خلوص وللّٰہيت

تفصیل

اخلاص ایک عظیم مقصد ہے اور اس سے عاری ہونا زنہایت مہلک ہے۔ اللہ عمل کو اسی وقت قبول کرتا ہے جب وہ عمل صالح ہو اور خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔ تو جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں اس نے غیر اللہ کو شریک کیا،تو اللہ اس عمل کو قبول نہیں کرےگا۔ خواہ وہ کتنا ہی عمل کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ اور جس نے خالص اللہ کے لیے عمل کیا، اللہ اس کےعمل کو قبول کرےگاخواہ وہ عمل کتنا ہی کم ہو۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذبالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ) [آل عمران: 102]

( يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ) [النساء: 1]

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا 70 يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ) [الأحزاب:70 - 71]

أما بعد فإن أصدق الحدیث کتاب اللہ، وأحسن الھدی ھدی محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ فی النار۔

وقال اللہ سبحانہ وتعالی:

( إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ ) [الزمر: 2]

”یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے، پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔”

محترم سامعین کرام! آج ہماری بات چیت (اِن شاء اللہ) ایک بہت ہی اہم چیز کے بارے میں ہوگی۔ ایسی چیز جس کے بغیر اللہ سبحانہ تعالی کوئی عمل قبول نہیں کرتا، جس کی وجہ سے کسی کے درجات بلند کیے جاتے ہیں اور کسی کے پست۔ وہ اہم چیز ہے “اخلاص”۔

میرے بھائیو!اخلاص ایک بہت ہی اہم مقصد ہے اور وہ قبول عمل کا ایک رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کوئی عمل صرف اس حالت میں قبول کرتا ہے، جب وہ عمل نیک ہو اور خالص اسی کی خوشنودی کے لیے ہو؛ لیکن اگر کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے جس میں وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کردیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کا یہ عمل قبول نہیں کرتا، خواہ اس کا وہ عمل کتنا ہی زیادہ اچھا ہو۔

کسی چیز کے شرعی وجوب کو ثابت کرنے کے لیے قرآن کریم کی ایک دلیل ہی کافی ہے۔ اس سلسلہ میں مذ کورہ خطبہ کے اخیر میں یہ آیت پڑھی گئی ہے:

( إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ ) [الزمر: 2]

”اے میرے نبی! ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے، پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔”

اس آیت میں عبادت کے لیے وجوب اخلاص نیت کی واضح دلیل پائی جاتی ہے۔ لہذا کوئی عبادت اخلاص نیت کے بغیر، اللہ کے نزدیک قبول نہیں۔ “إنما الأعمال بالنیات”اعمال کا دار ومدار نیتوں پرہے۔ اس حدیث سے بھی اخلاص نیت کی مزید وضاحت ہوجاتی ہے۔ چنانچہ جو بھی اچھاعمل صرف اللہ کی رضامندی وخوشنودی کی نیت سے کیا جائے (بشرطیکہ وہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو)وہی عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگا،اور جس عمل میں کسی اور جذبے کی آمیزش ہوگی،یا وہ عمل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہوگا وہ ناقابل قبول ہوگا۔

چنانچہ، میرے محترم بھائيو! اخلاص اسطرح ہو کہ تم اپنے عمل میں اللہ وحدہٗ لاشریک لہ کی رضامندی کا ارادہ کرو، اسے ریا کاری وشہرت کے لیے نہ کرو۔ کیونکہ جب تمہارا عمل اخلاص سے خالی ہوگا، تو وہ عمل تمہارے لیے وبال بن جائےگا۔ اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث پر غور کرو؛

شفیا اصبحی سے مروی ہے، وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو ایک ایسے آدمی سے سامنا ہوا جن کے گرد لوگ جمع تھے، انہوں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں؟تو لوگوں نے کہا: یہ حضرت ابوہریرہ ہیں۔ میں ان کے قریب پہنچ کر ان کے سامنے بیٹھ گیا، جبکہ وہ لوگوں کوحدیث بیان کررہے تھے۔ جب وہ خاموش ہوگئےاورتنہائی ہوئی تو میں نے ان سےکہا: جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی حدیث سنائیے جسے آپ نے سنا اور سمجھا ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایسی ہی حدیث سنانے کا وعدہ کیا، پھر آپ نے ایک حدیث سنائی جس میں تین افراد کا ذکر تھا؛

