إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔

محترم حضرات وخواتین !آج کے خطبۂ جمعہ میں ہم جس عنوان کے تحت لب کشائی کرنے کی جرات وہمت کررہے ہیں۔ وہ انتہائی عظیم اور اہم موضوع ہے۔ ایسا موضوع ہے جو اسلام کے چھ ارکان میں سے ایک ہے۔اگر کوئی اس کا انکار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے غیض وغضب کا شکار ہوتا ہے وہ ایسے شخص کا کوئی نیک عمل بھی قبول نہیں فرماتا۔ وہ موضوع ہے۔ “تقدیر یا قسمت پر ایمان لانا”

یقیناً یہ ایسا موضوع ہے جس پر اظہار خیال کرنے والا ہمہ وقت تلوار کی دھار پر ہوتا ہے ، ذراسی لغزش اسے عرش سے فرش پر گراسکتی ہے۔ ذراسی جنبش اسے ثریا سے زمین پر پٹخ سکتی ہے۔ ذراسی خطا اسے خدا دشمن افراد کے زمرے میں لاکھڑا کر سکتی ہے۔ لہذا دعا کیجئے کہ رب کا ئنات مجھے صحیح بولنے کی توفیق دے کہ اس کی توفیق کے بغیر نہ کوئی پتہ ہل سکتا ہے اور نہ کوئی کچھ کہہ ، بول اور سمجھا سکتا ہے۔

دوستو اور عزیزو!تقدیر یا قسمت پر ایمان لانے کا معاملہ ازل سے اب تک انسانوں کے مابین نزاع کا باعث رہا ہے، بعضوں نے تقدیر کا سرے سے انکار کیا تو ہلاک وبرباد ہوئے اور بعضوں نے تقدیر یا قسمت ہی کو سب کچھ مان لیا اور تدابیر وعلل سے ہاتھ چھڑا کر بیٹھ گئے تو وہ بھی ہلاک وبرباد ہوئے۔ البتہ بیچ کا جو راستہ ہے، اسی راستہ کو جس نے اپنایا وہی کامیاب وبامراد ہوا۔ لیکن افراط وتفریط کی خوگر انسانیت کی تاریخ میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جنہوں نے راہ اعتدال سے ہو کر اپنی زندگی کی گاڑی گذاری ہو۔ تا ہم ہمیں امید ہے کہ آپ تمام حضرات وخواتین ان خوش نصیبوں میں ہیں جو تقدیر پر کما حقہ ایمان لاتے ہیں، اس کے تعلق سے نہ افراط کے شکار ہوتے ہیں اور نہ تفریط کے، بلکہ راہ اعتدال سے ہو کر گذرتے ہیں جس سے ان کا دین وایمان تو محفوظ رہتا ہی ہے ، وہ اللہ کی خوشنودی ورضا بھی حاصل کرنےمیں کامیاب وبامراد ہوا کرتے ہیں۔

دوستانِ باصفا! تقدیر پر ایمان لانے کا معاملہ نہایت آسان ہے۔ لیکن اسے فلسفیوں نے بےحد مشکل اور پیچیدہ بنا دیا ہے حالانکہ ؎

برسوں فلا سفر کی چناں اورچنیں رہی لیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہی

کے مصداق انہیں اس بحرِ بے کراں میں ایسا کچھ نہیں ہاتھ لگ سکا جس سے یہ ثابت ہوجائے کہ تقدیر پر یا قسمت پر ایمان لانا ایک لایعنی چیزہے لیکن اس خدابیزاری کو کیا کہئے کہ اس نے اس معاملہ میں بھی اپنا رنگ دکھا کے چھوڑا اور آج کی اس سائنٹفک دنیا میں ایسے احمقوں کی کمی نہیں جو تقدیر پر ایمان لانا کارِ عبث اور کارِ زیاں سمجھتے ہیں۔

