تفصیل

جنت انتہائی قیمتی سودا ہے جس کے لیے کوشش کرنے والوں کوشش کی ہے۔ اس میں روشن اور ہشاش بشاش چہرے ہوں گے۔ اس میں واضح خوبصورتی اور بڑی بڑی آنکھیں والی حوریں ہوں گی۔ اور جہنم ایک دائمی عذاب کا نام ہے جس میں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور دردناک ورسواکن عذاب ہوگا۔ تو جس نے بھی جنت کی حقیقت کو جان لیا وہ اس کو پانے کی کوشش کرےگا۔ اور جس نےجہنم کی حقیقت جان لی وہ اس سے بچنے کی کوشش کرےگا۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لاإله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔

أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وشر الأمور محد ثاتھا وکل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار.

محترم بھائیو! آج کے خطبے کا موضوع ایک ایسے گراں قدر اور بیش قیمت سودے کا ذکر ہے جس کے پانے کی ہر مسلمان خواہش کرتا ہے اور اس کے لیے کوشش کر تا ہے اور قیامت تک کوشاں رہےگا۔ لیکن اسے صرف وہی لوگ پاسکیں گے، جن پر اللہ کی رحمت خاص ہوگی اور اس کا خصوصی فضل وانعام ان کے شامل حال ہوگا۔ آپ جا ننا چاہتے ہوں گے کہ آخر وہ کون سی ایسی گراں بہا اور پیش قیمت چیز ہے جس کے پانے کی ہر مسلمان خواہش وتمنا رکھتاہے؟

میرے بھائیو!یہ گراں بہا اور بیش قیمت چیز جنت کا ابدی گھر ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے خاص طور سے اہلِ ایمان کے لیے تیار کیا ہے۔ اس کے مقابل ایک گھر اور ہے جو کافروں یا منافقوں اور نافرمان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جس کا نام جہنم ہے۔

جنت اور جہنم دونوں اللہ کی مخلوق ہیں۔ جنت اور اس کی جملہ نعمتوں اور آسائشوں کو اللہ تعالیٰ نے ازل ہی میں پیدا کردیاہے۔ اسی طرح جہنم اوراس کی تکلیفوں اور عذابوں کو بھی وہ ازل ہی میں پیدا کر چکا ہے۔ یہ دونوں گھر پہلے ہی پیدا کیے جاچکے ہیں۔ جنت اللہ پر ایمان رکھنے اور اس سے ڈرنے والوں کے لیے ہے۔

جنت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آَمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ) [الحديد: 21]

(آؤ) دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اوراس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان وزمین کی وسعت کےبرابرہےیہ ان کے لیے بنائی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔”

اور جہنم کے بارے میں ارشاد ہے:

( فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ) [البقرة: 24]

”پس اگرتم نے نہ کیا اورتم ہرگز نہیں کر سکتے تو (اسےسچا مان کر) اس آگ سےبچوجس کا ایندھن انسان اورپتھرہیں، جوکافروں کےلیےتیارکی گئی ہے۔”

محترم بھائیو!جنت متقیوں کا گھر ہے۔ ان انبیاء ورسل، صدیقین وشہداء اور صالحین کا گھر ہے، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے۔ یہ ایسے باغات کا گھر ہے، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ ایسا گھر ہے جس کی اینٹیں سونے اور چاندی کی ہوں گی۔ جس پر مشک کا پلا سٹر ہوگا۔ جس سے ہمیشہ بہترین خوشبو پھو ٹتی رہےگی۔ جس کی کنکریاں موتی اور یاقوت کی ہوں گی۔ جس کی مٹی زعفران کی ہوگی اور جس کے خیمے جوف دار موتی کے ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“إن للمومن فی الجنۃ لخیمۃ من لؤلؤۃ واحد مجوفۃ طولھا فی السماء ستون میلا” (مسلم)

“مومن کے لیے جنت میں ایک جوف دار موتی کا خیمہ ہوگا، جس کی لمبائی بلندی میں ساٹھ میل ہوگی۔”

