الحمد للہ کفی والصلوۃ والسلام علی محمد المصطفی ومن تبعہ بإحسان إلی یوم الدین والوفا، أما بعد !

معزز حاضرین جمعہ! یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ دنیا میں ہر روز لاکھوں انسان جنم لیتے ہیں اور ہزاروں انسان اپنی حیات مستعار کے ایام ولیالی گذار کر موت کی آغوش میں سما جاتے ہیں۔ یہاں جو آياہے، وہ آیا ہی جانے کے لیےہے، باری باری سب کو جانا ہے ۔ شاعر کہتا ہے ؎

موت سے کس کورستگاری ہے

آج وہ کل ہماری باری ہے

اور صرف انسان وجن ہی کیا ، ہر جان دار کے لیے موت مقدر ہے، یہ ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا انکار کوئی ملحد بھی نہیں کرتا اور جس کی شہادت پیش کرنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں تاہم تذکیر ونصیحت اور یاددہانی کے بطور ہم آپ کے سامنے دو ایک آیات کی تلاوت ضرور کریں گے ؎

شاید کہ اتر جائےتیرے دل میں میری بات

اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرمایا:

( أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ) [النساء: 78]

“تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آپکڑےگی، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو۔”

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

( كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ) [آل عمران: 185]

“ ہر جان موت کا مزه چکھنے والی ہے۔”

یعنی انسان اور جنات وشیاطین ہی کیا ، ہر جان دار کو موت کا مزا چکھنا پڑے گا۔ ہاں صرف ایک ذات ایسی ہے جس پر کبھی موت نہیں آئے گی اور وہ ہے اللہ کی ذات جس نے موت کو پیدا کیا ہے۔

اس کا ارشاد گرامی ہے

( كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ٢٦ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ) [الرحمن:26 - 27]

«دنیا میں جو بھی اور جو کچھ بھی ہے سب کا مقدر فنا ہونا ہے ، فنا ہونے سے صرف ایک ذات مستثنی ہے اور وہ ہے رب کائنات کی ذات جو جاوداں ہے، پائیدار ہے، ہمہ وقت تا بندہ اور ہر پل درخشندہ ہے۔ «

سامعین عظام!اس حقیقت کو دنیا کا ہر شخص مانتا ہے کہ زندگی چند روزہ ہے جن میں دو انتظار میں کٹ جاتے ہیں اور دو دنیوی مسائل کو حل کرنے میں۔ شاعر کہتا ہے ؎

عمر دراز مانگ کر لائےتھے چاردن

دو آرزومیں کٹ گئے ، دو انتظار میں

اگر اختلاف ہے تو اس بات میں کہ کیا اس زندگی کے بعد بھی کوئی دوسری زندگی ہے؟ کیا مرنے کے بعد ہم دوبارہ جلا کر اٹھائے جائیں گے، اور ہم نے دنیا میں موت سے پہلے جو اعمال بد یا نیک انجام دیئے تھے، ان کا حساب کتاب اور لیکھا جوکھا پیش کرنا ہوگا۔

اور آخرت کا دن کوئی حقیقی دن ہے یا پھر ایک افسانوی یا رومانی کہانی ؟

یہ اختلاف کوئی نیا اختلاف نہیں بلکہ یہ اتنا ہی پرانا اختلاف ہے جتنا پرانا دنیا میں خود انسان کے آباد ہونے کا قصہ ہے۔ حقیقت کیا ہے؟ اسی سوال کاجواب پانے کی نیت سے آج ہم سب یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔ میری کوشش رہے گی کہ اس سوال کا تشفی بخش جواب آپ کے سامنے پیش کروں۔ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کی توفیق سے نوازے !

شیدائیان اسلام!اس فلسفے کی گتھی کو دنیا کا کوئی فلسفی آج تک نہیں سلجھا سکا ہے البتہ جتنے بھی آسمانی مذاہب دنیا میں نازل کیے گئے ہیں ۔ سب نے یہی کہا ہے کہ یہ دنیا لازوال نہیں، بلکہ زوال پذیر ہے۔ یہ ایک مقررہ مدت تک رہنے کے بعد فنا کے گھاٹ اتر جائےگی۔ یہ دنیا عارضی ہے، بلکہ اس کی ہر شے عارضی ہے اور ہر شے کا مقدر ہی فنا ہے۔ مرنے کے بعد ہم پھر سے زندہ کیے جائیں گے اور ہمیں اللہ کے سامنے پیش ہو کر اپنی زندگی کا حساب دینا پڑےگا۔ اپنے اپنے اعمال کا حساب دینے کے بعد ہر انسان یاتو سکھ کی ہمیشہ والی دنیا میں یا پھر دکھ کی ہمیشگي والی دنیا میں داخل ہو جائےگا۔ اس حقیقت کو کوئی مانے یامانے لیکن ہر مسلمان کو اس حقیقت کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ اگر اس کے دل میں اس کے تعلق سے کسی شک وشبہ نے جگہ بنائی تو وہ دائرۂ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

( وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ) [الحديد: 25]

“ اور اس لیے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسول کی مدد بے دیکھے کون کرتا ہے۔ بے شک اللہ قوت والا اور زبردست ہے۔”

( وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ) [يونس: 25]

“اور اللہ تعالی سلامتی کے گھر کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاھتا ہے راہ راست پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔”

( وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآَخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ) [العنكبوت: 64]

“اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشہ ہے البتہ سچی زندگی تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ جانتے ہوتے۔”

برادران اسلام! ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر انسان کے مقدر میں دو گھرلکھ دیے گئے ہیں۔ دنیا کا گھر اور آخرت کا گھر، ایک گھر عارضی اور دوسراگھر دائمی ہے، دنیا کی زندگی چاہے جتنی بھی لمبی ہو۔ اسے ختم ہونا ہے اور آخرت کی زندگی ہی باقی رہنے والی ہے۔ اس دنیا اور اس کی چیزوں کی مثال ڈھلنے والے سایہ کی طرح ہے۔

سیدنا حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے اسی لیے دنیا کے تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے: دنیا کی الٹی گنتی جاری ہے اور آخرت برابر بڑھی چلی آرہی ہے، دنیا وآخرت دونوں کے کچھ بیٹے ہیں لہذا آخرت کے بیٹے بن جاؤ۔ دنیا کے غلام نہ بنو، آج عمل ہو رہا ہے اور کل حساب کے دور سےگذرناہے۔ (بخاری معلقا)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہی خوب مثال دی ہے! فرماتے ہیں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے یعنی یہاں جو بوؤگے، وہی کل قیامت کو کاٹو گے۔

دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“کن فی الدنیا کأنک غریب أوعابر سبیل”

“دنیا میں ایک اجنبی یا ایک مسافر کی طرح رہو۔”

سامعین کرام!ان احادیث وآیات اور ان جیسی بےشمار دوسری آیات واحادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اور حقیقی زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے۔ لہذا آج ہی بلکہ ابھی ہوش میں آجاýؤ تاکہ کل قیامت کے دن تمہیں یہ کہتے ہوئے ہتھیلی نہ ملنا پڑے کہ اے کاش! میں نےاس ابدی زندگی کے لیے کچھ جمع پونجی بھیج دی ہوتی۔ اس وقت یہ پچھتاوا اور یہ افسوس کوئی کام نہ آئےگا۔ وہاں تو بس ایمان اور نیک اعمال اور نیک کردار کام آئيں گے۔ پھر تو نتیجہ ظاہر ہے کہ اگر آپ کے صحیفۂ اعمال میں ایمان کے ساتھ نیکیاں ہیں تو زہے نصیب!مبارک ہو آپ کو جنت اور اس کے باغات تمہیں مبارک ہوں۔ آپ کو حور وغلمان مبارک ہوں۔ آپ کو دودھ اور شراب کی نہریں مبارک ہوں۔ آپ کو وہاں کی تلذذ بھری اور آسائش وآرام سے پُر زندگی مبارک ہو۔ آپ کو لطف بہاراں مبارک ہو۔ آپ کو ہر طرح کی دائمی راحت مبارک ہو۔ آپ کو ہیرے اور موتی کے بےمثال خوبصورت محل مبارک ہوں۔

لیکن اگر آپ اپنے صحیفہ ٔاعمال میں شرک وکفر کے تازیانے، باطل عقائد کی پیروی کی زہر ناکیاں، دین وشریعت سے دشمنی کے تمغےلکھوا کر لے گئے ہیں، تو پھر تیار رہئے، اس جہنم کا ایندھن بننے کو جو ہمیشگی کا گھر تو ہے۔ لیکن ذلت ورسوائی بھرا، دکھ اور غم سے بھرا۔ اللہ ہمیں بھی اور آپ کو بھی اس سے بچائے اور اپنی پناہ میں رکھے آمین!