مگر ایک مومن جو غیبیات پر ایمان رکھتا ہے، جو مانتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شریعت ہمیں دی ہے اس کے ایک ایک رکن پر ایمان لانااور ایک ایک نکتے پر یقین کرنا سب سے قیمتی متاع زیست ہے۔ لہذا مومن یہ بھی مانتا ہے کہ تقدیر پر ایمان لانا ایک واجب اور ضروری امر ہے کیوں کہ وہ دیکھتا ہے کہ قرآنی آیات اور صحیح احادیث نے تقدیر پرایمان لانے کو، اس کے خیر وشر پریقین کرنے کو ارکان اسلام میں سےایک رکن قرار دیا ہے ۔

رب کائنات ارشاد فرماتا ہے:

( إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ) [القمر: 49]

“بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقررہ) اندازے پر پیدا کیا ہے۔”

دوسری جگہ ارشاد فرمایا :

( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ١ الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى ٢ وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى ) [الأعلى: 1 - 3]

“اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر۔ جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا۔ اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازہ کیا اور پھر راہ دکھائی۔”

ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا:

( تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا١ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا [الفرقان:1 - 2]

“بہت بابرکت ہے وہ اللہ تعالی جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ تمام لوگوں کے لیے آگاہ کرنے والا بن جا ۔ اسی اللہ کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین اور وہ کوئی اولاد نہیں رکھتا، اور نہ اس کی سلطنت میں اس کا کوئی ساجھی ہے اور ہر چیز کو اس نے پیدا فرما کر ایک اندازہ ٹھرا دیا ہے۔”

واقعہ یہ ہے کہ ایسی آیتوں کی قرآن مجید میں بھر مار ہے جن میں تقدیر پر ایمان لانے کو واجب قرار دیاگیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی متعدد احادیث پاک میں تقدیر پر ایمان لانے کو ہر مومن مرد وعورت پر فرض قرار دیا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال وہ حدیث ہے جو حدیث جبریل علیہ السلام کے نام سےمشہور ہے ۔

تقدیر اور اس کے خیر وشر پر ایمان لانا واجب اور اس کا انکار کرنا ایک اسلامی رکن کا انکار کرنا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جو شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہے لیکن وہ ارکان اسلام میں سے کسی رکن کا انکار بھی کرتا ہے ، چاہے دل ہی دل میں ہو یا علانیہ ، تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، اس کا کوئي بھی عمل عند اللہ مقبول ومنظور نہیں گردانا جاتا ، اس کے سارے کیے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے اور وہ آخرت میں خائب وخاسر ہوگا، ذلت ورسوائی اس کا مقدر بنےگی ، وہ رحمت ربانیہ سے محروم ہوگا اور جہنم میں جھونک دیا جائےگا ۔

دوستانِ باصفا!تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس بات کو دل سے مانیں کہ دنیا میں جوکچھ ہو چکا ہے اور جو ہورہا ہے اور جو مستقبل میں ہوگا، ان سب کا علم اللہ کو ان سب کے منظر عام پر آنے سے پہلے سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کے بارے میں مفصل طور پر لکھ رکھا ہے کہ اس چیز کا آغاز وانجام کیا ہوگا۔ یعنی اس کی تمام جزئیات کو بھی اللہ نے لکھ دیا ہے اور لکھنے کا یہ عمل آسمان وزمین اور ان کے مابین جوکچھ ہے، سب کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے ہی مکمل کرلیا گیا تھا اور جو کچھ ہورہا ہے وہ اسی کے مطابق ہورہا ہے اور آئندہ جو کچھ ہوگا وہ بھی اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق ہی ہوگا۔

یہی ہے وہ تقدیر پر ایمان لاناجو صحابۂ کرام اور ہر دور کے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رہا اور قیامت تک رہےگا ۔ مختصراً تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات دل سے مانی جائے کہ اللہ نے جو چاہا ہوا اور جو نہیں چاہا نہیں ہوا۔ اگر کسی امر کو نافذ کرنے پر تمام انسان وجنات مجتمع ہو جائیں اوراللہ نہ چاہے تو اس کا نفاذ یا یوں کہئے کہ اس کو وجود میں لاناممکن نہیں اور وہ جس چیز کو وجود میں لاناچاہے۔ اگر اسے پورے انسان وجنات مل کر، متحد ہو کر روکنا چاہیں تو بھی وہ چیز ہو کررہے گی اوریہ کہ بندے کی مشیئت اللہ کی مشیئت کے تابع وماتحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو تمام تفصیلات کے ساتھ قرآن پاک کی اس آیت میں بیان کردیا ہے ۔