جن میں سے پہلا وہ قاری ہے جسس سے قیامت کے دن اللہ پوچھے گا کہ بتاؤ: کیا میں نے اپنے رسول پر اتارا ہوا قرآن تمہیں نہیں سکھایا؟ وہ کہےگا:جی ہاں، اے میرے رب! پھر اللہ فرمائےگا: تم نے اپنے سیکھے ہوئے علم میں کیا عمل کیا؟ وہ کہےگا: میں دن رات اس کے مطابق عمل کرتا رہا، تو اللہ اسے جواب دےگا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ فرشتہ بھی اس سے کہےگا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ پھر اللہ فرمائےگا؛ بلکہ تو نے عمل کرتے وقت ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے، چنانچہ تجھے وہ کہاگیا۔

پھر ایک مالدار کو حاضر کیا جا ئےگا، تو اللہ تعالیٰ اس سے پوچھےگا کہ کیا میں نے تیرے رزق میں وسعت نہیں دی تھی اور کیا تجھے ایسا نہیں بنادیا کہ تو کسی کا محتاج نہ رہے؟ وہ مالدار جواب دےگا کہ جی ہاں، اے میرےرب!، پھر اللہ پوچھےگا کہ تو نے میرے دیئے ہوئے اس مال کا کیاکیا؟ وہ جواب دےگا کہ میں نے اسے صلہ رحمی میں خرچ کیا اور صدقہ کرتا رہا، تو اللہ اسے جواب دےگا: تونے جھوٹ کہا۔ فرشتہ بھی اس سے کہےگا: تو نے جھوٹ کہا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائےگا؛ بلکہ تونے اس طرح خرچ کرنے میں یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص بہت سخی ہے، چنانچہ تجھے ایسا کہا گیا۔

پھر اس شخص کوحاضر کیا جائےگاجسے فی سبیل اللہ قتل کردیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھےگا کہ تو کس لیے قتل کردیا گیا تھا؟ وہ جواب دےگا کہ مجھے فی سبیل اللہ جہاد کاحکم دیا گیا تھا، چنانچہ میں دشمن سے لڑا، یہاں تک کہ میں قتل کردیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ اسے جواب دےگا: تونے جھوٹ کہا، اور فرشتہ بھی اس سے کہےگا کہ تونے جھوٹ کہا۔ پھراللہ تعالیٰ فرمائےگا: تونے جہاد میں یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص بہت بہادر ہے،چنانچہ تجھے وہ کہا گیا۔

(مذکورہ تینوں افراد کے بارے میں سوال وجواب بیان کرنے کے بعد حضرت ابو ہریرہ نے کہا)پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھٹنے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ اے ابو ہریرہ!وہ تینوں (قسم کے) افراد اللہ کی اوّل مخلوق ہوں گے جن سے قیامت کے دن جہنم کی آگ سلگائی جائےگی (ترمذی۔ صحیح وضعیف الترمذی رقم:2382میں شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

محترم بھائیو! غور کیجئے کہ قیامت کے دن ایک حافظ، قاری کے لیے قرآن کریم نے کیوں سفارش نہیں کی، یا اس کی نجات کے لیے کیوں سفارش نہیں کرےگا ؟ حالانکہ قرآن کریم اپنے حافظ وقاری کا قیامت کےدن شافع ہوگا؛ لیکن مذکورہ قاری کے عدم اخلاص کی وجہ سے قران کریم اس کا شافع نہیں بنےگا اورنہ اس کی سفارش کرےگا۔ اسی طرح مذکورہ مالدار کیطرف سےلوگوں پر خرچ کیے ہوئے مال کا احسان اور نہ لوگوں کے ساتھ اس کی صلہ رحمی قیامت کے دن اس کی سفارش کرےگی؛ کیونکہ وہ اپنے انفاق میں مخلص نہیں تھا، اور یہی حال اس لڑاکو مقتول کا ہے، جو میدان کارزار میں قتل کردیا گیا تھا۔اس کاقتل ہو جانا بھی اسے عذاب آخرت سے بچانے کے لیے سفارش نہیں کرےگا؛ کیونکہ اس کی لڑائی اخلاص سے خالی تھی۔ پس کہاں ہیں ہم اور آپ؟کہاں ہے ہمارے اور آپ کےنیک اعمال کا ذخیرہ؟ اور کہاں ہے ہلاکت سے ہماری اور آپ کی نجات کاراستہ؟اگر ہم قبولیت کے اس اہم رکن یعنی “اخلاص” سے تغافل برتے رہے! اگر ہم اپنے اخلاص کو معدوم ہونے سےیا داغدار ہونے سے بچانا چاہتے ہیں توہمیں مفسدات اخلاص یا اخلاص کے منافی درج ذیل چیزوں سے بچناہوگا:

