاتین)

اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“أعدد ستا بین یدی الساعۃ” (بخاری:3176)

“قیامت سے پہلے چھ چیزوں کو یکے بعد ديگرے، شمار کرتے جاؤ، جیسے میری موت۔”

حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما جب حضرت ام ایمن سے ملنے گئے تو ان سے سوال کے جواب میں کہا گيا: آپ کی موت کے بعد آسمان سے وحی کا نزول رک گيا۔

اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قیامت سے پہلے تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے نمودار ہوں گے۔ آدمی صبح کو مومن مسلمان ہوگا اور شام ہوتے ہی کافر۔ اسی طرح شام کو مومن ہوگا اور صبح ہوتے ہی کافر ہو جائےگا۔ ایسی حالت میں کہیں پر بیٹھا شخص کھڑے ہوئے آدمی سے بہتر ہوگا۔ کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ اس لیے اپنے تیروکمان کو توڑ ڈالو اور تلوار یں پتھروں پہ مار دو۔ کوئی اگر میرے پاس تم میں سے آئے تو وہ اچھے آدمی جیسا ہو۔ (أحمد، أبوداود، وابن ماجۃ وحاکم)

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک کہ ایک آگ سرزمین حجاز سے روشن نہ ہوجائے۔ جو بصریٰ میں موجود اونٹ کی گردنوں تک کو روشن اور ظاہر کر دےگی۔ یہ آگ ساتویں صدی ہجری کے درمیان 654ھ میں ظاہر ہوچکی ہے۔ جو بڑی آگ تھی۔ علماء نے اس آگ کے بارے میں ظہور آتش والے زمانہ اور مابعد کے لوگوں کے حوالے سے بیان کیا ہے۔

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیا ن کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(إذا ضیعت الأمانۃ فانتظر الساعۃ) (بخاری)

“جب امانت کو برباد کردیا جانے لگے، تو پھر قیامت کا انتظار کرو۔”

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ امت اس وقت تک فنا نہیں ہوگی جب تک آدمی اپنی بیوی کو اٹھا کر نہ لے جائے اور راستے میں نہ لٹادے۔ اس وقت لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہوگا جو کہے گا کہ اس دیوار کے پیچھے اگر اسے چھپا لیتا تو بہتر ہوتا۔ (أبو یعلیٰ)

اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت سے پہلے کی یہ نشانی ہے کہ سود عام ہوجائےگا۔ (طبرانی)

اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آخر زمانہ میں زمین کا دھنسنا، آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا اور صورتوں کا مسخ ہونا ہوگا۔ پوچھا گيا: اے اللہ کے رسول ! یہ کب ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا کہ جب گا نے بجا نے کے آلات اور گانے بجا نے والیاں عام ہونے لگیں۔” (ابن ماجہ)

اور حضرت جبرئيل کی مشہور حدیث میں ہے کہ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ مجھے قیامت کی نشانیوں کی بارے میں ہی بتا دیجئے۔ تو آپ نے فرمایا: یہ ہے کہ باندی اپنی مالکن کو جنےگی اور یہ کہ ننگے پاؤں، ننگے جسم، محتاج بکری کے چرواہوں کو عمارتوں کے سلسلے میں باہم فخر کرتے ہوئے دیکھو گے۔ (مسلم)

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

“لا تقوم الساعۃ حتی تظھر الفتن ویکثر الکذب وتتقارب الأسواق”

“قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک فتنے نہ ظاہر ہونے لگیں، جھوٹ نہ پھیلنے لگے اور بازار قریب قریب نہ ہونے لگیں۔” (أحمد)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ) [الأنبياء: 96]

“یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔”

اور فرمایا:

( وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآَيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ ) [النمل: 82]

“جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائےگا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔”

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اس وقت ہم لوگ قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ تو آپ نے فرمایا: جب تک دس نشانیاں نہ ظاہر ہو جائيں ، قیامت قائم نہیں ہوگی۔

پچھم سے طلوع آفتاب، دجال کا خروج ، دھواں ہونا، زمین سے جانور کا نکلنا، یاجوج وماجوج کا کھول دیاجانا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خروج اور تین مقامات پر زمین کا دھنسایا جانا، ایک مشرق میں ایک مغرب میں ایک جزیرۂ عر ب میں اور آگ جو عدن کی کھائی سے نمودار ہوگی جو لوگوں کو میدان محشر کی طرف لے جائےگی، لوگ جب سوئیں گے تو آگ بھی سوئے گی اور جب قیلولہ کریں گے تو وہ بھی قیلولہ کرےگی۔” (ابن ماجہ)

اللہ کے بندو!یہ ہیں کچھ قیامت کی نشانیاں، تو کیا ہم نے قیامت کے لیے کوئی تیاری کی ہے؟ہم نے کیا عمل کیا ہے؟ کیا ہم نے اللہ سے توبہ واستغفار کیا؟ اے اللہ کے بندو! جان لیں کہ قیامت کی چھوٹی نشانیاں، اس کی بڑی نشانیوں کے نزدیک ہونے کی دلیل ہیں۔ وہ جب واقع ہوں گی تو قیامت بپا ہوگی۔ اس لیے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔ اپنے عمل کی اصلاح کرو اور قیامت کے لیے تیاری بھی۔ نیز جان لو کہ بلا شبہ قیامت آکر رہے گی۔