وہ ارشاد فرماتا ہے:

( وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ٣٠ يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ وَالظَّالِمِينَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ) [الإنسان:30 - 31]

“اور تم نہ چاہو گے مگریہ کہ اللہ تعالی ہی چاہے، بے شک اللہ تعالی علم والا با حکمت ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔”

بندگان الہٰی !سنو اور یاد رکھو کہ یہی ہے وہ تفصیلی ایمان جس کا تقاضا اللہ اور اس کے نبی و رسول دنیا کے تمام مومنوں اور مسلمانوں سے تقدیر کی بابت کرتے رہے ہیں ۔ دیکھو تو سہی!تقدیر پر ایمان لانے کا مسئلہ اسلام میں کتنا سادہ اور کتنا آسان وسہل ہے لیکن اللہ رحم کرے ان عقل کے ماروں پر جنہوں نے اسے عقدۂ لاینحل سمجھ لیا ہے حالانکہ اگر وہ شریعت کے احکام وفرامین کو سمجھنے کی سچی کوشش کرتے، ان میں موشگافیاں نہیں کرتے تو عقیدۂ جبر وجود پذیر نہیں ہوتا یعنی یہ نہ سمجھا جاتا کہ انسان مجبورمحض ہے، وہ افعال کے صدور پر قادر نہیں بلکہ وہ جو بھی کرتا ہے چاہے وہ گناہ کا کام ہویا نیکی کا، اللہ ہی کی مشیئت کے مطابق کرتاہے، اس میں بندے کے ارادے اور عمل کا کوئی دخل ہوتا ہی نہیں۔

دوستو!یہ وہ عقیدۂ باطل ہے جس نے نہ جانے کتنے مسلمانوں کی آخرت تباہ کر دی، جس نے کتنوں کے صحیفۂ اعمال کو سیاہی سے بھر دیا ، جس نے نہ جانے کتنوں کی آخرت کی بسی بسائی دنیا اجاڑدی۔ یاد رکھو کہ شریعت اسلامیہ میں اس عقیدے کی کوئی وقعت نہیں، بلکہ اس نے اسے کج فکری قرار دیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بندہ مجبو ر نہیں، وہ اپنے ارادے کے مطابق اعمال انجام دے سکتا ہے، اب یہ اس کی مرضی کہ وہ خیر کے اعمال انجام دیتا ہے یا شر کے اعمال میں اپنی زندگی کے قیمتی اوقات ولمحات کو بسر کرتا ہے۔

ارشاد فرمایا ربِ کا ئنات نے:

( وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ) [البلد: 10]

“اور ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے۔”

لیکن آج بھی امت اسلامیہ کے اندر ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں جو گناہوں کے ارتکاب کا ٹھیکرا تقدیر پر پھوڑتے ہیں اور نہایت بےشرمی کے ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ جو گناہ ہم سے ہوئے، وہ تو ہونے ہی تھے کہ وہ ہماری تقدیر میں لکھ دیے گئے تھے، اس لیے کہ ہم مجبور ولاچار تھے، اب اگر ان گناہوں کی پاداش میں ہمیں سزادی جاتی ہے تویہ انصاف کی بات نہیں ہوگی ۔

“أعاذنا اللہ منھم” بری بات ہے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور جرات رندانہ تو دیکھئے کہ گناہوں کا ٹھیکرا کس بےشرمی سے اللہ کی مشیئت پر پھوڑ کر اپنا پلو جھاڑ لیتے ہیں۔

