اللہ کے اسمائےحسنیٰ پر ایمان اور بعض اسماء کی شرح

تفصیل

اللہ کے اسماء وصفات پر ایمان دین کے اصول میں سے ایک اہم اصل ہے اور بندے کے جنت میں داخل ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اس بات کی ترغیب دی ہے کہ وہ اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ علیا کے ذریعہ اس سے دعاومناجات کریں۔ اسی لیے مسلمان کے لیے منا سب ہے کہ انہیں سیکھیں اور ان کے معانی سمجھیں ۔

الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی أما بعد!

فقد قال اللہ تبارک وتعالیٰ فی القرآن الحکیم وکتابہ المجید أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

( وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ) [الأعراف: 180]

“اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو ۔”

اللہ کے بندو! بغیر تحریف وتشبیہ اور تعطیل کے اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ وصفات علیاپر ایمان، ایمان باللہ کاحصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے سلسلے میں چند باتیں جاننا ضروری ہیں:

اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء توقیفی ہیں ، ان میں کسی عقلی توجیہ وتاویل کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے سلسلہ میں کتاب وسنت پر توقف ضروری ہے ۔

دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کسی متعین تعداد میں محصور نہیں ۔

سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء حددرجہ اچھے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ) [الإسراء: 36]

“ اور جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو ، اس کے پیچھے مت پڑ”

مشہور حدیث میں ہے کہ:

“أسالک بکل اسم ھو لک سمیت بہ نفسک، أو أنزلتہ فی کتابک، أو علمتہ أحدا من خلقک، أو استخلصت بہ فی علم الغیب عندک” (أحمد وابن حبان وحاکم، حدیث صحیح)

“ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے ہر اس نام سے سوال کرتا ہوں جس سے تو نے خود کو موسوم کیا ہے، یا اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی کسی مخلوق کو سکھایا ہے۔ یا اپنے پاس کے علم غیب میں تو نے اس کو خاص کیا ہے۔”

اللہ تعالیٰ نے جس نام کو علم غیب میں خاص کیا ہے کسی کے لیے اس کا حصر واحاطہ ممکن نہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ) [الأعراف: 180]

“اللہ ہی کے اچھے نام ہیں تو تم اس کو ان ناموں سے پکارو۔”

اللہ تعالیٰ کے اچھے ناموں میں سے چند نام یہ ہیں:

اللہ:

یہ اسم ذات ہے۔ اللہ ایک ایسی ہستی کا نام ہے جس کی دل محبت وچاہ اور تعظیم کے ساتھ بندگی کرتے ہیں ۔

الرحمن الرحیم :

وہ ذات ہے جو اپنے بندوں پر، ماں کی اپنی اولاد پر مہربان ہونے سے زیادہ شفیق ومہربان ہے، چنانچہ جو بھی نعمت موجود ومیسر ہے، وہ اس کی رحمت ہے اور جو بھی مصیبت وپریشانی دور ہوتی ہے، وہ اسی کی مہر بانی سے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ) [النحل: 53]

“تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اللہ ہی کی دی ہوئی ہیں ۔”

الملک:

یعنی تمام جہاں کا مالک۔ کوئی متحرک اس کے علم وارادہ کے بغیر حرکت نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ) [آل عمران: 26]

“آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے۔”

اور فرمایا :

( مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ) [الفاتحة: 4]

“بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔”

القدوس:

یعنی وہ ذات جو تمام عیوب ونقائص سے پاک ومنزہ ہے، جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور جسے کوئی تکان ومصیبت پیش نہیں آئی ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ ) [ق: 38]

“یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کو (صرف) چھ دن میں پیدا کر دیا اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں۔”

القوی القہار:

ایسی ذات جو سب سے زیادہ زور وقوت والی ہو، اور سب پر غالب ہو، ساری چیزیں اسی کے قبضۂ قدرت میں ہوں، اس کی عظمت وسطوت کے سامنے سب سرنگوں ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

( مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ) [الحج: 74]

“انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں، اللہ تعالیٰ بڑا ہی زور وقوت والا اور غالب وزبردست ہے۔”

العلیم:

وہ ذات، جو پو شیدہ وسربستہ رازوں کو جانتی ہو، خشکی وتری سمندر کے اندر کی ساری چیزوں کو جانتی ہو، درخت سے کوئی پتہ گرتا ہو تو وہ اس کے علم میں ہو، زمین کی تہوں میں کوئی دانہ ہو تو وہ اسے بھی جانتا ہو۔

العلی الأعلیٰ:

جو اپنے عرش کے اوپر غالب اور اپنی صفات میں بلند ہو۔

الجبار:

وہ ذات جو مجبور وکمزور کا سہارا ہے،اور ظالم زور آور کو اپنی سخت گرفت میں لیتی ہے۔

الغفور:

جو سارے گناہوں کو بخشتا ہو، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ حدیث قدسی میں ہے کہ:

“یا ابن آدم إنک ما دعوتنی ورجوتنی غفرت لک علی ما کان منک ولا أبالی”

