اللہ اور اس کے رسول سے محبت اور انہیں ان کے ماسوا پر فوقیت دینا

تفصیل

اللہ اور اس کے رسول کی محبت ایمان کے لوازم میں سےہے۔ آدمی کامل مومن اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو اپنے مال واولاد اور تمام لوگوں پر مقدم نہ رکھے۔ جیسا کہ اس کی خبر خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ جتنی ان سے محبت ہوگی اسی کے بقدر وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو بجا لائےگا۔

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله:

أما بعد فإن أصدق الحدیث کتاب اللہ، وأحسن الھدی ھدی محمد، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ فی النار۔

برادران اسلام! آج ہماری گفتگو ایک اہم موضوع سے متعلق ہے، جس کی ہم میں سے ہر ایک فرد کو ضرورت ہے ، بلکہ اسے بروئےکار لانا ایمان کا لازمی جزء ہے جو اسے بروئے کار نہ لائے اس کا ایمان ہی نہیں ۔ وہ موضوع ہے اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور ان دونوں کو ان کے ماسوا پر فوقیت دینا۔ اللہ اور اس کے رسول کی محبت ایمان کے لوازم میں سے ہے، کوئی آدمی مومن اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ اپنے ماں باپ، آل واولاد اور تمام ہی لوگوں پر اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو مقدم رکھے ۔

ارشاد باری ہے:

( قُلْ إِنْ كَانَ آَبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ) [التوبة: 24]

“آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکےاور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وه تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وه حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راه میں جہاد سے بھی زیاده عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔”

قاضی عیاض فرماتے ہیں:اللہ کی محبت کے لزوم ووجوب اور فرضیت واستحقاق پر دلیل وحجت اور تنبیہ وخبرداری کے لیے یہ آيت کا فی ہے کیوں کہ اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ اپنے مال اور اہل وعیال کو محبوب رکھنے والے انسان کو اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں دھمکی دی ہے:

( فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ) [التوبة: 24]

“انتظار کرو،یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لادے۔”

پھر آخر آیت میں اللہ نے ایسے لوگوں کو فاسق بھی بتایا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ گمرا ہوں اور اللہ کی ہدایت سے محروم لوگوں میں سے ہیں۔

ایک جگہ ارشاد ہے:

( قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) [آل عمران: 31]

“ کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرےگا اور تمہارے گناه معاف فرما دےگا ۔”

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من والدہ وولدہ والناس أجمعین” (متفق علیہ)

“تم میں کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اولاداور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔”

ایک دوسری حدیث میں جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تین چیزیں جس کے اندر ہوں گی وہ ایمان کا مزہ پائےگا۔

۱۔ اللہ اور اس کا رسول، اس کے نزدیک تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں ۔

۲۔ آدمی صرف اللہ کے لیے کسی سے محبت کرے اور اللہ ہی کے لیے کسی سے نفرت کرے۔

۳۔ کفر میں دوبارہ جانے کو وہ اتنا ہی ناپسند کرے، جتنا کہ وہ جہنم میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔ (متفق علیہ)

اللہ اور اس کے رسول سے محبت کی کچھ علامتیں ہیں، جن کو علماء نے ذکر کیا ہے اور تفصیل سے ان کو بیان کیا ہے، جو کتاب وسنت سے ماخوذ ہیں جیسے رسول کی اقتداء ، آپ کی سنت کی پیروی اور آپ پر درود و سلام بھیجنا وغیرہ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) [آل عمران: 31]

“کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔”

قاضی عیاض فرماتے ہیں: جان لوکہ جو شخص کسی چیز سے محبت کرے گا اسے دوسروں پر ترجیح دے گا اور اس کی موافقت کو بھی ترجیح دے گا، ورنہ وہ اپنی محبت میں سچا نہیں ہو سکتا، صرف زبانی دعویدار ہوگا، چنانچہ نبی کی محبت کا سچا علمبردار وہ ہوگاجس کے اندر اس کی محبت کی علامات ظاہر ہوں جیسے آپ کی اقتداء اور آپ کی سنت کا التزام،آپ کے اقوال وافعال کی اتباع، آپ کے احکام کی تعمیل، منہیات سے اجتناب، تنگی وخوشحالی اور خوشی وغمی ہر حال میں آپ کے آداب واصول کی پاسداری۔ اس کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے:

( قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) [آل عمران: 31]

اسی طرح اللہ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اللہ نے جو مشروع قرار دیا اس کو آدمی اپنی خواہش نفس اور شہوات نفس پر ترجیح دے۔”

اللہ تعالی ٰنے فرمایا:

( وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ) [الحشر: 9]

“اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر (یعنی مدینہ) میں اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وه اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو “

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل کر نے کے اسباب وذرائع میں سے اللہ تعالیٰ پر ایمان، نیک عمل، صبر، احسان و پاکبازی اور توبہ وغیرہ چیزیں ہیں۔

اللہ فرماتا ہے:

( وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ ) [آل عمران: 146]

“اور اللہ صبر کرنے والوں کو (ہی) چاہتا ہے۔”

( وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ) [آل عمران: 148]

“اور اللہ تعالیٰ نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔”

( إِنَّ الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا ) [مريم: 96]

“بےشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ اعمال کیے ہیں ان کے لیے رحمان محبت پیدا کر دےگا۔”

اور فرمایا:

( إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ) [البقرة: 222]

“اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔”

اور فرمایا:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ) [المائدة: 54]

“اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو لائےگا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وه بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وه نرم دل ہوں گے مسلمانوں پر اور سخت اور تیز ہوں گے کفار پر، اللہ کی راه میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواه نہ کریں گے۔”

حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہےوہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم سے زیادہ کوئی میرے نزدیک محبوب اور میری نظر میں کوئی آپ سے اہم انسان نہیں تھا، اور نہ ہی یہ میرے بس میں تھا کہ میں اپنی نظر میں آپ سے زیادہ کسی کی عظمت ومحبت کو جگہ دوں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گيا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ لوگوں کی محبت کیسی تھی ؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ ہمارے نزدیک ہمارے مال واولاد اور باپ ماں سے اور پیاسے کے لیے ٹھنڈے پانی سے بھی بڑھ کر محبوب تھے ۔

روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت بلال وحذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کی زبان پر مرتے وقت یہ الفاظ تھے۔ “ہم کل بروز قیامت عاشقانِ محمد اور ان کی جماعت سے ملیں گے ۔” (الشفاء)

آیت کریمہ:

( قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) [آل عمران: 31]

سےمتعلق ابن کثیر کا بیا ن ہے کہ یہ آيت کریمہ اللہ کی محبت کے ہر اس دعویدار کے خلاف فیصل ہے، جو طریقۂ محمدیہ پر نہ ہو ، کیوں کہ وہ واقعتاً جھوٹا ہے۔ جب تک کہ وہ محمدی شریعت کی پیروی نہ کرے اور اپنے تمام اقوال وافعال واحوال میں دین نبوی کی اتباع نہ کرے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: “جو کوئی ایسا عمل کرےجس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود اور ناقابل قبول ہے۔”

اسی لیے اللہ نے فرمایا:

( قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ ) [آل عمران: 31]

مطلب یہ ہے کہ اللہ کی محبت سے جو تم کو مطلوب ہوگا، اس سے زیادہ ہی تم کو ملے گا یعنی تم سے اللہ محبت کرنے لگےگا۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے، جیسا کہ علماء وحکماء نے کہاہے۔

اہم یہ نہیں کہ تم کسی سے محبت کرو، بلکہ اہم یہ ہے کہ تم سے کوئی محبت کرے۔ حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا دعویٰ تھا کہ ان کو اللہ سے محبت ہے تو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا:

( قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ ) [آل عمران: 31]

“آپ کہہ دیجئے، کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگےگا۔”

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین۔۔۔”

“ تم پر میری اور خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع ضروری ہے۔ تم اس کو مضبوطی سے پکڑ لو اور دین میں نئی چیزیں ایجاد کرنے سے بچو۔ کیوں کہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔”

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ تنہا اسی کی عبادت کریں اور اس کی ذات میں کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق میں سے یہ ہے کہ ان کی اتباع کی جائے ان سے محبت کی جائے ان کی منع کردہ چیزوں سے بچا جائے اور ان پر کثرت سے درود وسلام بھیجا جائے، ارشاد باری ہے:

( إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ) [الأحزاب: 56]

اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ لہذا اے مومنو! تم بھی ان پر درود وسلام بھیجو.

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر بھی اس امت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق میں سے ہے۔ ارشاد باری ہے:

( لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ) [النور: 63]

“تم اللہ تعالیٰ کے نبی کے بلانے کو ایسا بلاوا نہ کر لو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو ہوتا ہے۔”

اسی طرح آپ کا اور آپ کے صحابہ کی طرف سے دفاع آپ کے حقوق میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اللہ اور اس کے رسول کے حقوق کی کامل ادائیگی کی توفیق بخشے۔ آمین۔

و أقول قولی ھذا، واستغفر اللہ لی ولکم، ولسائر المسلمین، فاستغفروہ إنہ ھو الغفور الرحیم۔