اے وہ نادانو جو اس جرات رندانہ کا اظہار کرتےہو، سنو! تمہاری یہ منطق نہایت بودی ہے ، ہاں مگر یہ سچ ہے کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو، وہ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر ہی ہے لیکن گناہ کے کاموں پر تقدیر سے حجت اور دلیل پکڑنا کئی وجہوں سے صحیح نہیں ہے۔ سنو اور یاد رکھو ان وجوہات کو اور سچے دل سے توبہ کرو رب کریم کے حضور ایسی لایعنی اور لغو بات کہنے سے، میں بتا تا ہوں کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بناء پر تمہاری یہ حجت بازی کٹ حجتی سے زیادہ کچھ نہیں :

یا تو تم تقدیر کو بندے کے برے اعمال پر حجت مانوگے یا پھر نہیں مانوگے ۔ اگر تم مانو کہ تقدیر برے افعال واعمال پر حجت ہے تو تمہیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ یہ دنیا کے تمام بندوں کے لیے ان کے برے اعمال پر حجت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی تم پر ظلم کرے تو تم اسے کچھ نہ کہو کیوں کہ تقدیر جس طرح تمہارے لیے حجت ہے، اسی طرح تم پر ظلم کرنے والے، تمہارا مال ودولت لوٹنے والے اور تمہاری عزت وآبروپر حملہ کرنے والے کے لیے بھی حجت ہے۔ بتاؤ، دل سےکہ کیا یہ ممکن ہے؟ ہرگز نہیں اور کسی بھی صورت میں نہیں کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو دنیا کا نظام چند منٹوں میں درہم برہم ہوکر ختم ہو جائےگا ۔ اس سےظاہر ہوجاتا ہے کہ عقلی اعتبار سے تمہاری یہ بات نہایت بودی اور شرعی اعتبار سے کفر ہے۔

اس سے لازم آئے گا کہ یہ مان لیا جائے کہ ابلیس، قوم عاد، قوم ثمود اور قوم نوح نیز وہ تمام قومیں جن کو ان کے کالے کرتوتوں کے سبب ہلاک کردیا گيا ، وہ معذور تھیں اور اللہ نے (نعوذ باللہ) انہیں ظلما ہلاک کیا ہے ۔ یہ بات بھی یقینا لائق اعتناء نہیں بلکہ کفر ہے۔

اگر تمہاری بات مان لی جائے تو پھر یہ بھی ماننا ہوگا کہ اللہ کے دوست اور اللہ کے دشمنوں میں کوئی فرق وامتیاز نہیں اور نہ مومنوں اور کافروں میں کوئی فرق ہے۔ بتاؤ کیا روشنی اور اندھیرے میں کوئی فرق نہیں اور کیا گل وخار میں کوئی فرق نہیں؟ ثابت ہوا کہ گناہوں پر تقدیر کو حجت ماننا کجی اور ٹیڑھ پن کے علاوہ کچھ نہیں۔

تقدیر پر ہم کو ایمان لانا ہے، استدلال نہیں کرنا ہے کیوں کہ اگر استدلال کریں گے تو ابلیس اور اس کے پیروکاروں کو بھی صحیح ماننا ہوگا، عذاب وثواب بے معنی ہو کررہ جائیں گے، مفسدین اور مصلحین ترازو کے ایک ہی پلڑے میں وزن کیے جائیں گے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بے معنی ہو کر رہ جائے گا، کسی کو برائی پر ٹوکنا اور نیکی کرنے پر ابھارنا لغو ٹھہرےگا۔ چور کو اس کی چوری کی سزا نہیں دی جائے گی ۔ بتاؤ کیا اب بھی تمہاری عقل ٹھکانے نہیں آئی؟ کیا اب بھی تم اپنے گناہوں کا سبب تقدیر کومانوگے؟

اگر تم اپنی بیوی سے نہ ملو پھر بھی اولاد کی تمنا رکھو تو کیا یہ تمہارا احمقانہ فعل نہیں ہوگا ؟ یقینا لوگ اسے احمق ہی کہیں گے۔ معلوم یہ ہوا کہ ہر کسی کو عمل کرنا ہےکیوں کہ ہر آدمی جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اسے اس کی توفیق دی جاتی ہے بس اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیک کام کا ارادہ کرے۔ (مجموع الفتاوی: 8/263-264)

دوستو! اللہ کے لیے ان وجوہات پر غور کرو اور عقل سلیم کے ساتھ ان پر تدبر کرو۔ تا کہ تمہارے سامنے حق بالکل واضح ہو جائے اوریہ باطل وفاسق عقیدہ تمہارا پیچھا چھوڑدے اللہ سے یہی دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کوجبریہ عقیدے سے محفوظ رکھے اور صحیح اور سچے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!