دوستو! انتظار مت کرو، انتظام کرلو، فکر آخرت کر لو، صحیفۂ اعمال کو نیکیوں سے بھر لو، زندگی کو بھر لو نیکیوں کی تازگی سے، دور کر لو اپنے آپ کو دنيااور اس کی چکاچوند سے ۔

اللہ تعالیٰ تمہیں ان آيات کے ذریعہ جنت کی طرف بلاتا ہے:

( تَرْجِعُونَهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ٨٧ فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ ٨٨ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ) [الواقعة: 87 - 89]

“اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ۔ پس جو کوئی بارگاہ الہی سے قریب کیا ہوا ہو گا۔ اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے۔”

( إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ٣١ حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ٣٢ وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ٣٣ وَكَأْسًا دِهَاقًا ٣٤ لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ٣٥ جَزَاءً مِنْ رَبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا ) [النبأ:31 - 36]

“یقینا پرہیزگار لوگوں کے ل کامیابی ہے۔ باغات ہیں اور انگور ہیں۔ اور نوجوان کم عمر عورتیں ہیں۔ اور چھلکتے ہو جام(شراب) ہیں۔ وہاں نہ تو وہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ۔(ان کو) تیرے رب کی طرف سے ( ان کے اعمال کا ) یہ بدلہ ملے گا جو کافی انعام بو گا۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ فرماتے ہیں: جنتیوں کی جو جماعت سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگی۔ اس میں شامل تمام افراد چودھویں کے چاند کی طرح چمک دمک رہے ہوں گے۔ وہ نہ جنت میں تھوکیں گے۔ نہ ان کی ناک میں رینٹ آئےگی کہ ان کو اپنی ناک جھاڑنی پڑے گی اور نہ ہی وہ پیشاب و پاخانہ کریں گے۔ ان کے کھانے پینے کے برتن سونے کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں بھی سونے اور چاندی کی ہوں گی ، ان کی انگیٹھیوں میں عود کی لکڑیاں جلیں گی۔ ان کا پسینہ مشک جیسا معطر ہوگا۔ ہر جنتی کی دو خاص بیویاں ہوں گی جن کا حسن ان کے کپڑوں کے نیچے سے بھی جھلکےگا، ان کے دل ایک جیسےہوں گے اور وہ صبح شام اللہ کی تسبیح وتہلیل کرتے رہیں گے ۔ (متفق علیہ)

حضرات گرامی!ابھی جن آیات واحادیث کا سہارا لیتے ہوئے ہم نے آپ کو جنت کی جو ہلکی سے لفظی جھلک دکھلائی ہے وہ صرف مشتے نمونہ ازخروارے کے مصداق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت ایسی جگہ ہے جس کو نہ قلم بیان کرسکتا ہے اور زبان۔ وہ نہ کسی دل کی رسائی میں ہے اور نہ تصورات وخیالات کی اس تک پہنچ ہو سکتی ہے اور نہ کسی آنکھ نے اسے دیکھا ہے۔ مختصرا یوں کہا جاسکتا ہے کہ جنت وہ مقام ہے جہاں سکھ ہی سکھ ہوگا۔ جہاں دکھ کا نام ونشان نہ ہوگا اور جہنم ایسی جگہ ہے جہاں دکھ ہی دکھ ہے اور جہاں سکھ کا کوئی نام ونشان تک نہیں ہے، آئیے ہم دعاء کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سبھوں کوجنت کا مستحق وحقدار بنائے اور جہنم سے بچائے۔ آمین۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده، لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله۔

بزرگان دین وملت!دنیا کی حقیقت اور جنت وجہنم کی واقعیت کا لحاظ رکھتے ہوئے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے، آپ کے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے، تابعین کرام نے تبع تابعین عظام نے اور بزرگان دین وملت نے اس دنیا کو آخرت کی کھیتی کے طور پر ہی استعمال کیا۔ سیرت وتراجم کی کتابوں میں اور تاریخ کے صفحات میں آپ کو قدم قدم پر ایسے لوگوں کا تذکرہ ملےگا جنہوں نے دنیا کو پر کاہ سے زیادہ وقعت وحیثیت نہیں دی۔ جن کے پاس دنیا ناک رگڑتی ہوئی آئی، لیکن انہوں نے اسے ذلت وحقارت کے ساتھ ٹھو کر مار دی، جنہوں نے تخت نشیں ہونے پر خاک نشیں رہنے کو ترجیح دی، نتیجہ کیا ہوا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دنیا میں شان سے رہے اور آخرت میں تو ان کے لیے رب کریم نے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔

آپ بتائیں! ایسا ان کے لیے کیوں کر ممکن ہوا؟ اس لیےممکن ہوا کہ ان کے دل اس یقین کا مل کی روشنی سے جگمگارہے تھے کہ یہ دنیا عارضی ہے، اس کے بعد جو دنیا شروع ہونے والی ہے، وہی دار بقا وخیر ہے۔ اسی فکر آخرت نے انہیں دنیا کی تمام تر برائیوں سے بچا کر انسان کامل بنادیا۔ ان کو نیکیوں کا خوگر بنا دیا۔ شیطانی حربوں کا جادو ان پر نہیں چل سکا۔ وہ جئے تو مسافر بن کر اور مرے تو اس شان سے کہ ان پر دنیا کا کوئی قرض تھا ہی نہیں، اسی فکر آخرت نے انہیں تراش خراش کر کندن بنادیا۔ آج دنیا میں آپ جو یہ بےشمار برائياں دیکھ رہے ہیں کہ حلال وحرام کی تمیز مٹ گئی ہے، خدا فراموشی کی وبا ہے جو پھیلتی جارہی ہے، خواتین کی عزت وعصمت تار تار ہورہی ہے، مال وزر کی ہوس میں جس طرح لوگ دیوانہ وار کسی نا معلوم ہلاکت خیز منزل کی طرف بےتحاشا دوڑے جارہے ہیں۔ ہر کسی کی زبان پر یہ جو دنیا دنیا کی رٹ جاری ہے اور نتیجتاً دل کا سکون وچین چھن گيا ہے، یہ سب فکرآخرت سے بےپرواہ ہوجانے کا صلہ ہے۔ اسی آخرت سے بے پرواہی نے انسان کو انسان نہیں رہنے دیا، حیوان مطلق بنادیا :

آہ ! قدرت کا یہ شاہکار آدمی

کھا رہا کر ب پیہم کی مار آدمی

جانے کس جرم کی ہے سزا دیکھ لو

ہے پریشان لیل ونہار آدمی

ملتِ بیضاء کے دیوانو!سوچو! غور کرو! کیا یہ دنیا تمہیں دار بقا لگتی ہے کہ تم اسی میں آشیانہ کی تلاش میں سر کھپا رہے ہو ؟ کہاں دیوانہ وار بھاگ رہے ہو ؟ کیا اس دنیا کے پیچھے جو بہت بوڑھی ہو چکی ہو ؟ کیا اسی دنیا کو تم باوفا سمجھے بیٹھے ہو جس نے آج تک کسی سے وفا نہیں کی ؟ کتنے جبابرہ، اکاسرہ، قیاصرہ اور نماردہ کو اس تہہ خاک نے سڑادیا؟ کتنے ہی عالیشان بنگلوں کو اس نے کھنڈرات میں تبدیل کردیا ؟ آؤ! سنو زندگی تمہیں آواز دے رہی ہے اور اپنی زبان سے کہہ رہی ہے ؎

زندگی کہتی ہے غافل!میں فنا کا باب ہوں

چھپڑ تے ہیں جس سے سازغم وہی مضراب ہوں

آؤ سنو!حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تم سے فر مارہے ہیں: یہ دنیا تمہاری جائے قرار نہیں، اللہ تعالیٰ نے فنا ہونا اس کا مقدر فرمادیا ہے، تمہیں سفر درپیش ہے اس لیے بہتر ین زادراہ تیار کرنے میں لگ جاؤ اور یاد رکھو کہ بہترین زاد راہ تقوی اور پرہیز گاری ہے ۔ (جامع العلوم والحاکم : 2/415)

یہ بھی سنو، حضرت یحیٰ بن معاذ رازی رحمہ اللہ تمہیں آواز دے رہے ہیں: دنیا شیطان کی شراب ہےجس نے اسے پی لی وہ بےہوش ہوگیا۔ اسے صرف موت کی گھنٹی ہی ہوش میں لائےگی۔ لیکن تب تک وہ گھاٹا اٹھا نے والوں کی فہرست میں شامل ہو چکا ہوگا۔ حضرت ابو محمد حبیب رحمہ اللہ صبح ہوتی تو روتے اور شام ہوتی تب بھی روتے۔ ان کی زوجہ محترمہ سے ان کے رونے کا سبب پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا: ابو محمد اس لیے روتے ہیں کہ ان کے دل میں یہ خیال جاگزیں ہوگیا ہے کہ صبح ہوئی تو شام نہ ہوگی اور شام ہوئی تو کیا پتہ کہ صبح کا چہرہ دیکھ بھی پاؤں یا نہیں ؟