جوفدار کا مطلب درمیان سے خالی ہوگا۔ یہ خیمہ ان عالیشان محلات کے علاوہ ہوگا، جن میں ان کا مستقل قیام ہوگا۔ نیز جنت میں ہرے بھرے باغات اورچشمے ہوں گے۔ ارشاد باری ہے:

( إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٍ ٥١ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ) [الدخان: 51 - 52]

”بےشک (اللہ سے) ڈرنے والے امن و چین کی جگہ میں ہوں گے۔ باغوں اورچشموں میں۔ جس میں سے جتنا چاہیں گے وہ اطمینان کے ساتھ کھائیں گے۔

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”یأکل أھل الجنۃ فیھا ویشربون ولا یتغوطون ولا یمتخطون ولا یبولون ولکن طعامھم ذلک جشاء کرشح المسک””جنتی جنت میں کھائیں گے، پئیں گے؛ لیکن نہ ان کو قضائے حاجت کی ضرورت ہوگی نہ ناک سے رینرش نکلےگی، نہ وہ پیشاب کریں گے۔ ان کو ایک ڈکار آئےگی، اسی سے ان کا کھانا ہضم ہوجائےگا۔ یہ ڈکار بھی مشک کے پسینے کے مانند ہوگی۔”یعنی وہ بھی خوشگوار ہوگی۔ایک دوسری روایت میں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یوں آیا ہے:

(أول زمرۃ یدخلون الجنۃ علی صورۃ القمر لیلۃ البدر، ثم الذین یلونھم علی أشد کوکب دری فی السماء إضاءۃ، لا یبولون ولا یتخوطون ولا یتفلون ولا یمتخطون، أمشاطھم الذھب ورشحھم المسک ومجامرھم الألوّۃ عودھم الطیب أزواجھم الحور العین علی خلق رجل واحد علی صورۃ أبیھم آدم ستون ذراعا فی السماء)

“ پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا، ان کے چہرے اس طرح چمک رہے ہوں گے، جیسے چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے۔ پھر ان کےبعد داخل ہونے والوں کے چہرے آسمان پر سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے۔ وہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ، نہ تھوکیں گےنہ ناک چھنکیں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کا پسینہ مشک کی طرح خوشبودار ہوگا۔ ان کی انگیٹھیوں میں جلانے کے لیے خوشبودار لکڑی ہوگی۔ ان کی بیویاں بڑی بڑی آنکھیں والی حوریں ہوں گی۔ سب ایک ہی آدمی کی ساخت پر اپنے باپ آدم کی شکل وصورت پر ہوں گے۔ ان کے قد کی لمبائی ساٹھ ہاتھ کی ہوگی جیسے حضرت آدم تھے۔”

بخاری ومسلم کی ایک روایت میں ہے:

“آنیتنھم فیھا الذھب، ورشحھم المسک، ولکل واحد منھم زوجتان؛ یری مخ سوقھما من وراء اللحم من الحسن”

“جنت میں ان کے کھانے کے برتن سونے کے ہوں گے۔ ان کا پسینہ مشک کی طرح خوشبودار ہوگا۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے دو بیویاں ہوں گی۔ وہ ایسی حسین ہوں گی کہ حسن کی وجہ سے ان کی پنڈلیوں کا گو د اگوشت کےپار سے نظر آئےگا۔”

ایک روایت میں ان کے حسن وجمال کے متعلق آیا ہے کہ اگر ان میں سے ایک عورت اہل زمین کی طرف جھانک لے تو آسمان وزمین کے درمیان کا سارا حصہ چمک اٹھے اور خوشبو سے بھر جائے۔ اور اس کے سر کا دو پٹہ اتنا قیمتی ہو گا کہ وہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہوگا۔”

ایک حدیث کی رو سے جنت میں آرام وآسائش کی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی، جو ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں آتی ہوں گی۔ارشاد باری ہے:

( فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) [السجدة: 17]

”کوئی نفس نہیں جانتا کہ کیا ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔”

ایک حدیث قدسی میں یوں وارد ہے:

“قال اللہ تعالی: أعدت لعبادی الصالحین ما لا عین رأت ولا أذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر”

“اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کررکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال ہی گزراہے۔”