الحمد للہ الذی ھدانا للإسلام والصلوۃ والسلام علی خیر الأنام ومن تبعہ بإحسان إلی یوم القیام، وبعد!

محترم بزرگو اور دوستو ! خطبۂ جمعہ کے پہلے حصے میں ہم نے تقدیر یا قسمت پر ایمان لانے کے بارے میں وارد آیات واحادیث اور عقلی دلائل پیش کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر کوئی انسان تقدیر اور اس کے خیر وشر پر ایمان نہیں لاتا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ بلکہ اللہ کی نظر میں اس کے اسلام کی کوئی حیثیت ووقعت نہیں رہ جاتی ۔ اب دوسرے حصےمیں ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ تقدیر اور اس کے خیر وشر پر ایمان لانے سے انسان کو کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں ؟

فدائیانِ اسلام! جو مسلمان تقدیر اور اس کے خیر وشر پر ایمان لاتا ہے اسے جو سب سے پہلا فائدہ حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اس کا اعتماد وتوکل مضبوط ترہوتا چلا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ پر اعتماد وتوکل کامل ہی ایک مومن کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ واثاثہ ہے، جب انسان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کرلیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا جہان کی تمام چیزوں سے اعلان جنگ کر کے ایک رب وحدہ لا شریک کی پناہ میں آجاتا ہے اور محمد رسول اللہ کا اقرار کر کے گویا وہ دنیا والوں کوبتا دیتا ہے کہ اے دنیا والو! گواہ رہو کہ میں نے طاعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا چولہ زیب تن کرلیا ہے۔ اب میں دنیا کے تمام معبودان باطلہ اور ان کے پیروکاروں اور عبادت گذاروں کی تمام کج رویوں کو خیرباد کہتا ہوں، اب میرا اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا، کھانا پینا سب کچھ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع فرمان ہے، اب میری رائے اور میرے خیال کی محمد عربی ہاشمی کی رائے اور خیال کے آگے ذرہ برابر حیثیت نہیں، ذرہ برابر اہمیت نہیں۔

اور پھر جب وہ تقدیر اور اس کے خیر وشر پر صدقِ دل سے ایمان لاتا ہے تو اس کا یہ وعدۂ طاعت مضبوط ہوتا چلاجاتا ہے۔ گویا، تقدیر پر ایمان لانا، کرشمات کا ظہورکرتا ہے۔

تقدیر پر ایمان، دنیا کی کج رویوں سے ٹکرانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ تقدیر پر ایمان، راہِ الہٰی میں آنے والی مصیبتوں کو مسکرا کر سہنے کی طاقت وقوت عطا کرتا ہے۔ تقدیر پر ایمان اللہ پر اعتماد کا مل کی دولت سے مالا مال کردیتا ہے۔ تقدیر پر ایمان اس بات کی ہمت عطا کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان وعقیدے کی حفاظت میں جان کی بازی لگا دے، اور اگر جان کی بازی ہار بھی جائے تو عقیدہ وایمان کی بازی نہیں ہارتا اور دنیا انگشت بدنداں رہ جاتی ہے

( مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ) [التغابن: 11]

“ کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی، جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔”

ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ) [الحديد: 22]

“نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالی پر آسان ہے۔”

سامعین کرام!تقدیر پر ایمان لانے کا دوسرا فائدہ یہ ہو تا ہے کہ انسان کو اس کی زندگی کے تمام مسائل میں انشراحِ صدر اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

ربِّ کریم اپنے قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

( الَّذِينَ آَمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ) [الرعد: 28]

“جو لوگ ایمان لا ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔”