اللہ اللہ!یہ تھا ہمارے اسلاف کرام کا خوفِ ربانی، اور یہ تھی ان کی فکر آخرت ! لیکن آج ہمارا یہ حال ہے کہ ہم آخرت کی یاد سے غافل، دنیا دنیا پکارتے ہوئے، ایسے سراب کی طرف رواں دواں ہیں جو سیرابی بہر حال نہیں دے سکتا۔

عزیزان اسلام!جاگو، خواب غفلت سے جاگو، آنکھیں کھولو اور یاد کرو کہ نہ سکندر باقی رہا نہ دارا، نہ فرعون باقی رہا اور نہ نمرود، اور ان سب کی باتیں تو چھوڑو، اللہ کا کوئی پیارے سے پیارا نبی بھی باقی نہ رہا ۔ دیکھ لو، کہیں یہ غفلت تمہاری تمہیں لے نہ ڈوبے۔ ذرا بتاؤ کہ وہ کون سا آدمی ہوگا جو یہ نہ چاہےگا کہ وہ دنیا وآخرت دونوں میں کامیاب وبامراد ہو؟ کو ن چاہے گا کہ دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دے ؟ کون یہ چاہےگا کہ اسے جنت میں داخل ہونے کا پروانہ نہ ملے؟

اگر تمہارے دل میں جہنم سے بچنے کی آرزو انگڑائياں لیتی ہو، اگر تمہارے دل میں اپنے رب سے ملاقات کرنے کی تمنا ہو، اگر تمہارے دل میں حصول جنت کا جذبہ موجزن ہو، اگر تمہارے دل میں زندگی کی رونق باقی ہے ، اگر تمہارا دل بالکل سیاہ اور مردہ نہ ہوچکا ہو تو اب بھی جاگ جاؤ۔ انپی غفلت وسستی کی ردا کو پھینکو، فکر آخرت کرو ۔

سنو! رب کائنات تمہیں آوازدے رہا ہے:

( قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ ) [البقرة: 97]

(اے نبی) آپ کہہ دیج کہ جو جبریل کا دشمن ہو جس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالی اتارا ہے، جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے والا اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے والا ہے(تو اللہ بھی اس کا دشمن ہے)۔”

اس سے پہلے کہ بےرحم موت تمہیں اپنے آہنی پنجہ میں دبالے۔ اپنی بقیہ عمر کو طاعت ربانی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری میں گذارو تاکہ عمر رفتہ کی بھر پائی ہوسکے ورنہ حالت یہ ہوجائے گی کہ تمنا تو کرو گے، لیکن وہ تمنا کا م نہ آئےگی۔ بلکہ حسرت ویاس کی چنگاری کو شعلۂ جوالہ بنا دےگی۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رب کریم ارشاد فرماتا ہے :

( وَأَنْفِقُوا مِنْ مَا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُنْ مِنَ الصَّالِحِينَ ١٠ وَلَنْ يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ [المنافقون:10 - 11]

“ اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے ( ہماری راہ میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آجا تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتاکہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں۔ اور جب کسی کا مقررہ وقت آجاتا ہےپھر اسے اللہ تعالی ہرگز مہلت نہیں دیتا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ باخوبی باخبر ہے۔”

دوستو!اٹھو نمازیں قائم کر کے، روزے رکھ کر، صدقہ وخیرات کرکے والدین کےساتھ حسن سلوک کر کے اور راہ الہٰی میں خرچ کرکے آخرت کا زاد راہ تیار کر لو اور یاد رکھو کہ آخرت کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے ۔ یہ دنیا ایک سراب ہے اس میں سے جو حصہ تمہارے نام لکھ دیا گيا ہے، وہ تمہیں مل کررہےگا۔ اس لیے اپنی ضرورت زندگی کے بقدر محنت اورکو شش ضرور کرو لیکن اسی دنیا میں مگن ہو کر فکر آخرت سے بالکل بے پرواہ نہ ہو جاؤ۔ کیوں کہ موت کبھی بھی علی الاعلان نہیں آتی، وہ چپکے سے آتی ہے اور اپنے شکار کو دبوچ کر روانہ ہو جاتی ہے :

زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا

بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے

نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا

مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے

جانتا ہوں آدمی دنیا سے کیا لے جائے گا

بس یہی کہ جو کیا اچھا برا، لے جائےگا

قبر کی دوگززمیں، دو گز کفن کا اک لباس

کچھ نہیں کچھ بھی نہیں اس کے سوا لے جائے گا

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فکر آخرت سے غافل نہ کرے۔ ہمیں دین ودنیا کی کامرانی سے نوازے۔ یوم آخرت میں جہنم کی آگ سے بچائے اور جنت میں مقام نصیب فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