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ بیان فرمانے کے بعد فرمایا: اس کی تصدیق کے لیے اگر تم چاہو تو قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ پڑھو ( فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) [السجدة: 17]

جنتیوں پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام یہ ہوگا کہ وہ انہیں اپنے دیدار سے مشرف فرمائےگا۔ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آ پ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا:

“إنکم سترون ربکم عیانا کما ترون ھذا القمر لاتضامون فی رویتہ”

“یقینا تم (جنت میں )اپنے رب کو واضح طور پر ایسے ہی دیکھوگے، جیسے تم یہ چاند دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوتی جیسےبھیڑ میں پڑتی ہے۔

یعنی جس طرح چاند کے دیکھنے میں کوئی ازدحام نہیں ہوتا، کوئی کشمکش نہیں ہوتی، کوئی زحمت نہیں اٹھانی پڑتی؛ بالکل اسی طرح اہلِ جنت بھی بیک وقت سارے لوگ اپنے رب کا دیدار کریں گے۔ دنیا میں ان فانی آنکھوں سے دیدار ِ الہٰی ممکن نہیں؛ لیکن جنت میں یہ دیدار اس لیے ممکن ہوجائےگاکہ وہاں کی ہرچیز غیر فانی ہوگی۔ اسی طرح جنتیوں کو جو آنکھیں ملیں گی، وہ بھی غیر فانی ہوں گی۔ ان میں اتنی طاقت ہوگی کہ آسانی سے اللہ کا دیدار اور مشاہدہ کرسکیں۔

مسلم کی ایک روایت میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“إذا دخل أھل الجنۃ الجنۃ یقولاللہ تبارک وتعالی: تریدون شیئا أزیدکم؟ فیقولون: ألم تبیض وجوھنا؟ ألم تدخلنا الجنۃ وتنجنا من النار؟ فیکشف الحجاب فما اعطوا شیئا أحب إلیھم من النظر إلی ربھم’

“جب جنتی جنت میں داخل ہوجا ئیں گے، تو اللہ تبارک وتعالی ٰ فرمائےگا: تم کسی اور چیز کی خواہش رکھتے ہو کہ میں تمہیں مزید دوں؟ تو وہ کہیں گے:کیا تونے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا؟ کیا تونے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور جہنم سے نجات نہیں دی؟ پس اللہ تعالیٰ پردہ ہٹادےگا اور جنتی اپنے رب کا دیدار کریں گے۔ تو وہ کوئی چیز ایسی نہیں دیئے گئے ہوں گے جو انہیں اپنے رب کو دیکھنے سے زیادہ محبوب ہو۔”

دنیا میں انسان کی زندگی کو قرار وثبات نہیں۔ ہر وقت اسے ایسی بیماری اور ناگہانی حادثا ت کا خطرہ لگا رہتا ہے، جو اس کی زندگی کا خاتمہ کردے۔ اسی طرح جوانی وصحت کو قرار وثبات نہیں۔ جوانی بڑھاپےمیں تبدیل ہو جاتی ہے۔ صحت بیماری میں بدل جاتی ہے۔ اسی طرح آرام وراحت بھی مصیبتوں اور تکلیفوں میں بدل جایا کرتی ہے۔ دنیا کی کسی بھی چیز کو دوام وثبات حاصل نہیں؛ لیکن جنت کی ساری نعمتیں زوال وفنا سے محفوظ ہوں گی۔ وہا ں زندگی ہوگی، موت نہیں۔ صحت ہوگی، بیماری نہیں۔ جوانی ہوگی، بڑھاپا نہیں۔ ہر طرح کی راحت وآسائش ہوگی، کوئی دکھ اور تکلیف کبھی بھٹک کر بھی پاس نہیں آئےگی۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے:

“إذا دخل أھل الجنۃ الجنۃ ینادی مناد:أن لکم أن تحیوا فلا تموتوا أبدا، وأن لکم أن تصحوا فلاتسقموا أبدا، وأن لکم أن تشبوا فلا تھرموا أبدا، وأن لکم أن تنعموا فلا تبأسوا أبدا”

“جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ایک پکارنے والا پکارےگا کہ اب تمہیں زندگی ہی زندگی ہے اب تم کبھی موت سے ہم کنار نہیں ہوگے اور یہ بھی کہ تم صحت مند ہوگے کبھی بیمار نہیں ہوگے اور یہ کہ تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہوگے اوریہ کہ تمہارے لیے راحت ہی راحت ہے تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچےگی ۔

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“إن أدنی مقعد أحدکم من الجنۃ أن یقول اللہ لہ تمن فیتمنی ویتنمی فیقول لہ ھل تمنیت فیقول: نعم فیقول لہ فإن لک ماتمنیت ومثلہ معہ” (مسلم:8153)

“تم میں سے ادنی جنتی کا یہ مقام ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائےگا کہ آرزو کر، پس وہ آرزو کرےگا۔ پھر آرزو کرےگا کہ میرے لیے فلاں چیز ہو، فلاں چیز ہو، اور فلاں چیز ہو۔ اللہ تعالیٰ اس سے پو چھےگا: تونے اپنی ساری آرزؤں کا اظہار کردیا؟وہ کہےگا: ہاں، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائےگا:تیرے لیےوہ ہے جو کچھ تو نے آرزو کی ہے۔ اور اس کے ساتھ اسی کے مثل اور بھی۔

اس کے برخلاف جہنم- اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے- بڑے دردناک عذاب کا گھر ہے۔ارشاد باری ہے:

( لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ ) [الأنعام: 70]

”ان کےلیےنہایت تیزگرم پانی پینے کے لیے ہوگا اور دردناک سزا ہوگی اپنے کفر کے سبب۔”

نیز ارشاد باری ہے:

( وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ ) [يونس: 4]

“اور جن لوگوں نے كفر كيا ان کےلیےنہایت تیزگرم پانی پینے کے لیے ہوگا اور دردناک سزا ہوگی اپنے کفر کے سبب۔”

میرے بھائیو! یہ اللہ کے نافرمانوں اور اس سے سرکشی کرنے والوں کےلیے بہت براٹھکانا ہوگا۔ارشاد باری ہے:( هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآَبٍ ٥٥ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ ) [ص:55- 56]

“یہ تو ہوئی جزا ( یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لیے بڑی جگہ ہے۔ دوزخ ہے جس میں وہ جائیں گے (آہ) کیا ہی برا بچھونا ہے۔”

نیز ارشاد باری ہے:

( سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَى وُجُوهَهُمُ النَّارُ ) [إبراهيم: 50]

“ان کے لباس گندھک کے ھوں گے اور آگ ان کے چہروں پر بھی چڑھی ہوئی ہوگی۔”

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“یؤتی بجھنم یومئذ لھا سبعون ألف زمام، مع کل زمام سبعون ألف ملک یجرونھا”

“اس دن جہنم لائی جائےگی، اس کے ستر ہزار لگام ہوں گے، اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے، جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔”

جہنم کی گہرائی کا اندازہ آپ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے کیجئے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ نے کسی چیز کے گرنے کی آواز سنی تو آپ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ آواز کس چیز کی تھی؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا:

“ھذا حجر رمی بہ فی النار من سبعین خریفا فھو یھوی فی النار الآن حتی انتھی إلی مقرھا” (مسلم)

“یہ ایک پتھر کے گرنے کی آواز تھی، جسے ستر سال پہلے جہنم میں ڈالا گياتھا، اور وہ گہرائی میں برابر جاتا رہا، یہاں تک کہ اب وہ جاکر اس کی گہرائی تک پہنچاہے۔”

اسی طرح کی ایک روایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“لو أن حجرا مثل سبع خلفات ألقی عن سفیر جھنم ھوی فیھا سبعین حریفا لا یبلغ حفرھا”

“اگر ایک پتھر جو سات موٹی اونٹنیوں کے مثل ہو، جہنم کے کنارے سے اس کے اندر گرایا جائے اور وہ ستر سال تک برابر گرتا رہے، تو وہ پھر بھی اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکے گا۔”

جہنم کی آگ کی شدت و گرمی کا ذکر قرآن کریم میں مختلف انداز میں آیاہے ۔ ایک جگہ ارشاد ہے:

(كَلَّا إِنَّهَا لَظَى ١٥ نَزَّاعَةً لِلشَّوَى ) [المعارج: 15 - 16]

(مگر) ہر گز یہ نہ ہو گا، یقینا وہ شعلہ والی(آگ) ہے۔ جو منہ اور سر کی کھال کھینچ لانے والی ہے۔”

ایک آیت میں اسے “نَارًا تَلَظَّیٰ” کہاگیاہے۔ یعنی ایسی آگ جو برابر دہکتی رہےگی۔

ایک آیت میں ارشاد ہے:

( إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ ) [المرسلات: 32]

“یقینا دوزخ چنگاریاں پھینکتی ہے جو مثل محل کے ہیں۔”

اس کی شدت اور ہولناکی کا اندازہ آپ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے کیجئے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

“نارکم ھذہ التی یوقد ابن آدم جزء من سبعین جزءا من حر جھنم قالوا: واللہ إن کانت لکافیہ یا رسول اللہ! قال فإنھا فضلت علیھا سبعین جزءا کلھا مثل حرھا”

“تمہاری یہ آگ جسے آدم زاد جلاتا ہے، جہنم کی آگ کے سترویں حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ لوگوں نے آپ سے عرض کیا: اگر یہی ہوتی پھر بھی کافی ہوتی؟ آپ نے فرمایا: جہنم کی آگ اس سے سترگنازیادہ شدید ہے، اور ان میں سے ہرگنا کی شدت اتنی ہے، جنتی دنیا کے آگ کی ہے۔”

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“یؤتی بأنعم أھل الدنیا من أھل النار یوم القیامۃ فیصبغ فی النار صبغۃ ثم یقال: یا ابن آدم ھل رأیت خیرا قط؟ ھل مرّ بک نعیم قط؟ فیقول: لا واللہ یا رب”

“دنیا میں سب سے زیادہ نعمتوں میں پلا ہوا شخص جو کہ جہنمی ہوگا، قیامت کے دن لایا جائےگا، پھر اسے جہنم میں ایک ڈبکی دی جائےگی، پھر اس سے پوچھا جائےگا: اے ابن آدم کیا تو نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی تھی، کیا کبھی تونے کوئی نعمت دیکھی تھی؟ وہ کہےگا: اللہ کی قسم، اے میرے پروردگار! میں نے کبھی کوئی نعمت نہیں دیکھی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں جنت کی ان نعمتوں کا مستحق بنائے اور جہنم کے عذاب اور اس کی تکلیفوں سے محفوظ رکھے، آمین۔

أقول قولی ھذا، واستغفراللہ لی ولکم ولسائر المسلمین، فاستغفروہ إنہ ھو الغفور الرحیم۔

محترم بزرگو اور عزیزو! ابھی آپ نے جنت کی نعمتوں اور اس کی راحتوں اور آسائشوں اور جہنم کے عذابوں اور اس کی تکلیفوں اور کلفتوں کا مختصر تذکرہ سنا۔ آپ یہ جاننا چاہتے ہوں گے کہ ہم جنت کی نعمتوں کو کیسے پاسکتے ہیں اور جہنم کے عذاب سے اپنے آپ کو کیسے بچا سکتے ہیں ۔ تو آئیے ہم آپ کو بتائیں کہ جنت کے پانے کی کیاکیا تدبیریں ہیں۔

میرے بھائیو!یہ جنت صرف انہیں لوگوں کے لیے ہے جو ایمان اور عملِ صالح کے زیو ر سے آراستہ ہوں۔

ارشاد باری ہے:

( وَبَشِّرِ الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ) [البقرة: 25] “اور ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں کی خوشخبریاں دو جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔”

ایک جگہ ارشاد ہے:

(إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ) [الحج: 14] “ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔”

اس لیے جنت کے حصول کے لیے ہمیں ایمان اور عمل کے زیور سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا چاہئے۔

یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہوگی، جو اللہ سے ڈرتے ہوں گے اور جن کاموں کے کرنے کا اس نے حکم دیا ہے انہیں کرتے ہوں گے اور جن سے روکا ہے ان سے بچتے ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا ) [مريم: 63]

“یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے انہیں بناتے ہیں جو متقی ہوں۔”

یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے اور نماز روزہ اور زکاۃ کے پابند ہوں گے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:

“إن أعرابیا أتی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یارسول اللہ دلنی علی عمل إذا عملتہ دخلت الجنۃ قال: تعبداللہ لاتشرک بہ شیئا وتقیم الصلاۃ وتؤتی الزکاۃ المفروضۃ وتصوم رمضان۔ قال والذی نفسی بیدہ لا أزید علی ھذا۔ فلما ولی قال: من سرّہ أن ینظر إلی رجل من أھل الجنۃ فلینظر إلی ھذا” (متفق علیہ)

“ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی فرمائیں جسے میں کروں تو جنت میں چلاجاؤں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی عبادت اس طرح کرکہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ نماز قائم کر۔ فرض زکاۃ ادا کر۔ اور رمضان کے روزے رکھ۔ اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس پر کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ تو جب وہ دیہاتی واپس ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جسے کوئی جنتی دیکھنا پسند ہو، تو وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔”

اسی طرح یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو اپنے والدین کی خدمت کرتے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں۔ طبرانی کی ایک روایت میں ہے،حضرت عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جہادمیں شرکت کی خواہش ظاہر کی۔ تو آپ نے پوچھا کیاتمہارے والدین زندہ ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے فرمایا:

(الزمھما فإن الجنۃ تحت أرجلھما)

“جاýؤ انہیں کی خدمت میں لگے رہو، جنت ان کے قدموں کے نیچے ہے۔”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“دخلت الجنۃ فسمعت فیھا قرأۃ، فقلت من ھذا؟ قالوا: حارثۃ بن النعمان، فقال رسول اللہ صلی علیہ وسلم: کذا لکم البر، کذا لکم البر، وفی روایۃ لعبد الرزاق قال: وکان أبر الناس بأمہ”

“میں جنت میں داخل ہوا، تو میں نے قراءت سنی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جواب ملا حارثہ بن نعمان ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا:(ماں باپ سے) نیکی اسی طرح ہوتی ہے۔ ماں باپ سے نیکی کا یہی فائدہ ہوتا ہے۔ اور مصنف عبد الرزاق کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: وہ اپنی ماں کے ساتھ بہت نیکوکار تھے۔”

یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کے ساتھ نوافل کا بھی کثرت سے اہتمام کرتے ہوں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“من صلی اثنی عشرۃ رکعۃ فی الیوم واللیلۃ بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ؛ رکعتین قبل صلاۃ الصبح، وأربعا قبل الظھر واثنتین بعدھا، ورکعتین بعد صلاۃ المغرب، ورکعتین بعد صلاۃ العشاء”

“جو دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھےگا۔ اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائےگا۔ دورکعت صبح کی نماز سے پہلے، چارظہر سے پہلےاور دو اس کے بعد، دومغرب کی نماز کے بعد ، اور دو عشاء کی نماز کے بعد۔”

یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو تہجد کی نماز کا اہتمام کرتے ہوں گے۔

ارشادباری ہے) تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ ) [السجدة: 16]

”ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں۔ اپنے رب کو خوف اور امید کےساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ خرچ کرتے ہیں۔”

ایک روایت میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

“أیھا الناس أفشوا السلام، وأطعموا الطعام، وصلوا الأرحام، وصلوا باللیل والناس نیام، تدخلوا الجنۃ بالسلام”

“لوگو!سلام کو عام کرو،کھانا کھلاؤ، قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو، رات میں نمازیں پڑھو جب لوگ سورہے ہوں، اطمینان وسلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاýؤ۔”

یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو فرض روزوں کے ساتھ نفلی روزوں کا بھی اہتمام کرتے ہوں گے۔

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“إن فی الجنۃ بابا یقال لہ الریان، یدخل منہ الصائمون یوم القیامۃ لا یدخل منہ أحد غیرھم، یقال این الصائمون؟ فیقومون لایدخل منہ أحد غیرھم، فإذا دخلوا أغلق، فلم یدخل منہ أحد”

“جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن اس سے صرف روزےدار داخل ہوں گے۔ ان کے سوا اس سے کوئی اور داخل نہیں ہوگا۔ کہا جائےگا: روزےدار کہا ں ہیں؟ تو وہ اٹھ کھڑے ہوں گےاور داخل ہو جائیں گے۔ ان کے سوا اس سے کوئی اور داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہوجائیں گے، تو اسے بند کردیا جائےگا۔ پس اس سے کوئی اور داخل نہیں ہوسکےگا۔”

میرے بھائیو! یہ جنت اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے رسول کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے ہوگی۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“یضمن اللہ لمن خرج فی سبیلہ، لا یخرجھا إلا جھاد فی سبیلی وإیمان بی وتصدیق برسولی فھو ضامن علی أن أدخلہ الجنۃ أو أرجعہ إلی منزلہ الذی خرج منہ”

“اللہ نے اس شخص کی ذمہ داری لی ہے،جو اس کے راستے میں نکلے(اللہ فرماتا ہے) اس کوگھر سے نکالنے والی چیز میرے راستے میں جہاد کرنے، مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے سوا کوئی اور چیز نہیں، لہذا میں اس بات کا ضامن ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں، یا اس گھر کی طرف اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس لوٹا دوں جس سے نکلا ہے۔”

یہ چند اعمال صالحہ ہیں جن کا ذکر ہم نے کیا۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے نیک اعمال ہیں جن کا احاطہ اس مختصر سے خطبہ میں ممکن نہیں۔ اب میں چند ایسے کاموں کا ذکر کروں گا جو جہنم میں لے جانے کا باعث بنتے ہیں۔

ان میں سب سے اہم کفر اور شرک ہے۔ ارشاد باری ہے:

( إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أُولَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ) [البينة: 6]

”بےشک جو لوگ اہل کتاب میں سے کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں۔”

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جنت اور جہنم کو واجب کرنے والی دوچیزیں کون سی ہیں؟ آپ نے فرمایا:

“من مات لایشرک باللہ شیئا دخل الجنۃ ومن مات یشرک باللہ دخل النار”

“جس شخص کی موت اس حالت میں آئی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور جس کی موت اس حالت میں ہوئی کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔”

کفر وشرک کے بعد دوسرا سب سے بڑا گناہ والدین کی نافرمانی ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا:

“ألا أنبئکم بأکبر الکبائر”

“ کیامیں تمہیں سب سے بڑے گنا ہ کے بارے میں نہ بتاؤں ہم نے عرض کیا کیوں نہیں، اللہ کے رسول ضرور بتائیے۔ آپ نے یہی سوال تین بار دہرایا، اس کے بعد فرمایا:

“الإشراک باللہ وعقوق الوالدین”

“ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اور والدین کی نافرمانی کرنا اور انہیں اذیت پہنچانا۔

پھر آپ لیٹے ہوئے تھے، اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا:

“ألا وقول الزور وشھادۃ الزور، ألا وقول الزور وشھادۃ الزور”

“خبردار،اورجھوٹی بات اور جھوٹی گواہی ہے۔ خبردار،اورجھوٹی بات اور جھوٹی گواہی ہے۔”

آپ یہ جملہ اس طرح دہراتے رہے کہ ہم دل میں کہنے لگے کاش آپ خاموش ہوجاتے ۔

یہ ہیں چند اعمال جو انسان کو جہنم میں لےجانے کا باعث ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے اعمال ہیں جو انسان کی ہلاکت وبربادی کا سبب بنتے ہیں۔ جن سے انسان کے لیے بچنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے اعمال کی توفیق دے جو ہمیں جنت میں لے جانے والے ہیں اور اس کی نعمتوں سے مستفیض ہونے کا باعث بنیں اور ہمیں ایسے کاموں سے محفوظ رکھے جو انسان کی ہلاکت وبربادی اور اسے جہنم میں لے جانے کا باعث بنتے ہیں۔

اللھم أدخلنا الجنۃ وأجرنا من النار۔