“ اے آدم کے بیٹے !جب تک تو مجھے پکاتا رہےگا اور مجھ سے امید وابستہ رکھےگا تو تو جس حالت میں بھی ہوگا میں تجھے معاف کرتا رہوں گا اور میں کوئی پرواہ نہیں کروں گا۔”

۱۰۔ الحکیم:

وہ ذات جو اپنی شریعت وتقدیر میں حکمت والی ہو۔

الغنی:

یعنی وہ ذات جو اپنی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہو۔

محترم بھائیو! یہ اللہ تعالیٰ کے چند اسمائے حسنیٰ ہیں جن کی مختصر سی تشریح آپ کے سامنے پیش کی گئی اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اللہ کی ذات کیسی ہے اور اس کے کمالات واختیارات کیسے ہیں؟

حضرات سامعین! اللہ تعالیٰ کی اسماء پرایمان کا حصہ ، ان کے ذریعہ دعا کرنا بھی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی ٰ نے فرمایا:

( وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ) [الأعراف: 180]

“اللہ تعالیٰ ہی کے لیے اچھے نام ہیں تو تم اسے ان ناموں کے ذریعہ پکارو۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دعا کرتے ہوئے سنا:

“اللھم إنی أسالک بأن لک الحمد لا إلہ إلا أنت وحدک، لا شریک لک، المنان بدیع السموات والأرض ذو الجلال والإکرام یا حی یا قیوم”

تو آپ نے فرمایا کہ “تم نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے۔ جب اللہ کو اس کے ذریعہ پکارا جاتا ہے تو وہ سنتا ہے۔” (أبوداود، وابن ماجہ وأحمد)

اے اللہ کے بندو!آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے اسماء سے اس کو پکاریں۔ علامہ شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ فرمان الہٰی: (فادعوہ بھا) کے مفہوم کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ آپ ان کو اپنی ضرورت کے لیے وسیلہ وذریعہ بنائيں اور اس کے لیے مناسب نام منتخب کریں۔ جیسے دعائے مغفرت کے وقت کہیں “ یا غفور اغفر لی” (اے بخشنے والے مجھے بخش دے)۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ: “یا شدیدالعقاب اغفرلی” (اے سخت عذاب والے مجھے بخش دے) کہیں۔ یہ تو اللہ کا استہزاء ہے۔ بلکہ کہیں “یا شدید القھار! أجرنی من عقابک” (اے سخت عذاب والے! اپنے عذاب سے مجھے بچا)۔

اے مسلمانو! اللہ کے اسمائے حسنیٰ کی معرفت کے لیے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر اعتماد کرو، کیوں کہ کسی کے لیے یہ روا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو وہ نام دے، جو خود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بیان کیا۔ اس لیے کہ اللہ کے تمام اسماء (نام) توقیفی ہیں۔

اور قرآن مجید اسماء و صفات سے بھرا ہوا ہے۔ جیسے فرمان الہٰی:

( هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ٢٢ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ٢٣ هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) [الحشر:22 - 24]

“وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، چھپے کھلے کا جاننے والا مہربان اور رحم کرنے والا۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاه، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے والا، نگہبان، غالب زورآور، اور بڑائی والا، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ وہی اللہ ہے پیدا کرنے والا وجود بخشنے والا، صورت بنانے والا، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں، ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وہی غالب حکمت والا ہے۔”

اور فرمایا:

( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ١ اللَّهُ الصَّمَدُ ٢ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ٣ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ )[الإخلاص:1 - 4]

“ آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔”

اور حدیث میں ہے:

“إن اللہ جمیل یحب الجمال” (مسلم وغیرہ)

“ اللہ جمیل ہے اور جمال وخوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔”

اور فرمایا:

“إن اللہ عز وجل حی ستیر، ویحب الحیاء والستر، فإذا اغتسل أحدکم فلیستتر” (أبوداود ونسائي)

“ اللہ عزوجل حیادار اور پردہ پوشی کرنے والا ہے۔ حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتاہے۔ اس لیے تم میں جب کوئی غسل کرے تو پردہ کر لے۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہ کثرت اللہ کے اسمائے حسنیٰ سے دعا فرمایا کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان ہے کہ آپ نے فرمایا:

“اللھم أنت ربی، لا إلہ إلا أنت، خلقتنی وأنا عبدک، وأنا علی عھدک ووعدک ما استطعت، أعوذبک بنعمتک و أبوء لک بذبنی، فأغفر لی، فإنہ لا یغفر الذنوب إلا أنت أعوذ بک من شر ما صنعت” (بخاری وغیرہ)

یہ سید الاستغفار ہے۔ شام کو جب کوئی اسے پڑھے اور مرجائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا یا جنتی ہوگا۔ اور جب صبح کو کوئی اسے پڑھے پھر مر جائے تو اسی طرح جنت میں داخل ہوگا۔

حضرت علی بن ابی طالب کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر یہ دعاء پڑھتے تھے:

“وجھت وجھی للذی فطر السموات والأرض حنیفا مسلما وما أنا من المشرکین إن صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العا لمین، لا شریک لہ وبذلک أمرت وأنا أول المسلمین”