اسے اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ بقول رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم : اب جبکہ میں رب کائنات پر ایمان لاچکا ہوں ، اگر پوری دنیا مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو صرف اتنا ہی نقصان پہنچا سکتی ہے، جتنا اس نے میرے مقدر میں لکھ دیا ہے اور اگر مجھے نفع پہنچانا چاہے تو بھی صرف اتنا ہی نفع پہنچا سکتی ہے جتنا خود اللہ تعالیٰ نے میری قسمت میں لکھ دیا ہے۔

تقدیر پر ایمان لانے کا تیسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال نیک پر غرور اور تکبر نہیں کرتا کیوں کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ میں جو بھی نیک کام انجام دے رہا ہوں وہ محض توفیق الہٰی سے لوح محفوظ میں لکھے ہوئے دستا ویز کے مطابق انجام پذیر ہورہے ہیں ۔ یہی بڑی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان نیک کاموں کی انجام دہی کی توفیق سے محض اپنے فضل وکرم سے نوازرہا ہے، جب یہ خیال بندہ کے دل میں جاگزیں ہوجاتا ہے تو وہ اخلاص عمل اور اخلاص نیت کی دولت سے مالا مال ہوجاتا ہے اور بتاؤ تو سہی ! اس سے بڑی دولت اور کیا ہوسکتی ہے۔

چوتھا فائدہ :تقدیر اور اس کے خیر وشر پر ایمان لانے سے یہ ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑے حادثے سے دو چار ہونے کے باوجود انسان اپنے اعصاب نہیں کھوتا۔ وہ زندگی کے ہر طوفان کو مسکرا کر ٹال دیتا ہے بجلیاں چمکتی ہیں تو مسکرا کر جواب دیتا ہے۔

مصائب وآلام کے گھن گھرج کو تنکے سے زیادہ حیثیت نہیں دیتا۔ ناکامیوں کو کامیابی میں بدلنے کا جذبہ وحوصلہ اس کے اندر موجزن رہتا ہے۔ وہ قدرت کو نہیں کوستا بلکہ اپنی غلطی کا احساس کرکے اسے سدھارنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔

سامعین کرام !یہ ہیں وہ فوائد وبرکات جو تقدیر اور اس کے خیر وشر پر ایمان لانے میں حاصل ہوتے ہیں ۔ اب بتا ئیے کہ اگر ایک چھوٹی اور آسان سی بات مان لینے سے اتنے فوائد وبرکات حاصل ہوتے ہیں تو آپ اس آدمی کو کیا کہیں گے جو صرف اپنی انا بلکہ کہئے احمقانہ حرکت کی وجہ سے تقدیر پر ایمان نہیں لاتا اور اس قدر فوائد سے خود کو محروم کرلیتا ہے ؟

برادران اسلام! ہم آپ کو چلتے چلتے یہ بھی بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ تقدیر پر ایمان لانے نہ لانے کے باب میں تمام لوگ دو گرہوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ تقدیر پر ایمان لانا کارعبث ہے۔ یہ گروہ قدریہ کہلاتا ہے جبکہ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ تقدیر کے سامنے انسان کی وہی حیثیت ہے جو درخت سے ٹوٹ کر گر جانے والے پتے کی ہوتی ہے کہ ہوا اسے جدھر چاہتی ہے اڑائے لیے پھرتی ہے، اس گروہ کا نام ہے جبریہ، ان دونوں گروہوں کا تقدیر کے بارےمیں خیال باکل غلط اور باطل ہے، آپ اپنے آپ کو ان باطل عقائد وخیا لات سے بچائے رہیں اور تقدیر کے بارے میں ہم نے وسطیت اور اعتدال کی جس راہ کی رہنمائی آپ کے سامنے پیش کی ہے یعنی راہ اہل سنت والجماعت اسے مضبوطی سے تھامے رہئے۔ اللہ تعالیٰ پر آپ کا اعتماد اور توکل کبھی بھی کسی حالت میں ٹوٹنے نہ پائے اگر یہ دولت آپ کے پاس ہے تو یقینا آپ کامیاب وبامراد ہوں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔

اللہ ہم سبھوں کو راہ مستقیم پر چلائے، آمین۔ وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