شرک اکبر:

شرک اکبر، اخلاص کے منافی عمل ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ارادتاًانجام دیئے گیے کسی عمل میں غیر اللہ کو، اللہ تعالیٰ کاشریک ثابت کیا جائے یا شریک مانا جائے۔ یہ ایسا عقیدہ یا نظریہ ہے جو اس حامل شخص کے اخلاص کو فاسد کردیتاہے اور اس کو ملت اسلامیہ سے بالکلیہ خارج کردیتا ہے اور اسےہمیشہ کے لیے جہنم میں دھکیل دیتاہے۔ یہ شرک اکبر، اخلاص کی ضد ہے اور تمام نیک اعمال کو ضائع وبرباد کردیتا ہے۔

شرک اصغر:

شرک اصغر بھی اخلاص کے منافی عمل ہے۔اور وہ یہ ہے کہ کسی نیک قول یا فعل میں ایسا ناجائزارادہ شامل کردیا جائے جس کی وجہ سے اس قول یا فعل پر شرعاً وصف شرک کی تعریف صادق آئے۔ ایسا ارادہ رکھنے والا گنہگارہوگا؛لیکن وہ ملت اسلامیہ سے خارج شمارنہیں کیا جائےگا؛ جیسے کسی نیک قول یا فعل میں “ریاکاری” یا “اپنی شہرت” کا ارادہ کرنا وغیرہ۔ شرک اصغر، توحید کے کمال کو نقصان پہنچاتاہے اور اخلاص کے منافی بھی ہے؛ لیکن یہ صرف اسی عمل کوضائع یا برباد کرتا ہے، جس عمل میں یہ شرک اصغر واقع ہواہو۔ جبکہ اس شخص کے دیگر نیک اعمال جن میں شرک اصغر شامل نہ ہو، وہ اعمال برباد نہیں ہوں گے۔ برخلاف شرک اکبر کے، کیونکہ وہ عقیدہ ونظریہ سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے شرک اکبر کے مرتکب کے سبھی نیک اعمال بربادہو جاتے ہیں۔ بہرحال شرک اصغر میں اچھے اچھے لوگوں کے ملوث ہونے کا بہت زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے:

(عن محمود بن لبيد أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن أخوف ما أخاف علیکم الشرک الأصغر، قالوا: وما الشرک الأصغر یا رسول اللہ؟ قال: الریاء، یقول اللہ عزوجل لھم یوم القیامۃ، إذا جزئ الناس بأعمالھم: إذھبوا إلی الذین کنتم تراؤون، فی الدنیا، فانظروا ھل تجدون عندھم جزاء؟) (مسند أحمد برقم:22528 وصحیح الجامع الصغیر رقم: 1555-694)

“محمود بن لبید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم لوگوں پرجس چیز سے سب سے زیادہ ڈرتا ہوں، وہ شرک اصغر ہے۔ سامعین نےسوال کیا: اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ریاکاری۔ اللہ عزوجل شرک اصغر میں ملوث لوگوں سے قیامت کے دن کہےگا کہ تم ان کے پاس جاؤ، جن کے سامنے تم دنیا میں ریاکاری کرتے تھے، پھر دیکھو کیا تم ان کے پاس اپنے کیے کا کوئی بدلہ پاتے ہو؟”

(وأيضاً عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: من سمع سمع اللہ بہ، ومن رائ رائ الله بہ) (رواہ البخاری، باب الریاء والسمعۃ، ومسلم باب من الشرک فی عملہ غیر اللہ)

“نیز ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دکھاوے کے لیےکوئی عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن رسوا کر دےگا۔ اور جو کوئی نیک عمل لوگوں کی نظر میں بڑا بننے کے لیے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چھپے عیبوں کو لوگوں کے سامنے ظاہر کر دےگا۔”

“جو شہرت چاہےگا، اللہ تعالیٰ اسے شہرت کے لیے ڈھیل دے دےگا، اور جو شخص ریاکاری کرےگا، اللہ تعالیٰ اسے ریاکاری کے لیے ڈھیل دے دےگا۔”

دینی کام میں دنیوی مقصد شامل کرنا:

کسی دینی کام میں دنیوی مقصد شامل رکھنا بھی اخلاص کے منافی ہے۔اور وہ اس طرح کہ کوئی شخص اپنے دینی اعمال کو کسی دنیوی فائدہ کے لیے انجام دے، جیسے کوئی شخص مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جہاد کرے، یا کوئی شخص اس لیےدینی تعلیم حاصل کرے تاکہ اس سرٹیفکٹ سے کوئی اچھی ملازمت حاصل کرسکے۔ اس کی دو شکلیں ہیں؛

پہلی شکل تو یہ ہے کہ اس کے اس دینی عمل سے خالص دنیوی فائدہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو،یا دینی ودنیوی دونوں ارادے مشترک شامل ہوں۔ لیکن اس عمل کے (الف)دینی ارادہ اور دنیوی ارادہ دونوں برابر درجہ کے ہوں، (ب) اس میں اس کا دنیوی ارادہ دینی ارادہ پرغالب ہو۔ ان دونوں صورتوں میں ارادہ “اخلاص” کے منافی اور گناہ اورضیاع عمل کا موجب ہے۔ جس کی وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے:

(وعن أبی بن كعب قال: قال رسول الله صلی الله عليه وسلم: “بشر هذه الأمة بالسناء والتمکین فی البلاد، والنصر والرفعۃ فیالدین۔ ومن عمل منھم بعمل الآخرۃ للدنیا، فلیس لہ فی الآخرۃ نصیب) (مسند أحمد رقم: 20276)

“حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ملت اسلامیہ کو ملکی اقتدار اور دینی تفوق ونصرت کی خوشخبری ہے۔ لیکن ان میں سے جو شخص دینی کام دنیوی فائدے کے لیےکرےگا، اسے آخرت میں اس کا م کا کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا۔”

اور دوسری شکل یہ کہ اس کے نیک اعمال سےدنیوی فوائد کے حصول کا ارادہ، عبادت کے شرعی مقصد کے تابع اور معاون ہو، تو ایسا ارادہ جائز ہے اور اخلاص کے منافی نہیں۔، تا ہم ایسا ارادہ کرنے والا اجر وثواب کے اعتبار سے اس شخص جیسا نہیں ہوگا، جو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے نیت کرنے والا ہو۔

خواہشات نفس کا اتباع:

اس سے مراد یہ ہے کہ جب اطاعت کا سبب نفسانی خواہش اور اسی کی تسلی کا سامان بن جائے، اور اس اطاعت میں تقرب اِلی اللہ کا جذبہ شامل نہ ہو، تو ایسا اتباع بھی اخلاص کے منافی اور اسےبگاڑنے والا ہے۔

عجب یاخودپسندی:

یعنی خود کو اور اپنے کا موں کو اوروں کے مقابلے اچھا سمجھا جائے، اور وہ اس دھوکے میں مگن رہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے بالکل ٹھیک ہے۔ایسا شخص اپنے نفس کی حقیقت سے بےخبر اور اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے پر کیےگئے انعام واکرام کی رؤیت سے قاصر رہنے کے سبب ایسا کرتا ہے۔ یہ عمل ریاکاری سے زیادہ خطرناک ہے؛ کیونکہ یہ نفس کے شرک کے قبیل سےہے، جو بندے سے برابر چپکے رہتاہے۔ خود پسند شخص کی ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ اس کے عمل کااصل محرک اس کی خودپسندی کو غذا پہنچاتارہتاہے نہ کہ وہ تقرب اِلی اللہ کے لیے اور نہ اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے کوئی غذا پہنچاتاہے۔ چنانچہ علامہ نوویؒ نے کہا ہے کہ “اخلاص” کو کبھی خودپسندی کی آفت لاحق ہو سکتی ہے۔ پس جوشخص اپنے عمل میں خودپسندی کا رویہ اپنائےگا، اس کا وہ عمل برباد ہوجائےگا۔

تکبر یا گھمنڈ:

یعنی حق بات کو رد کرنا اور خودپسندی وخود بینی کے سبب مخلوق پر ناحق اپنا بڑکپن جتانا۔ یہ بھی نفس کے شرک کے قبیل سے ہے،جو”اخلاص” کے منافی اور اس سے ملوث عمل کو برباد کرنے والا ہے؛ کیونکہ اللہ کا تقرب وتعمیل حکم کی رغبت اسے ارادے پر عمل کرنے یا اسےترک کرنے کے لیے آمادہ نہیں کرتی؛ بلکہ جو چیز اسےعمل کرنے یا ترک عمل پر آمادہ کرتی ہے، وہ ہے تکبر کی نفسانی خواہش اور لوگوں کو چھوٹا اور حقیر سمجھنے کی نفسانی رغبت۔