“اللھم أنت الملک، لا إلہ إلا أنت، أنت ربی وأنا عبدک، ظلمت نفسی واعترفت بذنبی فاغفر لی ذنوبی جمیعا، إنہ لا یغفر الذنوب إلا أنت، وأھدنی لا حسن الأخلاق، لا یھدی لا حسنھا إلا أنت، وأصرف عنی سیئھا، لا یصرف عنی سیئھا إلا أنت، لبیک وسعدیک، والخیر کلہ فی یدیک والشر لیس إلیک، أنا بک وإلیک، تبارکت، وتعالیت، استغفرک وأتوب إلیک” (مسلم:771)

“ میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کیا جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا، یکسوئی کے ساتھ مسلمان ہو کر اور میں مشرکوں میں سے نہیں۔ میری نماز وقربانی اور زندگی وموت، سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک وساجھی نہیں اور مجھے اسی کا حکم ہوا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں۔”

“ اے اللہ! تو بادشاہ ہے۔ میرے لیے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ۔ میں نے خود پر ظلم کیا اور مجھے اپنے گناہ کا اعتراف ہے۔ تو میرے گناہوں کو بخش دے۔ گناہ صرف تو ہی تو بخشتا ہے اور مجھے اچھے اخلاق کی رہنمائی کر، جس کی رہنمائی صرف تو ہی کر سکتا ہے۔ اور مجھ سے برے اخلاق دور کر، جو صرف تو ہی دور کرسکتا ہے، میں تیرے دربار میں حاضر ہوں، خیر سب تیرے ہاتھ میں ہیں اور شر کی نسبت تیری طرف نہیں۔ میں تیرے ہی سبب ہوں اور تیری ہی طرف بھی، تو بابرکت وبلند ہے۔ میں تجھ سے ہی مغفرت چاہتا اور تیری طرف رجوع ہوتا ہوں۔”

پھر جب آپ رکوع کرتے تو پڑھتے:

“اللھم لک رکعت وبک آمنت ولک أسلمت خشع سمعی وبصری وعظمی وعصبی)

“ اے اللہ!میں نے تیرے لیے ہی رکوع کیا ۔ تجھ پر ایمان لایا اور تیری تابعداری کی۔ میرا کان میری نگاہ، میرا دماغ اور میری ہڈیاں وغیرہ سب تیرے لیے سرنگوں ہیں۔”

پھر جب رکوع سے اٹھتے تو پڑھتے:

“سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا ولک الحمد، ملء السموات والأرض، ملء ما بینھما، وملء ما شئت من شئ بعد)

“ اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی اے ہمارے رب !اور ساری حمد وستائش تیرے ہی لیے ہے، زمین وآسمان اور دونوں کے مابین بھر اور تو جو چاہے، اس چیز بھر ۔”

اور جب سجدہ کرتے تو فرما تے:

“اللھم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت، سجد وجھی للذی خلقہ وصورہ فأحسن صورہ، وشق سمعہ وبصرہ وتبارک اللہ أحسن الخالقین”

“اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، اور تیرا تابعدارہوا۔ میرا چہرہ اس کے لیے سجدہ ریز ہوا جس نے اسے پیدا کیا۔ اس کی تصویر بنائی تو خوبصورت بنائی۔ کان میں سوراخ بنایا اور نظر کھول دی۔ اور بہت بابرکت ہےسب سے خوبصورت پیدا کرنے والا۔”

اور جب نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیر تے تو یہ دعا پڑھتے:

“اللھم اغفر لی ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم بہ منی أنت المقدم والمؤخر، لا إلہ الا أنت” (أبوداود)

“ اے اللہ !میں نے پہلے اور بعد میں اور چھپے کھلے طور پر جو گناہ کئے، مجھ سے جو خطا ہوئی اور جو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، سب معاف فرمادے۔ تو ہی پہلے ہے اور تو ہی بعد میں بھی، تیرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں۔”

برادرانِ اسلام!اللہ تعالیٰ کو ان ناموں سے پکا رنے سے بچوجن کا ذکر اللہ نے خود اپنے لیے یا اس کے رسول نے نہیں کیا۔

ارشاد باری ہے:

( قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ) [الأعراف: 33]

“آپ فرما دیجئے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگادو جس کو تم جانتے نہیں۔”

اور فرمایا:آپ اس بات کے پیچھے مت پڑیں جس کا آپ کو علم نہ ہو ۔

مسلمانو!اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ تم سب کو اسی کی طرف دیر سویر جاناہے۔ اس کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو مضبوطی سے تھامو۔ اللہ کو اس کے اسماء وصفات سے ہی پکارو، کیوں کہ اس سے منہ پھیرنے والوں کو اللہ نے جہنم کی دھمکی دی ہے۔

فرمایا کہ، جو لوگ میری عبادت، یا مجھ کو کما حقہ پکارنے سے اتراتے ہیں وہ جہنم میں ذلت کے ساتھ داخل ہوں گے۔ آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے اسماء کے معنی ومطلب سمجھیں کیوں کہ وہ حد درجہ اچھے ہیں اور اچھے معنی مفہوم کے حامل ہیں۔