البتہ کچھ باتیں ہیں جو تقریبا اسی قبیل کی ہیں تاہم اخلاص کے منافی نہیں ہیں۔ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں؛

دوسروں کو نظر آنے والے کسی نیک عمل میں اُخروی بھلائی کا ارادہ کرنا۔ جیسے عبادت میں جنت کی حصولیابی ،اورجہنم سے نجات کا ارادہ کرنا۔ اس قسم کی باتیں اخلاص کے منافی نہیں ہیں۔

باآوازبلند انجام دی جانے والی عبادات کو علی الاعلان انجام دینا، نیز کسی بندے کے گناہ کو پوشیدہ رکھنا، جس سے اخلاص میں کوئی حرج نہ ہوتا ہو؛ بلکہ شرعاً وہ مشروع ہو۔ چنانچہ ریاء کے خوف سے کسی بھی مشروع یا جائز عمل کو ممنوع قرار نہیں دیا جاسکتا؛ بلکہ اسے انجام دینے اور اس میں اخلاص برتنے کی ترغیب دی جائےگی۔

لوگوں کا کسی شخص کے فرماںبردارانہ عمل پر تعریف کرنا، جبکہ وہ عمل اس عامل کے کسی تعرض یا اشارے کے بغیر ہو۔ لہذا جس نے کسی مومن کو اس کی کوئی خوشخبری پہنچانے میں جلدی کی، تو اس میں ریاکاری کا کوئی دخل نہیں۔ یعنی ایسا کرنا جائز ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے:

(عن أبی ذر رضی الله عنه قال: قيل لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أرایت الرجل یعمل العمل من الخیر ویحمدہ الناس علیہ، قال: تلک عاجل بشری المومن) (صحیح مسلم رقم: 4780، باب إذا أثنی علی الصالح، فھی بشری لاتضرہ، وصحیح ابن ماجہ: 3404-4225، کتاب الزھد، باب الثناء الحسن)

“حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیا کہ:ایسے آدمی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو نیک عمل کرتا ہے، جس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ: یہ مومن کے لیے پیشگی خوشخبری ہے۔”

ضمنی مقاصد جو دینی عمل کے معاون ہوں اور جنہیں شارع نے جائز قرار دیا ہو، جبکہ اس عمل میں اخلاص غالب ہو، اور اللہ تعالیٰ کا تقرب وتعمیل حکم کا ارادہ ہی بندے کے لیے اصل محرک ہو۔ جیسے حج وتجارت کا سفر اور صلہ رحمی کے ضمن میں اکتساب رزق پر مدد مانگنا، اور صدقہ کے ضمن میں شفا یابی وعلاج پر مدد مانگنا۔ اس قسم کی باتیں اخلاص کے منافی نہیں ہیں۔

ایک عبادت کودوسری عبادت میں شریک کرنا۔ جیسے کوئی اپنے روزے سے اللہ کی قربت اور اپنی پاک دامنی دونوں کی نیت کرے، تو ایسی بات مشروع وجائز ہے، جس کا اخلاص میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی دخل نہیں۔

عبادت میں حاضر ہونے اور لوگوں سے ملاقات کرنے کے لیے اچھا لباس زیب تن کرنا۔ ایسی بات ہے جو اخلاص کے منافی نہیں ہے۔ اس کے برعکس ریاکاری میں پڑجانے کے ڈرسے لوگوں کے سامنے اپنے عیوب ظاہر کرتے رہنا، قطعاً اخلاص کی علامت نہیں ہے۔

کچھ بزرگ عابدوں کا سامنا کرتے وقت ، ان کاعملی نمونہ قبول کرتے ہوئے اور ان کے نقش قدم کی اتباع کرکے کسی شرعی حکم پر عمل کرنا، یا اس میں مقدار معمول سے کچھ زیادہ کرنا۔ یہ عمل صالحین کی مجلس میں بیٹھنے کے آثار میں سے ہے اور سستی وغفلت دور کرنے والی بات ہے۔ ان میں ریاکاری کا کوئی دخل نہیں ہوتا، جبکہ ایسا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أمابعد:

محترم سامعین کرام!اخلاص کے بارے میں اب تک جو تفصیل بتائی گئی، اسے آپ اچھی طرح یاد رکھیں، کوئی بھی نیک عمل اس کے بغیر قبول نہیں ہوتا۔ اس کی اہم خوبیاں یہ ہیں کہ اس سے عقیدۂ توحید مضبوط ہو تا ہے اور اس کی وجہ سے مومن شرک ونفاق سے محفوظ رہتا ہے۔اگر کوئی مسلمان اخلاص سے عاری ہو تو شرک ونفاق اسے اپنی طرف کھینچ لیتاہے اور وہ جہنم کا مستحق ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس جو مومن اخلاص سے مزین رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے تمام صغیرہ گناہوں کو معاف کردیتا ہےاور اس کا نیک عمل قبول کرکے اس کے اجر ثواب کو اتنابڑھاتا ہے کہ وہ اُحد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ اللہ کرے کہ ہم اللہ کے لیےہرعبادت کو انجام دینے میں اخلاص کو ملحوظ رکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مخلص وموحد بنائے رکھے، اس کے منافی اعمال سے ہمیں محفوظ رکھے او ر ہمیں ان نیک مومنین میں شامل کرے، جن کا اللہ تعالیٰ نے سورۂ المومنون کی ان آیتوں میں ذکر فرمایاہے:

( إِنَّ الَّذِينَ هُمْ مِنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُشْفِقُونَ 57 وَالَّذِينَ هُمْ بِآَيَاتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ 58 وَالَّذِينَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُونَ 59 وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آَتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ 60 أُولَئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ ) [المؤمنون:59 - 61]

“یقیناً جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں، اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وه اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں، یہی ہیں جو جلدی جلدی بھلائیاں حاصل کر رہے ہیں، اور یہی ہیں جو ان کی طرف دوڑ جانے والے ہیں۔”

اللہ تعالی ٰ ہمیں عبودیت کی مٹھاس کا ذوق نصیب فرمائے، ہمیں آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے سرفراز کرے، ہمیں کمالِ ایمان وہدایت نصیب فرمائے، نیک عمل کی توفیق اور آخرت میں سعادت سے ہمکنار کرے، ہمیں ہر قسم کی پریشانی، فتنہ اور فریب سے محفوظ رکھے اور ہمیں غیراللہ کی عبودیت سے بھی محفوظ رکھے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس بارے میں کامیابی عطا فرمائے کہ لوگ ہماری اچھی باتیں قبول کریں اور وہ پیار ومحبت سےپیش آئیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو نیک بنائے اور تکبر وخود پسندی اور حسد کی گندگیوں سے پاک صاف رکھے، اور توفیق دے کہ امت مسلمہ کو نصرت وتقویت پہنچانے میں ہم حتی المقدور حصہ لے سکیں۔

شرک اصغر وشرک اکبر سے پناہ مانگنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی اس دعا کو ہم وقتاً فوقتاً پڑھتے رہيں:

(اللّهم إنی أعوذبك أن أشرك بك وأنا أعلم، واستغفرك لما لا أعلم، اللهم ارزقنا الإخلاص فی القول و العمل) (صحيح وضعيف الجامع للشيخ الألبانی رقم: 6044)

عزیز بھائيو ! کیا ہم میں سے ہر ایک کےدل میں یہ آرزو نہیں ہے کہ اُسے آخرت میں اللہ کے نزدیک سعادت نصیب ہو؟ کیا اس کے دل میں یہ آرزو نہیں ہے کہ وہ آخرت میں اللہ کا مکرم وپسندیدہ بندہ بن جائے؟

کیا ہم میں سے کوئی یہ پسند کرےگا کہ آخرت میں اللہ کے سامنے اس کے کیے ہوئے نیک اعمال بھی بےکار، بلکہ وبال جان بن جائیں ؟ کیا ہم میں سے کوئی اپنے لیے یہ پسند کرےگا کہ وہ آخرت میں ہمیشہ کے لیے جہنم میں دھکیل دیا جائے؟ جبکہ اس کے سامنے یہ منظر ہوگا، اور وہ دیکھ رہا ہوگا کہ ایماندار بندے پوری سعادت مندی کے ساتھ جنت میں لطف اندوز ہورہے ہیں اور کفر کرنے والے بدبخت بندے جہنم کی آگ میں تلملا رہےہیں۔

فأوصيكم ياإخوانی وإياى بتقوى الله، وبالله وبالاخلاص فی جميع الأعمال، والله يعلم ماتصنعون-